بنیادی صفحہ / خبریں / بازار / 100 کرشی وگیان کیندروں پر مربوط فارمنگ کا آغاز کیا جائے گا: رادھا موہن

100 کرشی وگیان کیندروں پر مربوط فارمنگ کا آغاز کیا جائے گا: رادھا موہن

نئی دہلی۔26اکتوبر (ایجنسی): زراعت اور کاشتکاروں کی بہبود کے وزیر جناب رادھا موہن سنگھ نے کہاہے کہ ملک بھر میں قائم کئے جانے والے کرشی وگیان کیندر، کاشتکاروں کی آمدنی کو بڑھانے اور زراعت کے فروغ میں بہت ا ہم کردار ادا کریں گے۔ وزیر زراعت نے کے وی کے ایس اور ریاستی سطح کے زرعی افسروں سے اپیل کی ہے کہ انہیں کاشتکاروں کے ساتھ قریب تر ہوکر کام کرنا چاہئے۔ کرشی وگیان کیندروں سے توقع کی گئی ہے کہ وہ کاشتکاروں کو ان کی اپنی ذاتی آمدنی بڑھانے میں ہر طرف سے مدد دیں گے۔ جناب رادھاموہن سنگھ نے کہا ہے کہ کاشتکاری اور کاشتکاروں کی بہبود کی وزارت 100 کرشی وگیان کیندروں پر بہت جلد مربوط فارمنگ یعنی کھیتی باڑی شروع کریگی۔ ان کرشی وگیان کیندروں پر جو ہر ضلع میں قائم ہوں گے، کاشتکاروں کو مقیم ہوکر فارمنگ ملاحظہ کرنے کا موقع ملے گا اور اپنی نظروں سے تمام طریقے دیکھنے کے بعد وہ ان طریقوں کو اپنی آمدنی بڑھانے کیلئے استعمال میں لاسکیں گے۔

وزیر موصوف نے کل 12 کرشی وگیان کیندروں کے ریاستی سطح کے زرعی افسروں سے خطاب کیا ۔اس خطاب میں مویشی پروری ، مچھلی پالن ، باغ بانی سے متعلق افسران ، نیز استفادہ کنندگان کاشتکاروں کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے شامل کیا گیا تھا۔ یہ پہلی مرتبہ ممکن ہوا جب زراعت اور کاشتکاروں کی بہبود کے وزیر نے کے وی کے افسروں کے ساتھ براہ راست گفت وشنید کی، جس میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے استفادہ کنندگان کاشتکار بھی شامل تھے۔

وزیر موصوف نے آندھر پردیش، دادرا اور نگر حویلی، دمن اور دیو، گوا ، کرناٹک، کیرلا، لکشدویپ ، مہاراشٹر ، اڈیشہ، پڈوچیری، تملناڈو اور تلنگانہ کے کرشی وگیان کیندر کے ماہرین سے خطاب کیا اور ساتھ ہی ساتھ ریاستوں کے ضلعی زرعی ترقیات افسروں اور ترقی پسند کاشتکاروں سے بھی بات چیت کی۔ زراعت اور کاشتکاروں کی بہبود کے وزیر نے اپنے خطاب میں ابتداءً کاشتکاروں کے تئیں اپنا نظریہ واضح کیا اور اس کے بعد نصف مدت میں جو تقریباً آدھے گھنٹے پر مبنی تھی، ان کے سوالوں کے جواب دیے۔

جناب رادھا موہن سنگھ نے کہا کہ کرشی وگیان کیندروں کے افسران کو یہ سمجھنا چاہئے کہ کاشتکاروں کو کوالٹی کے حامل بیج ، اچھی قسم کی پودھ اور کیمیاوی کھادوں کی ضرورت ہوتی ہے اور انہی کی مدد سے وہ اپنی فصلوں کی پیداوار بھی بڑھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے افسروں کو بھرپور طریقے سے کاشتکاروں کی مدد کرنی چاہئے ۔ زراعت کے وزیر نے یہ بھی کہا کہ مویشیوں میں لاحق ہونے والے امراض اور اس کی روک تھام کیلئے مویشیوں کی ٹیکہ کاری ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ افسروں کو مویشیوں کو لاحق ہونے والی بیماریوں کے تئیں خبردار رہنا چاہئے اور مویشیوں کی جانچ پڑتال کا خیال رکھنا چاہئے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ ایک مرتبہ جب مویشیوں کے امراض پر روک لگ جائے گی ، تو فطری طور پر کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ وزیر موصوف نے کاشتکاروں کو حکومت کی زرعی پروجیکٹوں اور زرعی حکمت عملیوں کی جانکاری دی۔ جناب سنگھ نے کہا کہ افسروں کو اپنے خلوص دل سے ان پروجیکٹوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کرنی چاہئے اور اپنے آپ کو اس کام کیلئے وقف کردینا چا ہئے۔

اس موقع پر کاشتکاری اور کاشتکاروں کی بہبود کے وزیر نے کاشتکاروں سے اپیل کی کہ وہ مچھلی پالن کا مشغلہ اپنائیں اور آمدنی بڑھائیں۔ انہوں نے ریاستی اور ضلعی سطح کے فشریز افسروں سے کہا کہ انہیں 21 نومبر کو عالمی یوم مچھلی پالن کے مطابقت سے اس کے اہتمام کیلئے ضروری اقدامات کرنے چاہئیں اور کاشتکاروں کو زراعت کے شعبے میں درکار تمام ضروریات کا لحاظ کرتے ہوئے ان کی مدد کرنی چاہئے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ ہر سال 5 دسمبر کو عالمی مٹی کی صحت کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے ، لہٰذا ریاستوں سے امید کی جاتی ہے کہ وہ اس دن کے لئے معقول تیاری کریں گی۔ وزیر موصوف نے کہا کہ ہر ایک کاشتکار کو سوائل ہیلتھ کارڈ یعنی مٹی کی صحت بتانے والا کارڈ جاری کیا جانا چاہئے اور اس سلسلے میں کاشتکاروں کو قریبی زرعی افسروں سے رابطہ قائم کرنا چاہئے۔

انہوں نے کاشتکاروں سے کہا کہ کاشتکاروں کو دھان کی فصل کاٹنے کے بعد اس سے حاصل ہونے والے پوال کو یوں نہیں ڈھیر کردینا چاہئے بلکہ اس کا استعمال بایوفرٹیلائزر تیار کرنے میں کیا جانا چاہئے۔ بعد ازاں کاشتکاروں نے وزیر موصوف سے اپنے سوالات پوچھے اور اپنے مسائل حل کرنے کی درخواست کی۔

جناب رادھا موہن سنگھ نے کاشتکاروں کو جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ ان کی فلاح وبہبود کیلئے 645 کرشی وگیان کیندر ملک بھر میں از سر نو تشکیل دیے گئے ہیں ، حکومت ملک کے تمام نئے اور بڑے اضلاع میں 106 نئے کرشی وگیان کیندر کھولنے کیلئے کارروائی شروع کرنے جارہی ہے۔ انہوں نے زور دیکر کہا کہ اب ہر ضلع میں کرشی وگیان کیندر ہوگا جو کاشتکاروں کی فلاح وبہبود کیلئے وقف ہوگا اور ان کے مسائل حل کریگا۔

ویڈیو کانفرنسنگ کا پہلا مرحلہ تین الگ ا لگ مرحلوں پر مشتمل تھا اور اسے 19 اکتوبر 2016 کو مکمل کرلیا گیا تھا۔ زراعت اور کاشتکاروں کی بہبود کے وزیر نے کرشی وگیان کیندروں کے افسروں اور شمالی ہند کی بارہ ریاستوں کے کاشتکاروں سے بات چیت کی تھی۔ ویڈیو کانفرنسنگ تیسرا اور حتمی مرحلہ 28 اکتوبر کو منعقد ہوگا جس میں پہاڑی ریاستوں کے کرشی وگیان کیندروں کے افسروں اور کاشتکاروں سے رابطہ قائم کیا جائیگا اور یہ لوگ وزیر موصوف سے گفت وشنید کرسکیں گے۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*