بنیادی صفحہ / نظریہ و تجزیہ / دانش ریاض / رزق حلال کا اکتساب مسلمانوں کا طرہ امتیاز رہا ہے

رزق حلال کا اکتساب مسلمانوں کا طرہ امتیاز رہا ہے

دانش ریاض

دانش ریاض

دانش ریاض

کیا یہ المیہ نہیں کہ ایک طرف اگر ’’حلال‘‘ کے خلاف تحریک چل رہی ہے تو دوسری طرف مسلمان’’ حلال‘‘ سے دور ہوتے جارہے ہیں۔رزق حلال کا اکتساب مسلمانوں کا طرہ امتیاز رہا ہے۔رزق حلال کی تلاش میں مسلمانوں نے دور دراز کے سفر طے کئے ہیں۔ لمبی مسافتوںکی مشقتوں کو برداشت کرکے ہمارے اسلاف نے اپنے جسم و جان میں حلال خون دوڑانے کی کوشش کی ہے لیکن سبک روی کے ساتھ ہی اب مسلمانوں میں حلال روزی کمانے ،حلال روزی کھانے اور حلال تجارت کو فروغ دینے کا رجحان ماند پڑتا جارہا ہے۔گذشتہ ماہ سری لنکا کے شہر کولمبو میں ’’بودھ بالا سیناـ‘‘کی جانب سے جب حلال ذبیحہ اور حلال اشیاء کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی تو انہوں نے ان مسلم تجارتی مراکز کو خاص نشانہ بنایا جہاں حلال اشیاء فروخت ہوا کرتی ہیں ،ان کا مطالبہ یہ تھا کہ جب وہ حلال نہیں کھاتے تو ان کے یہاں حلال ذبیحہ اور حلال اشیاء کی تجارت کیوں كرکی جاتی ہے۔واضح رہے کہ سری لنکا کی کل آبادی 20ملین ہے جس میں مسلمانوں کی شرح آبادی 10فیصد ہے۔کولمبو اور اس کے اطراف میں بسے شدت پسند بودھسٹ طویل عرصه سے مسلمانوں کے خلاف محاذ برپا کئے ہوئے ہیں۔دلچسپ بات تو یہ ہے کہ تمام بودھ گوشت کھانا پسند کرتے ہیں اور انہیں مسلمانوں کا ذبیحہ زیادہ مرغوب ہے لیکن حالیہ دنوں انہوں نے سب سے پہلے حلال گوشت پرہی پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور اس مطالبے کے پس پردہ مسلمانوں کے املاک کو نقصان پہنچایا ہے۔حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ سری لنکا میں بودھوں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف بہیمانہ کارروائی پر نہ تو عالم اسلام کی طرف سے کوئی آواز بلند ہوئی ہے اور نہ ہی مسلم دنیا نے اسے بہت زیادہ اہمیت کا حامل سمجھاہے۔ہندوستان کے اردو اخبارات نے اسے عالمی خبروں کے کالم میں ضرور شائع کیا لیکن مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والے میڈیا ہائوس میںیہ خبر کسی اہمیت کی حامل نہیں سمجھی گئی۔جب خبر کی ہی اہمیت نہ ہو تو پھر اس پر تجزئے اور تبصرے کی بات کیوں کر کی جاسکتی ہے۔حالانکہ اس خبر پر مسلمانوں کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے تھا اور اس کی روشنی میں ہی یہ تجزیہ کرنا چاہئے تھا کہ اگر تمام غیر مسلم ممالک کے باشندے اس کی پیروی کرنے لگیں اور حلال کے خلاف محاذ بنا لیں تو پھر عام مسلمان کہاں جائے پناہ ڈھونڈھے گا؟دراصل شیطانی مقتدرہ اس کوشش میں مبتلا ہے کہ وہ کسی طرح مسلمانوں کے مابین حرام کو عام کردے تاکہ حلال و حرام کی تمیز ہی ختم ہوجائے۔جب حلال و حرام کی تمیز ہی ختم ہوجائے گی تو پھر دین و شریعت اور اس پر عمل آوری تو محض دکھاواہی ہوگا۔

شاید شیطانی مقتدرہ کی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ وہ مسلم نوجوانوں کو شارٹ ٹرم بزنس پر اس طرح آمادہ کرتی ہے کہ وہ پل بھر میں لاکھوں کے وارے نیارے کرنے کی تگ ودو میں ان بنیادی تعلیمات کو فراموش کر بیٹھتے ہیں جس کا حکم اللہ رب العزت نے دیا ہے۔تعمیرات کے باب میں اگر شارٹ ٹرم کی مثال پیش نظر رکھیں تو ہندوستان کے ساتھ پڑوسی ممالک میں بھی جن مخدوش عمارتوں کی تعمیر ہوئی اور وہ حادثے کا شکار ہوگئیں ان میں بیشتر مسلمانوں کی ہی تعمیر کردہ تھیں۔دراصل پیدائش دولت کے عمل میں ظلم و استبداد کی ظاہری صورتوں کے علاوہ خفیہ اور غیر محسوس طریقوں سے بھی عوام الناس کو ان کے جائز مال سے محروم کیا جانا ظلم و زیادتی پر مبنی اور حرام ہے اسی وجہ سے اکتسابِ رزق کے عمل کو حلال و حرام سے تعبیر كر كے واضح كر دیا گیا ہے كه كیا حلال هے اور كونسی صورت حرام هے ۔ جائز ذرائع مثلاً تجارت ،معیشت و محنت میں ان امور كو پیش نظررکھاگیا هے كه كوئی بھی شخص كسی طرح عوام الناس كو دھوكے میں مبتلاكر كے اس كا نقصان نه كردے لهذا عوام الناس كے فائدے كی چیز جو شرعی حدود كا پاس و لحاظ رکھتے هوئے پیش كی گئی هوں حلال كهلائیں گی لیكن اس کے برعکس دھوكه و غرر كی تمام صورتیں ممنوع اور حرام ہیں۔ ایك مرتبه مدینہ منورہ کی غلہ منڈی سے گزرتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا:ما ہذا یا صاحب الطعام ،قال: اصابتہ السماء یا رسول الله، قال: افلا جعلتہ فوق الطعام کی یراہ الناس م,ن غش فلیس منی۔غلہ کے ڈھیر کے اندر ہاتھ ڈالنے کے بعد آپ صلی الله علیہ وسلم نے دیکھا کہ نچلی سطح پر گیلی گندم پڑی ہوئی ہے آپ صلی الله علیہ وسلم نے اس تاجر سے فرمایا یہ کیا ہے ؟ اس نے عرض کیا یا رسول ا?لله بارش کی وجہ سے ایسا ہوگیا ہے ۔ آپ نے فرمایا گیلی گندم کو اس ڈھیر کے اوپر کیوں نہیں ڈالا گیا تاکہ لوگ اسے بہ آسانی دیکھ سکیں (یاد رکھئے ) دھوکہ باز میرے دین پر نہیں ہوتا۔المسلم اخوا لمسلم ولا یحل لمسلم باع من اخیہ بیعاً فیہ عیب الا بینہ۔’’آپ ﷺنے فرمایا: ہر مسلمان دوسرے کا بھائی ہے اور کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ بغیر بتائے کسی عیب دار چیز کو اپنے بھائی کے ہاتھ فروخت کردے ۔‘‘ اسی روشنی میں آپ سود كابھی جائزه لے لیں، قرآن فرماتا ہے :واحل اللہ البیع وحرم الربو۔’’اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام فرمایا ہے ۔‘‘دراصل جس طرح تجارت تمام جائز وسائل دولت اور ذرائع معاش کے فروغ كا باعث بنتا هے اسی طرح سود غیر محسوس انداز میں اپنے شكار كو شكنجے میں گرفتار كر لیتا هے۔ایك شخص حلال تجارت كے ذریعه تو ترقی كرتا هے لیكن وهی شخص جب سودی لین دین میں قسمت آزمائی كرتا هے تو اپنے بڑے آقائوں كا غلام بن جاتا هے اور پھر اس كی جائز كمائی بھی ناجائز طریقے سے دوسروں كے گھر چلی جاتی هے۔ چونكه کاروبار تجارت اور کسب ِمعاش کا عمل انتہائی پاکیزہ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:التاجر الصدوق الامین مع النبیین والصدیقین والشہداء۔’’سچے اور امانت دار تاجر کا حشر انبیاء صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔‘‘لیكن اسی كے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسب معاش کی ایسی تمام صورتوں کو حرام قرار دیا ہے جوغیر عادلانہ بنیادوں پر استوار ہوتی ہوں ،ناجائز منافع خوری کے حوالہ سے فرمایا:من احتکر فہو خاطی ’’جو شخص گرانی اور مہنگائی کی غرض سے غلہ (اور دیگر اشیائے صرف) روکتا ہے وہ گنہ گار ہے ۔بلکہ اللہ کی نگاہ میں ذخیرہ اندوزی کرنے والا بدترین شخص ہے ۔کسب معاش میں ایسے ظالمانہ طرز عمل کے اختیار کرنے والے کا کوئی نیک عمل بھی اللہ کے یہاں شرف باریابی نہیں پاتا۔ لیكن المیه یه هے كه دورِ حاضر میں اہل ثروت و دولت اور سرمایہ دار بسا اوقات کسی جنس کو مکمل طور پر مارکیٹ سے خریدلیتے ہیں اور بعد ازاں اپنی مرضی سے ان کی رسد طلب میں عدم توازن قائم کرکے من مانی قیمتیں وصول کرتے ہیں۔اسی طرح ایك اور صورت یه كه کسبِ معاش کی جد و جہد کے دوران حصول دولت کی بعض آسان راہیں بھی نکل آتی ہیں جنہیں اسلام قطعاً جائز قرار نہیں دیتا مثلاً اشیائے صرف کی کوالٹی کو تبدیل کرکے گھٹیا شے کو صحیح داموں میں بیچنا،كیونكه ایسی تمام صورتیں اسلام کی نظر میں مطلقاً حرام ہیں۔
ان دنوں مسلمانوں كے مابین ایك نیا رجحان عام هوتا جارها هے كه كمائی تو حرام كی كرو لیكن صدقه و خیرات كے ذریعه اپنی حرام كمائی كو حلال كر لو۔جتنے غیر قانونی كام انجام دینےوالے لوگ هیں وه اس فكر كے ساتھ كه اگر هم صدقه اور خیرات كریں گے تو الله رب العزت خوش هوجائے گا اور همیں مزید نوازے گا مدارس و مكاتب ،دینی و فلاحی پروگراموں میں دل كھول كر خرچ كرتے هیں اور مطمئن رهتے هیں كه انهوں نے صحیح كام كیا هے حالانكه قرآن مجید کی اس آیت كی روشنی میں معامله صاف هوجاتا هے، الله رب العزت كا ارشاد هے :یا ایہا الذین آمنوا انفقو من طیبات ما کسبتم ومما اخرجنا لکم من الارض ولا تیمموا الخبیث منہ تنفقون۔792/2)’’اے ایمان والو! اپنی پاکیزہ کمائی سے خرچ کرو اور ہم نے تمہارے لئے جوکچھ زمین سے نکالا ہے اس میں سے ناپاک چیز خرچ کرنے کا قصد مت کرو۔ ‘‘اس گفتگو كی روشنی میں آپ عالم اسلام كے ساتھ ملكی معیشت میں مسلمانوں كی تگ و دو كا جائزه لیں اور فٹ پاتھ سے لے كر گلی محلوں میںآوازیں بلند كرنے والوں اور پھر ایئر كنڈینشنڈمیں بیٹھ كر تجارت كرنے والوں تك كا جائزه لیں تو محسوس هوگا كه هر جگه حرام نے بسیرا كر لیا هے اور لوگ حرام كام كرتے هوئے بھی اس بات میں خوش هیں كه وه ’’محنت و مشقت سے حلال‘‘كما رهے هیں۔لهذا میں یه سمجھتا هوں كه گھر سے لے كر دكان تك اور پھر كاروباری مراكز تك ،جب تك همارے یهاں حلال كا چلن عام نهیں هوگا حالات میں درستگی كی كوئی امید نهیں كی جاسكتی۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*