بنیادی صفحہ / نظریہ و تجزیہ / دانش ریاض / سیاست اب تجارت بن گئی ہے

سیاست اب تجارت بن گئی ہے

دانش ریاض

دانش ریاض

ہندوستان میں پارلیمانی انتخابات کی گہما گہمی ہے۔ 543 رکنی لوک سبھا کے لیے انتخابی سرگرمیاں شباب پر ہیں۔ہر پارٹی دوسری پارٹی کو مات دینے کے لئے ہر طرح کے ہتھکنڈے اختیار کر رہی ہے۔چونکہ انتخاب ایک مہنگا عمل ہے اور ان کے انعقاد کے لیے خود حکومت ایک کھرب روپے تک صرف کرتی ہے۔لہذا انتخابی کمیشن نے امیدواروں کے لیے ذاتی طور پر اپنے حلقے میں ستر لاکھ روپے کے اخراجات کی حد مقرر کر رکھی ہے ۔لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس عمل کے انعقاد پر حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اخراجات کے علاوہ امیدواروں کی طرف سے کروڑوں روپیہ بہایا جارہا ہے۔ایک صنعتی ادارے ایسوچیم کے مطابق ہر حلقے میں کم از کم چار سنجیدہ امیدوار ہوتے ہیں اور ادارے کے اندازے کے مطابق ہر امیدوار اوسطاً پانچ کروڑ روپے انتخاب پر خرچ کرتا ہے۔ اس لحاظ سے تقریباً ایک سو دس ارب روپے انتخابی عمل کے دوران خرچ کیے جائیں گے۔ لیکن ایک ممبر اسمبلی کے مطابق ’’پہلے اسمبلی کا انتخاب تین کروڑ میں لڑا جاتا تھا جو گذشتہ برس دس کروڑ کی بائونڈری پار کر چکا ہے۔اسی طرح پارلیمنٹ کا انتخاب پہلے پانچ کروڑ میں لڑا جاتا تھا لیکن اب بیس سے پچیس کروڑ خرچ ہوتے ہیں‘‘دلچسپ بات تو یہ ہے کہ پہلے ووٹوں کے خرید و فروخت میں اگر فی ووٹ پانچ سو سے ہزار روپئے تک دئے جاتے تھے تو اب فی ووٹ تین ہزار تک پہنچ گئے ہیں۔اور حقیقت یہ ہے کہ اخراجات کی حد مقرر ہونے کے سبب ان میں سے بیشتر رقم کالے دھن سے آئے گی۔
رواں انتخابات میں بے ایمانی اور بدعنوانی سب سے اہم موضوع ہے۔ کھلی معیشت کا راستہ اختیار کیے جانے کے بعد ملک کی سیاست اور صنعتی نظام میں بدعنوانی ایک نئی اور حیرت انگیز اونچائی پر پہنچ گئی۔معروف جریدے ’دی ایکانومسٹ‘ کے مطابق پچھلے دس برس میں بد عنوان سیاست دانوں اور صنعت کاروں نے بے ایمانی رشوت اور کمیشن سے سیکڑوں ارب ڈالر بنائے ہیں۔ بدعنوانی پر نظر رکھنے والی عالمی تنظیم ’ٹرانس پیرینسی انٹرنیشنل‘ کے مطابق ہندوستان میں 54 فی صد لوگوں کا کہنا ہے کہ انھیں گذشتہ برس کسی نہ کسی مرحلے پر رشوت دینی پڑی ہے۔ہندوستان نےبد عنوانی میں بدعنوان ملکوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔”بد عنوانی کے خلاف تحریک چلانے والے انّا ہزارے اور اروند کیجریوال جیسے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انتخابی اخراجات ملک میں بدعنوانی کا سب سے بڑا سبب ہیں۔ امیدواروں کو جیتنے کے لیے کروڑوں روپے صرف کرنے پڑتے ہیں اور جیتنے کے بعد ان کی ساری توجہ جائز اور ناجائز ہر طریقے سے صرف پیسے کمانے پر مرکوز ہوتی ہے۔ اس بار کے انتخابات میں بے ایمانی کےگیارہ ہزار کروڑ سے بیس ہزار کروڑ روپے تک صرف کیے جانے کا اندازہ ہے۔ آئندہ حکومت کتنی ایماندار ہوگی اس کا اندازہ ابھی سے لگایا جا سکتا ہے۔”
البتہ ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ ملک کی غالب اکثریت بدعنوانی سے بے چین ہو رہی ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق 96 فی صد لوگوں کا یہ خیال ہے کہ بد عنوانی کی وجہ سے ملک آگے نہیں بڑھ پا رہا ہے۔ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ گذشتہ پانچ برس میں ملک میں بدعنوانی کی صورتحال پہلے سے بھی زیادہ خراب ہوئی ہے۔بے ایمانی کا یہ عالم ہے کہ کچھ عرصے پہلے تک کرناٹک کی کانوں سے دو ہزار ٹرک روزانہ بے روک ٹوک غیر قانونی طور پر خام لوہا نکال کر چین بر آمد کیا جا رہا تھا۔ جب تک کوئی آواز اٹھتی تب تک ریاست کے کئی سیاست داں اور بڑے بڑے سرکاری اہلکار دو ارب ڈالر سے زیادہ کما چکے تھے۔
تحقیقی ادارے ’گلوبل فینانشیل انٹیگر یٹی‘ کے اندازے کے مطابق ہندوستانی سیا ست دانوں، صنعت کاروں اور اہلکاروں نے 2007 سے ہر برس کالے دھن کے اوسطاً 52 ارب ڈالرغیر ممالک میں جمع کیے۔ یعنی سات برس میں بے ایمانی کے ساڑھے تین سو ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم باہر بھیجی گئی۔
پچھلے برس امریکہ برطانیہ اور دیگر بعض ملکوں کی طرف سے سوئٹزر لینڈ، لگزم برگ اور جرمنی کے بینکوں پر دباؤ پڑنے کے بعد جرمنی اور سوئٹزر لینڈ نے وہاں پیسہ جمع کرنے والوں کی فہرست ہندوستانی حکومت کوسونپی تھی۔ لیکن کالا دھن جمع کرنے والوں کی یہ فہرست ابھی تک ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ شایدبڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان بظاہر مفاہمت ہے۔
اپوزیشن بی جے پی نے موجودہ منموہن سنگھ کی حکومت کو تاریخ کی سب سے بدعنوان حکومت قرار دیا ہے لیکن خود اس کا دامن بھی صاف نہیں ہے۔کرناٹک میں بدعنوانی کے تمام الزامات اسی پارٹی پر لگے ہیں جبکہ احتسابی ادارے لوک پال کو بااثر نہ ہونے دینے اور اس کی تقرری میں ہر ممکن رکاوٹیں ڈالنے میں سبھی بڑی سیاسی جماعتوں نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔
دراصل زمانہ بدلنے کے ساتھ ہی سیاست بھی تجارت میں تبدیل ہو گئی ہے۔غیر مصدقہ رپورٹ کے مطابق بی جے پی نے صرف میڈیا میں اپنی تشہیر پر دس ہزار کروڑ خرچ کئے ہیں جبکہ کانگریس نے پانچ سو کروڑ خرچ کیا ہے۔ ماہرین کے اندازے کے مطابق نریندر مودی اور سونیا گاندھی جیسے رہنماؤں کے انتخابی جلسوں کے انعقاد پر 15کروڑ روپے سے لے کر 50 کروڑ تک روپے صرف ہوتے ہیں اور اس طرح کی ریلیاں ہر روز ہو رہی ہیں۔
دراصل یہاں غور و فکر کا پہلو یہ ہے کہ جمہوریت جس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ عوام کی حکومت،عوام کے ذریعہ اور عوام کے لئے ،کا کوئی مطلب باقی رہ گیا ہے یا نہیں۔علامہ اقبال ؒ کے بقول
جمہوریت ایک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں،تولا نہیں کرتے
اس وقت محض گردنوں کو گننے کے لیے ہزارہا کروڑ روپئے بہائے جا رہے ہیں۔کارپوریٹ کمپنیاں ہر پارٹی میں اپنا سرمایہ لگا رہی ہیں۔خود دونوں بڑی پارٹیوں پر ہندوستان کی بڑی بڑی کارپوریٹ کمپنیوں نے اپنا کروڑوں روپیہ لگا رکھاہے۔اب جو کوئی بھی پارٹی کامیاب ہوگی تو کیا وہ ان کارپوریٹ کمپنیوں کے لئے کام نہیں کرے گی؟ جب ہر پارٹی کارپوریٹ کے اشارے پر ہی کام کرے گی تو پھر عوام کی تکلیف کا مداوا کون کرے گا؟دراصل موجودہ الیکشن اب صرف ایک تجارت ہے ۔جس طرح لوگ تجارت میں اپنا سرمایہ منافع کمانے کے لئے لگاتے ہیں اسی طرح یہاں بھی لوگ اپنا سرمایہ صرف منافع کمانے میں ہی لگا رہے ہیں۔کسی پارٹی کے پاس کوئی ٹھوس انتخابی منشور نہیں ہےبس ہر پارٹی جھوٹے وعدوں کے سہارے ہی عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔الیکشن کمیشن نے اخراجات پر قابو پانے کے لئے ہزارہا جتن کئے ہیں لیکن اس کے باوجود ہر الیکشن سے زیادہ اس الیکشن میں امیدواروں کا خرچ ہو رہا ہے۔جب ابھی خرچ ہو رہا ہے توکیا بعد میں وہ اس کی وصولی نہیں کریں گے؟ پھر بدعنوانی کا کیا ہوگا؟

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*