بنیادی صفحہ / نظریہ و تجزیہ / دانش ریاض / پسندیدہ کارپوریٹس کو مدد پہنچانا بھی انسانیت کے خلاف کیا جانے والا جرم ہے

پسندیدہ کارپوریٹس کو مدد پہنچانا بھی انسانیت کے خلاف کیا جانے والا جرم ہے

دانش ریاض

دانش ریاض

دانش ریاض

دنیا بھرمیں 85 مالدارلوگوں کے پاس 3.5 بلین غریبوں کے برابردولت ہے۔ یا دوسرے لفظوں میں یوں کہیں کہ 85 امراءکے پاس دنیا بھرکی نصف آبادی کے برابردولت ہے۔اسی طرح ہندوستان میں لکھ پتیوں اور کروڑ پتیوں کی تعداد بڑھنے کے ساتھ ارب پتی بھی بڑھتے جارہے ہیں۔اس وقت ملک میں 70افراد ایسے ہیں جو ارب پتیوں کی گنتی میں آتے ہیں۔ایک سروے کے مطابق ہندوستان میں دنیا بھر کے ارب پتیوں کا پانچواں گروپ موجود ہے۔سروے میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ جس طرح دنیا میں امیروں کی تعداد بڑھ رہی ہے اسی طرح اتنی ہی تیزی سے غریبوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔دنیا کے چنندہ ارب پتیوں کی فہرست میں شامل ہندوستان کے مکیش امبانی کی دولت 18بلین امریکی ڈالر ہےجو 11کھرب روپئے سے بھی زائد ہے۔مکیش امبانی کے بعد لکشمی متل کا نمبر ہے۔ان کی دولت 17بلین ڈالرس ہےجو تقریباً 10کھرب روپئے ہوتی ہے۔اس فہرست میں عظیم پریم جی، پالن جی مستری،دلیپ سنگھوی،ایس پی ہندوجا وغیرہ کا نام بھی شامل ہے ۔دنیا کے امیروں میں مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس اب بھی سر فہرست ہیں اور دنیا کے سب سے امیر ترین انسان ہیں۔ان کی دولت کا اندازہ 68بلین ڈالرس لگایا گیا ہے۔سر وے کے مطابق دنیا کے سب سے زیادہ 481ارب پتی صرف امریکہ میں ہیں جبکہ 358چین میںرہتے ہیں یعنی اگر امریکہ و چین کے ارب پتیوں کو ملا دیا جائے تو پوری دنیا کی نصف دولت انہیں دو ملکوں کے ارب پتیوں کے پاس ہے۔شہروں کی بات کی جائے تو نیو یارک کو ارب پتیوں کی راجدھانی کہا جاسکتا ہے۔یہاں پر 84امیروں کا بسیرا ہے۔اگر ہندوستان کی بات کی جائے تو ملک کی معاشی راجدھانی ممبئی سر فہرست ہے یہاں پر 33امیر ترین افراد رہتے ہیں۔سروے میں دنیا کے تمام امیر ترین افراد کی مجموعی دولت کا اندازہ 6.9ٹریلین ڈالر لگایا گیا ہے۔دلچسپ بات تو یہ ہے کہ مالداروں کی فہرست میں جہاں مردوں نے سبقت بنا رکھی ہے وہیں خواتین بھی پیچھے نہیں ہیں۔FORBESنے اپنی جو فہرست جاری کی ہے اس میں جہاں 1645بلینائرس کا تذکرہ ہےوہیں 172خواتین بھی شامل ہیں۔سروےکے مطابق گذشتہ برس کے مقابلے اس برس خواتین ارب پتیوں کی تعداد میں 10فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔گذشتہ ماہ جب سوئٹزر لینڈ کے دیواس میں ایکونومک فورم کا اجلاس ہوا تھا تو وہاں بھی اس پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ تشویش ان لوگوں کو لاحق تھی جو خود دنیا کی دولت پر قبضہ کئے بیٹھے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امراء یہ جانتے ہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں، لیکن بات یہ ہے کہ سمندر میں اٹھنے والی موجیں بہت کم کشتیوں کو اپر اٹھا رہی ہیں اور بہت سی کشتیوں کو ڈوبا رہی ہیں، اور یہ کام انفرادی اور قومی دونوں سطح پر ہو رہا ہے۔ بلاشبہ یہ بات کسی کے لئے بھی حیرانی کا سبب ہے۔ ہر شخص یہ سوچنے پرمجبور ہے کہ کیا وہ ایک صحیح کشتی پر سوار ہے اور کیا اس کی کشتی بڑی ہے؟ کریڈٹ سوئس کے اندازے کے مطابق محض دو نسلوں کے اندر دنیا بھر میں 11 لوگ کھرب پتی کہلائیں گے۔
اب سپلائی سائڈ کا اصول صحیح نہیں ہے۔ اب اوپر کے لوگوں کے پاس اتنا پیسہ آگیا ہے کہ وہ کوئی چیز بنانے کے بارے میں نہیں سوچتے۔ان پیسوں سے ملک کی معاشی پالیسی کو خریدا جا رہا ہے۔ ایک ایسی حالت میں کہ جب ایک شخص حکومت کو قابو میں کر کے اسے امراء کی حمایت پر مجبور کرے اور قسمت آزمائی کرنے والے نئے لوگوں کو معاشی میدان میں کودنے سے روکے اور اس طرح اپنے شیئر کو بڑھا تا رہے تو پھر روپئے کے بڑھنے کا کوئی راستہ کہاں بچتا ہے؟۔
یہ بات کمپنی اورافراد دونوں پرصادق آتی ہے۔ چھوٹی تجارتیں ٹیکس کی زیادتی کی وجہ سے برباد ہورہی ہیں۔ اوربڑی تجارتیں حکومتوں سے کہہ رہی ہیں کہ ” دیکھو اس سال ہم اتنا ہی ٹیکس دیں گے لینا ہے تو لو یا جائو” اب مالدارطبقہ ملازمت کے مواقع پیدا نہیں کرتا بلکہ ٹیک اوور، اوراشتراک کے ذریعہ وہ ملازمت کے مواقع اور چھوٹی تجارتوں کو تباہ کر رہا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب لوگ بھوک سے مر رہے ہوں، جہاں سیاست میں ان کی آواز نہ سنی جاتی ہو، ایسی کسی بھی سوسائٹی میں کسی ملازم کے ساتھ کوئی کیوں سمجھوتہ کرے گا اور کیوں ملازم کو اختیار فراہم کرائے گا۔
یہ امید کی جا سکتی ہے کہ یہ ماڈل قائم رہےگا کیونکہ بے قابو کواس کے ذریعہ قابومیں کیاجاتاہے۔ جس سوسائٹی میں جتنازیادہ عدم مساوات ہوگا اتنا ہی اوپری سطح پر پیسہ جائے گا اور ان کے ہاتھ میں بے پناہ قوت خرید آجائے گی۔ بل کلنٹن کے سابق لیبر سکریٹری رابرٹ ریچ عدم مساوات نامی فلم میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں۔” دنیا کی دوسری معیشت میں اتنی قوت خرید نہیں ہے۔” 1928 میں امریکہ میں دولت سے متعلق عدم مساوات اپنے عروج پر تھی اور یہی صورت حال 2007 میں بھی دیکھی گئی یعنی دو بڑے مالی بحران سے ایک سال قبل تک یہ صورت حال قائم تھی جبکہ اس مالی بحران کی زد میں آکر بڑے بڑے مالی اداروں کی بنیادیں ہل گئیں۔
تو پھر آخر ایسا کیوں ہے کہ معیشت کو دوبارہ پٹری پر لانے کے لئے حکومت اسی پالیسی کو آگے بڑھا رہی ہے جس پالیسی پر عمل پیرا ہوکرماضی میں ہماری معیشت تباہ ہو چکی ہے؟ اس کا سادہ جواب دوحصوں میں ہے۔ پہلا جواب تو عادت ہے۔ دوسرا جواب وہ ہے جو وائرکے خالق ڈیویڈ سیمون نے دی ہے۔” یہ ہمارے وقت میں کیپیٹلزم کی سب سے بڑی ٹریجڈی ہوگی کیونکہ کیپیٹلزم نے سماج کو فائدہ پہنچائے بغیر ہی سماج پر غلبہ حاصل کرلیا ہے اور یہ سماج کو بہتر بنانے میں کوئی کردارادا نہیں کرسکا ہے۔”
امبانی،اڈانی،متل کے خلاف دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے جو جنگ چھیڑ رکھی ہے۔وہ دراصل اسی احساس کا نتیجہ ہے کہ اگر ملک میں اسی طرح کارپوریٹس کاا ثر و رسوخ قائم رہا تو عام آدمی کے لئے حالات انتہائی خراب ہو جائیں گے۔سہارا گروپ کے مالک سبرتو رائے سہارا کے ساتھ حالیہ دنوں جو سلوک ہوا اور عدالت عظمٰی نے جس طرح کا سخت تیور اختیار کیا ہے وہ بھی نئے حالات کا ادراک کراتا ہے ۔لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ عام آدمی کو اس بات سے باخبر کیا جائے کہ اگر ملک کی ساری دولت چند لوگوں کے پاس سکڑ جائے گی تو یہاں کا جمہوری نظام بھی انہیں کے مرہون منت ہوگا۔اس وقت ملک کی دو سیاسی پارٹیاں جو کام کر رہی ہیں وہ صرف یہ ہے کہ ملک کا باگ ڈور محض چند ہاتھوں میں چلا جائے اور جب غیر ملکی سرمایہ آئے تو پورا ملک بس چند لوگوں کا غلام بن جائے۔
دولت کو چند لوگوں کے درمیان سمٹا ہوا دیکھنا ،چند لوگوں کے لئے کام کرنا اور پسندیدہ کارپوریٹس کو مدد پہنچانا بھی ویسا ہی انسانیت کے خلاف کیا جانے والا جرم ہے جس کا ارتکاب غیر سماجی عناصر کرتے ہیں۔کیا ہم اس بات کی کوشش کریں گے جہاں ان مالداروں کو جن کے پاس دولت سمٹتی جا رہی ہے ٹیکس ادا کرنے پر آمادہ کریں وہیں ملک کے مفاد میں جو لوگ بھی آگے بڑھ رہے ہیں ان کا ساتھ دیں اور ان کے لئے بہتر مواقع پیدا کریں۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*