بنیادی صفحہ / خبریں / بازار / فلم محمد رسول اللہ (ص)پررضا اکیڈمی کو اعتراض،فتویٰ جاری

فلم محمد رسول اللہ (ص)پررضا اکیڈمی کو اعتراض،فتویٰ جاری

رضا اکیڈمی میں ایرانی فلم کے خلاف منعقدہ میٹنگ کا منظر

رضا اکیڈمی میں ایرانی فلم کے خلاف منعقدہ میٹنگ کا منظر

’’فلم میں اسلام کی ترجمانی کی گئی ہے‘‘،ممبئی میں ایرانی قونصلیٹ کی وضاحت
نمائندہ خصوصی،معیشت ڈاٹ اِن
ممبئی :(معیشت نیوز)رضا اکیڈمی نے ایرانی فلم محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)کے خلاف پریس ریلیز جاری کر جہاں اس کی مخالفت کی تھی وہیں اب باقاعدہ فتویٰ بھی جاری کردیا ہے۔اکیڈمی کے ذمہ دار سعید نوری معیشت ڈاٹ اِن سے کہتے ہیں’’ہمیں تو سب سے پہلے اس کے نام پر ہی اعتراض ہے۔کیونکہ اگر فلم فلاپ ہوتی ہے تو آقائے مدنیﷺ کا نام لے کر لوگ بولیں گے کہ مذکورہ فلم فلاپ ہوگئی ہےلہذا اب ہم نے باقاعدہ فتویٰ بھی صادر کردیا ہے‘‘۔سعید نوری فتویٰ کی کاپی معیشت ڈاٹ اِن کو شیئر کرتے ہوئے کہتے ہیںکہ ’’اس فلم میں اے آر رحمٰن نے موسیقی دی ہے لہذا ہم اس کی بھی مخالفت کریں گے‘‘۔

فلم کے خلاف جاری فتویٰ کی کاپی

فلم کے خلاف جاری فتویٰ کی کاپی

Fatwa1

واضح رہے کہ فتویٰ میں درج ہے کہ ’’تصویر سازی اسلام میں حرام ہے جبکہ اس فلم میں تصویر کشی کی گئی ہے ،نبی کریم ﷺ کی ذات کی نقالی ان ایکٹروں نے کیا ہے جن کے دین و ایمان کا کوئی پتہ نہیں ہے لہذا محبوب ذات کا استہزاء حرام ہی نہیں بلکہ موجب کفر ہے ۔سرور کائناتﷺ کی تعظیم و توقیر ہم پر فرض ہے ۔اس کے برعکس پردہ فلم میں پیشہ ور گناہ گاروں اور بہروپیوں کے ذریعہ نقالی کروانا ذات مقدس کا مذاق اڑانا ہے اگر اسلامی حکومت ہوتی تو ایسے شخص کو قتل کردیا جاتا‘‘۔فتویٰ میں یہ بھی درج ہے کہ ’’مسلمان ایسی فلم سے دور رہیں اور اس کے خلاف سخت احتجاج کریں۔‘‘
واضح رہے کہ سعودی عرب کے اخبار ’’الریاض‘‘ نے بھی اپنے تازہ شمارے میں لکھا ہے کہ علماء کمیٹی نے ڈائریکٹر مجید مجیدی کی بنائی ہوئی فلم محمد رسول اللہ (ص) کو مقام نبوت کے لیے توہین آمیز قرار دیا ہے اور مسلمانوں سے کہا ہے کہ وہ اس فلم کو دیکھنے سے برائت اختیار کریں۔ادھر مصر میں بھی کچھ لوگوں نے اس فلم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصویر دکھائے جانے پر اعتراضات کیاہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اعتراض ایسی حالت میں ہو رہا ہے کہ انہوں نے ابھی تک اس فلم کو دیکھا ہی نہیں ہےاور ان کا دعوی اس فلم کی فضا سے بالکل مربوط نہیں ہے ،وہ صرف اپنی تخیل پردازی کی بنا پر اتنی تندی کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔البتہ معمول کے مطابق بہت سارے افراد کے سامنے اس فلم کے جھوٹے مناظر بنا کر پیش کیے گئے ہیں اور ان کو عجیب و غریب باتیں بتائی گئی ہیں ۔ یہ احتمال بھی پایا جاتا ہے کہ جب وہ اس فلم کو دیکھیں گے تو اس کے بارے میں کچھ لوگوں کے نظریات بدل جائیں گے ۔
حقیقت تو یہ ہے کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نامی فلم رلیز ہوتے ہی مغربی ذرائع ابلاغ کی طرف سے فلم کی مخالفت ہو رہی ہے اس کے دو محور ہیں ،اور یہ دونوں محور سینما کی تاریخ میں جو سب سے بڑا کارنامہ ہوا ہے اس کی مخالفت کے اصلی وجوہات پر پردہ ڈالنے کا بہانہ ہیں ۔
ممبئی میں ایرانی قونصلیٹ کے ذمہ دار مذکورہ فلم پر معیشت ڈاٹ اِن سے گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں’’موجودہ دور میں فلم کے ذریعہ کسی پیغام کو جس آسانی کے ساتھ پہنچایا جاسکتا ہے وہ کسی اور ذریعہ سے ممکن نہیں ہے،مغرب فلم کا سہارا لے کر ہی اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے لہذابہتر طریقہ یہ تھا کہ اس کا جواب اسی انداز میں دیا جائےلہذا مجید مجیدی نے اسی چیز کی کوشش کی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’جس وقت اس فلم کو تیار کرنے کی بات ہورہی تھی اس وقت حالات یہ تھے کہ ذات مقدس کو لوگوں نے اپنا نشانہ بنا رکھا تھا اور اسلام دشمن عناصر نبی پاکﷺ پر کارٹون شائع کر رہے تھے۔جبکہ اسی کی آڑ میں اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی جارہی تھی۔لہذا جب ایرانی فلم سازوں نے اسے محسوس کیا تو انہوں نے اسلام دشمن طاقتوں کے پروپگنڈہ کا بھرپور جواب دینے کا تہیہ کیا۔اس طرح مذکورہ فلم کی پیش بندی ہوئی اور اسے تین حصوں پر مشتمل رکھا گیا ہے پہلا حصہ جو بچپن سے تعلق رکھتا ہے فی الحال ریلیز کیا گیاہے۔‘‘
فلم نے کس کے کھیل کو بگاڑا ہے ؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ مجید مجیدی کی تازترین شاہکار کے ریلیز کو ابھی چند دن ہی ہوئے ہیں کہ یہ دنیا کے اخبار کی سرخیوں پر چھا گئی ہے ۔کچھ مونٹریل فیسٹیول میں جو اس کا افتتاحیہ ہوا ہے اس کی خبروں کو نشر کر رہے ہیں ۔کچھ نے بائیکاٹ کا طریقہ اختیار کیا ہے ،اور وہ بھی اس فلم کا بائیکاٹ کہ جس کے بارے میں پہلے سے کہا جا رہا تھا کہ یہ عالم اسلام کے سینما میں نئے سال کا سب سے بڑا دھماکہ ہے ۔بعض دوسروں نے دوسرا ہی راستہ اپنایا ہے اور وہ اس پر تنقید اور اس کی مخالفت میں قلم فرسائی کر رہے ہیں ۔ یہ آخری طریقہ اس گروہ نے اختیار کیا ہے جو اس فلم کے مخالف اصلی ذرائع ابلاغ کا گروہ ہے ۔
سب سے اہم مطالب جو اس فلم (محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کے بارے میں اب تک ذرائع ابلاغ میں نشر ہوئے ہیں وہ دو محوروں پر استوار ہیں :
پہلا محور یہ ہے کہ اس فلم کے بنانے پر بھاری رقم خرچ ہوئی ہے ،مغرب ایسی حالت میں اس ڈھنڈورے کو پیٹ رہے ہیں کہ جب ہالی ووڈ میں بننے والی فلموں پر جتنا پیسہ لگتا ہے یہ اس کے مقابلے میں بہت کم ہے یا اس جیسی کسی ایک فلم کے پروجیکٹ کے برابر ہے ۔
دوسرا محور : ہندوستان و مصر سمیت کئی جگہوں پر لوگوں نے اس فلم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصویر دکھائے جانے پر اعتراض کیا ہے ،جن کو یہ ذرائع ابلاغ بڑھاوا دے رہے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ مغربی ذرائع کی اصلی مشکل وہ نہیں ہے جو وہ دکھا رہے ہیں ،بلکہ مسئلہ کچھ اور ہے جسے وہ بتا نہیں رہے ہیں ،ان کے لیے مشکل ہے لیکن ان کی کوشش یہ ہے کہ اس طرح کے بے کار کے بہانے بنا کر اور ایسے اعتراضات پیش کر کے مسلمانوں کو گمراہ کردیا جائے گا حالانکہ وہ تمام دعویٰ کھوکھلے ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کی اصلی وجہ کیا ہے ؟
حضرت آمنہ (سلام اللہ علیہا) اور حضرت حلیمہ (سلام اللہ علیہا) کے اس فلم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ والہانہ مہربانی کے مناظر
اس سوال کا جواب ان لوگوں کے لیے جو اس فلم کو دیکھ رہے ہوں گے زیادہ مشکل نہیں ہو گا ۔مجیدی کی اس فلم میں جو ہنر مندانہ مناظر پیش کیے گئے ہیں وہ مغربی ذرائع ابلاغ کی اس فلم کی مخالفت کی اصلی وجہ ہیں جس کی دو آسان سی دلیلیں ہیں :
پہلی دلیل:دین اسلام میں جو انسانیت، کرامت ، مہربانی اور اخلاقیات کا مذہب ہےاس کی منظر کشی اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عالمین کے لیے رحمت ہونے کی ماہیت کو پیش کیا جانا ہے کہ جو اس فلم میں موجود ہے ۔وہ بھی ٹھیک ایسے دنوں میں کہ جب ہالی ووڈ سینما اور مغربی ذرائع ابلاغ اسلام کی غیر واقعی اور خشونت آمیز اور انتہا پسندانہ تصویر پیش کرنے پر کمر بستہ ہیں ۔ہالی ووڈ کی فلموں میں اور مغربی ذرائع ابلاغ میں لگاتار ،دہشت گردی ، خود کش اور انسانیت کے خلاف حملوں ، قتل و غارت گری ، یرغمال بنانے جیسے مسائل کو اسلام کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا جا رہا ہے اور اس کے ثبوت میں وہ اپنے بنائے ہوئے انتہا پسند گروہوں کو کہ جو ایک دوسرے کی جان کے پیاسے ہیں پیش کرنے سے بالکل بھی دریغ نہیں کرتے ۔ غیر سرکاری تنظیمیں بنانا اور خود ساختہ حکومتیں تشکیل دینا دنیا کے لوگوں کی رائے عامہ کو حقیقی اسلام سے منحرف کرنے کا صہیونیوں کاطریقہ کار رہا ہے۔ ذرائع ابلاغ میں اس روش کے بارے میں کافی بحث ہو چکی ہے اور اس کے لیے اس سے زیادہ تحلیل اور تفسیر کی ضرورت نہیں ہے ۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نامی فلم بنانا ڈائریکٹر کا سب سے عاقلانہ اقدام تھا کہ جو مجید مجیدی کی کوشش سے ایسے وقت میں ملتوں کو ہوشیار کرنے کے لیے کارآمد ثابت ہوا کہ جب دولت اسلامی عراق و شام( داعش) نامی خونخوار ٹولہ اور تکفیری ذرائع ابلاغ کے پاس اسلام سے متنفر کرنے اور خوف زدہ کرنے کا سب سے پسندیدہ ذریعہ ہیں ۔
محسن تنابندہ کے کردار کے مناظر کہ جس کو یہودیوں کے معبد کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قتل کرنے پر مامور کیا گیا تھا۔
مغربی ذرائع ابلاغ کی محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نامی فلم کی مخالفت کی وجہ صرف یہ نہیں ہے کہ اس نے ان کے اسلام سے خوف زدہ کرنے کے منصوبے کا کھیل بگاڑ دیا ہے اور جو انہوں نے اسلام کی الٹی تصویر پیش کرنے کی کوشش کی تھی اس پر پانی پھیر دیا ہے بلکہ اس کی ایک اور دلیل بھی ہے :
دوسری دلیل:ان کی مخالفت کی وجہ وہ مختلف تفسیر ہے کہ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ۱۴۰۰ سال بعد تاریخ اسلام کی پیش کی ہے ،یہ وہ تفسیر ہے کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہلبیت رسول اللہ علیہم السلام پر جو کچھ بیتا تھا اور اس کے بارے میں جو ابہام تھا اور کسی نے اس کو دور نہیں کیا تھا اس کو دور کرتی ہے ۔انتہا پسند یہودی کہ جن کو آج ان کے عجیب و غریب رجحانات کی وجہ سے صہیونی کہا جاتا ہے ،ان کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دشمنی کا باعث اور بانی ہونے کے سلسلے میں کبھی بھی اتنا غور و خوض نہیں کیا گیا تھا۔
کبھی بھی یہ سوال اور موضوع نہیں اٹھایا گیا کہ کیوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والد کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت سے پہلے ہی مار ڈالا گیا ؟ کیوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت آمنہ کے تندرست اور سالم ہونے کے باوجود ایام طفولت میں ہی ان سے جدا ہونا پڑا ؟ اگر ان کی سلامتی کے بارے میں شک تھا بھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دایہ کی ضرورت تھی تو کیوں اس دایہ نے ماں کے ساتھ رہ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دیکھ ریکھ نہیں کی ؟ کیوں فرزند کو ماں سے اس وقت الگ ہونا پڑا کہ جب ماں کو اس سے والہانہ محبت تھی اور وہاں جا کر رہنا پڑا کہ جس جگہ کی کسی کو خبر نہیں تھی ؟ یہ سوال ہمیشہ اسلامی منبروں سے اٹھایا جاتا رہا ہے لیکن اس بار مجیدی نے فریاد بلند کی ہے اور اس کو زبان زد خاص و عام کر دیا ہے ۔ اس نے بڑی خوبی کے ساتھ میر باقری جیسے محقق کے ساتھ مل کر شیعوں اور سنیوں کے مآخذ سے دلایل اکٹھے کر کے یہودیوں کی اس سازش کو طشت از بام کیا ہے کہ جو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کو روکنے کے لیے رچی تھی ۔
تاریخ کے صفحات میں اس کے بارے میں بہت ساری دلیلیں موجود ہیں ،جن کو یہودی کبھی نہیں چاہتے تھے کہ وہ ذرائع ابلاغ کے ہاتھ لگیں۔ اب مجیدی نے دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا ہے اور صحیح نشانہ لگایا ہے اور یہ ان کی اس تازہ ترین تخلیق پر مغربی ذرائع ابلاغ کے حملے کی اہم ترین وجہ ہے ۔کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ کے اصلی اسپانسر ہمیشہ صہیونی نظریات کے حامل یہودی رہے ہیں ۔ مجیدی نے دنیا کے لوگوں کے اذہان کو اور سب سے بڑھ کر مسلمانوں کو انتہا پسند یہودیوں کے مکارانہ رویے سے کہ جس کو اسلام کی مخالفت میں انہوں نے اپنا رکھا ہے کہ جو اصل میں صہیونی ہیں آگاہ کیا ہے شاید محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نامی فلم کی یہی مستند روایت مغربی ذرائع کو مجبور کرے گی کہ وہ مسلمانوں کے درمیان اسلام کو پہچاننے کے لیے با مقصد منصوبہ بندی سے کام لیں ۔اور یہی دلیل مسلمانوں کو دشمنوں کے فرقہ وارانہ دعووں کی طرف متوجہ کرے گی اور ان کو یہ بتائے گی کہ مسلمانوں کا اصلی دشمن کون ہے ؟ بعید نہیں ہے کہ عالم اسلام سے منسوب کچھ افراد جو اس فلم کی مخالفت کر رہے ہیں ان کی مخالفت بناوٹی اور کسی کی سفارش کی بنا پر ہو ۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*