بنیادی صفحہ / خبریں / سبکدوش ملازم کو بقایہ جات ادا کرنے سے بینک کا انکار

سبکدوش ملازم کو بقایہ جات ادا کرنے سے بینک کا انکار

غیر سرکاری تنظیم نے صدر جمہوریہ اور وزیر اعظم سے شکایت کی

bank photo

ممبئی: (معیشت نیوز ) پنجاب نیشنل بینک کے سبکدوش ملازم کو اپنے بقایہ جات حاصل کرنے کیلئے ناکوں چنے چبانے پڑ رہے ہیں اس کے باوجود بھی اب تک انہیں ملازمت سے سبکدوشی حاصل کرنے کے بعد ملنے والے پراویڈنٹ فنڈ اور گریجوایٹی سے محروم رکھا گیا ہے اس سلسلے میں ایک غیر سرکاری تنظیم اینٹی کرپشن بیورو اینڈ کرائم پریونشنل کونسل نے صدر جمہورہ پرنب مکھرجی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے علاوہ وزیر مالیات ارون جیٹلی سے شکایت کی ہے اور اس پر فوری کارروائی کا مطالبہ کیاہے ۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق جوگیندر سنگھ ارورا پنجاب نیشنل بینک کی کالبادیوی برانچ میں بحیثیت سینئر مینیجر اپنے فرائض انجام دے رہے تھے ۳۱ دسمبر ۲۰۱۳ کو وہ اپنی ملازمت سے سبکدوش ہو گئے لیکن سبکدوشی کے بعد ملنے والی تمام مراعات سے انہیں یہ کہہ کر محروم رکھا گیاکہ ان کے خلاف اقتصادی بدعنوانی کی تحقیقات جاری ہے ۔
غیر سرکاری تنظیم کے صدر موہن کرشنن کے مطابق سپریم کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے میں اس کی کھلے لفظوں میں وضاحت کی ہے کہ کسی بھی سبکدوش ملازم کے ریٹائرمینٹ بینیفٹ کو نہ روکا جائے چاہے اس کے خلاف دوران ملازمت کسی بھی قسم کے الزامات عائد کیئے گئے ہوں ۔موہن کرشنن نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے مطابق اروراکو سبکدوشی کے بعد تمام مراعات حاصل ہونی چاہیئے تھی لیکن اس کے باوجودبھی ایک بزرگ شہری پر ظلم و ستم کیا گیا اس کی وجہ سے نہ صرف اسے ذہنی اذیت ہوئی بلکہ اس نے بستر پکڑ لیا ۔
اس سلسلے میں ارورا نے کہا کہ بینک نے ان پر ایہ الزامات عائد کیئے ہیں کہ دوران ملازمت انہوں نے مالی بدعنوانیاں کی تھیں اور انہوں نے بینک کے بقایہ جات ادا نہیں کیئے ہیں ۔
ارورا کا کہنا ہے کہ بینک کا یہ الزام سراسر غلط اور بے بنیاد ہے نیز اگر بینک نے ان کے بقایہ جات جلد از جلد ادا نہیں کیئے تو وہ جلد ہی عدالت سے رجوع ہوں گے ۔اس سلسلے میں بینک کے افسران سے رابطہ قائم نہیں ہو سکا البتہ غیر سرکاری تنظیم کے صدر کرشنن نے کہا کہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک بزرگ شہری کو اپنے ہی سبکدوشی کے بقایہ جات حاصل کرنے کیلئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کیلئے مجبور ہونا پڑے جبکہ سپریم کورٹ نے اس سلسلے میں واضح احکامات جاری کیئے ہیں۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*