بنیادی صفحہ / کاروبار / ابھرتے ہوئے کاروبار / نیٹ ورکنگ کے ذریعہ کمپنیوں کا کاروبار:کتنا حقیقت کتنا فسانہ

نیٹ ورکنگ کے ذریعہ کمپنیوں کا کاروبار:کتنا حقیقت کتنا فسانہ

Networking

نہال صغیر ،ممبئی
مارکیٹنگ کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں کسی بھی اشیاء یا خدمات کے فوائد توبتائے جاتے ہیں لیکن اس کے تاریک پہلوؤں پر کبھی بھی روشنی نہیں ڈالی جاتی ۔اب چونکہ گھر گھر گاؤں گاؤں قریہ قریہ ٹی وی پہنچ چکا ہے ۔لہٰذا یہ کام اور آسان ہوگیا ہے ۔کسی بھی پروڈکٹ کے اشتہار کے لئے بازار میں اشتہاری کمپنیاں موجود ہیں ۔جنہیں آپ کو صرف اپنا پروڈکٹ دکھانا ہوتا ہے جس کے بعد ایک سمجھوتہ کے ذریعہ وہ اس کے لئے ایک عدد اشتہاری فلم تیار کردیتے ہیں ۔اس میں کام کے لئے یا اس کے اشتہار کے لئے سیلی بریٹیز سے لے کر نو آموز ماڈل بھی دستیاب ہیں جولاکھوں کروڑوں لے کر ایک معینہ مدت تک کے لئے راضی ہوتے ہیں ۔اس کے بعد اسے ٹی وی پر دکھانے کے لئے لاکھوں کروڑوں کے اخراجات ہیں ۔اتنے اخراجات کے بعد کسی بھی اشیاء کی قیمت دوگنی تین گنی ہوجانا یقینی ہے ۔غالباً اسے دیکھتے ہوئے ہی کچھ لوگوں نے ڈائریکٹ مارکیٹنگ یا صارفین تک راست پہنچنے کے لئے کمپنیاں بنائی ہیں ۔اس کی بھی شروعات امریکہ سے ہوئی ۔دنیا بھر کی ۸۰ کمپنیوں کی فہرست میں نویں مقام پر ایموے (Amway ) ہندوستان میں نوے کی دہائی میں آ ئی تھی۔اس کا قیام ۵۹ ۱۹ میں امریکہ میں ہوا تھا جو امریکہ کی سیاسی پارٹی ریپبلیکن کو ڈونیشن دینے میں اول نمبر پر ہے ۔اور بھی کئی کمپنیاں جس میں آر سی ایم ،نیچورا کاسمیٹکس ،اوریفلیم کاسمیٹکس اور خالص ہندوستانی کمپنی سہارا کیئر بھی شامل ہیں ۔واضح رہے کہ ۸۰ ٹاپ کمپنیوں کی فہرست میں سہارا کیئر سب سے آخری پائیدان پر ہے ۔
ان کمپنیوں میں کیا خاص ہے؟
بھاری بھرکم اشتہاری فلم اور عوام کے ذہنوں کو تسخیر کرنے کی دوڑ نے اشیاء کو مہنگا بنانے میں اہم رول ادا کیا ہے ۔یہ کمپنیاں اس دعوے کے ساتھ بازار میں آئیں کہ ہم اشتہار پر غیر ضروری اخراجات نہ کرکے صارفین کو سستا سامان مہیا کروائیں گے ۔یہ دعویٰ انہیں مرعوب کرنے والا بھی تھا ۔وہ اس جانب متوجہ بھی ہوئے ۔بھلا انہیں اور کیا چاہئے تھا نوجوانوں کو ایک عدد آزاد روزگارکا موقع اور صارفین کو سستا سامان۔لیکن کیا اس کا فائدہ انہیں ملا ؟یہ ایک اہم سوال ہے ۔کمپنیوں نے اپنے بارے میں جیسی تشہیر کی تھی اگر یہ واقعی اپنے آپ کو ویسا ہی پیش کرتیں تو یقینی طور پربے روزگاری کم کرنے اور سستا سامان مہیا کرانا آسان ہوتا ۔لیکن یہ مارکیٹنگ کے اصول کے تاریک پہلوؤں کو نہ بتایا جائے کے خلاف تھا، اس لئے انہوں نے خواب دکھائے لیکن اس کے تاریک پہلوؤں کو جان بوجھ کر پردہ اخفا میں رہنے دیا ۔
نیٹورکنگ یا ملٹی لیویل تجارت کیا ہے؟
کسی بھی اشیاء کو اپنے ارکان یا کارکنان کی مدد سے راست صارفین تک پہنچانا ہی نیٹورکنگ یا ملٹی لیویل تجارت کا دوسرا نام ہے ۔یہ ایک سمجھ میں آنے والی بات بھی ہے کہ جب کوئی چیزکارخانہ یا فیکٹری سے تیار ہو کر راست طور پر صارفین تک پہنچے گی تو سستی ہوگی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح سے اس پر آنے والے کئی اخراجات بچ جاتے ہیں ۔اس میں سب سے اہم اشتہاری فلم بنانے کے اخراجات ،اس میں کام کرنے والے ماڈل یا سیلی بریٹیز کی بھاری بھرکم فیس اور پھر ٹی وی یا اب انٹر نیٹ پر اسے چلانے کا خرچ ،یہ مل کر پروڈکٹ کو کئی گنا مہنگا بنا دیتا ہے۔
کیا اس کا فائدہ صارفین کو مل رہا ہے ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اس کا فائدہ صارفین کو نہیں مل رہا ہے ۔صارفین ہی کیا اس کا فائدہ ان کے ڈسٹری بیوٹروں کو بھی نہیں مل پاتا ہے ۔اس کی وجہ ان کے اس دعوے میں کجی ہے جس کے مطابق وہ یہ کہتے ہیں کہ ان کا پروڈکٹ بازار میں موجود دووسرے پروڈکٹ کے مقابلے میں سستا ہے ۔جبکہ ایسا نہیں ہے ۔ایموے سے جڑنے والے ایک گجراتی نوجوان نے بتایا کہ ان کا پروڈکٹ مارکیٹ میں موجود دوسرے پروڈکٹ کے مقابلے کافی مہنگا ہے ۔بازار میں جو شیمپو سو روپئے میں موجود ہے وہ دوسو پچیس روپئے کا ہے اسی طرح برتن دھونے کا رقیق ڈیٹر جینٹ بھی کئی گنا مہنگا ہے ۔اس کے بارے میں سوال کئے جانے پر کمپنی کا ذمہ دار بتاتا ہے اس کا پروڈکٹ بہت زیادہ اثر انگیز ہے ۔جبکہ اس کو استعمال کرنے والے اس کی نفی کرتے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ اس میں ایسی کوئی جادوئی تاثیر نہیں جو اس کی قیمت زیادہ ہو ۔آر سی ایم سے جڑے شبیر احمد نے بتایا کہ نیٹورکنگ بزنس میں دھوکہ ہی دھوکہ اور جھوٹ ہی جھوٹ ہے ،ان کا پروڈکٹ سستا ہے اورنہ ہی بہتر بلکہ وہ بازار میں دستیاب عام چیزوں کی طرح ہی ہے ۔فرق اتنا ہے کہ دوسری کمپنیاں اشتہاری فلموں سے مرعوب کرکے اشیاء فروخت کرتی ہیں اور نیٹورکنگ والے اپنے افرادی قوت کے ذریعے ۔انہوں نے بتایا کہ جب ایک آدمی ممبر بن کر کچھ رقم انہیں دے دیتا ہے تو وہ رقم نکالنے کے لئے وہ دوسرے لوگوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہے جس میں نوے فیصدی جھوٹ بولا جاتا ہے ۔جھوٹ بولنا اس کی مجبوری بن جاتی ہے کہ وہ تو بیوقوف بنادیا گیا اب دوسروں کو بیوقوف بنائے گا جب ہی اس کی رقم نکلے گی ۔ شبیر احمد نے بتایا کہ ’’میں نے کل چار ماہ آر سی ایم کے ڈسٹری بیوٹر کی حیثیت سے کام کیا ۔اس دوران صرف آٹھ ہزار کا چیک مجھے مل پایا‘‘ ۔اس کی وجہ وہ بتاتے ہیں کہ ’’مجھ سے اس قدر جھوٹ بولنا اور دوسروں کو دھوکہ دینا نہیں ہو پایا‘‘ ۔
نیٹورکنگ کمپنیوں کا طریقہ کار
اس طرح کی کمپنیاں اپنے پروڈکٹ کا اشتہار دیتی ہیں اور نہ ہی یہ کسی معروف کمپنیوں سے پروڈکٹ لیتی ہیں ۔یہ بالکل غیر معروف کمپنیوں سے پروڈکٹ لیتی ہیں اور اسے اپنے لیبل کے ساتھ نیٹورکنگ کے ذریعہ فروخت کرتی ہیں ۔کمپنی کا کوئی سی ای او، کوئی اہم عہدیدار کبھی سامنے نہیں آتا ۔انہوں نے پہلے جن لوگوں کو اپنی نیٹورنک کے جال میں پھنسایا ان کے پاس بات کرنے اور جادو بیانی کا خوب سلیقہ ہوتا ہے اور انہیں اتنی ترقی دے دی جاتی ہے کہ وہ باہر جاکراپنی سحر انگیز گفتگو سے دیگر لوگوں کو کمپنی سے جوڑ سکیں ۔ایموے نوے کی دہائی میں جب آئی تھی تو اس میں انٹری کی فیس سو ڈالر تقریباًساڑھے چار ہزار روپئے تھی۔اس میں سے یہ لوگ بزنس کٹ کے نام سے جو سامان دیتے تھے وہ تقریباً پندرہ سو روپئے کا باقی تین ہزار مفت میں کمپنی کو مل گئے ۔ان کے کام کرنے کے طریقہ میںیہ شامل ہے کہ کوئی بڑا سا ہال لیں گے اس میں لوگوں کو اپنی سحر انگیزی سے متاثر کرتے ہیں ۔اس میں نچلی سطح سے کام کرکے ترقی کرنے والے لوگ نئے آنے والے کو کمپنی کے پروڈکٹ اس کی خصوصیات اور اس کے کاروبار یا ان کے پروڈکٹ بیچنے پر ہونے والے فوائد کے بارے میں بتاتے ہیں ۔انہیں پی پی ٹی کے ذریعہ دکھایا جاتا ہے کہ کس طرح انہوں نے اس کمپنی سے جڑ کر ترقی کی ہے ۔ٹیکساس ،نیو یارک اور مشی گن جیسی جگہوں پر انہوں نے بنگلہ اور رولس رائس کی کاریں خریدیں ۔واضح ہو کہ حاضرین میں اکثر یت ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جو بے روزگار ہوتے ہیں یا جن کا کیریئر اچھا نہیںہوتا ۔لہٰذا انہیں مسحور کرنے کی پوری کوشش کی جاتی ہے ۔ایسے ایسے خواب دیکھ کر کون ہے جو نہ متاثر ہو ۔پھر یہی لوگ اس میں کسی طور اس کی فیس دے کر شامل ہوجاتے ہیں ۔وہاں داخل ہونے کے بعد انہیں محسوس ہوتا ہے کہ انہیں سحر زدہ کرکے یہاں لایا گیا ہے ۔ معاملہ اتنا آسان نہیں ہے جتنا انہیں سمجھایا گیا تھا ۔اب جبکہ وہ بیوقوف بن ہی گیا ہے تو اسے یہ فکر ہوتی ہے کہ وہ کسی اور کو بیوقوف بنا کر اپنی رقم نکالے ۔اس طرح سے نیٹورکنگ بزنس کا بیوقوف بنانے کا یہ دھندا چل رہا ہے اور کمپنیاں ملین اور بلین ڈالر کے سرمایہ کی قوت کو مزید کئی گنا کرلیتی ہیں جس میں ایسے ہی سیدھے سادے لوگوں کے خون پسینے کی کمائی ہوتی ہے۔ اس میں ان کے سامان کی فروختسے ہونے والی آمدنی سے زیادہ وہ رقم شامل ہوتی ہے جس کے بارے میں عام طور پر کوئی سوال کرتا ہے اور نہ ہی اس کا جواب دیا جاتا ہے ۔جبکہ کمپنی کا کوئی خرچ نہیں ہوتا ہال کا کرایہ و دیگر اخراجات نئے آنے والوں سے ہال کرایہ نئے بزنس کی شروعات یا پارٹ ٹائم جاب دئے جانے کے نام پر لی گئی رقم سے ادا کیا جاتا ہے۔
مسلم سرمایہ دار اور نیٹورکنگ بزنس
ہندوستانی تناظر میں مسلم سرمایہ دار اس جانب متوجہ ہوکر اسے کمیونٹی کی بے روزگاری اور غربت دور کرنے میں مدد گار بن سکتے ہیں ۔لیکن ہمارے یہاں شعور کا آنا ایک مسئلہ ہے ۔خلیجی جنگ کے موقع پر اسرائیلی پروڈکٹ کے بائیکاٹ کا نعرہ دیا گیا تھا ۔وہ کتنا کارآمد ثابت ہوا پتہ نہیں لیکن اس وقت حلال کے نام سے کچھ پروڈکٹ بازار میں آئے تھے ٹوتھ پیسٹ ،جیم اور صابن سمیت کئی چیزیں تھیں ۔لیکن کچھ دن کی بہار دکھا کر رخصت ہوگئے ۔اسی طرح مکہ کولا ہے وہ بھی جب جب بائیکاٹ کا اعلان ہوتا ہے مارکیٹ میں آتا ہے اور چلا جاتا ہے۔کئی سرمایہ داروں نے سافٹ ڈرنک برانڈ بنایا ااور وہ بازار میں دستیاب ہے۔ لیکن وہ بازار میں اپنی موجودگی درج نہیں کروا پارہے ہیں ۔ظاہر سی بات ہے کہ ان کے پاس کوکا کولااور پیپسی کو مات دینے کے لئے اشتہاری ذریعہ نہیں ہے ۔لیکن ان کے لئے نیٹورکنگ بزنس ایک اچھا آپشن بن سکتا ہے!

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*