بنیادی صفحہ / انٹرویوز / امّت کو معاشی طور پرخود کفیل بنایا جائے

امّت کو معاشی طور پرخود کفیل بنایا جائے

ملّت کے اندر جو برائیاں در آئی ہیں اس میں ذریعہ معاش کا اہم رول ہے،کیونکہ معاش کسی بھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوا کرتی ہے

26اکتوبر 1942کو مہاراشٹر کے رتنا گری ضلع میں واقع ایک چھوٹے سے تائیری گائوں میںآنکھیں کھولنے والے ڈاکٹر محمد علی پاٹنکر اب نہ صرف مہاراشٹر کی مقبول عام شخصیت ہیں بلکہ جنوبی ہند میں بھی اپنی طبّی خدمات کی وجہ سے خاصی شہرت رکھتے ہیں۔ممبئی کے مرین لائنس میں A to Zڈائیگنوسٹک سینٹر کے مالک ڈاکٹر پاٹنکر آئیڈیل ایجوکیشن سوسائٹی کے علاوہ مختلف کالجوں کے صدرو نائب صدر بھی ہیں ، سماجی و فلاحی کاموں میں پیش پیش رہنے والے گلف کارپوریشن کونسل کے فعال رکن نے بین الاقوامی معیشت سے گفتگو کے دوران مسلمانوں کی معاشی حالت بہتربنانے کے لئے 8نکاتی فارمولہ پیش کرتے ہوئے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ زکوۃ کے رقم کی بہتر طورپر تقسیم نہ ہونے کی وجہ سے بھی ہندوستانی مسلمان مفلوک الحال نظر آتا ہے۔پیش ہیں اہم اقتباسات

سوال:مسلمانوں کی معاشی حالت بہتر بنانے کے لئے گزشتہ چند برسوں سے آپ متفکر نظر آرہے ہیں،آپ نے اس ضمن میں دہلی و ممبئی میں بھی پروگرام منعقد کیاہے ۔آخر اس کا کیا نتیجہ بر آمد ہوا؟
جواب:کسی بھی کوشش کا فوری نتیجہ بر آمدہونا ممکن نہیں ہے، خصو صاً جبکہ ہماری معاشی تاریخ 1500برسوں پر محیط ہو، لہذاقوم و ملّت کی معاشی صورتحال میں جو خرابیاں در آئی ہیں ایک یا دو کوششوں سے اسے دور نہیں کیا جاسکتا لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ صرف ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہا جائے اور عملی اقدام نہ کیا جائے۔میں جس 8نکاتی پروگرام کی وکالت کر رہا ہوںاس میں(1)زکوۃ کے رقم کی مرکزی تقسیم(2)صدقات و خیرات کے رقم کی مرکزی تقسیم(3)ایک روپیہ جمع اسکیم (4)مسلم گریجویٹ دس ہزار روپیہ اسکیم (5)حکومتی اقلیتی اسکیم سے استفادہ (7)سینئر سٹیزن اسکیم سے استفادہ (7)این جی اوز کا تعاون وغیرہ اہمیت کی حامل ہیں۔دراصل ہر نکتہ اپنی تفصیل چاہتا ہے ۔مثلاً زکوۃ کے رقم کی مرکزی تقسیم نہ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کا کروڑوں روپیہ ہرسال غریبوں میں تقسیم ہوتا ہے لیکن اس کا سود مند نتیجہ بر آمد نہیں ہوتا جبکہ مانگنے والوں کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔
سوال :آپ اجمالاً ہی تھوڑی تفصیل بیان کر دیں؟
جواب:ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد 20سے 25کروڑ کے درمیان ہے اگر ہم 20کروڑ ہی تسلیم کر لیں اور ایک روپیہ اسکیم لاگو کریں تو بہ یک وقت پورے ملک سے 20کروڑ روپئے جمع ہو سکتے ہیں،اگر ہمارے پاس مر کزی بیت المال ہوتا ہے تو اس رقم کے ذریعہ کچھ بڑے کام کئے جا سکتے ہیں مثلا ً میڈیا ہائوس کا قیام ،لیگل سیل کا قیام،تعلیمی اقدام وغیرہ،اسی طرح ہم ملک کے ہر مسلمان گریجویٹ سے اس بات کی اپیل کریں کہ وہ زندگی میں صرف ایک مرتبہ 10ہزار روپئے کی رقم تعلیمی ترقی کے نام پر دیں،اگر تین کروڑ تعلیم یافتہ افراد ہیں تو یہ رقم تیس ہزار کروڑ تک پہنچتی ہے ،اس رقم کے ذریعہ ضرورت مند طلبہ کی امدا د بہ خوبی کی جاسکتی ہے،یہ ایک المیہ ہے کہ بہت سارے لوگ مکمل زکوۃ نہیں نکالتے البتہ اگر ہم صرف یہ تسلیم کرلیں کہ5فیصدی افراد ہی زکوۃ نکالتے ہیں تو بھی یہ رقم 5ہزار کروڑ سے متجاوز ہو جاتی ہے۔ان تمام رقوم کو حکومت کے قومیائے ہوئے بینکوں کے ذریعہ اگرمستحقین تک پہنچایا جائے تو ایک طرف جہاں قومی دھارے کا مسئلہ حل ہوجائیگا وہیں 80جی کے فائدے کے تحت ہماری بڑی رقم ملّی کاموں میں استعما ل ہو سکے گی۔
سوال :ڈاکٹر صاحب آپ جس اعداد و شمار کی روشنی میں گفتگو کر رہے ہیں کیا عملی طور پر یہ ممکن بھی ہے؟
جواب:ہندوستان میں ہی کئی سو سال تک مسلمانوں کی معیشت سے لوگوں نے استفادہ کیا ہے،بعد میں جب کمیونسٹوں کی معاشی پالیسی آئی تو حکو مت نے اسے اختیار کر لیا اور تمام چیزیں اسٹیٹ کی ملکیت تسلیم کی جانے لگیں،اس کے بعدسرمایہ داروں نے اپنا جلوہ دکھایا لیکن اب عوام پریشان نظر آرہی ہے لہذا اس وقت اگر ہم دوبارہ اسلامی معیشت کو برت کر دکھائیں گے تو میں سمجھتا ہوں کہ لوگوں میں زبر دست بیداری آئے گی اور مسلمانوں کے ساتھ دوسرے لوگ بھی اس سے استفادہ کریں گے۔
سوال:کیا صرف معاشی مسئلے کو حل کر کے امّت کا مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے؟
جواب:معاش کسی بھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوا کرتی ہے ،آپ ﷺ نے تجارت کو پسند فرمایا ہے،ہمارے یہاں جو بہت ساری برائیاں در آئی ہیں اس میں معاش کا سب سے اہم رول ہے،آپ خود ہی بتائیں کہ کتنے لوگ ہیں جو مزدور کی مزدوری وقت پر دیا کرتے ہیں؟اسی طرح کتنے لوگ ہیں جو صرف بھائی چارہ اور محبت کو فروغ دینے کے لئے تحفہ و تحائف د یاکرتے ہیں؟آخرکتنے خاندان ہیں جہاں وراثت کی تقسیم کے وقت اسلامی قوانین کا پاس و لحاظ رکھا جاتا ہے ؟ اگر آپ ان چیزوں کا تجزیہ کریں تو بھی محسوس ہوگا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں ۔اللہ کے رسول ﷺ نے جو باتیں ہمیں بتائی ہیں اگر اس پر ہو بہو عمل در آمد نہ ہو تو آخر کیسے ہمارے مسائل حل ہو سکتے ہیں؟لہذا معاشی مسئلہ دیگر مسئلے کی بنیاد ہے اگر اسے حل کر لیا گیا تو یقینا دوسرے مسئلے بھی خود بہ خود حل ہو جائیں گیں،یا دوسرے مسائل کے حل کی کم از کم سبیل پیدا ہو جائے گی۔
سوال:ہندوستان میں بیشتر تنظیموں نے بیت المال کا نظم قائم کر رکھا ہے لیکن پھر بھی مسائل وہیں کے وہیں ہیں؟
جواب:میں شروع سے ہی مر کزی بیت المال کے قیام کی بات کر رہا ہوں جس کی ریاستی سطح پر علاقائی شاخیں ہوں،جس میں مسلک و مشرب کا کوئی جھگڑا نہ ہو،بلکہ ہر ایک کا عمل دخل ہو اور ہر کوئی اسے اپنا سمجھ کر تعاون کرے۔فی الحال پورے ملک میں جو نظم قائم ہے وہ ’’ڈیڑھ اینٹ کی مسجد‘‘کی طرح ہے ۔ہر ایک کی اپنی حد بندی ہے ،اپنا دائرہ ہے جس سے وہ نکلنا نہیں چاہتا ۔بلکہ جو لوگ نکلنے کی خواہش بھی رکھتے ہیں تو ان پر کوئی نہ کوئی ایسا ٹھپہ لگا دیا گیا ہے کہ جس کی وجہ سے دوسرے لوگ اب اس میں شامل ہونا نہیں چاہتے ،لہذا میں یہ چاہتا ہوں کہ ایک ایسا ادارہ ہو جہاں ان تمام باتوں کی نفی ہو ،جبکہ وہ تمام لوگوں کو محیط ہو۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*