بنیادی صفحہ / کاروباری / آپ کی کاروباری منصوبہ بندی / ملازمین کے مزاجوں کا فرق: بہتر مینجمنٹ کیسے ہو؟

ملازمین کے مزاجوں کا فرق: بہتر مینجمنٹ کیسے ہو؟

ا شیخ نعمان
ملازمین کی صلاحیتوں میں فرق پایا جانا ایک فطری بات ہے۔ افراد میں خیالات، مزاج، عمر، ثقافت اور تجربے کا فرق ہوتا ہے، جو ملازمت کی زندگی میں کبھی مفید تو کبھی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں آڑے آتا ہے۔ ایسی صورت حال میں ایک منتظم کی ذمہ داری کئی گنا بڑھ جاتی ہے، اسے مختلف النوع افراد کے درمیان ایک ایسی محتاط پگڈنڈی نکالنا ہوتی ہے، جس پر خود چلے اور دوسروں کو چلا کر ادارے کا رخ کامیابیوں اور ترقیوں کی جانب موڑ سکے۔ آئیے!
سمجھتے ہیں اللہ تعالیٰ کا پاک کلام اس حوالے سے کیا رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ آگے بڑھتے ہوئے یہ دیکھتے چلیے کہ آخر کیا بات تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی مجلس میں حبشہ کے بلال رضی اللہ عنہ، روم کے صہیب رضی اللہ عنہ، فارس کے سلیمان رضی اللہ عنہ اور عرب سردار یکساں طور پر اعزاز کے حامل تھے۔ ہر ایک خود کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تر محسوس کرتا اور ہر ایک باہم شیر و شکر نظر آتا۔ ہر ایک نے اپنی بھر پور جسمانی قوت اللہ کے دین پر نچھاور کی۔ ان مختلف نسلوں، صلاحیتوں اور عادات و فضائل کے افراد سے ایک ایسی جماعت وجود میں آئی جنہوں نے دین اسلام کو عرب کے ایک چھوٹے سے جزیرے سے نکال کر دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا دیا۔ اس کے پیچھے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی بھر پور تنظیمی صلاحیت اور تیر بہدف تربیتی اصولوں کا بڑا حصہ تھا۔ ہم ایسے ہی اصول و ہدایات قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتے ہیں۔ جنہیں اپنا کر آپ اپنے چھوٹے یا بڑے ادارے کو ترقی کے عروج پر پہنچانے کے قابل ہوں گے۔ان سات اصولوں سے پہلے دو بنیادی باتیں ملاحظہ کرتے ہیں:
(الف)صلاحیتوں کا فرق کیوں؟
رنگ و نسل،صلاحیتوں اور مزاجوں کا فرق اللہ تعالیٰ کی بہت سی حکمتوں پر مبنی ہے۔ اس میں انسانوں کے ہی کئی فائدے ہیں۔ اللہ پاک نے قرآن پاک میں انسانیت میں اس قسم کے اختلاف کے دو بڑے مقاصد بیان فرمائے ہیں:
1:: خدا کی پہچان:
زبان اور رنگ و نسل کا یہ تنوع اللہ تعالیٰ کے خالق اور قادر مطلق ہونے کی ایک بڑی دلیل ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت (Oneness)، خالقیت اور ربو بیت کی ایک بڑی نشانی ہے۔ سورہ فاطر میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور انسانوں اور چوپاؤںمیں بھی ایسے ہی جن کے رنگ مختلف ہیں۔اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں ۔یقینااللہ صاحب اقتدار بھی ہے بہت بخشنے والا بھی۔‘‘ (آیات :27،28)
2:: اپنی پہچان:
دوسرا بڑا مقصد انسانوں کی باہم پہچان ہے۔ ایک چیز جب تک دوسری سے مختلف رنگ و روپ میں نہ ہو، اس کی پہچان ناممکن ہوتی ہے۔ یہی مقصد بیان کرتے ہوئے سورۃ الحجرات میں اللہ تعالی فرماتے ہیں: ’’اے لوگو!حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تم سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے،اور تمہیں مختلف قوموں اور خاندانوںمیں اس لیے تقسیم کیا ہے کہ تم ایک دوسرے کی پہچان کر سکو۔درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والاوہ ہے جو تم سب سے زیادہ متقی ۔یقین رکھو کہ اللہ سب کچھ جاننے والا ،ہر چیز سے باخبر ہے۔‘‘ (آیت :13)اس سے ہمیں بخوبی معلوم ہو گیا کہ رنگ و نسل اور زبان وغیرہ کا اختلاف آپس میں فخر یا برتری کے لیے نہیں۔ بلکہ فضیلت و برتری کے لیے اور وہ صرف اور صرف تقویٰ ہے۔ تقویٰ کا مطلب ہے: ’’اپنی خواہشات کو اللہ کے احکام کے تابع کرنا۔ اللہ سے ڈرتے ہوئے گناہوں سے بچ کر زندگی گزارنا۔‘‘ (ب) مساوات کا عالمی اصول:
مذکورہ بالا تفصیل سے ہمیں شریعت کی روشنی میں مساوات کا عالمی اصول سمجھ میں آیا۔ اسلام اسی اصول کا علمبردار ہے۔ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے دو ٹوک انداز میں یہ وضاحت فرما دی تھی: ’’کسی گورے کو کالے پر، کسی عربی کو عجمی پر کوئی برتری نہیں، سب آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں۔‘‘ باہمی اتحاد کی آبیاری کے لیے مزید ارشاد فرمایا: ’’اگر تم پر کالا حبشی امیر بنا دیا جائے تو اس کی اطاعت کرنا۔‘‘
یہی وہ عالمی اصول ہے جس کے دائرے میں آپ نے مختلف پس منظر، مزاج، زبانوں، رنگ اور نسلوں سے تعلق والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یکساں فضیلت سے نوازا۔ ایک جماعت کی عمدہ ترین تربیت عمل میں لائی گئی۔ آئیے! اب دیکھتے ہیں مساوات اور رنگ و نسل کی فطری اصول کو لے کر ہم بحیثیت ایک تاجر و منتظم اپنے ادارے کو ہر قسم کے اختلاف سے شفاف اور ملازمین میں خوشگور تعلقات کو کیونکر فروغ دے سکتے ہیں۔ یہ 7 ضابطے آپ اپنے اساسی اصولوں میں شامل کیجیے، آپ بہتر مینجمنٹ کے فوائد سمیت سکیں گے:
1:: صلح کروانا:
ادارتی زندگی میں افسران و ملازمین میں جابہ جا اور موقع بہ موقع چپقلش اور نوک جھونک کی نوبت آتی رہتی ہے۔ دین اس موقع پر صلح و آشتی کی تعلیم دیتا ہے۔ سورہ حجرات میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اس لیے اپنے دو بھائیوں کے درمیان اچھے تعلقات اچھے بناؤ۔ اور اللہ سے ڈرو، تاکہ تمہارے ساتھ رحمت کا معاملہ کیا جائے۔‘‘ نیز یہ اصول ذہن میں رکھیے کہ چپقلش ہونا ایک فطری بات ہے، لیکن اسی کا باقی رہنا انتہائی نقصان دہ ہے۔
2:: اچھے ناموں سے پکارنا:
بے تکلفی، عہدے کے فرق اور دوستی وغیرہ کے نام پر جو اخلاقیات کا خون کیا جاتا ہے، ادارہ جاتی جھگڑوں میں اسی کا بڑا دخل ہے۔قرآن پاک میں واضح ارشاد فرمایا گیا:’’ایک دوسرے کو برے القاب سے مت پکارو۔‘‘ (الحجرات) سب سے بہتر یہ ہے کہ جس شخص کو جو نام اپنے لیے پسند ہے، اس سے پکارا جائے۔ ورنہ اس کے اصلی نام سے پکارا جائے۔ اس کا ایک بہت ہی مثبت ہی اثر ہے۔ آپس کی محبت، یگانگت اور خوشگواری میں اس کا بڑا حصہ ہے۔ اختیار کرنے کے لیے شاید اس سے آسان بات کوئی نہ ہو۔ آپ عمل کیجیے، اپنے ادارے میں اس کا اصول بنائیے، ان شاء اللہ لمحوں میں فرق محسوس کریں گے۔
3:: مذاق نہ اڑانا:
ادارے میں ایساماحول ضرور بنایا جائے جس سے سب آپس میں خوش مزاجی سے پیش آئیں،آپس میں باہمی تعاون کے ساتھ کام کریں،مگر واضح رہے کہ خوش مزاجی کو دوسرے کے ٹھٹھے، مذاق کی حد میں داخل نہ ہونے دیں۔ مذاق اڑانے سے دلوں میں نفرتیں پیدا ہوتی ہیں۔ ملازمین کے کاموں پر منفی اثر پڑتا ہے۔ اپنے ماتحتوں کی اس طرح تربیت کریں کہ وہ ایک صحت مند ماحول میں ہوں لیکن ایک دوسرے کا کسی بھی بنیاد پر چاہے وہ کوئی عیب ہو جیسے قد کا چھوٹا ہونا یا کسی خاص ذات کا ہونا، اس بنیاد پر مذاق اڑانے کی اجازت ہرگز نہ دی جائے۔
4:: عیبوں کی مکمل پردہ پوشی :
اس کائنات میں کوئی بھی کامل ہونے کا دعوی نہیں کرسکتا بلکہ اللہ تعالی نے ہر انسان میں کچھ خوبیاں پیدا فرمائی ہیںاور کچھ عیب بھی رکھے ہیں۔ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کی خوبیوں پر نظر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔اس سے دوسرے سے محبت پیداہوگی۔اگر دوسرے کا عیب نظر آبھی جائے تو اسے چھپانے کا حکم ہے۔ اسے اپنے تک محدود رکھا جائے، آگے پھیلایا نہ جائے ۔البتہ اگر ایسی برائی ہے جس سے ادارے کو نقصان پہنچ سکتا ہے یا اصلاح احوال کے لیے منتظم تک بات پہنچا دی جائے تو اس میں حرج نہیں۔سو، ادار ے میں مختلف مزاجوںکے لوگوںکو سنبھالنے کے لیے یہ اصول بھی بہت اہم ہے دوسروں کی خوبیوں پر نظر رکھی جائے اور عیوب کو چھپایا جائے، اس سے آپس میں محبتیں پیدا ہوںگی اور نفرتیں ختم ہوں گی۔
5 ::تواضع کا وصف اجاگر کریں:
تکبر کا مطلب ہے اپنے آپ کو دوسروں سے برتر سمجھنااور دوسرے کو اپنے آپ سے حقیر سمجھنا۔یہ ایک ایسا ایٹم بم ہے جس کے دل میں رائی کے برابر تکبر ہوگا وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پا سکے گا۔ اکثر جھگڑے، لڑائیاں اسی وجہ سے ہوتی ہیںکہ انسان اپنے آپ کو دوسرے سے بہتر اور دوسرے کو حقیر سمجھ رہا ہوتا ہے۔ہم اپنے اداروں میں اس بات کو رائج کریں کہ ہر ایک، دوسرے کو اپنے آپ سے بہتر سمجھے تو ان شاء اللہ تمام لڑائی جھگڑے ختم ہو جائیں گے ۔
6 ::بدگمانی زہر قاتل ہے:
حدیث میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:’’ مسلمان کے ساتھ اچھا گمان رکھو۔‘‘اکثر لڑائی جھگڑے کی ابتدا بدگمانی سے ہوتی ہے کہ بغیر کسی دلیل کے کسی کے بارے میں بدگمانی کرلی ،جس سے دل میں اس کے لئے برائی پیدا ہوئی اور وہ بڑھتے بڑھتے نوبت لڑائی تک پہنچ جاتی ہے۔ہم اپنے اداروں میں اس بات کی تعلیم عام کریں کہ بدگمانی کے لیے قیامت میں اللہ کے سامنے دلیل دینی ہوگی اور اچھے گمان کرنے پر اللہ کی طرف سے نیکی نامہ اعمال میں لکھی جائے گی ۔اس طرح اداروں میں مختلف مزاجوںکے لوگوںکوبہتر انداز میں منظم کیا جاسکتا ہے۔
7:: اپنے کام پر توجہ دینا
یہ مجرب اصول بھی عمل میں لانے کا ہے کہ بس اپنے کام پر توجہ دی جائے۔اپنے کام کو بہتر سے بہتر بنانے کی فکر کریں۔اس بات سے بے نیاز ہو جائیں کہ دوسرا کیسا کام کررہا ہے؟دوسروں کی ٹوہ میں لگنا اس کی برائیاں تلاش کرکے منتظم تک پہچانا،یا آپس میں ایک دوسرے کا اس طرح ذکر کرنا کہ جب اس کو معلوم ہو تو برا لگے ،جسے غیبت کہتے ہیں،دونوں ہی بہت بڑے گناہ ہیں۔ ان سے بچتے رہنے میں ہی دنیا و آخرت کا فائدہ ہے۔اس اصول پر عمل کرکے ہی ہم اپنی پیداواری صلاحیت بڑھا سکتے ہیں۔نیز مختلف مزاجوں کے ملازمین کو بہت بہتر انداز میں چلانے میں اس پر عمل کرنا اہم ہے۔
ان میں سے اکثر ہدایات اوپر ذکر کی گئی سورہ حجرات کی طویل آیت میں بیان فرمائی گئی ہیں۔ ہم ان قرآنی ہدایات پر عمل کرکے اپنے اداروں میں موجود مختلف مزاجوں،مختلف نسلوں،مختلف قوموں کے افراد سے بہت بہتر انداز میں فائد ہ اٹھا سکتے ہیں۔اس سے ناصرف ہمارا کاروبار ترقی کرے گا، اس کے ساتھ ساتھ قرآنی ہدایات پر عمل کی وجہ سے ہمارے اوپر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں بھی ہوں گی۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اداروں میں ان ہدایات کا خوب پرچار کریں اور یقین رکھیں کہ ان کی برکت سے اللہ تعالی ضرور ہم پر کرم فرمائیں گے اور ہم کسی اور مذہب و ملت سے حکمت و ہدایت کی بھیک لینے پر مجبور نہ ہوں گے۔ ٭٭
جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے انہی اصولوں کے عملی نمونے ان شاء اللہ اگلے مضمون میں پیش کیے جائیں گے۔ امید ہے دلچسپی کا باعث ہوں گے۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*