بنیادی صفحہ / خبریں / اسلامی شریعت اللہ کی بنائی ہوئی ہے ترمیم ناقابل برداشت:مولانا محمدطاہر مدنی

اسلامی شریعت اللہ کی بنائی ہوئی ہے ترمیم ناقابل برداشت:مولانا محمدطاہر مدنی

اجلاس عام کو محترم مولانا طاہر مدنی صاحب ناظم جامعۃ الفلاح خطاب کرتے ہوئے

 مولانا طاہر مدنی صاحب ناظم جامعۃ الفلاح 

ناظم جامعۃ الفلاح نے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی پرزور وکالت کی،حکومتی رویہ پر عدم اطمینان کا اظہار
بلریاگنج(اعظم گڈھ):اسلامی شریعت اللہ کی بنائی ہو ئی ہے اس میں ترمیم کا اختیار کسی کو حاصل نہیں۔ قرآن کا صاف اعلان ہے :اتبعوا ما أنزل الیکم من ربكم. .. (الأعراف )اصلاح کے نام پر شریعت میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ان خیالات کا اظہارمولانا محمد طاہر مدنی نے اپنے پریس اعلامیہ میں کیا۔انہوں نے مرکزی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ’’ مرکزی سرکار نے سپریم کورٹ میں جو موقف اپنایاہے، وہ ناقابل قبول اور قابل مذمت ہے۔طلاق ثلاثہ کا مسئلہ بہت واضح ہے۔ایک ساتھ تین طلاق دینا ناپسندیدہ ہے، لیکن اگر کسی نے ایسا کیا تو طلاق ہوجائے گی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’ اختلاف بس یہ ہے کہ ایک ہوگی یا تین لیکن ایسے جذباتی اور نادان شوہروں سے چھٹکارہ مل جائے، یہ عورت کیلئے باعث رحمت ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’ البتہ جو لوگ ایسا غیرمناسب طریقہ اختیار کرتے ہیں، ان پر بھاری جرمانہ ضرور لگنا چاہئے تاکہ دوسرے ایسی جرآت نہ کریں. سماج میں بیداری بھی لانے کی ضرورت ہے کہ ایک ساتھ تین طلاق کی حماقت نہ کی جائے‘‘۔
ناظم جامعۃ الفلاح نے کہا کہ ’’تعدد زوجات کی اجازت نص قرآنی سے ثابت ہے :فانکحوا ما طاب لکم من النساء مثنی و ثلاث و رباع. .(النساء )لہذاکسی کے بس میں یہ نہیںہے کہ حکم قرآنی کو منسوخ کر سکے. البتہ یہ اجازت عدل کی شرط کے ساتھ مشروط ہے. اسلام یہ چاہتا ہے کہ آشنائی کے بجائے باقاعدہ نکاح کریں اور تمام حقوق ادا کریں‘‘.
انہوں نے کہا کہ ’’نکاح تحلیل کی ضرورت اس وقت پڑتی ہے جب تین طلاق ہوجائے اور دوبارہ وہ عورت سابق شوہر سے نکاح کرنا چاہے. اگر وہ ایسا نہیں چاہتی تو نکاح تحلیل کی حاجت ہی نہیں پڑے گی. یہ پابندی اس لئے ہے کہ طلاق کو بچوں کا کھیل نہ سمجھا جائے کہ جب چاہا دے دیا اور پھر آسانی سے نکاح کر لیا. جب شوہر کے علم میں یہ بات رہے گی کہ تیسری طلاق کے بعد میں اس سے نکاح بھی نہیں کر سکتا تو ایسا قدم اٹھانے سے پہلے وہ سو بار سوچے گا‘‘۔
ناظم جامعۃ الفلاح نے حکومتی رویہ پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’حیرت کی بات یہ ہے کہ جو احکام عورت کے تحفظ کیلئے ہیں، ان کو غلط انداز سے سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے‘‘.انہوں نے کہا کہ ’’یہ ایک حقیقت ہے کہ ’’معاشرے کی اصلاح بھی کی جانی چاہئےتا کہ احکام شریعت پر صحیح جذبے کے ساتھ عمل ہو.ساتھ ہی خواتین پر یہ بات بھی واضح کردی جائے کہ اسلام کا مطلب احکام الہی کی پابندی ہے، اگر یہ پابندی منظور نہیں تو باہر جانے کا راستہ کھلا ہواہے‘‘۔انہوں نے تمام مسلمانوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ’’ الله کے واسطے اللہ کے دین کی رسوائی کا سامان مت بنئے اور دوسروں کےہاتھ کھلونا بننے سے پر ہیز کیجئے‘‘۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*