بنیادی صفحہ / خبریں / لیڈرشپ: کامیاب منیجرکا بنیادی وصف

لیڈرشپ: کامیاب منیجرکا بنیادی وصف

شیخ نعمان
اداروں کے چلانے کے لیے، ذمہ داروں(Responsibleاور منیجرز میں درکار صلاحیتوں میں سے ایک اہم اور ناگزیر صفت ’’لیڈر شپ‘‘ ہے۔ ادارے بنانے، ان کے اہداف طے کرنے (Goal Setting)، اس کے لیے منصوبہ بندی کر لینے کے بعد ایک مشکل مرحلہ ان منصوبوں کو نافذ کرنا ہے۔ یہ مرحلہ بغیر لیڈر شپ کوالٹی (Quality) کے حاصل نہیں ہو سکتا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ اہداف کا تعین ایک نظری (Theoritical) بات ہے۔ اعلی سطح کی مینجمنٹ نے مشاورت سے اہداف کا تعین کر لیا، اسی طرح منصوبہ بندی بھی کر لی، ابھی تک ماتحتوں سے کام کروانے کی باری نہیں آئی۔
اگر آپ نے اپنے عہدے کی طاقت (Position Power) کی وجہ سے کام لینے کی کوشش کی، اور ملازم نے طوعاً کرہاً کام کر بھی لیا تو اس سے آپ وہ اہداف حاصل نہیں کر سکتے، جس کی آپ توقع رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر آپ لیڈر ہیں تو ماتحتوں پر آپ کا ذاتی اثر و رسوخ ہے، وہ دل و جان سے آپ کی قدر کرتے ہیں، آپ کی بات ماننے کے لیے تیار ہیں۔ ایسی صورت حال میں منصوبوں پر عمل اس طرح ہو گا جس سے 100 سو فیصد نتائج کی توقع کی جاسکتی ہے۔ یقینا ادارے کی ترقی منصوبوں کی اسی طرح کامیاب تکمیل میں پوشیدہ ہے۔
مثال کے طور پر اعلی سطح کی مینجمنٹ نے منصوبہ بنا لیا کہ آئندہ سال فروخت میں 20 فیصد اضافہ کرنا ہے۔ اس کے لیے شعبہ مارکیٹنگ کو بھی منصوبہ دے دیا گیا کہ انہیں ذاتی فروخت (Personal Selling)، ایڈورٹائزنگ (Advertizing) کرنی ہے۔ مزید ذاتی فروخت کے لیے شعبہ مارکیٹنگ کے ایک منیجر کی ذمہ داری لگا دی گئی کہ ان کے پاس مثلاً 10 افراد کی ٹیم ہے۔ وہ انہیں ذاتی فروخت کے لیے استعمال کریں۔ اب اگر منیجر میں لیڈرشپ کوالٹی ہو گی تو وہ ان افراد کو ماتحت ٹیم میں جذبہ پھونک سکے گا کہ وہ محنت کے ساتھ کام کریں، تاکہ مقررہ ہدف، مقررہ وقت پر حاصل ہو سکے۔ ورنہ یہی ٹیم ہو گی وقت پورا ہو چکا ہو گا اور اہداف تکمیل سے بہت دور ہوں گے۔ ماتحت محنت سے کام کا دعوی کر رہے ہوں گے اور منیجر بھی تکمیل نہ ہونے کے بہانے تراش رہا ہو گا۔ ایسی صورت حال میں ادارے کے ہدف کیسے پورے ہو سکتے ہیں؟ لہذا اہداف و منصوبے کی کامیاب تکمیل اُسی صورت میں ممکن ہے، جب منیجرز میں ’’لیڈر شپ کوالٹی‘‘ کا اعلیٰ درجہ انہیں حاصل ہو۔
آئیے! ہم دیکھتے ہیں کہ ایک لیڈر میں کون کون سی خصوصیات ہوتی ہیں جس سے ایک لیڈر، لیڈر بنتا ہے۔ لیڈر کی خصوصیات
1 پرجوش (Passionate)
لیڈر کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ وہ خود اپنے کام میں، پرجوش ہوتا ہے۔ وہ خود کام کے ساتھ اس حد تک مخلص ہوتا ہے کہ استقامت کے ساتھ، پرجوش انداز میں اس کے حصول کے لیے سرگرداں ہو۔ اس کا اثر اس کے ماتحتوں پر پڑے گا۔ یہ بات ہمارے روز مرہ کے تجربے کی ہے کہ اگر منیجرخود وقت سے 10 منٹ پہلے آ رہا ہے اور 10 منٹ بعد جا رہا ہے تو اب ماتحتوں پر اس کا اثر یقینی ہو گا کہ وہ وقت پر آئیں گے اور پورا وقت کام کو دیں گے۔ دوسری جانب اگر منیجر خود اپنے کام میں پرجوش نہیں ہے۔ وہ بھی صرف ڈیوٹی کی حد تک اسے دیکھ رہا ہو تو پھر اس کا اثر ماتحتوں پر تو کیا پڑے گا، خود اس کی کارکردگی سوالیہ نشان بن جائے گی۔ اس لیے لیڈر وہی ہوتا ہے جو اپنے کام میں پر جوش ہو، پوری دلچسپی کے ساتھ کام میں استقامت کے ساتھ لگا ہوا ہو۔
2 دور اندیش(Visionary)
لیڈر کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ وہ وژنری ہوتا ہے۔ اس کے اندر یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ معاملات کی گہرائی تک جا سکے، فیصلوں کے دور رس نتائج کا ادراک کر سکے، ماتحتوں کی حرکات سے ہی ان کے مدعا تک پہنچ سکے۔ جیسے ادارے کے پھیلانے (Expansion) کے لیے جگہ کی ضرورت ہے۔ اب لیڈر کے اندر اس حوالے سے یہ صلاحیت ہو کہ ادارے کو کس طرح پھیلایا جائے جس سے مستقبل کے منافع بھی بڑھ سکیں، آج بھی اخراجات کم سے کم آئیں، مؤثر افرادی قوت میں بھی اضافہ ہو۔ اسی طرح ادارے کے لیے افراد و وسائل کے حصول کے فیصلوں کے دور رس نتائج تک لیڈر پہنچ جاتا ہے۔ یہ صلاحیت کسی حد تک خداداد ہے لیکن اس میں اضافہ مختلف علوم (Skills) و مشقوں سے ہو سکتا ہے۔ جن کا تذکرہ ان شاء اللہ آنے والے مضامین میں کیا جائے گا۔
3 تخلیقی ذہن(Creative)
’’ لکیر کا فقیر ہونا‘‘ ایک محاورہ ہے۔ لیڈر کبھی بھی لکیر کا فقیر نہیں ہوتا۔ وہ خود لکیر کھینچنے والا ہوتا ہے۔ اس لکیر پر اپنے ماتحتوں کو چلاتا ہے۔ ایک لیڈر کا ذہن نئی چیزیں بنا رہا ہوتا ہے۔ جبکہ وہ منیجر جس میں لیڈر شپ کوالٹی نہ ہو وہ صرف بنے ہوئے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے خود بھی چل رہا ہوتا ہے اور اپنے ماتحتوں کو چلا رہا ہوتا ہے۔ نئی چیز کے بارے میں سوچنا اور اسے حقیقت کے روپ میں پیش کرنا ایک لیڈر کی ہی خصوصیت ہے۔ مثال کے طور پر پیداواری عمل کے لیے ایک طے شدہ طریقہ بتا دیا جاتا ہے لیکن لیڈر ہر وقت یہ سوچ رکھتا ہے کہ یہ طریقہ کتنا مفید یا نقصان دہ ہے، کیا اسے مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے ؟ اب اس کے ذہن میں یقینا کوئی نیا آئیڈیا آ جاتا ہے وہ اس کے مطابق اپنے ماتحتوں کو چلاتا ہے۔ اس طرح یہ تخلیقی صلاحیت ہی اسے اپنے ہم عصروں میں لیڈر بنا دیتی ہے۔
4 لچکدرار(Flexible)
یہ بات ہم اپنے اداروں میں اپنے کئی منیجرز کے بارے میں تعریفی طور پر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ وہ بڑے اصول پسند، سخت اور (Strict) ہیں۔ دراصل یہ سختی اور حد سے زیادہ اصول پسندی ان کے منیجر ہونے کا ثبوت تو ہو سکتی ہے لیکن ایسا منیجر ’’لیڈر‘‘ نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ لیڈر کو لچکدار ہونا پڑتا ہے، کیونکہ لیڈر اپنے ماتحتوں کے دلوں پر حکومت کر رہا ہوتا ہے اور ماتحتوں کے حالات، مزاج، ضروریات مختلف ہوتی ہیں لہذا سب کو ایک ہی لاٹھی سے نہیں ہانکا جا سکتا۔ جس کے لیے اسے لچکدار ہونا پڑتا ہے۔ کبھی اصولوں سے انحراف کرنا پڑتا ہے، لیکن حدود میں رہتے ہوئے۔
مثال کے طور پر ایک ماتحت کے والد کا انتقال ہو جاتا ہے، اصولی طور پر اس کے لیے ایک چھٹی، ادارے کے قوانین میں موجودہے لیکن اس ماتحت کا تعلق بڑے خاندان سے ہے۔ تعزیت کرنے والے مستقل کئی روز تک یا کم از کم تین دن تک آرہے ہوتے ہیں اور یہ اکیلا ہی مہمانوں کو دیکھنے والا ہے۔ یہ تمام صورت حال اپنے منیجر کے سامنے رکھتا ہے لیکن وہ بہت اصول پسند ہے تو کبھی بھی ایک سے زائد چھٹی دینے کے لیے تیار نہ ہو گا، جبکہ یہی اگر لیڈر ہو گا تو اسے چھٹی دے دے گا۔ وہ اس سے اس طرح پیش آئے گا کہ یہ ملازم ہمیشہ اسے اپنے محسن سمجھے اور چھٹیوں کے بعد وہ اس سے کاموں میں ہونے والی کمی خوشی خوشی پوری کروا لے گا۔
5 موثر ہونا (Inspiring)
ہم روز مرہ زندگی میں یہ بات بارہا کہتے نظر آتے ہیں کہ میں فلاں سے متاثر ہوں، مثلاً: میں اپنے CEO سے متاثر ہوں۔ دوسروں کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھنے والا یقینا ایک لیڈر ہے۔ یہ متاثر کرنا مختلف حوالوں سے ہو سکتا ہے، جیسے: آپ روزانہ سب سے پہلے، دفتر آتے ہیں اور سب سے آخر میں جاتے ہیں۔ یہ معمول آپ کا سالوں سے ہے، اس میں ذرہ برابر فرق نہیں آیا۔ یقینا آپ کے ماتحت آپ سے متاثرہوں گے۔ اسی طرح جب آپ کے ماتحت کام میں پھنس جاتے ہیں۔ آپ منٹوں میں ان کے مسائل حل کر دیتے ہیں۔ بلاشبہ آپ کے ماتحت آپ سے متاثر ہوں گے۔ اس متاثر ہونے کا فائدہ یہ ہو گا کہ وہ آپ کے ساتھ ساتھ رہیں گے۔ ان کے دل میں آپ کی قدر ہو گی۔
6 تجدیدی صلاحیت کا مالک (Innovative)
کام کرنے کے کئی طریقے ہوتے ہیں۔ ایک ہی کام مختلف طریقوں سے ہو سکتا ہے۔ اسی طرح صارف کی ضرورت کو مختلف طریقوں سے پورا کیا جا سکتا ہے۔ایک لیڈر وہ ہوتا ہے جو مسلسل نئے نئے آئیڈیاز لے کر آتا رہتا ہے۔ مسلسل اس کوشش اور فکر میں رہتا ہے کہ اس کام کو کرنے کے لیے مزید بہتر طریقہ کیا ہو سکتا ہے۔ اپنی پیداوار میں مزید کیا تبدیلیاں کی جائیں جس سے یہ صارف کی نظر میں اور بہتر ہو جائے، نیز ادارہ بھی فائدے میں رہے۔ اس طرح کاموں میں مسلسل بہتری لے کر آنے سے ماتحتوں پر منیجر کا ایک اثر قائم ہو جاتا ہے، جس سے وہ اس کی باتوں کو لیتے ہیں۔
7 حوصلہ افزائی(Courageous)
اگر میں نے آج ایک اچھا کام کیا ہے اور میرا بڑا چاہے باپ، استاد یا منیجر اس پر صرف شاباش کہہ دے تو کیا ہو گا؟ میں نا صرف اس کا م کو اپنی عادت بنا لوں گا، بلکہ اپنے باپ، استاد اور منیجر سے مخلص ہو جاؤ ںگا، نیز ایک اچھا اور مثبت تاثر ان کے لیے میرے دل و دماغ میں قائم ہو جائے گا۔ ایک لیڈر اپنے ماتحتوں کی حوصلہ افزائی کرتا رہتا ہے، جس سے ماتحت اس کے ساتھ مخلص رہتے ہیں اور جب کوئی کام ملتا ہے تو دل و جان سے وہ کام کرتے ہیں۔
8 تصور کی صلاحیت (Imiginaive)
مصور کا مطلب یہاں، تصویریں بنانا نہیں، بلکہ یہ وہ ہے جسے عام زبا ن میں ہم ’’خیالی پلاؤ‘‘ کہتے ہیں۔ لیکن یہ خیالی پلاؤ کسی بھی فیصلہ کرتے وقت اس کے نتائج کے بارے میں، کسی پروجیکٹ کو شروع کرنے سے پہلے اس کی حتمی صورت کے بارے میں، ادارے کے مستقبل کے بارے میں خیالی پلاؤ ہے۔ لیڈر کی ایک ہم صفت یہ ہے کہ وہ خیالی پلاؤ بناتا ہے لیکن یہی خیالی پلاؤ ہی پیش خیمہ بنتے ہیں حقیقی پلاؤ کے لیے۔ لہذا وہ اپنی اس صفت سے لیڈر بن جاتا ہے۔ لوگوں کے دلوں پر حکومت کرتا ہے۔
9 تجربہ کار(Experimental)
تجربہ وہ گر ہے جس کی بنیاد پر آج جدید سائنس کی بنیاد ہے۔ جب تک کسی خیال کا تجربہ نہ کر لیا جائے اس وقت تک اس کے قابل عمل ہونے کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔ ایک لیڈر نا صرف چیزوں کو تصورات میں دیکھ رہا ہوتا ہے نیز اس میں وہ ہمت و حوصلہ ہوتا ہے جس کی بنیاد پر وہ ان تصورات کو تجربہ کر کے دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اسی خصوصیت کی وجہ سے دوسروں پر اس کا ایک اثر قائم رہتا ہے۔
10 تبدیلی کا خواہاں(Initiate Changes)
اس دنیا کا اور اس میں جو کچھ ہے اس کا تبدیل ہونا اللہ تعالی کی حکمت بالغہ کا نتیجہ ہے۔ اسی میں اس کا حسن اور اس کی بقا ہے۔ اسی طرح اداروں میں وہی لوگ لیڈر بنتے ہیں جو مسلسل تبدیلی کی طرف گامزن رہتے ہیں۔ ایک جگہ ٹھہر جانا، انسان کی تعمیری شخصیت کی مو ت ہے۔ اسی تبدیلی کے اصول کو لے کر لیڈر خود بھی اور اپنے ماتحتوں اور ادارے کو لے کر ترقی کے سفر کی طرف گامزن رہتا ہے۔ جو لوگ تبدیلی سے گھبراتے ہیں، وہ لیڈر نہیں بن سکتے۔ ان تمام صفات کے حامل افراد پھر لوگوں کے دلوں پر راج کر رہے ہوتے ہیں۔ چاہے ان کے پاس کوئی عہدہ ہو یا نہ ہو لیکن لوگ ان کے پیچھے ہوتے ہیں۔ ان کی بات مانتے ہیں۔ ایک منیجر میں ایک لیڈر کی صفات کا ہونا، اپنے کاموں کو کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اگر منیجر میں لیڈر کی صفات نہ ہوں تو بہت جلد ماتحتوں کی کارکردگی زوال پذیر ہو جائے گی۔ نتیجتاً اس کی اپنی کارکردگی سوالیہ نشان بن جائے گی۔ اس لیے ایک منیجر یا تاجر کے لیے ایک لیڈر ہونا اچھا کاروبار چلانے کے لیے از حد ضروری ہے۔
یہ صفات بعض اوقات خداداد ہوتی ہیں، اور کبھی بہت معمولی سی توجہ کے ساتھ پید ا کی جا سکتی ہیں۔اس کے لیے باقاعدہ محنت کرنی پڑتی ہے۔ اب انہیں کیسے پیدا کیا جائے؟ اس حوالے سے تعلیمات جدید مینجمنٹ کی روشنی میں اور پھر شریعت مطہرہ کی روشنی میں ان شاء اللہ اگلے مضامین میں آپ کی خدمت میں پیش کی جائیں گی۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*