بنیادی صفحہ / کاروبار / ابھرتے ہوئے کاروبار / بر صغیر میں تعلیم کے نام پر دکانداری زوروں پر ہے!!

بر صغیر میں تعلیم کے نام پر دکانداری زوروں پر ہے!!

مہاراشٹر کے مشہور صحافی و مترجم عرفان عثمانی کی بیٹی کائنات ’’ابابیل لرنرس اکیڈمی‘‘ کا افتتاح کرتے ہوئے(تصویر: معیشت)

مہاراشٹر کے مشہور صحافی و مترجم عرفان عثمانی کی بیٹی کائنات ’’ابابیل لرنرس اکیڈمی‘‘ کا افتتاح کرتے ہوئے(تصویر: معیشت)

جویریہ صدیق
بر صغیر ہند و پاک میں تعلیم منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔اب بچوں کی تعلیم و تربیت سے زیادہ ان سے پیسہ وصولنے کی ترکیبیں تلاش کی جاتی ہیں۔تعلیمی نظام کے ساتھ تعلیمی معیار بھی گرتا جا رہا ہے ۔پاکستان کے تناظر میں پیش ہے درج ذیل تحریر(ادارہ)
بچے کی صحت اور تعلیم وہ دو چیزیں ہیں جن کے بارے میں والدین بہت فکر مند رہتے ہیں، ماں ہراس چیز سے بچے کو بچاتی ہے جس سے بچے کو تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ والد کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ خوب محنت کریں تاکہ بچے کی تمام ضروریات اور خواہشات پوری کی جاسکیں، جس وقت بچے کے اسکول جانے کا مرحلہ آتا ہےتو ماں باپ سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ اپنے جگر گوشے کو کس اسکول میں داخل کروایا جائے جہاں اسکو شفیق استاد ملیں جو اس کی تعلیمی اور روحانی تربیت میں معاون ثابت ہوں۔
ماں کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ ادارہ ایسا ہو جہاں اس کو استاد بہت پیار سے بڑھائیں اسکے بچے کو گرمی سردی سے محفوظ رکھنے کا انتظام ہو، کینٹن میں معیاری اشیاء ملتی ہوں اور گھر سے زیادہ دور نا ہو۔والد اس کے ساتھ یہ دیکھتے ہیں کہ فیس کتنی ہے اسکول کا رزلٹ ریکارڈ کیسا ہے اسکول میں بچوں کی سیکورٹی کے لئے کیا انتظام ہے اورا سکول بچوں کو سکالر شپ دیتا ہے یا نہیں۔
والدین دیگر احباب سے مشورہ کرتے ہیں اخبارات دیکھتے ہیں اور بہت سے کچھ پرائیویٹ اسکولز کے اشتہارات سے مرعوب ہوجاتے ہیں، اسکولز کے اشتہارات میں سو فیصد رزلٹ کے ساتھ اسکالر شپ ، جنریٹرز ، سیکورٹی مطالعاتی دوروں اور مناسب فیس کو خاص طور پر نمایاں کرکے چھپوایا گیا ہوتا ہے۔ والدین بھی سوچتے ہیں چلو اچھا ہے اسکول میں اے سی بھی ہے ، ہمارا بچہ گرمی سے پریشان نہیں ہوگا، اسکول میں ہیٹر بھی سردی سے محفوظ رہے گا، پھر سب سے بڑھ کر رزلٹ اچھا ہے اسکول کا نام بڑا ہے ہمارا بچہ ایک قابل شہری بن کر یہاں سے نکلے گا۔
لیکن والدین کو یہ نہیں پتہ ہوتا جس دن سے بچہ اپنے ننھے ننھے قدم اٹھا کر اسکول جائے گا والدین کی آزمائش وہاں سے ہی شروع ہوجائے گی، سب سے پہلے ایڈمیشن فیس اس کے ساتھ کتابوں کی فیس اس کے بعد جنریٹر کی فیس پھر پینسل کلرز کی فیس گرمیوں کی چھٹیوں کی فیس بھی ٹیکس اس کے علاوہ۔ 16 دسمبر کے دلخراش واقعے کے بعد اب بہت سے پرائیویٹ اسکولز نے ایک اور فیس کا اضافہ کیا ہے سیکورٹی کے نام پر ماں باپ کی جیبیں خالی کروانا، یوں کل ملا کر ایک بچے کا ایڈمیشن ماں باپ کو 40سے 90 ہزار کے درمیان اوسط پڑتا ہے۔
ماں باپ چپ کرکے اس چکی میں پستے رہتے ہیں، لیکن سلسلہ یہاں نہیں رکتا، اسکول میں ہر ہفتے کوئی نا کوئی فنکشن ہوتا ہے جس کے لئے نت نئے ملبوسات کا مطالبہ بھی ماں باپ سے ہوتا ہے۔ اس کے بعد ویلکم پارٹیز، فیرول پارٹیز اور عید ملن کی مد میں بھی والدین سے ہی پیسے لئے جاتے ہیں۔ بات ہو بچوں کے یونیفارم کی تو بھی اسکولز نے اپنے من پسند مہنگے برانڈز کے حوالے کر رکھے ہیں، جس کی قیمت تین ہزار سے دس ہزار تک پہنچا دی۔ ماں باپ اگر درزی سے سلوا کر یونیفارم بچوں کو پہنا کر بھیج دیں تو بچوں کو واپس بھیج کر یہ کہا جاتا ہے جہاں سے ہم نے کہا ہے وہاں سے ہی خرید کر بچے کو یونیفارم پہنائیں۔
کتابیں جو اتنے مہنگے داموں والدین کو فروخت کی جاتی ہیں وہ بھی پرانی ہوتی ہیں اور سیشن کے اختتام پر واپس لے لی جاتی ہیں، جنریٹر کے نام پر جو پیسے ماں باپ سے لئے جاتے ہیں کبھی بچوں سے پوچھا جائے تو وہ کہتے ہیں کہ جنریٹرز تو اکثر خراب ہوتے ہیں، سیکورٹی کے نام پر جو والدین سے پیسے لئے جاتے ہیں وہ بھی کوئی خاص سیکورٹی نہیں کسی عام شخص کو وردی پہنا دی جاتی ہے اور ایک ناکارہ سا کیمرہ لگا کر والدین کو تسلی کرادی جاتی ہے۔
بات ہو نصاب کی تو اس میں سے اسلامیات تو بالکل خارج کردیا گیا ہے، دیگر علوم پر تو توجہ دی جارہی ہے لیکن مذہب اور دو قومی نظریے سے دور کیا جارہا ہے، جو ملک نجی اسکولوں کو فنڈ دیتے ہیں ، اسکول کی انتظامیہ اس ملک کی ثقافت اور زبان اپنے نصاب میں شامل کردیتے ہیں، جو چھوٹے بچوں پر اضافی بوجھ ہے۔
اسکول میں کام کرنے والی استاتذہ کی تنخواہ بہت کم ہے، دس سے پندرہ ہزار ایک ایم ایس سی پاس استاد کو دی جاتی ہے اور انہیں مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ مغربی لباس پہن کر آئیں، اب جب استاتذہ کا اتنا استحصال ہورہا ہو وہ کیا خاک بچوں کی تربیت پر توجہ دیں گی۔
حال ہی میں (ہندوستان کے بیشتر علاقوں کی طرح)اسلام آباد لاہور اور کراچی کے بہت سے پرائیویٹ اسکولز نے یکدم فیسوں میں تیس سے پچاس فیصد اضافہ کردیا، اس اضافے کی وجہ سے متوسط طبقے کے لیے یہ مشکل ہوگیا کہ وہ اپنے دو یا ایک بھی بچوں کی فیس ادا کرسکیں۔ ایک پرائیوٹ اسکول نے کلاس نرسری سے کلاس تھری تک کے بچوں کی فیس 75 ہزار کردی، دوسرے اسکول نے تو اسکو بھی پیچھے چھوڑ دیا اور نئے سیشن پر بچوں سے ڈیڑھ لاکھ فیس وصول کی۔
اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے تینوں شہروں میں متاثرہ والدین پرامن احتجاج کرتے ہوئے دہائی دینے لگے کیا اچھی اور سستی تعلیم پر متوسط طبقے کا حق نہیں فیسوں میں یکدم اتنا اضافہ کیوں؟
متاثرہ والدہ مسز عاصمہ نے کہاتمام پرائیویٹ اسکول حکومت اور والدین کے آگے جواب دہ ہیں انہیں اس بات سے سب کو آگاہ کرنا چاہیے کہ ماں باپ سے وصول کیا جانے والا پیسہ کہاں خرچ ہورہا ہے، والدین کوئی اے ٹی ایم نہیں، تعلیم کے نام پر یہ نجی اسکول دکانداری چلا رہے ہیں، حکومت اس پر ایکشن کیوں نہیں لے رہی، نا ان کے پاس تجربہ کار استاد ہیں نا لیب، لائبریری اور کھیل کے لئے کھلے میدان تو نہیں یہ اتنے پیسے کس بات کے وصول کررہے ہیں۔
والدین کے نمائندہ عالیہ آغا اور محسن خان کہتے ہیں اس وقت ہمارے ساتھ تمام والدین رابطے میں ہیں.ہم یہ معاملہ صدر پاکستان ممنون حسین اور وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے نوٹس میں لانا چاہتے ہیں کہ کس طرح نجی سکول تعلیم کو صرف پیسے بنانے کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ ایجوکیشن انسٹیٹیوشن ریگولیٹری اتھارٹی کو فعال بنایا جائے۔
یہ تمام صورتحال بہت افسوسناک ہے،حکومت کو فوری طور پر ایکشن لیتے ہوئے ان اسکولز کے خلاف کاروائی کرنی چاہیے، سستی تعلیم ہر بچے کا حق ہے، اس لئے حکومت فوری طور پر والدین اور پرائیویٹ اسکول کے نمائندوں کے ساتھ فیسوں کے مسئلے کا حل نکالے تاکہ بچے آرام سے اپنے تعلیمی سلسلے کو جاری رکھ سکیں۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*