بنیادی صفحہ / کاروبار / چھوٹے ,درمیانے درجے کی صنعت / گوركشا مہم سے تباہ ہورہی ہے چمڑے کی صنعت

گوركشا مہم سے تباہ ہورہی ہے چمڑے کی صنعت

RSS
از قلم محمد کریم عارفی ،حیدر آباد
چمڑے کی صنعت ہندوستان کے سب سے بڑے دس برآمدات میں ایک ہے. ہر سال 12 ارب ڈالر کے لیدر کا سامان دوسرے ممالک کو برآمد کیا جاتا ہے. لیکن یہ صنعت گزشتہ ایک سال سے بحران میں ہے.
یوپی چمڑے اجسٹريذ ایسوسی ایشن کے صدر تاج عالم کہتے ہیں، چمڑے کی صنعت کئی سالوں سے آٹھ سے 10 فیصد کی شرح سے آگے بڑھ رہا تھا. لیکن اس سال اس 10 سے 25 فیصد کی منفی ترقی ہوئی ہے.
گزشتہ ڈیڑھ سال سے چمڑے منڈیوں میں گائے اور بھینس کی کھالیں کی سپلائی مسلسل گھٹتی جا رہی ہے.
کانپور ہائڈ مرچنٹ ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری اشرف کمال کہتے ہیں، “چمڑے کا کاروبار 40 فیصد سے کم بچا ہے. ہم نے ایسی کمی زندگی میں نہیں دیکھی ہے. یہ کاروبار دنوں دن خراب ہوتا جا رہا ہے.”
مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی نریندر مودی حکومت کے آنے کے بعد ہندو تنظیموں نے شمالی ہندوستان میں گوركشا تحریک تیز کر دیا ہے.
دادری کے واقعہ کے بعد ان تنظیموں کے کارکن بھینس لے جانے والے ٹرکوں کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں.ہائڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے صدر حاجی افضال احمد کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد کٹر هندوادي تنظیموں نے خوف اور ڈر کا ماحول بنا دیا ہے.
وہ کہتے ہیں، چمڑے کے تاجر اب ہمت نہیں کر پا رہے ہیں کہ وہ اپنا مال یہاں لائیں. تاجروں کو راستے میں ہی روکا جا رہا ہے. چمڑے اتار رہے ہیں. انہیں مارا جا رہا ہے. اس میں مرکزی حکومت بھی شامل ہے اور یوپی کی حکومت بھی.
مویشیوں کے ٹرکوں پر حملے اور کئی مقامات پر ٹرانسپورٹرز کو مارنے پیٹنے کے واقعات کے بعد بھینسوں کے بوچڑخانو پر بہت برا اثر پڑا ہے.
کانپور بوچڑخانا کے صدر دلشاد احمد قریشی کہتے ہیں، بجرنگ دل، وشو ہندو پریشد اور گوركشا کارکنوں نے افراتفری کا ماحول پیدا کر دیا ہے. جو صحیح مال آ رہا ہے اسے بھی وہ لوٹ رہے ہیں اور تاجروں کو مار رہے ہیں. وہ انتظامیہ سے مل کر الٹے سیدھے مقدمے درج کروا رہے ہیں.
گوشت کا کاروبار کرنے والے تاجر اور مزدور تمام ڈرے ہوئے ہیں.
ایک طرف گوركشا تنظیموں کے حملے ہیں تو دوسری طرف آلودگی پر کنٹرول رکھنے والے نیشنل گرین ٹریبیونل (اےنجيٹي) نے بھی اتنے مشکل اور پیچیدہ قوانین بنا دیے ہیں کہ چمڑے کے بہت سے کارخانے بند ہو چکے ہیں.
مقامی ممبر اسمبلی عرفان سولنکی کہتے ہیں، ہر آدمی اب کاروبار ختم کرنے لگا ہے. میری اپنی معیاد میں تقریبا 100 لیبر تھے. آج 20-25 ہی بچے ہیں. کہاں سے لائیں . اےنجيٹي والوں نے بھی اس کاروبار کو برباد کر دیا ہے.
بازار میں مویشیوں اور چمڑے کی تعداد تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے. ٹرانسپورٹرز پر حملے کے خوف سے وہ اب مویشيو لے جانے لانے سے انکار کرنے لگے ہیں.
اتر پردیش کے اناؤ ضلع کے ایک بڑے صنعتکار تاج عالم کہتے ہیں کہ اگر چمڑے اديوگ یا گوشت کی صنعت پر براہ راست اثر پڑا تو اس سے لاکھوں کی روزی روٹی متاثر ہوگی.
وہ کہتے ہیں، اس کا شکار صرف چمڑے کی صنعت نہیں ہے. اس سے کیمیکل والے، مشین والے، پیکیجنگ والے بھی جڑے ہوئے ہیں. بہت سے متعلقہ صنعتیں ہیں. وہ سب کے سب بے روزگار ہو جائیں گے. اس کا بہت برا اثر پڑے گا.

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*