بنیادی صفحہ / خبریں / جھارکھنڈ ، گوا میں غیر قانونی کانکنی سے کروڑوں کا نقصان: شاہ کمیشن

جھارکھنڈ ، گوا میں غیر قانونی کانکنی سے کروڑوں کا نقصان: شاہ کمیشن

نئی دہلی، 5اگست (یو این بی) جسٹس ایم بی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں جھارکھنڈ میں 22 ہزار کروڑ روپے کی غیر قانونی کانکنی ، گوا سے 2 ہزار 747 کروڑ روپے کی غیر قانونی خام لوہے کی برآمدات اور اڈیشہ میں کمپنیوں کے ذریعہ کھلے عام غیرقانونی کانکنی کا انکشاف کیا ہے۔ کمیشن کی پیر کو پارلیمنٹ میں پیش رپورٹ میں ضوابط کی شدید خلاف ورزی کئے جانے کا الزام عاید کرتے ہوئے کمپنیوں کو دیئے گئے کانکنی کے پٹے رد کرنے، نقصان ہوئے محصول کی وصولی اور کانکنی کمپنیوں کے ساتھ ملی بھگت کرنے والے افسران کو سزا دینے کی سفارش کی گئی ہے۔

جسٹس ایم بی شاہ کمیشن کی تشکیل ملک میں خام لوہے اورخام میگنیز کی غیر قانونی کانکنی اور برآمدات کی جانچ کے لئے کی گئی تھی۔ کئی معروف کمپنیوں ٹاٹا اسٹیل، سیل اور ایسل مائننگ کے علاوہ اوشا مارٹن اور رنگٹا مائنس جیسی چھوٹی اور متوسط درجے کی کمپنیوں کا نام ضابطوں کی خلاف ورزی اور غلط کاموں میں سامنے آیا ہے۔ کمیشن نے کہا ہے کہ اکیلے جھارکھنڈ میں ہی عوامی علاقے میں ٹاٹا اسٹیل اور دیگر کمپنیوں نے 22 ہزار کروڑ روپے کے لوہے اور 138 کروڑ کے میگنیز کی قانونی جواز کے بغیر کانکنی کی ہے۔ کمیشن نے اپنی پہلی رپورٹ میں کہا تھا کہ 18 کمپنیوں کے پٹے ڈیمڈ توسیع کے ساتھ چل رہے تھے جن میں ماحولیات سے متعلق منظوری نہیں ملی تھی جب کہ 22 کانوں میں ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کانکنی کی جا رہی تھی۔ کمیشن نے کہا ہے کہ ہندوستانی کان بیورو اور ریاستی حکومت نے اعداد و شمار میں خام لوہے میں 5.34 کروڑ ٹن پیداوار کا فرق ہے۔
اڈیشہ پر کمیشن کی دوسری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹاٹا اسٹیل اور ادتیہ برلا گروپ کی ایسل مائننگ اینڈ انڈسٹریز انہیں پٹے پر دیئے گئے علاقوں سے آگے بڑھ کر کانکنی کر رہی تھی۔ کمیشن نے کہا ہے کہ اڈیشہ میں جہاں پٹہ علاقے کے 15 فیصد سے زیادہ علاقے میں قبضہ کیا گیا ہے وہاں کانکنی پٹے کو رد کیا جانا چاہئے۔ کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ اضافی علاقے سے کی گئی کانکنی کا اندازہ کیا جانا چاہئے اور پٹہ ہولڈر سے اس کی قیمت وصول کی جانی چاہئے۔ اس کے علاوہ مناسب جرمانہ بھی لگایا جانا چاہئے۔ سپریم کورٹ نے نے کرناٹک حکومت کو ہدایت دی تھی کہ پٹہ علاقے میں ہوئے نقصان پر فی ہیکٹیئر ایک کروڑ روپے کے حساب سے وصولی کی جانی چاہئے اس کے ساتھ ہی کورٹ نے اڈیشہ میں ماحولیات کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے وہاں فی ہیکٹیئر دو کروڑ روپئے کے حساب سے وصولی کرنے کی ہدایت دی تھی۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*