بنیادی صفحہ / حلال صنعت / کھجور: صحت بخش غذا اور متعدد بیماریوں کا علاج

کھجور: صحت بخش غذا اور متعدد بیماریوں کا علاج


کھجور ایسا بابرکت ، لذیز اور شیریں پھل ہے جو کثیر الغذا ، مولد خون، مقوہ باہ ، مولد منی، مسمن بدن اور مقوی اعصاب ہے۔ جس کا قرآن کریم میں بیس سے زائد بار ذکر آیا۔ جب کہ یہ انبیاء اور صالحین کی پسندیدہ غذا رہی ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے پھل کو بے حد پسند فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے روزہ افطار کرنے کو بھی پسند فرماتے۔ اسے اردو میں کھجور ، پنجابی میں کھجی، عربی میں نخل کہتے ہیں۔ فاتح سندھ محمد بن قاسم کی آمد کے ساتھ بر صغیر پاک و ہند میں کھجور کی کاشت شروع ہوئی۔

سندھ میں خیر پور ، سکھر، گھوٹکی کے علاقوں، پنجاب میں ملتان، مظفر گڑھ، ڈیرہ غازی خان، رحیم یار خان، بہارلپور، جھنگ سمیت دیگر شہروں ، جب کہ بلوچستان میں مکران، قلات و دیگر شہروں میں بے حد عمدہ اقسان کی کھجور کاشت کی جاتی ہے۔ دنیا میں کھجور کی کاشت سعودی عرب، ایران، مصر ، عراق، اسپین، اٹلی ، چین، لبنان، روش و دیگر ممالک میں کی جاتی ہے۔ تازہ پکا ہوا پھل کھجور کہلاتا ہے اور خشک ہو جائے تو چھوہارا کہتے ہیں جو کہ مزاجاً گرم اور خشک ہوتا ہے۔ دونوں کی افادیت ایک جیسی ہے۔

یہ دوا اور غذا کے لیے بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ اسلامی ممالک کے ساتھ امریکا اور یورپ میں بھی یکساں مقبول ہے۔ پاکستان سمیت دنیا میں ۹۰ سے زائد کھجوروں کی اقسام ہیں، جن میں عجوہ، عابل، امیرچ، برنی، عنبر ، شبلی، عابد، رحیم، بارکولی، اعلوہ، امرفی، وحشی، فاطمی، حلاوی، حلیمہ، حاپانی، نحل، ابلح، بسر، طلع، رطب، ثمر، حجار، صفا، صحافی، خفریہ، حبل، الدعون، طعون، زہری، خوردوی، شاعران، امیلی ، ڈوکا، بیریر، ڈیری، ایمپریس، خستوی، مناکبر، مشرق، ساجائی، سیری، سیکری، سیلاج، نماج، تھوری، ام النغب، زاہد، ڈنگ وغیرہ زیادہ مقبول عام ہیں اور پسند کی جاتی ہیں۔

کھجور کا استعمال طبِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اہم ہے۔ عجوہ کھجور میں ہر بیماری کی شفاء ہے۔ اس کو حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بویا تھا۔ یہ خصوصیت صرف مدینہ کی عجوہ کھجور کو حاصل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھجور کا درخت اس مٹی سے تخلیق کیا گیا جس سے حضرت آدم علیہ السلام پیدا ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’جس گھر میں کھجور نہ ہو وہ گھر والے بھوکے ہیں۔‘‘

رمضان المبارک میں مسلمان مذہبی ذوق و شوق سے افطار کھجور کے ساتھ کرتے ہیں، جس سے انہیں ثواب اور غذا و توانائی حاصل ہوتی ہے۔ کھجور کے درخت کو دیگر مذاہب میں بھی اہمیت حاصل ہے۔ ہندو اسے پوجا کے طور پر استعمال کرتے تھے، عیسائیوں میں Palim Sunday تہوار بھی منایا جاتا ہے۔ قرآن کریم کے ساتھ اس کا ذکر کثرت سے توریت اور انجیل میں بھی آیا ہے۔
کھجور کے پتوں سے جائے نماز، چٹائیاں ، ٹوکریاں، دستی پنکھے، روٹی و دیگر سامان رکھنے کے لیے چھابے (برتن) اور گھریلو خوب صورتی کے لیے نمائشی اشیاء تیار کی جاتی ہیں، جب کہ کھجور کا گوند آنتوں ، گردہ اور پیشاب کی نالیوں کی سوزش کے لیے فائدہ مند ہے۔ کھجور منہ کی بد بو دور کرتی ہے۔
کھجور کی غذائیت اس کے ہر ۱۰۰ گرام حصے میں اس طرح ہوتی ہے:

غذائیت:
نمی (پانی) 15.3%، پروٹین2.0%، روغن0.4%، ریشہ3.9%، نشاستہ75.8%، کلوریز317%

نمکیات اور وٹامن:
نمکیات 2.1% ، کیلشیم 120 ملی لیٹر، فاسفورس50%، فولاد7.3%، وٹامن سی3%، وٹامن بی0.5%۔
کھجور ایک بہترین غذا ہے جو کار بوہائیدریٹس ، معدنی نمکیات، وٹامنز اور غذائی ریشہ کا اچھا ذریعہ ہے۔ کیلشیم، میگنیشیم، پوٹاشیم اور غذائی ریشہ کی موجودگی کے باعث دل کے مریضوں کے لیے بہت مفید ہے۔ کھجور میں چکنائی نہ ہونے کے برابر ہے، جب کہ کولیسٹرول بھی نہیں ہے۔

حیس کا ثرید (چُوری):
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا محبوب ترین کھانا روٹی کا ثرید اور حیس کا ثرید تھا۔ حیس کا ثرید کھجور، گھی اور روٹی سے تیار کیا جاتا ہے۔ یہ ایک مقوی غذا ہے جو زود ہضم اور تمام اعضاء کو قوت دیتی ہے۔

بلغمی کھانسی کے لیے:
بلغمی کھانسی کے لیے چھوہارے 2 عدد، ادرک 1 گرام لے کر انہیں باریک کتر کر ایک پان کے پتے میں رکھ کر چبائیں۔

دودھ کے اضافے کے لیے:
نوزائیدہ بچوں کی مائیں اکثر اپنے بچوں کو دودھ نہیں پلا سکتیں کیوں کہ وہ بہت کم آتا ہے۔ ایسی مائیں دودھ کے ساتھ کھجور استعمال کریں، کیونکہ کھجور دودھ پیدا کرنے والے خلیوں کی پرورش کر کے انہیں فعال بناتی ہے۔

دمہ میں مفید:
کھجور 50 گرام بغیر گٹھلی، نمک لاہور 3 گرام، سہاگہ بریاں ڈیڑھ گرام، سونٹھ 5 گرام، فلفل دراز 5 گرام، شہد 50 ملی لیٹر۔ دوا کو مرکب کریں۔ صبح و شام ایک چمچ نیم گرم پانی سے استعمال کریں۔

ضعفِ قلب:
یہ دل کی کمزوریوں اور بیماریوں کے لیے اکسیر مانی جاتی ہے۔ رات کے وقت 5 عدد کھجوریں پانی میں بھگو کر رکھیں اور صبح نہار منہ اس پانی میں کھجوروں کو مسل کر استعمال کریں تو یہ دل کی تقویت کے لیے مؤثر ٹانک ہے۔

کمئ خون کے لیے:
جسم میں خون کی کمی کو دور کرتی ہے۔ 5 عدد کھجور یا چھوہارے لے کر آدھا کلو دودھ میں ڈال کر خوب پکائیں، جب یہ نرم ہو جائیں تو انہیں دودھ سے نکال لیں اور اس میں شہد ایک چمچہ ملا کر پئیں۔

قبض:
یہ قبض کشا ہوتی ہے۔ ملین کے لیے 7 کھجوریں رات کو پانی میں بھگو دیں اور صبح ان کو شیک کر کے شربت بنالیں۔ یہ آنتوں کو متحرک کر کے اجابت کو آسان بناتا ہے۔

کمزور جسم کے لیے (فربہ بدنی):
بچے یا بڑے کمزور اور دبلے پتلے افراد کے لیے اکسیر ہے۔ اس کے استعمال سے بدن فربہ ہو جاتا ہے۔ کھجور، مغز اخروٹ، مغز بادام، تل سفید، ناریل برابر وزن اور سونٹھ حسب ضرورت لےکر گول لڈو بنائیں۔ صبح نہار منہ اور شام کو دودھ کے ساتھ لیں۔ مسلسل تینماہ استعمال کریں۔

کھجور پیچش سمیت پیٹ کی تمام بیماریوں کے علاوہ امراض لقوہ، فالج میں بے حدمفید ہے۔ اس کی گٹھلی کے سفوف کا استعمال اسہال اور بواسیر میں عام ہی، جبکہ اس کے درخت کا اندرونی گودا سوزاک کے مرض کا خاتمہ کرتا ہے۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*