بنیادی صفحہ / کارپوریٹ / کیابن لا دن کمپنی پرسےشاہی عتاب ختم ہوچکا ہے

کیابن لا دن کمپنی پرسےشاہی عتاب ختم ہوچکا ہے

بکر بن محمد بن لادن

بکر بن محمد بن لادن

ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید
09949481933
مملکت ِ سعودی عربیہ میں فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز خادم الحرمین الشریفین کے دورِ اقتدار میں بڑے پیمانے پر سیاسی تبدیلیاں دیکھنے میں آرہی ہیں اور گذشتہ سال حج کے موقع پر حرم مکی میں پیش آنے والے سانحہ کے بعد مملکتِ سعودی عربیہ کی مشہور و معروف کنسٹرکشن کمپنی بن لا دن کے تمام کنٹراکٹس منسوخ کردیئے گئے تھے۔ بن لا دن کے اعلیٰ عہدیداروں پر سفری پابندی بھی عائد کردی گئی تھی ۔ بن لا دن پر عائد کی گئی پابندی کے بعد کمپنی نے گذشتہ ہفتہ اپنے 50ہزار ورکرس کو روزگار سے محروم کرتے ہوئے انہیں انکے وطنوں کو واپس بھیجنے کے لئے خروج (اکزٹ) لگانے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد بن لادن ورکرس نے بڑے پیمانے پر احتجاج کرتے ہوئے عروس البلاد جدہ میں کمپنی کے دفتر پر حملہ کیا اور کمپنی کے سات بسوں کو نذرآتش کردیا تھا۔ ذرائع کے مطابق تعمیری انجینئرنگ کے شعبہ جات میں 17ہزار ملازمین کو بھی نکالنے کا اعلان ہوا ۔ کہا جارہا ہے کہ ان ملازمین میں سے کم و بیش 12ہزار سعودی شہری شامل ہیں جنہیں انکے روزگار سے محروم ہونا پڑرہا ہے۔ ہوسکتا ہیکہ اس بڑے پیمانے پر کمپنی کی جانب سے ورکرس کو نکالنے کے اعلان کے بعد شاہی حکومت فوراً حرکت میں آگئی اور بن لا دن پر عائد پابندیوں کو برخواست کردیا گیا ۔بن لا دن کوحکومتی کنسٹرکشن پراجکٹس کے لئے ٹنڈرس داخل کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے اور اس کے اعلیٰ عہدیداروں کو جو سفری پابندیاں عائد تھیں انہیں بھی ختم کردیا گیا۔ سعودی وزیر لیبر مفرج الحقبانی نے ریاض میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں تیقن دیا کہ بن لا دن گروپ سے نکالے گئے ملازمین کی تنخواہوں کا معاملہ حل کردیا جائے گا اور حکومت سعودی عر بیہ کے قانون کے تحت ملازمین و مزدوروں کو انکی بقایا تنخواہیں دلائی جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہاکہ نکالے گئے ملازمین کو اختیار ہوگا کہ وہ دوسری کمپنیوں میں اپنے اقامے منتقل کریں یا پھر اپنے ملک واپس ہوں۔ بن لادن پر پابندی ختم کرنے کے بعد ہزاروں ورکرس نے شائد سکون کے سانس لئے ہونگے،کیونکہ کئی ماہ سے ہزاروں ورکرس تنخواہ سے محروم ہیں۔
حکومت کی جانب سے پابندیاں عائد کئے جانے کے بعد سے بن لادن گروپ کے مالی بحران کا شکار ہوچکا ہے۔ اس بحران سے نکلنے کے لئے سی ین بی سی عربی چینل نے چار نکات پیش کئے ہیں۔ جن میں بن لا دن گروپ اپنے دیوالیہ ہونے کا اعلان کردے یا حکومت سعودی عرب بن لا دن گروپ کے 60%حصص خرید لیں۔ یا بن لا دن اپنے جاریہ منصوبوں کا عام ہراج کردے یا پھر جاریہ منصبوں کی تکمیل کرکے مالیہ حاصل کرسکے۔بن لا دن کے جاریہ سال کے منصوبوں کی لاگت 1220ارب سعودی ریال ہے اور آئندہ سال یعنی 2017کیلئے 140ارب سعودی ریال کے 15منصوبوں کیلئے سعودی اور بیرون سعودی ممالک حاصل کرچکی ہے۔بن لا دن گروپ کا کل بقایاجات سال رواں 14.5ارب سعودی ریال ہے اور آئندہ سال کے لئے 25ارب سعودی ریال متوقع ہے۔بن لا دن گروپ اور ملازمین کے لئے یہ خبر خوش آئند ہے کہ سعودی عربیہ جنرل اتھاریٹی آف سیول ایویشن(GACA)نے اعلان کیا ہیکہ سعودی بن لادن گروپ ملک عبدالعزیز انٹر نیشنل ایئرپورٹ جدہ کا کام شروع کرچکی ہے۔ اس منصوبہ کی تخمینہ لاگت 7.2ارب ڈالر یعنی 127ارب سعودی ریال ہے۔
مملکتِ سعودی عربیہ کی جانب سے ان ممالک میں جہاںناگہانی آفاتِ ارضی و سماوی اورمسلمانوں پر دشمنانِ اسلام کی جانب سے مظالم کا شکار بنائے جانے کے بعد بڑے پیمانے پرامداد فراہم کی جاتی رہی ہے ۔ سعودی عوام اور حکومت کی جانب سے بے دریغ امداد ماضی میں صرف مظلوم مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ غیروں کو بھی دی گئی۔ اور آج یہی ملک جو امداد فراہم کرنے میں جس بے دلی کا مظاہرہ کرتا تھا اپنے بجٹ میں خسارہ بتایا ہے اس کے اسباب کیا ہے اس سلسلہ میں کوئی دو رائے نہیں ہے یعنی مشرقِ وسطیٰ ان دنوں دہشت گردی کی وجہ سے جن حالات سے گزر رہا ہے سب ہی جانتے ہیں۔ شدت پسند تنظیموں کی جانب سے دہشت گردی میں بے تحاشہ اضافہ اور یمن کے حالات کو قابو میں لانے کے لئے سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد نے جو رول ادا کیا ہے اورکررہا ہے اس سے سعودی عرب کی معیشت پر بُرے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ خام تیل کی قیمتوں میں بے تحاشہ کمی نے عرب ممالک کی معیشت کو شدید ضرب پہنچائی ہے۔سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک ان دنوں جن حالات کا مقابلہ کررہے ہیں اس سے بین الاقوامی برادری بخوبی واقف ہے اور دشمنانِ اسلام، عالمِ اسلام کے اس عظیم مرکزی ملک کو کسی نہ کسی بہانے کمزور کرنے کی کوشش میں سرگرداں نظر آتے ہیں ایک طرف بیرونی سازشوں کے ذریعہ اسلام اور مسلمانوں کے وقار کو مجروح کرنے کی ناپاک کوششیں جاری ہیں تو دوسری جانب ملک میں سورش پھیلانے کے لئے مساجد وغیرہ پر حملے کئے جارہے ہیں۔عرب ممالک اپنے دفاع کے لئے امریکہ اور دیگر مغربی و یوروپی ممالک پر انحصار کئے ہوئے ہیں ان ممالک سے عصری ٹکنالوجی سے آراستہ فوجی سازو سامان اور ہتھیار کروڑوں ڈالرز دے کر حاصل کررہے ہیں اور دشمنان اسلام بھی اپنے اُن ہتھیاروں کی نکاسی کرنے میں کامیاب ہورہے ہیں جو اکسپائر ہونے ناکارہ ہونے کی طرف رواں دواں ہے۔ خطے میں بھیانک ہوتے حالات کے باوجود مسلمان اپنی صفوں میں اتحاد کے بجائے مسالک کی بنیاد پر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے نظر آتے ہیں۔ ایک طرف شیعہ ملیشاء ، حوثی قبائل عام سنی مسلمانوں کے قتل عام کو ضروری سمجھتی ہے تو دوسری جانب شدت پسند تنظیمیں داعش ،القاعدہ، طالبان ، النصرہ اور اس قبیل کی دہشت گرد تنظیمیں عام سنی مسلمانوں کو کفر و شرک کا لیبل لگا کر ہلاک کرتے جارہے ہیں۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام فائرنگ، بم دھماکے، خودکش حملوں اور فضائی حملوں کے ذریعہ کیا گیا اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ شام، عراق، یمن، افغانستان ، پاکستان ، مصروغیرہ میں مسالک کی بنیاد پر یہ دو طرفہ کارروائیاں جاری ہیں جس میں لاکھوں بے قصور مسلمان بشمول معصوم بچے و خواتین شہید ہورہے ہیں تو دوسری جانب لاکھوں کی تعداد میں مسلمان اپاہیج ہورہے ہیں یہی نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں مسلمان بے گھر ہوچکے ہیں جنہیں آسرا دینے کے لئے اقوامِ متحدہ بھی ناکام ہوچکا ہے۔ آج ہزاروں مسلمان دیگر پڑوسی اور یوروپی یونین ممالک کا رخ کر رہے ہیں اور اس میں ان کی جانیں بھی ضائع ہورہی ہیں ۔ شام، عراق، افغانستان اور پاکستان میں شدت پسندی اور دہشت گردی کی وجہ سے لاکھوں بچے تعلیم و تربیت سے محروم ہوچکے ہیں ، اگر ان بچوں کی تعلیم و تربیت کا مؤثر انتظام نہ کیا گیا تو مستقبل میں یہ انکے اور انکے افرادِ خاندان پر کئے گئے مظالم کا بدلہ لینے کی کوشش کریں اس طرح آج کے یہ ہونہار معصوم بچے مستقبل کے لئے خطرہ ثابت ہوسکتے ہیں اس لئے اقوام متحدہ اور دیگر امن پسند ممالک کو چاہیے کہ وہ ان بے سروسامانی کی زندگی گزارنے والے پناہ گزینوں کو آسرا فراہم کریں اور انکی ضروریات کے سامان مہیا کرنے کی سعی کریں ورنہ مستقبل میں حالات مزید بگڑتے جائیں گے۔یہی وہ حالات ہوسکتے ہیں جس کی وجہ سے سعودی عرب کی معیشت کو بھی کاری ضرب لگی ہے ۔ شاہی فرمان کے مطابق گذشتہ دنوں سعودی عرب کے وزیر تیل فائز علی ال نعیمی کو برطرف کردیا تھا جو گذشتہ 20سال سے اس عہدہ پر فائز تھے۔ فائز علی ال نعیمی کی جگہ سابق وزیر صحت خالد ال فلیح کو وزیر تیل بنا یا گیا ہے جو 10؍ مئی کو اپنے نئے عہدہ کی ذمہ داری کا حلف لے چکے ہیں۔اس موقع پر انکے علاوہ حالیہ شاہی فرمان کے تحت مقرر کیے جانے والے دیگروزراء اور ذمہ داروں نے بھی اپنے نئے عہدوںکا حلف لیا۔ حلف برداری کی تقریب میں خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود بھی موجود تھے۔نئے وزراء میں وزیر صحت ڈاکٹر توفیق بن فوزان الربیعہ، وزیر تجارت و سرمایہ کاری ڈاکٹر ماجد بن عبداللہ القصبی، وزیر توانائی و صنعت و معدنی دولت انجینئر خالد بن عبدالعزیز الفالح، وزیر مواصلات سلیمان بن عبداللہ الحمدان، وزیر حج و عمرہ ڈاکٹر محمد صالح بن طاہر بنتن اور مجلس شوری کے رکن شہزادہ محمد بن سعود بن خالد شامل ہیں۔حلف کے بعد تمام ذمہ داران نے خادمین حرمین شریفین کی ہدایات کو توجہ سے سنا۔حلف برداری کی تقریب میں مملکت کے ولی عہد اور وزیر داخلہ شہزادہ محمد بن نائف بن عبدالعزیز بھی موجود تھے۔اس طرح مملکتِ سعودی عرب میں بڑے پیمانے پر سیاسی تبدیلیاں اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز ملک میں نئے چہروں کو روشناس کروانے کے ساتھ اپنی حکومت کو مضبوط و مستحکم رکھنا چاہتے ہیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی اندرونی و بیرونی سازش کا شکار نہ ہونے پائے۔یہ پہلا موقع ہے کہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اپنے ایک شاہی فرمان کے تحت نہ صرف کابینہ میں غیر معمولی رد وبدل کیا ہے بلکہ ملک میں پہلی بار تفریح عامہ کے ادارے کی تشکیل عمل میں لائی ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق شاہی فرمان کے تحت سابق وزیر صحت حمد بن عقیل الخطیب کو تفریح عامہ کے ادارے کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔شاہی فرمان کے مطابق یہ ادارہ ملک میں تفریح سے متعلق تمام امور کی نگرانی کرے گا۔ ادارے کا ایک بورڈ آف ڈائریکٹر قائم کیا جائے گا جس کے سربراہ کا انتخاب خود سعودی فرمانروا کریں گے۔شاہی فرمان کے تحت ملک میں تفریح عامہ کے ادارے کے قیام پر سوشل میڈیا پر مثبت رد عمل سامنے آیا ہے اور شہریوں نے شاہ سلمان کے اس فیصلے کی غیر معمولی تحسین کی ہے۔خیال رہے کہ شاہی فرمان کے تحت احمد عقیل الخطیب کو شاہی دیوان کے مشیر کے عہدے سے ہٹا کر کابینہ سیکریٹریٹ کا مشیر مقرر کیا گیا۔ انہیں ایک وزیر کے مساوی مراعات اور حقوق حاصل ہیں۔ وہ ماضی میں سعودی عرب کے وزیر صحت بھی رہ چکے ہیں۔
سعودی معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے مزید فیصلے
سعودی عرب نے غیر آباد اور غیر ترقی یافتہ اراضی پر سالانہ ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں قانون سازی بھی کرلی گئی ہے۔ وزارتِ ہاؤزنگ نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر بتایا ہے کہ اس ٹیکس کی شرح افراد یا اداروں کے زیر قبضہ اراضی کی کل مالیت کے ڈھائی فی صد کے مساوی ہوگی۔عرب خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے شہری علاقوں میں غیرترقی یافتہ اراضی کے مالکان نے اس کو کئی برس سے خالی چھوڑا ہوا ہے۔ وہ ان کی قیمتیں بڑھنے کا انتظار کرتے ہیں یا خالی پلاٹوں کی اندازوںپر خرید وفروخت کر رہے ہیں۔اس وجہ سے سعودی عرب کے بڑے شہروں میں مکانوں کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔اب ایسی خالی زمینوں پر ٹیکس سے تیل کی قیمتوں میں کمی سے متاثرہ قومی خزانے میں رقوم جمع ہوسکیں گی اور سعودی معیشت کواستحکام ملے گا۔سعودی عرب نے گذشتہ ماہ ہی تیل کے بجائے دوسرے شعبوں پر اپنی معیشت کو استوار کرنے کے لیے اصلاحات کا اعلان کیا ہے۔اس کے تحت مملکت کی بڑی تیل کمپنی سعودی آرامکو کے حصص فروخت کیے جارہے ہیں۔غیر استعمال شدہ اراضی پر ٹیکس کی تجویز پر گذشتہ سال مارچ میں پہلی مرتبہ غور کیا گیا تھا۔ماہرین معیشت کے مطابق بڑے شہروں کے گرد ونواح میں غیر آباد پڑی اراضی پر ٹیکس عائد کیے جانے کے بعد حکومت کو سالانہ 13 ارب ڈالرز تک آمدنی کی توقع ہے اس طرح سعودی عرب اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے مختلف عملی طور پر سرگرم عمل دکھائی دے رہا ہے۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*