بنیادی صفحہ / خبریں / بڑی تعداد میں بنگلہ دیشی خواتین بیرون ملک ملازمت کر رہی ہیں

بڑی تعداد میں بنگلہ دیشی خواتین بیرون ملک ملازمت کر رہی ہیں

جبکہ ملیشیا میں مزدوری کے نئے مواقع نے بنگلہ دیشیوں کوراحت پہنچائی ہے

بیرون وطن کام کرنے والی بنگلہ دیشی خواتین کی تعداد میں امسال میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ ملک سے باہر جا کر نوکری کرنے والے مردوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔غیر ممالک سے کما کر بھیجی جانے والی آمدن ایک عشرے سے زر مبادلہ کے محفوظات میں خاطر خواہ اضافہ کرتے ہوئے بنگلہ دیشی معیشت کو چلا رہی ہے۔ قریبًا 25 لاکھ بنگلہ دیشی بیرون ملک کام کر رہے ہیں جن میں مردوں کی تعداد عورتوں کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ حالیہ عرصہ میں نوکری کے لیے بیرون وطن جانے والی بنگلہ دیشی عورتوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔بیورو آف مین پاور، امپلائمنٹ اینڈ ٹریننگ (بی ایم ای ٹی) کے مطابق گذشتہ برس کے بعد سے اس تعداد میں تیزی سے اضافہ ہواہے۔ بیورو نے مطلع کیا کہ 2013 میںتقریبًا 57,000 عورتیں نوکری کے لیے بیرون ملک گئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 7 فیصد اضافہ تھا۔ ادارے کے حالیہ ترین اعداد و شمار کے مطابق تقریبًا 275,000 بنگلہ دیشی خواتین (ملک کے جملہ مہاجر کارکنان کا 11فیصد حصہ) اب باضابطہ طور پر بیرون ملک کام کر رہی ہیں، اور یہ ملازمتیں اکثر گھریلو خدمتگاری پر مبنی ہیں۔
دریں اثنا، مردوں پر مشتمل جملہ مہاجر کارکنان کی تعداد میں کمی آئی ہے جو 2012 کے 608،000 کارکنان کے مقابلے میں گھٹ کر 2013 میں 409,000 ہو گئے۔
بنگلہ دیشی خواتین مہاجر کارکنان کی تنظیم بنگلہ دیش فیمیل مائگرنٹ ورکرز ایسوسی ایشن کی ڈائریکٹر سمیا اسلام نے کہا کہ عمومی طور پر بنگلہ دیشی خواتین مہاجر کارکنات کی جانب سے بھیجی جانے والی آمدن سے ملکی معیشت میں زیادہ بڑی رقوم کی شکل میں اضافہ ہوتا ہے۔”مرد کارکنان کے برعکس خواتین کارکنات میں بچت کا رجحان زیادہ ہے اور وہ اپنا ایک خاطر خواہ حصۂ آمدن اپنے گھروں کو بھیجتی ہیں،”
دریں اثنابنگلہ دیش کی جانب سے غیر ممالک میں کام کرنے والی عورتوں کو استحصال سے محفوظ رکھنے کی کوششوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ماضی میں بہت سی خواتین مہاجر کارکنات بالخصوص غیر اندراج شدہ کارکنات جن کا کسی حساب کتاب میں شمار نہیں تھا بد اصول بھرتی کاروں کا شکار ہوئیں جنہوں نے انہیں خوف و ہراس میں رکھا، جس میں جسم فروشی پر مجبور کرنے کے بہت سے واقعات شامل ہیں۔
حکومت سالہا سال سے غیر ممالک میں نوکری تلاش کرنے والوں کا اندراج کرتی آئی ہے، تاہم 2013 میں عورتوں کو بیرون وطن ممکنہ بدسلوکی سے بہتر تحفظ مہیا کرنے کے لیے ان کا اندراج لازمی قرار دے دیا گیا۔بی ایم ای ٹی کی ڈائریکٹر جنرل بیگم شمس النہار نے کہا کہ اب خواتین مہاجر کارکنات کے لیے بیرون وطن جانے سے قبل ایک تین روزہ تربیتی کورس لینا بھی لازمی ہے۔”اندراج کے نظام کے باعث ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ انہیں کونسی تنظیم نوکری دے رہی ہے، وہ کہاں جا رہی ہیں، اور انہیں کتنی تنخواہ مل رہی ہے،” “ہمارے پاس تمام درکار معلومات ہمارے نظام میں محفوظ ہیں۔”
اور نوکری تلاش کرنے والی خواتین کی مدد کے لیے بیورو اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین یو این ویمن نے مشترکہ طور پر خواتین کے لیے ایک مرکز معلومات تشکیل دیا ہے۔
اس قسم کے حفاظتی اقدامات سے 37 سالہ کمالہ خاتون جیسے افراد کا حوصلہ بڑھتا ہے جنہیں ماضی میں استحصال کا نشانہ بنایا گیا۔ کچھ سال قبل وہ اور دیگر نو خواتین دبئی سے واپس لوٹیں جہاں انہوں نے بطور گھریلو ملازمہ کام کیا تھا۔والوکا میمن سنگھ کے مطابق”وہاں پہنچنے کے بعد جلد ہی مجھے احساس ہو گیا کہ مجھ سے جس معاوضے کا وعدہ کیا گیا تھا اس سے بہت کم دیا جا رہا تھا اور مجھے غیر انسانی حالات میں، طویل اوقات کام لے کر اور بغیر چھٹی کے رکھا جا رہا تھا،” اب حکومت کی جانب سے استحصال کے خطرات کو کم کرنے کے لیے کیے جانے والے نئے حفاظتی اقدامات کے باعث خاتون ملازمت کے لیے دوبارہ بیرون وطن جانے کا ادارہ کر رہی ہیں۔
دوسری جانب ملیشیاکے اس اعلان پر کہ وہ بنگلہ دیشی مزدوروں کے لیے اپنے دروازے ایک بار پھر کھول دے گا، اس جنوب مشرقی ملک کے طول و عرض میں رہنے والے بےروزگار نوجوانوں میں ایک ہلچل مچ گئی۔یہ خبر کہ ملیشیا نے پانچ لاکھ تک نئے بنگلہ دیشی مزدور لینے کی رضامندی ظاہر کی ہے، اس پس ماندہ ملک کے لیے دوا کا کام کرے گی جس کا ضروری مصنوعات، خصوصاً خام تیل، کی روز افزوں درآمدادت کی ادائیگی کے لیے بیرون وطن سے آنے والی رقوم پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے۔حالیہ برسوں میں، بنگلہ دیش میں بیرون ممالک سے آنے والی رقوم میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور 2010 میں یہ رقم 11.1 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2011 میں 12.17 ارب ڈالر ہو گئی۔ انیس ارب ڈالر مالیت کی صنعت ملبوسات کے بعد یہ غیر ملکی ذر مبادلہ کمانے کا دوسرا بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔
تخمینے کے مطابق امسال بنگلہ دیش میں غیر ملکی کمائی سے ملنے والی آمدنی 14 ارب ڈالر ہو گی، جو بنگلہ دیش میں اعداد و شمار کے اندراج کے پہلے سال یعنی 1976 کی 50 ملین ڈالر کی کمائی کے مقابلے میں انتہائی بڑا اضافہ ہے۔ملیشیا میں ملازمت کا یہ موقع پیدا ہونے پر بنگلہ دیش اب بیرون ممالک سے آئی آمدنی میں مزید متاثرکن اضافے کے لیے تیار ہے ، جس سے ملک کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو گا اور یہاں غربت مٹانے کی کوششوں میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔ بنگلہ دیش بینک کے گورنر عطیع الرحمن کے مطابق”ہمارا غیر ملکی کرنسی کا ذخیرہ اب 12.36 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، اور 41 سال قبل بنگلہ دیش بننے کے بعد سے اب تک یہ سب سے زیادہ رقم ہے،”انہوں نے سرمائے کے اس تسلی بخش ذخیرے کی وجہ بیرون وطن کام کرنے والے ان کارکنان کو قرار دیا جو اپنی آمدنی وطن واپس بھیجتے ہیں اور اس کے ساتھ درآمدات کی گرتی ہوئی قیمت کو بھی اس کی ایک وجہ بیان کیا۔تاریخی اعتبار سے بنگالی عوام انگریزوں کے اقتدار سے ہی سمندر پار جاتے رہے ہیں، جو بنیادی طور پر معاشی وجوہات سے تھا۔ تاہم اصل مواقع بنگلہ دیش کے 1971 میں آزادی حاصل کرلینے کے پانچ سال بعد پیدا ہوئے۔ایکسپیٹریٹ ویلفیئر اینڈ امپلائمنٹ منسٹری (ای ڈبلیو ای ایم) کے مطابق 1976 میں پہلی مرتبہ تقریباً 14,000 کارکنان کو تیل کی دولت سے مالا مال خلیجی ممالک میں نوکریاں ملیں۔ تب سے اب تک اس تعداد میں شرحاً اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور آجکل یہ تعداد 8 ملین ہے۔ای ڈبلیو ای ایم کے سکریٹری ظفر احمد خان کے مطابق”ہم اس علاقے میں مزدور مہیا کرنے والے اہم ملک کے طور پر ابھر رہے ہیں اور باہر سے آنے والی کمائی ہماری معیشت کے لیے ایک اہم سہارا بن چکی ہے،”
عالمی بینک کی پیش خبری کے مطابق توقع ہے کہ بنگلہ دیش اور پاکستان، دونوں ممالک اس سال کے آخر تک بیرن وطن سے آنے والی رقوم میں 14 ارب ڈالر کما لیں گے، جس سے یہ ممالک بیرون ممالک آمدنی حاصل کرنے والے 10 سرفہرست ممالک میں ساتویں نمبر پر ہوں گے۔عالمی بینک کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کی بیرون وطن سے حاصل ہونے والی کُل کمائی 460 ارب ڈالر ہوگی، جس میںہندوستان سرفہرست ہو گا (70 ارب ڈالر)، جس کے بعد چین ہے (66 ارب ڈالر)، اور فلپائن اور میکسکو دونوں تیسرے نمبر پر ہیں (24 ارب ڈالر)۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش بیرون وطن سے آنے والی کمائی میں قابل ذکر اضافہ کر سکتا ہے اگر وہ خصوصی مہارت رکھنے والے کارکنان بھی زیادہ تعداد میں بیرون ممالک میں بھیج سکے۔ماہر معاشیات وحید الدین محمود کے مطابق۔”یہ ہمارے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ پہلو ہے۔ ہمارے ایسے کارکنان جو خصوصی مہارت نہیں رکھتے نہ صرف محنت زیادہ کرتے ہیں بلکہ انہیں معاوضہ بھی بہت کم ملتا ہے۔ اور زیادہ قابل تشویش بات یہ ہے کہ خصوصی مہارت نہ ہونے کی وجہ سے یہ اپنے مالکان سے سودا بازی کی طاقت بھی نہیں رکھتے،”انہوں نے اس غیر انسانی سلوک کا بھی شکوہ کیا جو مزدوری دینے والے ممالک میں ایسے کارکنان کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے، اور ان کے وطن لوٹنے پر ہوائی اڈے کے کسٹم اور امیگریشن اہلکاروں کی طرف سے ہراساں کیے جانے کی بھی شکایت کی۔”ہمیں نوکری کے ایسے خواہشمندوں کی تربیت پر زیادہ سرمایہ کاری کرنی چاہیے جو خصوصی مہارت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کو نوکری ملنے کا امکان بہتر ہو جائے گا اور زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس سے ملک کی بیرون ممالک سے آنے والی کمائی میں اضافہ ہو گا،” انہوں نے کہا۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*