بنیادی صفحہ / اجناس / کھجوروں کے ساتھ ساتھ پکوڑے بھی افطار ی کا اہم جزو بن گئے

کھجوروں کے ساتھ ساتھ پکوڑے بھی افطار ی کا اہم جزو بن گئے

ماہرین کی شوگر اوربلندفشارخون کے مریضوں کو اس ضمن میں خصوصی احتیاط کی ہدایت
نئی دہلی : (یو این این/ڈاکٹر ریاض الہاشم ) کھجوروں کے ساتھ ساتھ پکوڑے افطار کا اہم جزو بنتے جا رہے ہیں۔ پکوڑوں کے بغیر افطاری ادھوری محسوس ہوتی ہے۔ افطار کے موقع پر پکوڑے تقریباً ہر گھر کے دسترخوان کے زینت ہوتے ہیں۔ سالہاسال پکوڑوں کی خریدوفروخت جاری رہتی ہے لیکن ماہ رمضان اس کی اہمیت دوبالا ہو جاتی ہے۔ افطار سے قبل ہر گھر میں پکوڑوں کی تیاری کا اہتمام کیا جاتا ہے بعض لوگ بازار سے پکوڑے خریدنے پر اکتفا کر لیتے ہیں افطار کے دوران ٹھنڈے مشروبات تازہ جوس دہی بھلے ، چنا چاٹ اور دیگر بہت سی چٹ پٹی اشیاء کے استعمال کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ثنا ارم نامی ایک گھریلوے خاتون نے یو این این کو بتایا کہ رمضان المبارک میں وہ روزانہ اپنے گھر پر پکوڑے تیار کرتی ہیں میرے بچے پنیر اور چکن پکوڑے پسند کرتے ہیں جبکہ مجھے بیسن کے ساتھ تلی ہوئی ہری مرچیں بہت پسند ہیں۔ انہوں نے کہاکہ میری افطاری ان اشیاء کے بغیر ادھوری ہوتی ہے۔ ٹماٹر کیچپ ، پودینے کی چٹنی اور دہی کے ساتھ افطار میں پکوڑے پیش کئے جاتے ہیں جس سے افطار کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے۔ جڑواں شہروں کی بیکریوں اور ہوٹلوں کے باہر پکوڑے، سموسے، جلیبی کے خصوصی سٹال لگائے جاتے ہیں جہاں افطار سے قبل رش ہوتا ہے اور لوگوں کو باری کا انتظار کرکے افطاری کی اشیاء خریدنی پڑتی ہیں۔رمضان میں جہاں ایک طرف پکوڑوں اوردیگر چٹخارے دار اشیاء کی طلب بڑہ جاتی ہے وہاں ڈاکٹر اورطبی ماہرین نے لوگوں کو ان اشیاء کے استعمال کے حوالے سے محتاط رہنے کی بھی ہدایت کی ہے اورکہاہے کہ پکوڑوں اورچٹخارے دار اشیاء کے کھانے سے معدہ کی جلن، تیزابیت اورگیس کی شکایت بڑہ سکتی ہیں ۔ماہرین نے شوگر اوربلندفشارخون کے مریضوں کو اس ضمن میں خصوصی احتیاط کی ہدایت کی ہے۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*