بنیادی صفحہ / بی اسکول / آئیے ضلع پریشد اردو اسکولوں کے لئے کچھ کیا جائے

آئیے ضلع پریشد اردو اسکولوں کے لئے کچھ کیا جائے

Raigadh School

اختر سلطان اصلاحی

ایک شخص کئی امراض میں مبتلا ہے اس کے گھر کے لوگ اس کے امراض کو دیکھ رہے ہیں، مگر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ کوئی اسے علاج کے لئے ڈاکٹر کے پاس نہیں لے جارہاہے۔ ہاں اس کے مرض پر اور اس کی گرتی صحت پر سب اظہار افسوس کررہے ہیں۔ بالکل یہی حال ہمارے ضلع پریشد اسکولوں کا ہے ان کی ابتر صورتحال پر بظاہر ہر شحص مغموم اور رنجیدہ ہے مگر ان کو بہتر بنانے کے لئے کوئی انفرادی اور اجتماعی کوشش کہیں نظر نہیں آرہی ہے۔
پہلا سوال تو ان اسکولوں کی بقا کا ہے آج جو صورتحال ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اسکول بس چند سالوں کے مہمان ہیں، گورنمنٹ کی ناقص پالیسیاں اور قوم کی عدم توجہی اور بے التفاتی کی وجہ سے اب بیشتر اسکول طلبہ سے خالی ہیں، آپ کسی بھی ضلع پریشد اردو اسکول میں چلے جائیں یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ اوّل جماعت میں داخلے کا تناسب بہت کم ہے ۔ اگر اسکول جماعت پنجم تک ہے تو پنجم میں سب سے زیادہ طلبہ ہوں گے اور اوّل میں سب سے کم ، رائے گڑھ ضلع میں کئی اسکولوں میں طلبہ کی تعداد ۹ کے ہندسے کو پار کرنے سے قاصر ہے ۔ راقم کے علم میں کئی ایسے اسکولس ہیں جہاں اس سال کوئی طالب علم داخل ہی نہیں ہوا۔ ضلع پریشد اردو اسکولوں کی یہ ابتر صورتحال کیوں ہے اور اس کے لئے کون ذمہ دار ہے ۔ اس عنوان پر بحث کرنے سے کوئی فائدہ حاصل ہونے والا نہیں ہے ۔ اب گفتگو صرف اس عنوان پر ہونی ہے کہ ان اسکولوں کے لئے کچھ کیاجاسکتا ہے یا نہیں اور اگر کچھ کیاجاسکتا ہے تو کب کیا جائے گا؟ کیا اس وقت جب سب کچھ ہاتھ سے نکل چکا ہوگا؟ یا ابھی جب کہ تھوڑی سی کوششوں سے حالات کو یکسر بدلا جاسکتا ہے۔
کیا ضلع پریشد اردو اسکولوں کی ضرورت ہے ؟ جواب ہے ہاں اور شدید ضرورت ہے۔ یہ ضرورت اس لئے ہے کہ ہمیں اپنے گاؤں اور محلے ہی میں تعلیم جیسی نعمت مل رہی ہے ۔ اس کے حصول کے لئے ہمیں اپنے بچوں کو کہیں باہر بھیجنے کی ضرورت نہیں پڑ رہی ہے۔ یہ اسکول سماج کے تمام طبقات کے لئے یکساں مفید ہیں۔ غریب خاندان کے بچے بھی ان اسکولوں کی بدولت حصول علم کی دولت سے آراستہ ہورہے ہیں ان اسکولوں کے ذریعہ ہم اپنے مذہب ، اقدار اور تشخص کو باقی رکھ سکتے ہیں۔ ان اسکولوں کے ذمہ ہمارے افراد کو باعزت روز گار ملا ہوا ہے جس سے سینکڑوں خاندان آسودہ زندگی گزار رہے ہیں۔ اب مسئلہ ہے معیاری تعلیم کا اور واقعتا یہ سب سے اہم مسئلہ ہے ۔ اردو ضلع پریشد اسکولوں کی تعلیم معیاری نہیں ہے اس سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا۔ اب ضرورت ہے ان اسکولوں کے نظام کو چست درست اور معیار کو بہتر بنانے کی ، اس کے لئے پوری ملت کو سرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا ورنہ ؎
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی
ضلع پریشد اردو اسکولوں کے معیار کو بہتر کرنے کے لئے ہمیں کمر کس لینا چاہئے ، اس کے لئے چند فوری اقدامات کی اشد ضرورت ہے :
۱۔ ضلع پریشد اردو اسکولوں کو ہم اپنا اسکول سمجھیں، جیسے اپنی معاش ، کمپنی یا کاروبار کو بہتر بنانے کے لئے تدابیر اختیار کرتے ہیں ان اسکولوں کے لئے بھی کریں۔ جب ہم ان اسکولوں کو اپنا سمجھیں گے تو ان کے لئے فکر مند ہوں گے، اسکولوں میں جائیں گے ، ہیڈ ماسٹر اور اساتذہ سے گفتگو کریں گے ۔ ان اسکولوں کے حقیقی مسائل کو سمجھنے کی کوشش کریں اور پھر ان کی بہتری کے لئے اقدامات کریںگے۔ مسائل کو حل کرنے کے لئے اقدامات نہ کئے جائیں صرف مسائل کا رونا رویا جائے اس کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
۲۔ عموماً ضلع پریشد اسکولوں میں ایک ہی استاذ کئی کلاسیز کو دیکھتا ہے۔ اس سے کوئی بحث نہیں ہے کہ طلبہ کی تعداد بہت کم ہوتی ہے ۔ طلبہ کی تعداد کتنی ہی کم ہو استاذ کو ہر کلاس کے تمام مضامین کو الگ الگ اوقات میں پڑھانا ہوتا ہے ۔ کئی کلاس ہونے کی وجہ اس کے لئے کما حقہ توجہ دینا ممکن نہیں ہوتا۔ کوشش کے باوجود کئی مضامین کی تدریس نہیں ہوسکے گی۔ استاذ اگر ایک کلاس کو پڑھائے گا تو بقیہ تین کلاسیز کے بچے بے کار بیٹھے ہو ںگے۔ اس کے لئے پہلی کوشش تو یہ ہو نی چاہئے کہ محکمہ تعلیم کو آمادہ کیاجائے کہ وہ ہر کلاس کے لئے الگ الگ استاذ متعین کرے۔ اگر حکومت ایسا نہیں کرتی تو گاؤں کے لوگوں کو اپنے طور پر اس کاکچھ نظم کرنا چاہئے ۔ اس کے لئے وظیفہ یاب اساتذہ یا گھر میں بیٹھی ہوئی تعلیم یافتہ خواتین کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ یہ خواتین رضا کارانہ طور پر ایک دو گھنٹہ کے لئے اپنی خدمات انجام دے سکتی ہیں۔
۳۔ ضلع پریشد اردو اسکولوں کو گود لیا جائے ، مذہبی، تعلیمی اورسماجی تنظیمیں ان اسکولوں کو گود لیں، بعض شہروں سے یہ اطلاعات ہیں کہ مختلف تنظیموں نے میونسپل اسکولوں کو گود لیا ہے اور اس کے بہت مثبت نتائج ہیں۔ گود لینے والی تنظیمیں ان اسکولوں کی بہتری کے لئے اقدامات کریں۔ بعض مضامین جیسے انگلش اور دینیات کے لئے علاحدہ ٹیچر رکھیں غریب طلبہ کی تعلیمی بہتری اور تعلیمی اخراجات میں ہاتھ بٹائیں۔ نئے نئے اسکول کھولنے سے بہتر ہے کہ ان اسکولوں پر تھوڑی سی توجہ دیں یقینا اس سے کم خرچ بالا نیش نتیجہ آئے گا
۴۔ حکومت کو مجبور کیا جائے کہ وہ غیر تدریسی امور کے لئے ان اساتذہ کی خدمات نہ لے یہ عجب تماشہ ہے کہ اساتذہ تدریس کے لئے مامور کئے جاتے ہیں مگر طرح طرح کے سروے، مردم شماری ، الیکشن اور نہ جانے کون کون سے کام ان سے لئے جاتے ہیں۔ ضلع پریشد اسکولوں کے اساتذہ کا بہت زیادہ وقت انہیں میں صرف ہوتا ہے۔ اس کے خلاف زبر دست مہم چلانے کی ضرورت ہے۔
۵۔ ضلع پریشد اردو اسکولوں کے اساتذہ کے لئے تربیتی ورکشاپ کئے جائیں، انہیں ان کی اہم ذمہ داری کا احساس دلایا جائے ۔ الحمدﷲ اس وقت ضلع پریشد اردو اسکولوں میں باصلاحیت اور باشعور اساتذہ کی ایک بڑی ٹیم موجود ہے۔ کئی کیندر پرمکھ بھی بہت فعال ، فکر مند اور سنجیدہ ہیں۔ ان کے تعاون سے اگر کوئی اسکیم بنائی جائے تو لازماً کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔
۶۔ ضلع پریشد اردو اسکولوں کے طلبہ کے لئے مختلف مقابلوں کا انعقاد کیا جائے ۔ ان مقابلوں کے ذریعہ طلبہ کا ہمہ جہتی ارتقاء تو ہوگا ہی ان اسکولوں کے تعلق سے عوامی سوچ بھی تبدیل ہوگی۔ راقم نے ادھر ضلع پریشد اردو اسکولوں کے درمیان کئی مقابلوں کا انعقاد کیا۔ الحمدﷲ بعض اسکولوں کے اساتذہ نے طلبہ کو بہت محنت سے تیار کیا جس سے عوام الناس میں ایک اچھا پیغام گیا۔
۷۔ ضلع پریشد اسکولوں پر ہم توجہ بھی دیں اور پیسے بھی صرف کریں ۔ ایک آدمی اپنے تین بچوں کو کانونٹ اسکولوں میں بھیج کر جو رقم خرچ کرتا ہے وہی رقم اگر ضلع پریشد اردو اسکول کی ترقی پر خرچ کردی جائے تو ضلع پریشد کو ایک مثالی تعلیمی ادارہ بنایاجاسکتا ہے۔ اصحاب خیر اگر آگے بڑھ کر ان اسکولوں کے لئے کچھ اقدامات کریں تو یقینا یہ ان کے حق میں صدقہ جاریہ ہوگا۔
۸۔ سماج کے تعلیم یافتہ اور باشعور افراد اپنے بچوں کا داخلہ ان اسکولوں میں کروائیں۔ خاص طور سے ضلع پریشد اردو اسکولوں اور ہائی اسکولوں کے اساتذہ لازما اپنے بچوں کو ان اسکولوں میں داخل کریں اگر تعلیم یافتہ بیدار گھر انوں کے بچے ان اسکولوں میں آئیں گے تو ان کے والدین کی فکر مندی اور نگرانی کی وجہ سے اساتذہ زیادہ توجہ دینے لگیں گے۔
آخری بات یہ ہے کہ ضلع پریشد اردو اسکولوں کا بند ہونا ملّت کے لئے اور خاص طور سے ملت کے غریب خاندانوں کے لئے کسی المیہ سے کم نہیں ہے۔ ان اسکولوں کے بند ہونے کے بعد غریبوں کے لئے تعلیم کا حصول خواب بن جائے گا۔ پرائیوٹ اسکولوں کی لمبی لمبی کبھی نہ ختم ہونے والی فیس ان کے ماہانہ بجٹ کو بگاڑ کر رکھ دے گی۔ یہ اسکولیں ہزاروں مسلم خاندانوں کو معاشی استحکام کا ذریعہ ہیں ویسے بھی ہمارے لئے سرکاری ملازمتوں کا حصول آسان نہیں ہے ۔ یہ اسکولس ہمارے لئے سرکاری ملازمتوں کے حصول کا بہت محفوظ ذریعہ ہیں۔
یہ چند سطور اس امید پر لکھے گئے ہیں کہ اصحاب حل و عقد اس سنگین مسئلے پر توجہ دیں ۔ ورنہ پچھتاوے سے کیا ہوت۔ جب چڑیا چگ گئی کھیت۔qq
کوآرڈی نیٹر فیروس ایجوکیشنل فاؤنڈیشن
موبائل:9223240829

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*