بنیادی صفحہ / خبریں / اسلامی مالیات / سعودی عرب میں سوشل میڈیا کے ذریعے خیراتی مہمیں

سعودی عرب میں سوشل میڈیا کے ذریعے خیراتی مہمیں

امام حرم عبد الرحمن السدیس حرم شریف کے اطراف میں صفائی کرتے ہوئے جبکہ ساتھ میں دیگر معاونین کو بھی صفائی کرتے یہ ہوئے دیکھا جاسکتاہے،یہ تصویر بھی سوشل میڈیا پر شائع ہوئی تھی

امام حرم عبد الرحمن السدیس حرم شریف کے اطراف میں صفائی کرتے ہوئے جبکہ ساتھ میں دیگر معاونین کو بھی صفائی کرتے یہ ہوئے دیکھا جاسکتاہے،یہ تصویر بھی سوشل میڈیا پر شائع ہوئی تھی

رمضان میں نوجوانوں کے گروپ ناداروں میں امدادی اشیاء تقسیم کررہے ہیں

ریاض، 21 جولائی (یو این بی) سعودی شہری رمضان المبارک کے دوران سماجی روابط کی ویب سائٹس کے ذریعے خیراتی کاموں کو منظم کے لیے مہم چلا رہے ہیں اور صاحب ثروت افراد کو غرباء￿ کی مدد کی ترغیب دے رہے ہیں۔بہت سے سعودی نوجوان ٹویٹر ،فیس بْک اور انسٹا گرام اور فوری پیغام رسانی کی سروس وٹس آپ کو غریب تارکین وطن محنت کشوں اور غربت کا شکار خاندانوں کی مدد کی ترغیب دینے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔انھوں نے اس مقصد کے لیے اپنے گروپ تشکیل دے رکھے ہیں اوران کے تحت وہ امدادی مہمیں چلا رہے ہیں۔
غرباء کی مدد میں پیش پیش ایک اٹھائیس سالہ سعودی رباب مجید نے اپنے کام کرنے کے طریقے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ”مجھے میرے ایک دوست کی جانب سے پیغام موصول ہوا کہ وہ قریباً تین سو افراد کے افطار کا اہتمام کررہے ہیں۔میں نے وٹس آپ اور فیس بْک پر اس پیغام کو پھیلا دیا۔اس کے بعد بہت سے خاندان آئے اور انھوں نے اپنے ہر فرد کی جانب سے بھاری رقوم عطیہ کیں۔اس طرح ایک دن میں ہی دس گنا زیادہ رقم جمع ہوگئی”۔
رباب مجید جس گروپ میں شامل ہیں ،وہ غریب خاندانوں اور بچوں میں کھانا تقسیم کرتا ہے۔وہ جدہ کے مقامی فاسٹ فوڈ چین البائیک سے فرائیڈ چکن کھانے بھی خرید کرتا ہے اور اس کو گلیوں کی صفائی پر مامور عملے اور مزدوروں میں تقسیم کرتا ہے۔
یہ گروپ گھروں میں تیار ہونے والے کھانے اور البائیک کے کھانے جمع کرتا ہے اور پھر ان کو جدہ کے مختلف علاقوں رویس ،شریفیہ ،عزیزیہ ،حمرا اور قندارہ میں تقسیم کیا جاتا ہے۔جدہ سے تعلق رکھنے والے ایک رضا کار چھبیس سالہ بندر محمد کا کہنا ہے کہ ”ان لوگوں کو البائیک کا کھانا کھانے کا شاید ہی موقع ملتا ہو۔ مجھے پتا ہے کہ وہ اس کو اسی طرح پسند کرتے ہیں جس طرح ہم پسند کرتے ہیں۔صاحب ثروت لوگوں کو یہ بات جاننے کی ضرورت ہے کہ یہ ان کے لیے ایک لگڑری ہے لیکن ہماری ادنیٰ سے مدد سے ان کے چہرے خوشی سے دمک سکتے ہیں”۔
ان تمام رضاکاروں کی عمریں تیس سال کم ہی ہوں گی۔وہ لوگوں سے رقوم اور خوراک کی اشیاء اکٹھی کرتے ہیں اور ان کے چھوٹے چھوٹے افطار پیکج بنالیتے ہیں۔ان میں پانی ،کھجوریں ،کیک ،بریڈ اور دوسری اشیاء ہوتی ہیں۔وہ مغرب کی نماز سے قبل ان کو مساجد میں پہنچا آتے ہیں اور گلیوں ،بازاروں میں کام کرنے والے مزدوروں میں بانٹ دیتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس طرح وہ رقوم عطیہ کرنے کے بجائے عملی کام کرتے ہیں۔ایک ستائیس سالہ مارکیٹنگ مینجر احمد امجد کا کہنا ہے کہ میں نے جب اس گروپ سے رابطہ کیا تو ان کا کہناتھا کہ ان کے ہاں تو پہلے ہی بہت زیادہ لوگ ہیں،اس لیے میں رقوم عطیہ کردوں لیکن میں خود عملی کام کرنا چاہتا تھا۔اس کے بعد مجھ سے میرے ایک دوست نے رابطہ کیا اور ہم نے معذوروں اور سڑکوں پر صفائی کا کام کرنے والے لوگوں کے لیے افطار پیکج بنا کر تقسیم کرنا شروع کردیے”۔
ان خیراتی کاموں کی اطلاع دینے یا عطیات جمع کرنے کے لیے سوشل میڈیا کو بروئے کار لانے کی وجہ سے بہت سے سعودیوں کو مختلف سرگرمیوں کا پتا چل جاتا ہے اور اس طرح انھیں رقوم عطیہ کرنے یا عملی طور پر خیراتی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع مل جاتا ہے۔یوں رمضان المبارک میں ثواب کی نیت سے خیراتی کام کرنے کے خواہاں بہت سے سعودیوں کی حوصلہ افزائی بھی ہو رہی ہے۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*