بنیادی صفحہ / کاروبار / ملک بھرمیں جانوروں کے ذبیحہ کی سیاست زوروں پر

ملک بھرمیں جانوروں کے ذبیحہ کی سیاست زوروں پر

میرا بھائیندر مجلس اتحاد المسلمین کے صدر تفسیر خان اور تھانہ کے صدر زبیر شیخ جین سماج کی طرف سے مٹن چکن پر پابندی کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے؛(تصویر معیشت)

میرا بھائیندر مجلس اتحاد المسلمین کے صدر تفسیر خان اور تھانہ کے صدر زبیر شیخ جین سماج کی طرف سے مٹن چکن پر پابندی کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے؛(تصویر معیشت)

سیاسی فیصلوں سے مسلم تاجر برادری پریشان،مہاراشٹر میں جین سماج کی شر انگیزی توکشمیر میں زندگی مفلوج،ایم این ایس اور شیو سینا نے بی جے پی کو آڑے ہاتھوں لیا
ممبئی،سری نگر(معیشت نیوز)وادی کشمیر میں بیشتر علیحدگی پسند لیڈران بشمول حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کے سربراہان سید علی گیلانی اور میرواعظ مولوی عمر فاروق بدستور اپنی رہائش گاہوں پر نظربند ہیں۔علیحدگی پسند لیڈران کی اپیل پر وادی میں بڑے کے گوشت پر پابندی کے خلاف مکمل ہڑتال کامیابی سے ہمکنار رہا ہے۔
مہاراشٹرکے میرا بھائیندر علاقے میں جین سماج کےتقریباً دس ہزار لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر’’پریوشن‘‘کے دوران مٹن چکن پر پابندی عائد کرنے کے لیے مظاہرہ کیاساتھ ہی انہوں نے شیو سینا اور مہاراشٹر نو نرمان سیناکو للکارتے ہوئے کہا کہ ’’ممبئی مراٹھیوں کی نہیں بلکہ جین سماج کی ہے۔ممبئی کی ترقی میں جین سماج نے ہی حصہ لیا ہے‘‘۔واضح رہے کہ ممبئی میں مراٹھی مانس کی وکالت کرنے والی پارٹی شیو سینا اور مہاراشٹر نو نرمان سینا اسے اپنی بے عزتی قرار دے رہی ہے اور وہ کسی بھی حال میں جین سماج کے مطالبے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔شیو سینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے کا کہنا ہے کہ ’’کسی کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ کسی کے کچن تک پہنچے‘‘انہوں نے اس دوران بی جے پی پر بھی نشانہ سادھا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ مہاراشٹر میں جین سماج مراٹھیوں کے رحم و کرم پر ہےجبکہ المیہ یہ ہے کہ بیشتر تجارت پر جین سماج کے لوگوں کا قبضہ ہے اور مراٹھی ان کے یہاں ملازمت کرتے ہیں۔
دوسری طرفبڑے جانوروں کو ذبح کرنے پر پابندی کے خلاف کشمیرمیںزبردستہڑتال دیکھنے کو ملا۔اس دوران سرینگر کے7پولیس تھانوں میں سخت ترین بندشوں کے بیچ کئی مقامات پر لوگوں نے سڑکوں پر بڑے جانور ذبح کئے جبکہ نوجوانوںاور فورسز کے مابین متعدد مقامات پر جھڑپوں کے دوران خشت باری ،لاٹھی چارج اور شلنگ سے حالات پرتناؤ رہے ۔بڑے جانوروں کو ذبح کرنے پر پابندی کے خلاف مزاحتمی جماعتوں کی طرف سے دی گئی کال کے پیش نظر سرینگر اور وادی کے دیگر قصبہ جات میں ہمہ گیر ہڑتال سے معمول کی زندگی درہم برہم ہوکر رہ گئی۔سرینگر سمیت وادی تمام اضلاع میں دکانیں اور کاروباری ادارے بند رہے اور ٹرانسپورٹ معطل رہا ۔اس دوران تعلیمی ادارے، کالج اور کشمیر یونیورسٹی بھی بند رہی جبکہ بنک اور سرکاری دفاتر بھی مکمل طور پر بند رہے۔ہڑتال کے دوران ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر انتظامیہ نے شہر سرینگر کے 7پولیس تھانوں خانیار،رعناواری،نوہٹہ، مہاراج گنج ،صفاکدل ،کرالہ کھڈاورمائسمہ کے تحت آنے والے علاقوں میں سخت ترین ناکہ بندی کی گئی تھی اور غیراعلانیہ کرفیو کا نفاذ عمل میں لاکر لوگوں کو گھروں میں محصور کیا گیا۔ پائین شہر میں صبح سے ہی پولیس اور سی آر پی ایف کی بھاری تعیناتی عمل میں لائی گئی اور سڑکوں پر جگہ جگہ خاردار تار بچھائی گئی ،یہاں تک کہ پولیس نے گاؤ کدل ،بربرشاہ پل ،کوہن کھن پل اور پائین شہرکے دیگر سڑکوں کو مکمل سیل کردیا تھا۔اس صورتحال کی وجہ سے پورے پائین شہر میں سناٹا اور ہوکا عالم چھایا رہا اور سخت ترین ناکہ بندی سے شہریوں کو اپنے ہی گھروں کے اندر قیدی بناکر رکھا گیا تھا۔کرفیو جیسی پابندیوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پائین شہر کے چپے چپے پر پولیس اورسی آر پی ایف اہلکاروںکی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی اور جو لوگ مجبوراً اپنے گھروں سے نکلے تھے انہیں بھی نصب کی گئی خار دار تاروں سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔پائین شہر کو سیول لائنز علاقوں کے ساتھ جوڑنے والے تمام راستوں کو سیل کیا گیا تھا اور ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر جگہ جگہ سیکورٹی فورسز نے ناکے لگائے تھے۔اس دوران پورے شہر سرینگرمیں تمام طرح کی دکانیں ،کاروباری ادارے،بازار،بینک،تعلیمی ادارے او رغیر سرکاری دفاتر بند رہے جبکہ سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہا۔سول لائنز کے لال چوک ،ریگل چوک ،کوکر بازار ،آبی گذر ،کورٹ روڈ ،بڈشاہ چوک ،ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ ،مہاراجہ بازار ،بٹہ مالو اور دیگر اہم بازاروں میں تمام دکانیں اور کاروباری ادارے مقفل رہے اور ٹرانسپورٹ سروس معطل رہی ۔ہڑتال کی وجہ سے شہرمیں ہر قسم کی سرگر میاں متاثر رہی اور لوگوں نے زیادہ ترگھروں میں ہی رہنے کو ترجیح دی جس کی وجہ سے شہر میں خاموشی چھائی رہی۔ حبہ کدل میں سی آر پی ایف اور احتجاجی نوجوانوں کے مابین اس وقت جھڑپ ہوئی جب وہاں لوگوں نے احتجاجی جلوس نکالنے کی کوشش کی جسے پولیس نے روک کیا جس کے بعد یہاں پتھراؤ اور جوابی پتھراؤ اور لاٹھی چارج ہوا ۔کنہ کدل اور اس کے ملحقہ علاقوں میں بھی احتجاجی نوجوانوں اور پولیس کے مابین جھڑپیں ہوئیں ۔اس دوران پارمپورہ اور دیگر کئی مقامات پر لوگوں نے احتجاج کیا اور بڑے جانوروں کو ذبح کیا گیا۔مہجور نگر پادشاہی باغ علاقہ میں نوجوانوں کی ایک ٹولی بڑا جانور خریدنے کیلئے پیسے جمع کررہے تھے ۔ بعد میں وہاں دو بڑے جانور ذبح کئے گئے۔نوگام میں لوگوں نے ایک بڑے جانور کو روپیوں کی مالائیں پہنا کر لایا اور بعد میں اسے ذبح کیا گیا ۔اس طرح کی اطلاعات پانپور اور نارہ بل سے بھی ملی ہیں ۔بمنہ میں گورنمنٹ میڈیکل کالج بائز ہوسٹل میں طلباءاور مقامی لوگوںنے احتجاجی مظاہرے کئے اور گاؤ کشی پر پابندی کے خلاف نعرے لگائے ۔اس موقعہ پر ایک بڑے جانور کو بھی ذبح کیاگیا اور بعد میں اسکا گوشت تقسیم کیا گیا۔سوپور سے غلام محمد نے اطلاع دی ہے کہ سوپور میں مکمل ہڑتال سے قصبہ میں ہو کا عالم رہا۔قصبہ میں فورسز کی بھاری تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی تاہم اس دوران حالات پرامن رہے۔پلہالن میں نوجوانوں کی ٹولیوں نے سرینگر بارہمولہ شاہراہ پر آکر احتجاجی مظاہرے کئے جنہیں منتشر کرنے کیلئے پولیس نے کارروائی کی جس کے بعد وہاں طرفین کے مابین جھڑپیں ہوئیں جس دوران پولیس نے پتھراؤ کررہے نوجوانوں کو قابو کرنے کیلئے شلنگ کی ۔کولگام سے خالد جاوید نے اطلاع دی ہے کہ کولگام ،کیموہ ،کھڈونی،یاری پورہ ،دمہال ہانجی پورہ ،دیوسرمیں ہمہ گیرہڑتال رہی اور سول کرفیو جیسا سماں دیکھنے کو ملا ۔کیموہ اور ونپوہ میں نوجوانوں نے ہڑتال کو یقینی بنانے کیلئے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑا کیں اورکچھ نجی گاڑیوں کو پتھراؤ کا نشانہ بنایا جبکہ مین چوک کولگام میں بھی نوجوانوں نے احتجاج کیا اور یہاں بھی پتھراؤ کا معمولی واقعہ پیش آیا۔عازم جان نے بانڈی پورہ سے اطلاع دی ہے کہ بانڈی پورہ ضلع میں مکمل ہڑتال رہی جس دوران سڑکیں سنسان اور بازار ویران نظر آئے۔ ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہی جبکہ سرکاری ونیم سرکاری اداروں میں ملازمین کی حاضری بہت کم رہی۔ سمبل ،بانڈی پورہ ، حاجن، نائدکھے اورصفاپور ہ میں مکمل ہڑتال رہی۔بانڑی پورہ پولیس تھانہ میں ایک نو جوان ریاض احمد میر عرف ریض میر کو بند رکھا گیا ہے۔ بتایا جاتا ھے کہ ریض میر گلشن چوک میںفشتی دوکاندارہے۔اسلام آباد سے ملک عبدالسلام نے اطلاع دی ہے کہ ضلع بھر میں بڑے جانوروں کو ذبح کرنے پر پابندی کے خلاف مکمل ہڑتال رہی ۔قصبہ اسلام آباد میں صبح سے ہی پولیس اور سی آر پی ایف کی بھاری تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی تاہم قصبہ میںسرپورہ اور کاڈی پورہ میں پتھراؤ ہوا، دیگر کئی مقامات پر وقفہ وقفہ سے احتجاجی نوجوانوں اور پولیس کے مابین جھڑپیں ہوتی رہیں ۔ بجبہاڑہ ،ڈورو،ویری ناگ،مٹن ،سیر ،عشمقام ،آرونی ، سری گفوارہ ،کوکرناگ اور دیگر علاقوں میں ہڑتال رہی جس دوران ان علاقوں دکانیں بند اور ٹریفک کی نقل و حرکت مفلوج رہی۔کوکر ناگ میں لوگوں نے احتجاج کیا جس دوران ایک بڑے جانور کو ذبح کیا گیا ۔مٹن میںجلوس نکالا گیا،اور گائے ذبح کر کے نو جوانوں نے قاضی یاسر کو رہا کرو کے نعرے لگائے۔پلوامہ میںہڑتال کے دوران امن و قانون کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے صبح سے ہی قصبہ میں پولیس نے کئی مقامات پر ناکے لگائے تھے تاہم اس کے باوجود نوجوانوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا ۔شوپیان میں بھی مکمل ہڑتال رہی جس دوران معمول کی زندگی درہم برہم ہوکر رہ گئی۔گاندربل اور وادی کے دیگر قصبہ جات اور علاقوں میں بھی دکانیں اور کاروباری ادارے مقفل رہے اور سڑکوں سے ٹرانسپورٹ غائب رہا۔کپوارہ سے اشرف چراغ نے اطلاع دی ہے کہ ضلع میں مکمل ہڑتال رہی جبکہ سڑکو ں سے پبلک ٹرانسپورٹ بھی غائب رہا ۔کپوارہ کے ریگی پورہ ،ترہگام ،کرالہ پورہ ،لال پورہ کرالہ گنڈ ،لنگیٹ اور چوگل میں نو جوانو ں نے ہفتہ کی صبح سے ہی سڑکو ں پر رکاوٹیں کھڑی کی تھیں جس کی وجہ سے پورے ضلع میں ٹرانسپورٹ سروس متاثر رہی ۔ہڑتال کے دوران سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں کام کاج مکمل طور ٹھپ ہو کر رہ گیا ۔اس دوران ضلع میں کرالہ پورہ چوک میں بیو پار منڈل نے ایک گائے کا ذبح عمل میں لایا اور ایک پر امن جلوس نکالا ۔ضلع کے ترہگام ،ہری ،ریگی پورہ ،لال پورہ میں نو جوانوں نے سڑکو ں پر ٹائر جلا کر سڑکو ں کو گا ڑیو ں کی آمد و رفت کے لئے بند کیا ۔بڈگام سے منیر ڈار نے اطلاع دی ہے کہ ضلع ہیڈ کوارٹر سمیت چاڑورہ، چرار شریف، بیروہ، ماگام، کھاگ اور خانصاحب میں مکمل ہڑتال رہی اس دوران کاروباری و تجارتی ادارے، دفاتر اور تعلیمی ادارے بند رہے۔

یو این آئی ،کشمیر عظمی کے اِن پٹ کے ساتھ

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*