بنیادی صفحہ / خبریں / نیپال کو دس ہزار کروڑ نیپالی روپے کی امدادکا اعلان

نیپال کو دس ہزار کروڑ نیپالی روپے کی امدادکا اعلان

بھارت اور نیپال کے رشتے ہمالیہ اور گنگا جتنے پرانے، نیپالی پارلیمنٹ سے وزیر اعظم نریندر مودی کا خطاب
وزیر اعظم نے کہا نیپال کے کام میں مداخلت نہیں، تعاون کریں گے

وزیر اعظم نریندر مودی نیپالی پارلیمنٹ کو خطاب کرتے ہوئے

وزیر اعظم نریندر مودی نیپالی پارلیمنٹ کو خطاب کرتے ہوئے

کاٹھمنڈو، 3 اگست (یو این بی) دو روزہ دورے پر نیپال پہنچے وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو وہاں کے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے پڑوسی ملک کا دل جیتنے کی بھرپور خوشش کی ۔ نریندر مودی نے نیپال کو واضح پیغام دیا کہ وہ اس کا بڑا بھائی نہیں بلکہ کندھے سے کندھا ملانے والا سچا دوست بننا چاہتا ہے۔ مودی نے نیپال کے کام میں دخل نہیں بلکہ اس کے کام میں تعاون کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے نیپال میں زیر تشکیل نئے آئین پر بھی اپنا نظریہ پیش کیا۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب کے دوران نیپال کو دس ہزار کروڑ نیپالی روپے کی مدد دینے کا بھی اعلان بھی کیا۔ وزیر اعظم نے زیر تشکیل نیپالی آئین، سرحد، سیاحت، تعلیم ، ہربل میڈیسن، پانی بجلی، مہنگے کالس جیسے اہم امور پر اپنی رائے پیش کی۔ نیپال کو ہٹ ایچ آئی ٹی کرنے کے نعرے کے ساتھ مودی نے کہا کہ ہندوستان نیپال کو ایچ یعنی ہائی ویز، آئی مطلب آئی ویز(انفارمیشن ٹیکنالوجی) اور ٹی مطلب ٹرانسمشن لائنس دینا چاہتا ہے۔
ہندوستان کے کسی قومی سربراہ نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے کی نیت سے 17 سال بعد نیپال کا دورہ کیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری دوری کچھ بھی نہیں لیکن یہاں آتے آتے سترہ سال لگ گئے۔ وزیر اعظم مودی نے آئندہ ایسا نہ ہونے دینے کی بات کہتے ہوئے سارک اجلاس میں پھر اانے کی بات کہی۔ مودی نے سارک ممالک کے سیٹ لائٹ بنانے کے اپنے ارادے کو پھر دوہرایا۔ اس پر اسرو نے کام بھی شروع کر دیا ہے۔
سرحد جیسے اہم مسئلے پر وزیر اعظم نے کہا کہ سرحد بیریئر یعنی رکاوٹ نہیں بلکہ برج یعنی پل کا کام کرے، ایسی کوشش کی جانی چاہئے۔ مہنگے ٹیلی فون کالس پر بھی مودی نے توجہ دلائی۔ انہوں نے مہنگے ٹیلی فون کالس کو سستا کرنے کی بات بھی کہی۔
وزیر اعظم کا خطاب نیپال کے نئے آئین پر بھی مرتکز رہا۔ انہوں نے نیپال میں تشکیل آئین کمیٹی سے ایسا آئین مرتب کرنے کو کہا جو شستر یعنی ہتھیار چھوڑ کر شاستر پر چلنا سکھائے۔ مودی نے کہا کہ ملک کا نیا آئین دنیا کو یقین دلائے گا کہ شستروں کو چھوڑ کر شاستر کے سہارے بھی زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ یہ دنیا میں تشدد کے راستے پر چل رہے ممالک کو بھی ایک پیغام دے گا۔ مودی نے ملک میں جنگ سے بدھ کی طرف جانے والوں کا بھی خیرمقدم کیا۔ مودی نے نیپال کے آئین کو سروجن ہتائے، سروجن سکھائے کی پالیسی پر چلنے والا بتایا۔ مودی نے کہا کہ ملک کا شہری اسے اپنا کہے، آئین ایسا ہونا چاہئے۔
وزیر اعظم نے ہندوستان میں نیپال کے طلبا کو مل رہی اسکالرشپ کی تعداد بڑھانے کی بات کہی۔ اس کا بڑا فائدہ نیپال کے میڈیکل اور انجینئرنگ سے وابستہ طلبہ کو ہوگا۔
کوسی ندی میں سیلاب کی صورتحال پر وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ یہ دکھ نیپال کا ہی نہیں بلکہ ہندوستان کا بھی ہے۔ ہندوستان کی حکومت نیپال کی مدد کے لئے پوری طرح پرعزم ہے۔ نیپال میں کوسی ندی میں سیلاب سے کافی نقصان پہنچا ہے اور ہندوستان کی ریاست بہار میں بھی اس ندی سے بڑے پیمانے پر تباہی کا انتباہ جاری کیا گیا ہے۔
مودی نے نیپال کے عام شہریوں اور سیاست دانوں کے اندر بجلی پانی کے ڈر کو لے کر تشویش بھی دور کرنے کی کوشش کی۔ ’پانی اور جوانی کبھی پہاڑ کے کام نہیں آتے‘ اس طرح کے بیان کے ذریعہ مودی نے نیپالی پارلیمنٹ کو قہقہ لگانے کا موقع بھی دیا۔ مودی نے کہا کہ ہمیں اس کہاوت کو بدلنا ہے۔ مودی نے کہا کہ ہم نیپال سے بجلی پانی چاہتے ہیں لیکن مفت میں نہیں۔ ہندوستان کے ذریعہ نیپال کے بجلی پانی کو لینے کے معاملے پر ہمالیائی ملک میں کئی طرح کی تشویشات ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا ہندوستان نیپال کی بجلی پانی کی پیداوار کو دو گنا کرکے اس کا اندھیرا دور کرنا چاہتا ہے جس کا فائدہ پہلے نیپال کو ملے، پھر ہندوستان کو۔
ہربل میڈیسن مارکیٹ کو فروغ دینے کے لئے مودی نے ہمالیہ کی جڑی بوٹیوں کے استعمال کی بات کہی۔ دونوں ملکوں کے درمیان سیاحت کے امکانات کو مزید وسعت دیتے ہوئے مودی نے دونوں ملکوں کے درمیان اسے فروغ دینے کی بات کہی۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں نیپال کے ساتھ مضبوط رشتوں کو حکومت ہند کی ترجیحات میں قرار دیا۔ نیپالی پارلیمنٹ کے پہلے مہمان بننے پر مودی نے اسپیکر اور ارکان کا شکریہ ادا کیا اور اسے ہندوستان کے لئے فخر لا لمحہ بتایا۔ وزیر اعظم نے ہندوستان اور نیپال کے رشتے کو گنگا اور ہمالیہ جتنا پرانا بتایا۔
مودی نے اپنے خطاب میں پشوپتی ناتھ کا بھی تذکرہ کیا، گوتم بدھ کو بھی یاد کیا اور ہندوستانی فوج میں کام کررہے نیپالی بہادروں کا بھی ذکر کیا۔ نیپال کے پشوپتی ناتھ مندر اور وارانسی کے کاشی وشو ناتھ مندر کو جوڑتے ہوئے مودی نے کہا کہ کاشی کے مندر میں پجاری نیپال کے ہیں اور نیپال کے مندر میں پجارے ہندوستان کے ہیں۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*