بنیادی صفحہ / خبریں / پارلیمانی الیکشن 2014کے لئے مسلمانوں کا کوئی مشترکہمطالبہ کیوں نہیں ہے؟

پارلیمانی الیکشن 2014کے لئے مسلمانوں کا کوئی مشترکہمطالبہ کیوں نہیں ہے؟

دانش ریاض
آخر مذہبی تنظیموں اور سماجی جماعتوں نےامن و تحفظ، مذہبی آزادی ،ریزرویشن،اردو کا فروغ،اقلیتوں کے لئے بجٹ جیسے موضوعات پر پہلے سے ہی کسی سیاسی پارٹی سے مفاہمت کیوں نہیں کی؟عین انتخابات سے قبل مختلف گروہوں کااعلان اور شاہی اماموں کی حمایت و مخالفت کیا ملک کے مسلمانوں کی غلط شبیہ نہیں پیش کر رہی ہے۔

اگرآپ نے پرکاش جھا کی فلم ’’آرکشن‘‘دیکھی ہے تو آپ کو ریزرویشن پر طول طویل گفتگو کرنے کا اختیار ہے۔ہوسکتا ہے کہ آپ ریزرویشن کے حق میں ہوں یا ممکن ہو کہ آپ اس کی مخالفت میں ایسی دلیلیں پیش کریں جو لوگوں کو خاموشی پر مجبور کر دے۔لیکن اہم پہلو یہ ہے کہ کیا ریزرویشن مسلمانوں کے مسائل حل کرسکتا ہے؟اس وقت مسلمانوں کے مابین فکری طورپرمنفی سوچ کا رجحان قدرے چھایا ہوا ہے ۔جمعہ کے خطبات سے لے کر عرس و میلاد کی مجلسوں تک اور سیاسی اسٹیجوں سے لے کر علمی و فکری مذاکروں تک ،ہمارے اپنے اصحاب ِ علم و ہنر ہماری شبیہ ایسی پیش کرتے ہیں کہ گویا ہم دنیا کی سب سے احقر قوم ہیں اور تمام طرح کی برائیاں ہمارے یہاں رچی بسی ہوئی ہیں۔عام مساجد میں جب آپ خطبہ جمعہ سماعت کر رہے ہوں تو دوران ِخطبہ آپ کے دل میں یہ احساس ضرورپیدا ہو تا ہوگا کہ کیا سب سے زیادہ بد قماش ہماری ہی قوم میں بسے ہوئے ہیںیا بالفاظ دیگر منجملہ پوری ملت خائن،چور،بد چلن ،آوارہ اور ہر طرح کی برائیوں کا واحد منبع قرار پائی ہے کہ ہمارے خطیب حضرات کو اب ملت کے اندر کوئی اچھائی ہی نظر نہیں آتی؟ اسی طرح سیاسی اسٹیج سے کسی مسلم وزیر یا خود ساختہ لیڈر کی تقریر سنیں تو اس کی صلواتیں سن کر آپ کے اندر یہ احساس پیدا ہوگا کہ قرآن مجید جس امت کو ’’کنتم خیر امۃٍ‘‘ کے لفظ سے یاد کرتا ہے وہ اب ارذل ترین امت بن گئی ہے اور حالت یہ ہے کہ ہندوستان میںبرہمنوں کی نظر میں ذلیل سمجھے جانے والے شودر سے بھی ان کی حالت گئی گذری ہوگئی ہے۔
منفی سوچ و فکر کے سیلاب نے گذشتہ کئی دہائیوں سے ہمیں اس بات پر مجبور نہیں کیا کہ جو لوگ آج حکمرانی کر رہے ہیں ہم ان سے نظریں ملاسکیں۔ہم کاسہ ء گدائی لئے در در کی ٹھوکریں کھانا تو گوارہ کرتے ہیں لیکن پورے عزم و استقلال کے ساتھ اپنی دنیا آپ بنانے کاجنون پیدا نہیں کرتے ۔ہمارے اندر تمام طرح کی صلاحیتیں موجود ہیں لیکن ان صلاحیتوں کو صحیح سمت دینے میں نہ صرف ہمیں تکلیف دہ احساس کا سامنا ہوتا ہے بلکہ ہم دوسروں کو بھی بہتر راستے کی طرف جاتا دیکھ کر حسد اور جنون میں مبتلا ہوجاتے ہیں نتیجتاً نہ ہماری نیّا پار لگتی ہے اور نہ ان لوگوں کی جو پتوار لے کر کم از کم کشتی رانی کا شوق لئے سمندر کا گشت لگاتے ہیں۔دراصل منفی سوچ نے ہمارے گلی محلوں سے لے کر ،تنظیم و اداروں کے دفاتر تک،صاحب ثروت کے بنگلوںسے لے کر ہمارے خود ساختہ سیاسی گلیاروں تک کو اس قدر گرفت میں لے لیا ہے کہ مثبت رجحان کا مزاج دور دور تک نظر نہیں آتا۔ہندوستان میں ریزرویشن کا مسئلہ بھی اسی منفی سوچ کی پیداوار ہے۔کیا کوئی صحت مند آدمی اس بات کو پسند کرے گا کہ اسے بیساکھی کے سہارے چلایا جائے اور لوگ یہ کہیں کہ دیکھو یہ ہے تو تندرست لیکن زمانے نے اسے لاٹھی کا سہارا عطا کیا ہے؟ کیا کوئی صاحب حیثیت انسان اس بات کو کسی بھی مر حلے میں پسند کرے گا کہ اس کے لئے لوگ چندہ جمع کریں اور وہ اپنی گذر اوقات عوام الناس کے ان ٹکروں پر کرے؟ کیا کوئی بہترین تیراک اس بات کو پسند کرے گا کہ اس کے لئے پہلے ہی کچھ نمبرات مختص کر دئے جائیں اور پھر وہ مقابلے میں شریک ہو؟ دراصل جو لوگ بطل جلیل ہوتے ہیں ،عزم و ہمت رکھتے ہیں۔پہاڑوں کو تسخیر کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں ،ستاروں پر کمنڈ ڈالنے کی جسارت کرتے ہیں ۔وہ کبھی کسی کے نظر کرم کے محتاج نہیں ہوتے انہیں تو صرف اللہ رب العزت پر بھروسہ رہتا ہے اور اپنے قوت بازوکو استعمال میں لاتے ہیں۔ ہمارے پڑھے لکھے حلقے میں جب ملک و ملت کی گفتگو شروع ہوتی ہے تو تان یہودیوں کی کامیابی پر جاکر منتج ہوتی ہے ہم یہ کہنا نہیں بھولتے کہ آج ہر اعلیٰ مناصب پر یہودیوں نے اپنا قبضہ جمائے رکھا ہے لیکن اس تذکرے میں ہم اس بات کو شامل نہیں کرتے کہ جس یہودی نے ہمارے خلیفہ سے چند گز زمین مانگی تھی اور خلیفہ کے انکار پر اسی یہودی نے کئی سال بعد اسی خلیفہ کو ان کے تخت و تاج سے بے دخل کردیا تھاکیا وہ ریزرویشن کی بنیاد پر ہوا تھا یا یہودیوں کی اسلام دشمنی اور کمال درجہ کی پلاننگ کا نتیجہ تھا کہ ہماری خلافت تار تار کر دی گئی تھی۔آپ ہندوستان کے مسائل پر اگر بحث کر رہے ہوں تو برہمنوں کا تذکرہ نہ ہو یہ ممکن ہی نہیں لیکن کیا آپ نے کبھی یہ سوچا کہ محض ڈھائی فیصد برہمن کس طرح پورے ہندوستان پر حکمرانی کر رہے ہیں ۔آپ کسی بھی پارٹی کا جائزہ لے لیں وہاں اعلیٰ مناصب پر برہمن ہی بیٹھا نظر آئے گا خواہ وہ مایاوتی کی دلتوں کی پارٹی ہو یا مذہب مخالف لال سلام والی پارٹی۔تمام جگہوں پر برہمنوں کی موجودگی کیا ریزرویشن کا نتیجہ ہے یا کوئی خاص بات ہے جو انہیں اس مقام پر فائز کئے ہوئے ہے؟
غالباًہندوستان میں شودروں کے لئے بابا صاحب بھیم رائو امیڈکر نے سب سے پہلے ریزرویشن کی مانگ کی ،لیکن کیا آنجہانی امبیڈکر صاحب کسی ریزرویشن کی بنیاد پر ہندوستان کی دستور ساز کمیٹی کے چیر مین بنے تھے،یا ان کی خداداد صلاحیتوں نے انہیں اس قابل بنایا تھا کہ وہ شودر ہوکر بھی برہمنوں کی رہنمائی کریں۔ہم اپنے آپ کو جس نبی ﷺ کا پیروکار سمجھتے ہیں کیا انہوں نے کبھی کسی سے مراعات حاصل کر کے حکومت و انتظامیہ میں شمولیت اختیار کی تھی؟ آخر ہماری وہ کونسی صلاحیتیں تھیں جس نے روما ایران کو ہمارے سامنے مسخر کر دیا تھا؟
دراصل معاملہ یہ ہے کہ فکری پستی نے ہمیں کاسئہ گدائی اٹھانے پر آمادہ کر دیا ہے۔کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ کسی معذور لڑکے کو اگر کلاس کا مانیٹر بنادیا جائے تو وہ کمال عقل مندی سے مذکورہ عہدے پر سال بھر کا عرصہ گذار سکتا ہے ۔جو لوگ طالب علم رہے ہیں اور مانیٹری کی ذمہ داری نبھائی ہے وہ بہ خوبی جان سکتے ہیں کہ کس طرح استاد کے جاتے ہی نااہل مانیٹر کو اہلیت رکھنے والے طلبہ ناکوں چنے چبوادیتے ہیں ۔جب ایک کلاس روم میں صرف استاد کے رحم و کرم پر ایک طالب علم سال بھر تک اپنی چودھراہٹ قائم نہیں رکھ سکتا تو پھر ملکی معاملات میں کیا صورتحال بنے گی اس کا اندازہ آپ ہی لگا سکتے ہیں۔لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ آخر مسلمانوں کی ابتری کو بہتری میں کیسے بدلا جائے ۔وہ کونسی تدابیر اختیار کی جائیں کہ ملک کی سب سے بڑی اقلیت با اختیار ہو کر اپنی زندگی گذارے؟ جب آپ باریک بینی سے جائزہ لیں گے تو محسوس ہوگا کہ اگر ملک میں صرف انصاف کی فضا پیدا کردی جائے اور تمام طرح کی عصبیتوں کو بالائے طاق رکھ کر صاف و شفاف ماحول فراہم کیا جائے تو بہت سارے مسئلے خود ہی حل ہو جائیں گے۔آخر آئی اے ایس کے امتحان میں کثیر تعداد میں ہمارے طلبہ شریک ہوتے ہیں لیکن کامیابی کی شرح گذشتہ کئی برسوں سے صرف 29سے31کے درمیان ہی کیوں رہتی ہے؟ ایک آئی اے ایس افسر سے یہ سوال کئے جانے پر کہ ممکن ہے کبھی مسلمان طلبہ کی تعداد 30سے زائد ہو اور کبھی وہ 10یا پندرہ پر ہی سمٹ جائیں لیکن ہر برس ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ وہ تعداد 29سے 31کے بیچ رہتی ہے آخر معاملہ کیا ہے۔موصوف نے بھی اس بات پر غور کیا اور کہا کہ یقینا اس معاملے کی تحقیق ہونی چاہئے کہ آخر ایسا کیسے ہو رہا ہے۔
دوسری بات یہ کہ ریزرویشن ہو تو اس کی بنیاد کیا ہو؟ اقلیتوں کے باب میں جب کوئی معاملہ حکومت طے کرتی ہے تو اس کے بندر بانٹ کے کیا طریقے اختیار کئے جاتے ہیں وہ میں نے پری اور پوسٹ میٹرک اسکالر شپ میں دیکھی ہے کہ ایک مسلم طالبہ جس نے اسکالرشپ کے فارم سے کالج کو متعارف کرایا ،مکمل اہلیت کے باوجود اسکالر شپ سے محروم کردی گئی لیکن دیشمکھ،شندے،پاٹل وغیرہ کو کس طرح کمال ہوشیاری سے جین،بدھ اور پارسی مذہب کا پیروکار بناکر اشکالر شپ بانٹ دی گئی۔لہذا ریزرویشن کے بعد کیا لوگ ایسا نہیں کریں گے؟ آپ حج سبسیڈی کی مثال لیں حکومت دونوں ہاتھوں سے گنگا اشنان کر رہی ہے اور الزام مسلمانوں پر ہے کہ انہیں فائدہ پہنچایا جارہا ہے۔لہذا حکومت و انتظامیہ میں بیٹھے لوگوں کے اندر جب تک دوہرا معیار ہے اس وقت تک ہم ریزرویشن کا بھی کوئی فائدہ نہیں اٹھا پائیں گے اور مسلم مخالف پارٹیاں جو شور برپا کریں گی اور اکثریتی فرقہ کے لوگوں کو جس طرح بر انگیختہ کریں گی اس کا حساب بھی امت کو ہی چکانا پڑے گا۔لہذا کیا ہم چھوٹا فائدہ حاصل کر کے بڑا نقصان برداشت کرنا چاہتے ہیں؟

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*