بنیادی صفحہ / خبریں / معاشی دھارے میں اقلیتوں کی شمولیت

معاشی دھارے میں اقلیتوں کی شمولیت

خالد علی

Khalid Ali1

ڈائریکٹر,ملٹی گین 

مسلمانوں کی بڑی آبادی جنوبی ایشیا میں آباد ہے ۔ خاص طور سے انڈونیشیا، پاکستان،اورہندوستان میں مسلمانوں کی کثیرآبادی رہتی ہے۔ ان ممالک میں ہندوستان دنیا کی تیسری سب سے بڑی مسلم آبادی ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی 177 ملین ہے۔ ہرچند کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی بہت بڑی آبادی رہتی ہے پھر بھی یہاں مسلمان معاشی طوردوسری کمیونٹی سے پچھڑے ہوئے ہیں۔ ایسا اس لئے ہے کیونکہ کہ یہاں کے مسلمان غیر منظم اورغیرترقی یافتہ سیکٹر سے وابستہ ہیں۔ ہرچند کہ دنیا تیزترمعاشی ترقی سے گزری ہے اورہندوستان میں بھی بڑے پیمانے پرمعاشی ترقی ہوئی ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلمان آج بھی پچھڑے ہوئے ہیں اوراس کی وجہ ان کی غلط سوچ اورخوف کی نفسیات ہے۔ وہ اپنے خدشات کو اوراپنی سوچ کو بدلنا نہیں چاہتے اوراس لئے پستی کے شکارہیں۔ آج بھی وہ پراسرار خیالات میں جیتے ہیں۔

مسلمانوں کی یہ ذہنیت، تعلیمی، معاشرتی،اورمعاشی پستی کی وجہ سے بنی ہے۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی مسلمانوں کی شرح دوسرے طبقات کے موازنہ میں بہت کم رہی ہے۔ سجر کمیٹی کی روپورٹ 2006 نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ ہندوستانی مسلمان سیاسی سماجی معاشی اور معاشرتی طور پر بہت زیادہ پچھڑ گئے ہیں۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ کے سپورٹ میں بے شمار اعداوشمار پیش کئے ہیں۔ تعلیمی پسماندگی کی وجہ سے مسلمان پین کارڈ اوربینک کھاتے کے بارے میں پراسرارخیالات میں جیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ پین کارڈ بنانے سے حکومت کو ان کی آمدنی کا پتہ چل جائے گا اور حکومت ان سے بڑھا چڑھا کر ٹیکس وصول کرے گی۔ ان میں بہت کم کو پتہ ہے کہ ٹیکس  2 لاکھ  کی رقم سے زیادہ پر لگتا ہے۔

بہت سارے تجارتی اہلکارپین کارڈ اوربینک کھاتا کے فوائد سے نا بلد ہیں۔ پین کارڈ صرف انکم ٹیکس ریٹرن بھر نے کے لئے ہی نہیں بنا یا جا تا ہے بلکہ یہ انسان کی اپنی شناختی کارڈ بھی ہے۔ یہ میچوئل فنڈس، شیئر، ای ٹی ایفس، پی ایم ایس، وغیرہ میں سرمایہ کاری کا کرداربھی ادا کرتا ہے۔ ہرچند کہ بینک اکائونٹ اورپین کارڈ تمام لوگوں کے لئےضروری نہیں ہےلیکن اس کی ضرورت ہرشخص کو پڑتی ہے خاص کر ان لوگوں کو جو معاشی اورتجاری عمل سے جڑنا چاہتے ہیں یا جڑتے ہیں۔ پالیسی  . 80 (C) کے تحت ٹیکس میں ایک لاکھ تک کی چھوٹ دی جاتی ہے۔ کسی کوبھی ٹیکس ربیٹ کا فائدہ اس وقت ملتا ہے جبکہ اس کے پاس پین کارڈ ہو۔

 بہت سارے لوگ پین کارڈ نہیں بناتے اوربینک کھاتے نہیں کھولتے، بینک سے قرض نہیں لیتے کیوں کہ انھیں لگتا ہے کہ سود لینا حرام ہے۔ اسلام میں سود لینا دینا دونوں حرام ہے۔ بلا شبہ سود حرام ہے لیکن ہم اسے ثواب کی نیت کے بغیر غربا کے درمیان تقسیم کرسکتے ہیں، یا پھر ہم کرنٹ اکائونٹ کھول سکتے ہیں جس پرسود نہیں ملتا ہے۔

ہندوستانی حکومت اور دوسرے ترقیاتی کارپوریشن نے اقلیتوں کی ترقی کے لئے بہت سی اسکیمیں نافذ کی ہیں۔ وزیراعظم منمو ہن سنگھ نے بہت ساری اسکیموں کا اعلان کیا ہے ۔ ان کی حکومت نے اقلیتی فلاح کے لئے بہت سارے منصوبے جاری کی ہیں۔ حکومتی بینکنگ سروس میں اضافہ ہوا ہے؛ گزشتہ چار سالوں میں نوفیصد قرض کی حد کو بڑھا کر  15 فیصد تک کر دیا گیا ہے۔ لیکن مسلم تاجراور چھوٹے صنعت کاربینک کھاتے اورپین کارڈ کی غیرموجودگی کی وجہ سےاس کا فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔

چنانچہ کہا جا سکتا ہے کہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ مسلمانوں کو بینک کھاتے اور بین کارڈ کے فوائد سے واقف کرا یا جائے اوراس سلسلے میں ان کے اندر بیداری پیدا کی جائے۔ پین کارڈ بنانے کے لئے بہت زیادہ ہاتھ پائوں مارنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ صرف ٹیکس آفس میں جاکر ایک فارم جمع کرنا پڑتا ہے اورپھر پین کارڈ بن کر تیار ہوجاتا ہے۔ پین کارڈ کا حصول کوئی پیچیدہ عمل نہیں ہے۔ صرف انکم ٹیکس آفس میں جاکر فارم جمع کرنا پڑتا ہے اور پین کارڈ بن کر تیار ہوجاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کو چا ہئےکہ وہ دیہی علاقوں میں کیمپ لگا ئے تاکہ کم پڑھے لکھے لوگ بھی پین کارڈ بنانے کے اس عمل میں شریک ہوسکیں۔

ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ حکومت لوگوں کو ترغیب دے کہ وہ پین کارڈ اوربینک کھاتوں کے فوائد سےمحروم نہ رہیں۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*