بنیادی صفحہ / خبریں / اسلامی مالیات / اسلامی مارکیٹنگ کی روح — خوبیوں کے ساتھ خامیوں کا بیان

اسلامی مارکیٹنگ کی روح — خوبیوں کے ساتھ خامیوں کا بیان

Islamic Marketing

محی الدین غازی
اسلامی مارکیٹنگ میں واقعی خوبیوں کے ساتھ واقعی خامیاں بتانا ضروری قرار پاتا ہے۔ جبکہ ہم صبح وشام جس مارکیٹنگ کا سامنا کرتے ہیں، وہاں مبالغہ آمیز خوبیاں بیان کی جاتی ہیں، اور تمام خامیوں پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غلہ بیچنے والے سے کہا کہ بارش کی وجہ سے جس حصہ میں نمی آگئی ہے، اسے اوپر رکھو، تاکہ لوگ خریدنے سے پہلے دیکھ سکیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمومی فرمان تھا، کہ اگر کوئی شخص کوئی کچھ فروخت کرے، تو اس کے خامی والے پہلو ضرور بیان کرے۔ اور جو سودے میں شریک نہ ہو مگر جانتا ہو، اس کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ متعلقہ فرد کو آگاہ کردے۔
یاد رہے کہ خامیاں بتانے کی ذمہ داری کا دائرہ بہت وسیع ہے، اسے سادہ خرید وفروخت تک محدود کرنا درست نہیں ہے۔ مارکیٹنگ سامان کی ہو یا پروجیکٹ کی، اداروں کی ہو یا آئیڈیاز کی، افراد کی ہو یا کتابوں کی بلا مبالغہ مثبت پہلووں اور بنا کم وکاست منفی پہلووں کا بیان ہی مارکیٹنگ کا اسلامی طریقہ ہے۔
اکثر شرکت ومضاربت پر مبنی سرمایہ کاری کی اسکیمیں سامنے آتی ہیں، یہ اسکیمیں افراد بھی پیش کرتے ہیں، اور بڑی کمپنیاں بھی پیش کرتی ہیں، ان میں عام طور سے منافع کے تعلق سے لوگوں کو سبز باغ دکھائے جاتے ہیں، اور نقصان ہونے کے امکانات کو یکسر پوشیدہ رکھا جاتا ہے۔ گو کہ خود شرکت ومضاربت اسلامی طریقے ہیں، لیکن ان کی اس طرح کی مارکیٹنگ اسلامی تعلیم کے خلاف ہے، درست رویہ یہ ہے کہ دیانت داری کے ساتھ صحیح Feasibility study پیش کی جائے، جس میں نفع اور نقصان دونوں کے امکانات کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان کیا جائے، اور اس کے بعد فیصلہ سرمایہ لگانے والے کی صواب دید پر چھوڑدیا جائے۔ سرمایہ لیتے وقت رنگین خواب دکھانا اور نقصان ہوجانے پر شریعت کا یہ حوالہ دینا کہ نقصان سرمایہ لگانے والے کو برداشت کرنا ہوتا ہے، دراصل شریعت کے ساتھ نا انصافی ہے۔
تعلیمی اداروں کے اشتہارات میں عام طور سے ہر ادارہ “قابل اعتماد تعلیم گاہ” اور “مثالی تربیت گاہ” ہونے کا دعوی کرتا ہے، لیکن واقعہ یہ ہے کہ فراغت کے وقت اکثر سرپرستوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن اونچے ارمانوں کے ساتھ اپنے بچے کو داخلہ دلایا ہوتا ہے، وہ مٹی میں مل چکے ہوتے ہیں۔ اس لئے درست رویہ یہ ہے کہ یا تو تعلیمی ادارہ کو واقعی “قابل اعتماد تعلیم گاہ” اور “مثالی تربیت گاہ” بنایا جائے، ورنہ اس طرح کے خلاف واقعہ دعوے کرنے کی بجائے، ہر سرپرست کو داخلہ سے پہلے تعلیمی ادارے کی واقعی صورت حال سے باخبر کیا جائے، تاکہ وہ کسی خوش فہمی کا شکار نہ رہے۔
بسا اوقات ہمارے ذہن میں ایک آئیڈیا آتا ہے اور ہم اسے تجویز کی صورت میں پیش کرتے ہیں، اس تجویز کو سب سے منوالینے کی دھن میں ہم اس کے مثبت پہلووں کو پوری قوت سے پیش کرتے ہیں، اور اس کے منفی پہلووں کو نظر انداز کردیتے ہیں، یہ بھی درست رویہ نہیں ہے، انصاف کا تقاضا ہے کہ زیر بحث آئیڈیا کے مثبت اور منفی دونوں پہلووں کو ممکنہ حد تک تلاش کیا جائے، اور آئیڈیا کو پوری دیانت داری کے ساتھ پیش کیا جائے۔
سوال کیا جاسکتا ہے کہ اس طرح کی صاف گوئی اورFull disclosure سے کیا مارکیٹنگ ہو پائے گی؟ یہ سوال ایک صحابی رسول حضرت جریر سے بھی کیا گیا، لوگوں نے ان سے کہا کہ آپ تو اپنے سامان کی ساری خامیاں کھول کھول کر دکھاتے اور گن گن کر بتاتے ہیں، ایسے کیسے کاروبار چلے گا؟ انہوں نے کہا، اللہ کے رسول سے ہم نے جو عہد کیا ہے اسے پورا کرنا زیادہ ضروری ہے۔ اور دنیا نے دیکھا کہ عہد کی پاس داری بھی خوب ہوئی اور کاروبار بھی خوب چلا۔
توکل کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ کاروبار کرتے ہوئے نفع حاصل کرنے اور نقصان سے بچنے کی ان ساری تدبیروں کو یکسر مسترد کردیا جائے جو حکم الہی کی تعمیل میں رکاوٹ بنیں۔ اور ایسے توکل کی برکتوں اور ایسے توکل والوں کے نصیبوں کا کیا پوچھنا۔
بات ادھوری رہ جائے گی اگر یہ نہیں کہا جائے کہ جہاں مومن دیانت دار ہوتا ہے اور اپنی چیز کی پیش کش کے وقت ہر خوبی اور ہر خامی سے آگاہ کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے، وہیں مومن کو سمجھ دار بھی ہونا چاہئے، اور سمجھ داری کا تقاضا ہے کہ اپنے اندر تحقیق کا ذوق پیدا کرے، اور آنکھ بند کرکے کچھ قبول نہ کرے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بظاہر اچھے نظر آرہے اناج کے اندر تک ہاتھ ڈال کر دیکھا، اور تب معلوم ہوا کہ نیچے والے حصے میں نمی ہے۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*