بنیادی صفحہ / کاروباری / آغاز مبادیات / سوال آپ کے جوابات اسلامی اسکالرز کے

سوال آپ کے جوابات اسلامی اسکالرز کے

سوال آپ کے جوابات اسلامی اسکالرز کے

Sawal aur Jawab

نفع متعین کرنے کا طریقہ
سوال ::میں ایک حج و عمرہ ٹریولر کو سرمایہ کاری کے لیے کچھ رقم دینا چاہتا ہوں تاکہ حجاج کرام یا معتمرین کے گروپ کو لے جانے کے بعد جو نفع حاصل ہو، اس میں شریک ہو سکوں۔ ان صاحب کا کہنا ہے آپ ابھی رقم دے دیں جبکہ نفع کا تعین ابھی سے نہیں کرتے، بلکہ ایک گروپ کو لے جانے میں جو نفع حاصل ہوا، اس میں سے اسی وقت آپ کا حصہ متعین کر دوں گا۔ کیا یہ معاملہ کرنا شرعا جائز ہے؟(فضل علیم)
جواب::شریعت کی رو سے اس طرح معاملہ کرنا جائز نہیں ہے۔ جائز طریقہ یہ ہے کہ آپ دونوں ابھی سے نفع کی تعیین کر لیں۔ نفع کی تعیین کا طریقہ یہ ہے کہ آئندہ کاروبار کے بعد جو نفع حاصل ہو گا اس میں دونوں کا حصہ فیصد کے اعتبار سے متعین ہو گا، مثلاً: حاصل شدہ نفع کا 25 فیصد ایک کا اور 75 فیصد دوسرے کا، دونوں اپنے لیے جو فیصد چاہیں مقرر کر لیں البتہ جو شخص کاروبار کے کام میں حصہ نہیں لے گا، وہ نفع میں سے اپنے لگائے ہوئے سرمائے کے تناسب سے زیادہ متعین نہیں کر سکتا، مثلاً:اگر ایک شخص نے ایک لاکھ کی شرکت میں 20,000روپے لگائے ہیں، اگر وہ کاروبار میں ہاتھ نہیں بٹاتا بلکہ رقم دے کر فارغ ہو جاتا ہے تو وہ اپنے لیے 20 فیصد سے زیادہ نفع نہیں رکھ سکتا۔ البتہ اگر دونوں فریق کام میں حصہ لیتے ہیں تو باہمی رضامندی سے کچھ بھی طے کر سکتے ہیں۔ البتہ جب نقصان ہو تو فریق اسے اپنے سرمائے کے تناسب سے ہی برداشت کریں گے۔ مثلاً مذکورہ بالا مثال کی صورت میں 20,000 والا نقصان کا 20 فیصد اور 80,000 والا نقصان کا 80 فیصد برداشت کرے گا۔(رد المحتار 04:305)

سرکاری دوروں میں شمولیت کی اجرت لینا
سوال ::حکومت نے ملک بھر میں مختلف شعبوں کی ترقی کے لیے مختلف ممالک کے تعاون سے انویسٹمنٹ کمپنیاں بنائی ہیں۔ ’’ اومان انویسٹمنٹ کمپنی‘‘ کا مقصد بھی حکومت اور سلطنت اومان کے تعاون سے ملک میں مختلف اقتصادی منصوبے شروع کرنا ہے۔ یہ کمپنی مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرتی ہے۔ جن میں سے اکثر منصوبے سودی معاہدات پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اگرچہ بنیادی طور پر تو دونوں ملکوں کے اشتراک سے یہ کمپنی بنی ہے مگر اس کی آمدنی سودی منصوبوں سے ہوتی ہے۔ مجھے اس کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کاایک رکن بنایا گیا ہے۔ ہماری ذمہ داری حکومت کو قابل عمل اقتصادی مشورے فراہم کرنا ہوتا ہے۔ اس کمپنی کے مختلف اجلاسوں میں شرکت کے لیے جب مجھے بلایا جاتا ہے تو ہر اجلاس کے بعد حکومت کی طرف سے اجلاس میں شرکت کرنے کی فیس دی جاتی ہے۔ آپ سے پوچھنا ہے کہ حکومت کی طرف سے مجھے جو فیس دی جاتی ہے وہ میرے لیے جائز ہے یا نہیں؟(زبیر موتی والا)
جواب ::سوال میں ذکر کردہ معلومات کی روشنی میں آپ کے لیے فیس لینے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔ کسی کام کی اجرت کے حلال ہونے کی دو شرطیں ہیں:ایک یہ کہ وہ کام فی نفسہ جائز ہو، دوسرا یہ کہ اس کے بدلے میں جو اجرت دی جا رہی ہو وہ بھی حلال ذرائع سے دی جائے۔ موجودہ معاملے میں گو کمپنی کی آمدنی سودی ذرائع سے ہے لیکن آپ کو فیس کی ادائیگی براہ راست حکومت کرتی ہے۔ اس طرح آپ کا کام بھی قابل عمل اقتصادی مشورے دینا ہے۔ اگر خدانخواستہ کسی پالیسی کی وجہ سے آپ سودی معاملات کا مشورہ دینے پر مجبور ہوں تو ایسی صورت میں فیس کے حلال ہونے میں اسی کے بقدر اشتباہ پیدا ہو جائے گا۔(الفتاویٰ الھندیہ:ج43ص334)
شرکت و مضاربت کی صورتیں
سوال ::ہمیں گوشت فارم شروع کرنے کے لیے رہنمائی درکار ہے۔ میں اختر عباس اور دو دوسرے دوست گوشت فارم (گوشت کے لیے) جانور کا کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں۔ میرے پاس زرعی زمین، فارم ہاؤس، عمارت اور ساری ضروریات کی چیزیں جیسے بجلی، تازہ پینے کا پانی، کورڈشیڈ، 30 جانوروں سے زائد کے لیے موجود ہے۔ اس کے علاوہ دیوار، صحن اور ٹوکہ مشین بھی ہے۔ میرے شریک صرف سرمایہ لگائیں گے اور میں کاروبار کی نگرانی کروں گا۔ ہمیں رہنمائی درکار ہے کہ کس طرح دو لوگ سرمایہ اور ایک نگرانی کے طور پر شریک ہوں اور کاروبار کی منصوبہ بندی اور طریقہ کار کیا ہوا؟

جواب::1 اس کی ایک صورت مضاربت کی ہے کہ ان دو افراد کا سرمایہ اور آپ کی محنت، اور کاروبار کی نوعیت بھی متعین ہے کہ اس رقم سے جانور خرید کر پالیں گے پھر انہیں ذبح کر کے ان کا گوشت فروخت کر کے جو آمدن ہو اس سے سب سے پہلے آپ اپنے فارم ہاؤس، زرعی زمین، عمارت یعنی جتنی چیزیں آپ کی استعمال ہوئیں ان کا معتدل کرایہ وصول کریں، پھر باقی جو بچے وہ آپس میں طے شدہ نسبت چاہے وہ برا بر سرابر ہو یعنی نفع کے کل تین حصے کر کے ہر شریک ایک ایک حصہ لے لے اور چاہیں تو کوئی اور نسبت نفع کی آپس میں طے کر لیں اس کے مطابق عمل کیا جائے۔

2 دوسری صورت شرکت کی ہے کہ جتنی رقم آپ کے دونوں ساتھی لگا رہے ہیں آپ بھی ان کے حصے کے برابر رقم اس میں لگائیں، مثلاً: ان دونوں نے ایک ایک لاکھ لگایا تو آپ بھی ایک لاکھ نقد رقم اس میں شامل کریں پھر اس سے جانور خرید کر پالیں، پھر انہیں کاٹ کر فروخت کریں جو آمدن ہو اس سے پہلے اپنی چیزوں مثلاً شیڈ، زرعی زمین وغیرہ کرایہ نکالیں پھر نفع آپس میں طے شدہ تناسب سے تقسیم کریں، لیکن جو دو شریک کام نہیں کر رہے نفع میں ان کا حصہ ان کے لگائے ہوئے سرمائے کی نسبت سے زائد نہ ہونا چاہیے۔ آپ نے چونکہ سرمایہ بھی لگایا ہے اور کام بھی کریں گے لہذا آپ اپنے سرمائے کی نسبت سے زائد نفع بھی لے سکتے ہیں۔

پہلی صورت میں نقصان کی صورت ہو تو اگر صرف اتنا نقصان ہوا ہے کہ نفع کا کل یا بعض متاثر ہوا ہے تو اس صورت میں دونوں کا نقصان اپنے نفع کے تناسب سے ہو گا اور اگر نقصان نفع کی مقدار سے بڑھ جائے تو یہ نقصان صرف رب المال یعنی رقم لگانے والے کا ہو گا۔ دوسری صورت میں نقصان اپنے لگائے ہوئے سرمائے کے تناسب کے مطابق ہو گا۔ ایک اور صورت بھی ہو سکتی ہے کہ آپ باہم رضا مندی سے نفع میں اپنا حصہ زیادہ رکھیں اور مذکورہ بالا استعمال ہونے والی چیزوں کا کرایہ الگ سے نہ لگائیں۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*