بنیادی صفحہ / حلال صنعت / لوگو!کیا مسلمان خنزیر کھاتے ہیں؟

لوگو!کیا مسلمان خنزیر کھاتے ہیں؟

سلیقےسے سجی ہوئی صاف ستھری جگہ پر کھانا کھانے سے لذت کام و دہن میں بھی اضافہ ہوتا ہے

سلیقےسے سجی ہوئی صاف ستھری جگہ پر کھانا کھانے سے لذت کام و دہن میں بھی اضافہ ہوتا ہے

ایس اے ساگر

اگر کوئی آپ سے یہ سوال کرے کہ کیا مسلمان خنزیر کھاتے ہیں؟ تو آپ کا جواب ہوگا کہ قطعی نہیں جبکہ میڈیا میں جاری تفصیلات پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ محض ہندوستان میں میں ہی نہیں بلکہ دنیا میں بسنے والے کروڑوں مسلمان مختلف شکلوں میںخنزیر کو اپنی روزمرہ خوراک کا حصہ بنا چکے ہیں ۔اے مسلمانوں خدارا کچھ کھانے سے پہلے تحقیق کرلیجئےکہ برظانیہ،امریکہ، فلپائن، زمبابوے، افریقہ، ہالنیڈ اور برازیل وغیرہ ممالک کے مسلمان ایسے ادارے قائم کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں جو غذائی اشیاءکے مشمولات پر گہری نگاہ ہی نہیںرکھتے ہیںبلکہ ممکنہ تحقیق کے بعد مسلمانوں کو اچھے برے کی آگاہی کرتے ہیں ۔دراصل یوروپ اور امریکہ کی تمام ملٹی نیشنل کمپنیاں جو دنیا کے تمام بڑے بڑے ملکوں میں اپنا کار وبار چلا رہی ہیں اور اپنی مصنوعات کے ذریعہ ہر جگہ مارکیٹ پر چھائی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ یہ تمام کمپنیاں یہودیوں کی ملکیت ہیں جو ایک منصوبہ بند سازش کے تحت دنیابھر کے مسلمانوں کو کھلم کھلا سور یعنی خنزیر کی چربی کھلا رہی ہیں-۔ بسکٹ اور کیک سمیت بیشتر بیکری اشیاءٹوتھ پیسٹ، سیونگ کریم، چیونکم، چاکلیٹ ‘ٹافی اور کارن فلیک، نیز ڈبہ بند اشیاءغذائی میں ڈبہ بند پھل اور پھلوں کے رس کے علاوہ ملٹی وٹامن کی گولیوں سمیت بیشتر ایلوپتھک دواو ¿ں کے ٹانکوں میں دیگر اجزاءکے علاوہ جو چیز لازماً شامل ہو تی ہے وہ خنزیر کی چربی ہے۔ فرانس کے سرکاری محکمہ غذاءکا یہ کام ہے کہ کھانے میں استعمال ہونے والی تمام اشیاءاور کا رجسٹریشن کرے۔ غذا کی یہ کوالٹی کنٹرول لیارٹری فرانس کے پیگل PEGAL مقام پر واقع ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف فرانس میں بیالیس ہزار کی تعداد میں خنزیروں کے فارم ہیں جہاں خنزیر کی پرورش اورپرداخت ہوتی ہے۔ چونکہ سور کے جسم میں چربی بہت زیادہ ہوتی ہے اس لئے ساٹھ سال سے پہلے تک فرانسیسی کمپنیاں اس چربی کو جلا کر ضائع کر دیتی تھیں‘ پھر جب یہ کمپنیاں رفتہ رفتہ یہودیوں کے زیر انتظام یا ان کی ملکیت میں آئیں تو دولت کے لالچی ان یہودیوں نے دوسری جنگ عظیم کے بعد خنزیر کی چربی کوصابن بنانے میں استعمال شروع کردیا۔ بعدمیں شیونگ کریم میں اس کی آمیزش ہوئی پھر کچھ عرصے کے بعد خواتین کے افزائش حسن کے سامان جیسے کولڈ کریم ،نیل پالش وغیرہ میں خنزیر کی چربی پگھلا کر ملائی جانے لگی اور ٹوتھ پیسٹ میں بھی اس حرام چیزکا استعمال شروع ہو گیا۔چونکہ اب بین الاقوامی تجارتی قانون کے تحت تمام اشیاءفروخت کے ڈبہ یا پیکٹ پر یہ لکھنا ضروری ہو تا ہے کہ اس کے اندر کون سے اجزاءشامل ہیںاور اس کی تغذیاتی قوتNUTRICTIONAL VALUE کیا ہے۔ چنانچہ شروع میں ڈبہ یا ریپر کے اوپرPIG FAT لکھا جا تا تھا مگر کچھ لوگوں نے ان کمپنیوں کے ذمہ داروں کی توجہ اس جانب بند دل کروائی کہ تمام دنیا کے مسلمان خنزیر کو نجس العین اور سخت حرام تصور کرتے ہیں اور سو سال پہلے ہندوستان میں 1857 کی جنگ آزادی جسے سامراج نے ہلکا اور بے وقعت کرنے کیلئے غدر کا نام دیا تھا۔اسی سور اور گائے کے چربی کے استعمال کے خلاف شروع ہوئی تھی تو ان مکاروں نے اپنے تجارتی مفاد کے پیش نظر پیکٹ پرPIG FAT کی بجائےANIMAL FATلکھنا شروع کر دیا ۔اسی دوران عرب اور دیگر اسلامی ممالک میں تیل کی دولت کی بہتات ہوئی اور مغربی ممالک نے بڑے پیمانے پر عرب اور مسلم ممالک میں اپنے کارو بار کو فروغ دینے کا سلسلہ شروع کیا تو ان مسلم حکومتوں کے ذمہ داروں نے ان سے پوچھا کہ آپ لوگ کس حیوان یعنی جانورکی چربی استعمال کرتے ہیں؟ انہوں نے اپنی فطری مکاّری سے کام لیتے ہوئے جواب دیا کہ ہم ان چیزوں میں گائے اور بھیڑ کی چربی استعمال کرتے ہیںلیکن جب مسلم ممالک نے انہیں آگاہ کیا کہ اسلام میں ہر اس حلال جانور کو بھی حرام قرار دیا گیا ہے جسے حلال طریقے سے اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا ہو ‘لہٰذا ہم ان اشیاءکا استعمال نہیں کر سکتے تو ان مکاّروں نے ملٹی نیشنل کمپنیوں نے اشیاءخوردو نوش کے پیکٹ پر خنزیر کی چربی اور حیوانی چربی کے الفاظ لکھنے کی بجائے ایک مخصوص خفیہ اشارہ’ ای کوڈ‘E code کے نام سے لکھنا شروع کردیا۔محققین کا کہنا ہے کہ ان کے فرانس کی پیگل لیبارٹری میں ملازم کی اطلاع کے مطابقe 100 سے لے کرe 904تک جتنے کوڈ غذائی اشیاءکے پیکٹ،ریپر یا ڈبے پر درج ہو تے ہیں ان سے مراد سور کی چربی ہی ہو تی ہے۔ مثال کے طور پر بریٹانیہ کمپنی کے مختلف بسکٹ جیسے نیوٹری چوائس ،کریم کریکر وغیرہ کے ریپ پر اس میں شامل اجزاءجنھیں INGRADIENTS کی فہرست میں EMULSIFIER.E481 بھی درج ہے۔ ساتھ ہی گیہوں کے آٹے،نباتاتی تیل، شکر وغیرہ کی شمولیت کا حوالہ بھی ہے۔حتی کہ بازار سے مہر بند اشیاءخوردنی جیسے بسکٹ وغیرہ خریدتے وقتE نمبروںکے اندراج کو ضرور چیک کر لیا کریں کیونکہE-100 سے لیکر E-904تک کے تمام کوڈوں سے مراد خالص سور کی چربی ہی ہو تی ہے۔ آج کل چائنیز یعنی چین کے کھانے شوق سے کھا ئے جا رہے ہیں ان میں TAST MAKER کے طور پر جو خاص اجزاءاجینو موتوشامل کیا جاتا ہے، وہ بھی سور کی چربی سے ہی بنا یا جا تا ہے۔اس کے بعد 18ستمبر2005کے ممبئی ٹائمزکے شمارے میں لندن کی ڈینش میڈس ایجنسی کے محکمہ جاتی سربراہ فن کلیمنس کا یہ بیان شائع ہوا جس میں انہوں نے مسلمانوں کو یہ انتباہ دیا تھا کہ آج کل کے ہر کیپسول اور گولی کی ساخت میں جلے ٹین GELATIN شامل ہوتی ہے۔ یورپ،امریکہ،جاپان،کوریا وغیرہ غیر مسلم ممالک میں حلال کا کوئی تصور نہیں ہے۔ وہاں جلے ٹین بنا نے کے لئے گدھے،کتے اور سور و غیرہ ناپاک اور حرام جانوروں کی خال استعمال ہوتی ہے۔ چونکہ سور یا خنزیر کے علاوہ دیگر جانوروں میں ایک مخصوص بیماری میڈ کا خطرہ گذشتہ کئی سال سے بڑھ گیا ہے اور اسی مرض کے جراثیم کے موجود گی کے اندیشہ کے پیش نظر اب یورپ کی تمام دوا ساز کمپنیاں صرف سور کی کھال سے ہی جلے ٹین تیار کر رہی ہیں ۔یہ تیارہ شدہ جلے ٹین شکر کی طرح سفید دانے دارسفوفGRANULES کی شکل میں تمام دنیا کے دوا ساز اداروں کو فروخت کی جاتی ہے۔جلے ٹین نہ صرف ادویات بلکہ بازار میں دستیاب 22290 فیصد غذائی اشیاءکا جزءلازم ہے اور ہم یہ جلے ٹین کسی نہ کسی شکل میں روزانہ کھا رہے ہیں۔جلے ٹین اگر چہ حلال جانوروں کو با قاعدہ اسلامی طریقے سے ذبح کرنے کے بعد ان کی کھال سے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے مگر بد قسمتی سے مسلم ملکوں میں ملیشیا کے علاوہ کسی دیگر اسلامی ملک یہاں تک کہ سعودی عرب نے بھی اس طرف توجہ نہیں دی ہے‘محض ملیشیا اپنی ادویات کی صنعت اور غذائی ضروریات کے لئے حلال جلے ٹین تیار کرتا ہے۔ اس کا پڑوسی مسلم ملک انڈونشیا اور ایران اپنی ضروریات کے لئے ملیشیاسے جلے ٹین درآمد کرتے ہیں۔ بہرحال ملیشیا کے علاوہ ہر جگہ یوروپ سے آمد شدہ خنزیر کی ناپاک اور حرام جلے ٹین دوا استعمال ہوتی ہے۔ہندوستان میں کروڑوں مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والی بے شمار تنظیمیں اور ہزاروں نام و نہادقائدین‘دانشور‘مفکرین اورلیڈر موجود ہیں لیکن اس مسئلہ پر کسی نے آج تک توجہ نہیں دی جبکہ وہ ممالک جہاں مسلمان محض اقلیت میں رہتے ہیں‘ جیسے برظانیہ،امریکہ، فلپائن، زمبابوے، افریقہ، ہالنیڈ اور برازیل وغیرہ وہاں کے مسلمان ایسے ادارے قائم کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں جو غذائی اشیاءکے مشمولات پر گہری نگاہ ہی نہیںرکھتے ہیںبلکہ ممکنہ تحقیق کے بعد مسلمانوں کو آگاہ کرتے ہیں کہ فلاں چیز کو استعمال کرنا چاہئے یا نہیں اور فلاں چیز حلال اور فلاں چیز حرام ہے۔ اس اہتمام کی وجہ سے ان مقامات کے مسلمان کافی حد تک بیدار ہو چکے ہیں اور وہ غذائی اشیاءکے استعمال کے معاملہ میں احتیاط سے کام لیتے ہیں۔چنانچہ حال ہی میں انگلینڈ میں آباد مسلمانوں کی ایک ایسی ہی تنظیم نے انٹرنیٹ پر مسلمانوں کی آگاہی کے لئے اپنی ایک سائٹ قائم کی ہے جس کا پتہ www.guidedways.comہے۔ اس تنظیم کی فراہم کردہ اطلاعات کے مستند اورقابل اعتبار ہو نے کا سرٹیفکٹ دار السلام اور پاکستان کی حکومتوں نے عطا کیا ہے۔مغربی ممالک کی صیہونیت زدہ کمپنیوں کی اشیاءخور دو نوش میں خنزیر کی چربی کی ملاوٹ کی خبر اورای کوڈe codeکے ذریعہ اس کو خفیہ رکھنے کی ان کی پالیسی کے انکشاف سے اسلام پسند حلقوں میں تشویش وبے چینی کی لہر دوڑ جانا ایک فطری بات تھی۔ چنانچہ برطانیہ کے مسلمانوں کی قائم کردہ اس تنظیمguided wayگائیڈڈ وے نے اپنے وسائل کو بروئے کار لا کر اس سلسلے میں چوبیش رفت اور چھان بین کی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ متنازعہ ای کوڈمیں سے پانچ ای کوڈبلاشبہ قطعی طور پر حرام اشیاءسے متعلق ہیں اور نوای کوڈمشکوک ہیں یعنی ان کے حرام یا حلال ہو نے میں شبہ ہے۔ لہٰذا حدیث نبوی کہ جو چیز شک و شبہ والی ہے اس کو اس وقت تک ترک کر دینا لازم ہے جب تک کہ تحقیق و تفتیش کے ذریعہ اس کے حرام یا حلال ہونے کا قطعی فیصلہ نہ ہو جائے‘ کے مطابق مسلمانوں کو ان چیزوں سے بھی حتی الامکان پرہیز کر نا چاہئے۔فی الواقع حرام اشیاءکے پانچ ای کوڈیہ ہیں: E-120،E-441، E-542،E-920،اور E-921۔مشکوک اور مشتبہ اشیاکے ای کوڈوںکی فہرست میں E-111،E-121،E-125، E-126،E-130،E-152،E-316،E-318،E-445 شامل ہیں۔ان کی تشریح اور تفصیل اس طرح ہے:
۱:قطعی حرام اور نجس اشیاءکے ای کوڈوںکی تفصیلات اس طرح ہیں:
E-120: اس کا پورا نام یا فارمولہCOCHINAL,CARMINE ہے۔ یہ کیمیکل مختلف اشیاءخور و نوش کو رنگ دینے کے کام آتا ہے۔ اس کو کیڑوں مکوڑوں کو کچل کرCRUSHED INSECTS ان کے عرق سے حاصل کیا جا تا ہے۔ بیشتر انگریزی یعنی ایلوپتھک کے سیرپ جن کا رنگ سرخ ہو تا ہے وہ اسی کیڑے مکوڑوں کے کچلے ہوئے عرق کو شامل کر کے سرخ رنگ کے بنائے جاتے ہیں۔ ان کے فارمولہ کے ساتھ دیگر دوائی اجزاءکی تفصیلات کے بعد آخر میں اکثر CARMINEREDکے الفاظ لکھے ملتے ہیں، اور کہیں کہیں COCHINALکے الفاظ سے بھی رنگ کی نوعیت کی اطلاع اور اظہار کیا جاتا ہے۔ کے علاوہ مختلف پھلوں کے رس رنگین بنا کر بیچنے کے لئے، اسی طرح ICE CANDIESاور SHAMPO وغیرہ کو بنا نے کے لئے بھی یہی رنگ استعمال کیا جاتا ہے۔ جلے ٹین کے کیپسول بنا تے وقت انہیں رنگین کر نے کے لئے بھی یہی E-120یا CARMINE رنگ استعمال ہوتا ہے۔ کنفیکشنری میں شکر کی خوردنی گولیوں کو رنگین اور خوشنما بنا نے کے لئے جو FOOD COLOURS مستعمل ہیں ان میں بھی اس کا استعمال ہو تا ہے۔ چاول سے بنے ہوئے خوش رنگ مرمرے جو گھی یا تیل میں تل کر پھول جاتے ہیں اور عموماً رمضان وغیرہ میں افطار کے ساتھ کھائے جاتے ہیں وہ بھی اس رنگ کی آمیزش سے تیار کئے جا تے ہیں۔
E-441: یہ کوڈ جلے ٹینGELATINE کیلئے مستعمل ہے جو مختلف جانوروں خصوصاً خنزیر کی کھال سے بنا یا جاتا ہے اور جس کی تفصیلات گذشتہ سطور میں بیان کی جا چکی ہیں۔
E-542: یہ BONE PHOSPHATEکا کوڈ ہے۔ یہ جانوروں کی ہڈیوں سے بنا یا جا تا ہے۔ اس کا زیادہ تر استعمال بیکری میں ANTICAKING AGENTکی حیثیت سے آٹے اور دیگر اشیاءکو گوند کر لہدی یا آمیزہ بنا نےEMULSIFICATIONکیلئے کیا جاتا ہے۔ اس کا اہم استعمال حسن افزاءاشیائCOSMATICS خصوصاً ٹوتھ پیسٹ میں ہو تا ہے۔علاوہ ازیں تغذیہ نجش دواو ¿ں اور غذاو ¿ںFOOD SUPPLIMENTSمیں فاسقدس کی کمی جنم الشانی میں پورا کر نے کے لئے بھی اس کو ملائے ہیں۔
E-920: اس کے فارمولے کا نامCYSTEINE HYDROہے۔ یہ پروٹین یعنی لحمی اجزاءسے حاصل کیا جا تا ہے جس میں مختلف جانوروں کے گوشت اور ان کے بال شامل ہیں۔زیادہ تر ان کا حصول خنزیر کے جسم کے حصوں سے کیا جا تا ہے۔یہ ڈبل روٹی یا بریڈ کا خمیر اٹھا نے کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ خمیر کے بعد روٹی کو پھلانےTO ENHANCEاور پھولی ہوئی کو علیٰ حالہ قائم رکھنے میں یہ کیمیکل بے حد معاون ثابت ہو تا ہے۔
E-921: اس کا کیمیاوی نام E 920سے ملتا جلتا ہے یعنی اس کوL CYSTINEکے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ خواص بھی اس کےE 920ہی کی طرح ہیں۔ البتہ یہ صحت کے لحاظ سے نقصان دہ ہے کیونکہ یہ جگر کے خلیات کو تباہ کر دیتا ہے۔ صفراءکی نالی یعنیBILE DUCTکو نقصان پہنچا تا ہے اور گردوں کو نا کارہDAMAGE کر کے اس کی طبعی افعال میں خلل پیدا کر نے کا باعث ہو تا ہے۔
٭ مشکوک ای کوڈجن کے حرام یا حلال ہو نے میں شبہ ہے:
E-111: اس کا پورا نام ALPHA NAPHTHOLہے۔
E-121: یہ ایک کیمیکل رنگ ہے جو عموماً کائیLICHENسے حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ سرخی مائل بھورا رنگ ہو تا ہے۔ یہ رنگ جسم انسانی کے اندرونی اعضاءکو نقصان پہچاتا ہے اور اس کے استعمال سے کینسر پیدا ہونے کاخدشہ ہو تا ہے۔
E-125: کیمیاوی رنگ ہے جو RED AZODYE یا SCARLET رنگ کہلا تا ہے E-126: یہ تیز سرخ رنگRED DYE ہوتا ہے جو کیمیاوی مادوں سے بنایا جاتا ہے۔
E-130: یہ نیلے رنگBLUE DYE کا کیمیاوی مادے کا کوڈ ہے۔
E-152: یہ سرخی مائل سیاہBROWN BLACK رنگ کا کوڈ ہے۔
E-316: اس کا کیمیاوی نام ERYTHORBIC ACIDہے۔
E-318: اس کا نامSODIUM ERYTHORBIC ACID ہے۔یہ ایک پیٹر کی ڈالWOOD ROSIN ہے جس کا کیمیاوی نام GLYCEROL ESTERS ہے۔ یہSTABILIZERکے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اس کے استعمال سے الرجک ری ایکشنALLERGIC REACTION کا خطرہ لا حق ہو تا ہے۔بہرکیف خنزیر کی چربی اور اس کے اجزاءجسم کی انسانی میں ملاوٹ کی یہ تشویشناک خبر تمام مسلمانوں تک پہونچا دینا اگرچہ ہم سب کی ذمہ داری اور اہم دینی فریضہ ہے تاہم موجودہ دور میں مسلمانوں کے دین کے معاملات میں بے حسی، دنیا کمانے کی ہوس اور ذاتی مفاد کا غلبہ اس قدر شدید ہے کہ وہ یہ سب کچھ پڑھنے اور سننے کے بعد بھی ان خنزیر آلود حرام اشیاء، بسکٹ،ٹافی ،چیونگ گم،حام،حبیلی اور آئس کریم وغیرہ کی خرید و فروخت سے دست بردار ہو نے پر آمادہ ہو پائیں گے‘بظاہرایسا ممکن نظر نہیں آتا۔ کیونکہ جو مسلمان خنزیر کی چربی سے بنے بسکٹ،ٹافی وغیرہ کی ایجنسی لے کر کروت دراز سے ان حرام اشیاءکا کاروبار کر رہے ہیں‘وہ محض دین کی خاطر اپنے اتنے بڑے اور پھیلے ہوئے نفع نجش کاروبار کو بند کردیں، موجودہ دور کی مفاد پرست ذہنیت کے تناظر میں اس بات کا امکانات معدوم ہیں۔حالانکہ وہی امریکہ جس کے افغانستان اور عراق وغیرہ پر مبینہ ظلم و ستم کے واقعات پر دن رات پانی پی کر کوسا جاتا اور اس کو برا بھلاکہا جاتا ہے‘وہاں کے لوگوں کی اخلاقی اور احساس ذمہ داری کا یہ عالم ہے کہ میڈیا کے مطابق 1999میں امریکہ کے کسی ڈیری فارم میں ایک گائے کو ’منہ کھری‘ کی بیماری ہو گئی تھی۔اطلاع ملتے ہی امریکہ میں دودھ بیچنے والی تمام کمپنیوں نے اپنا خرید کردہ لاکھوں لیٹر تمام دودھ ضائع کر دیا اور عوام کی صحت کے تحفظ کا خیال کرتے ہوئے اپنے کروڑوں روپے پر پانی پھیر دیاجبکہ دنیا کے تمام مسلمان اپنے دین کے تحفظ کے لئے خنزیر کی چربی سے بنی اشیاءکی خرید و فروخت سے پرہیز نہیں کر سکتے!
کیوں کریں حلال اور حرام کی تحقیق؟
عالمگیریت کی مقبولیت اورپھیلاو کے دوران ان دنوں خوردونوش میںحلال و حرام کی تحقیق خوب فروغ پارہی ہے۔متعدد مقامات پر’ فاسٹ فوڈ سینٹرقائم ہورہے ہیں جن میںمیکڈونلڈ، کے ایف سی، پزا ہاٹ‘ سب وے برگرکنگ جیسے خوشمنا نام شامل ہیںجو لوگوں کو غیر طیب کھانے پر آمادہ کرتے ہےں جن میںاستعمال ہونے والے گوشت کے تعلق سے عقائد تو درکنار طبی تقاضوں کو بھی خاطر میں نہیں لایا جارہا ہے جبکہ صحت منداورغیر صحتمند‘حلال و حرام کھانوں اورغذاوںکا امتیاز دن بدن مٹتاجارہا ہے۔ برصغیر ہند‘پاک میں آباد مسلم طبقہ بھلے ہی اپنی سادہ لوحی کے سبب ہرقسم کی بے احتیاطیوں میں مبتلا ہے جبکہ نو مسلم اہل مغرب بال کی کھال نکالنے میں اس قدر بیدار مغز ثابت ہورہے ہیں کہ برطاینہ جیسے ملک کے دارالخلافہ لندن میں اپنی نوعیت کے اولین حلال کھانوں کا میلہ منعقد ہوا ہے جس میں طرح طرح کے ذائقوں اور رنگوں کے پکوانوںاور ان سے اٹھنے والی مہک نے فصامیں ایک نئے قسم کے مذاکرہ کو جنم دیا ہے۔
کیا ہورہا ہے ہندوستان میں؟
نوبت یہ آگئی ہے کہ ہندوستان میں معاشرتی رابطہ کی حامل معروف وہاٹس ایپ WhatsApp پر ایک طویل پیغام گردش کرتا ہوا پایا جارہا ہے جس میں متعدد معروف برانڈوں پر مشتمل مصنوعات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ہندی اور انگریزی کی آمیزش سے تیارپیغام میں کہا گیا ہے کہ ’نیسل nestle کمپنی خود مانتی ہے کہ وہ اپنی چاکلیٹ کٹ کیٹkitkat میں بچھڑے کے گوشت کا رس شامل کرتی ہے اور سب دھرم بھرشٹ کا مذہب خراب کر رہی ہے ۔ مدراس کی کمپنی ’فیر اینڈ لولی‘ پر جب مقدمہ چلاتو اس نے خود تسلیم کیا کہ وہ اپنی پروڈکٹ میں سورکی چربی ملاتے ہیں۔کول گیٹ ٹوتھ پیسٹ بنانے والی کمپنی جب امریکہ اور یوروپ میںاسے فروخت کرتی ہے تو اس پر تنبیہ تحریر کرتی ہے کہ اسے چھ سال سے کم عمر کے بچوں کی پہنچ سے دوررکھیںکیونکہ بچے اس کو چاٹ لیتے ہیں جبکہ اس میں کینسر پیدا کرنیوالا کیمیکل شامل ہے، اس لئے اسے بچوں کو مت دینا۔‘ آگے لکھتے ہیںکہ’ اگر بچے نے غلطی سے چاٹ لیا توفوری طور پر ڈاکٹر کے پاس لیجائیں۔ تیسری بات وہ یہ لکھتے ہیںکہ’ اگر آپ بالغ یابڑی عمرکے ہیںتو اس پیسٹ کو اپنے برش پرمحض مٹر کے دانے کے برابراستعمال کریں۔وکس vicks نام کی دوا منشیات کے زمرہ میں آتی ہے جو یوروپ کے متعدد ممالک میںممنوع اشیا میں شامل ہے۔لائف بوائے بظاہر نہانے کا صابن ہے جبکہ اس غیر ممالک میں جانوروں کو نہلانے کیلئے carbolic soap کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔یوروپ میں لائف بوائے سے کتے نہاتے ہیں جبکہ ہندوستان میں 9 کروڑ لوگ اس سے رگڑ رگڑکرغسل کرتے ہیں ۔ پیپسی کولا دراصل ’ٹوائلیٹ کلینر‘ ہے جس میں 21 قسم کے مضر کیمیا شامل ہوتے ہیں جنھیں زہرکہا جاسکتا ہے۔مزید یہ کہ پارلیمنٹ کی ممنوعہ فہرست میںcoke pepsi کی فروخت پر پابندی ban عائد ہے جبکہ یہ پورے ملک میں فروخت ہو رہی ہے ۔بوسٹ boost‘ کمپلان complan‘ ہورلکس horlics‘ مالٹووا maltova ‘ پروٹینکسprotinx کو جب دہلی کی All India Institute میں جانچا گیا تو پتہ چلا کہ یہ اشیا ءمونگ پھلی کی کھلی سے تیار کی جاتی ہیں۔مطلب مونگ پھلی کا تیل نکالنے کے بعدجو فضلا بچتا ہے اور جسے دیہاتوںمیں جانوروں کو کھلایا جاتا ہے‘ اسے ٹانک بناکر پیش کردیا جاتا ہے۔امیتابھ بچن کا جب 10 گھنٹے پر مشتمل آپریشن ہوا توڈاکٹر نے ان کی بڑی آنت کاٹ کر نکالی تھی اور کہا تھا کہ یہ پیپسی کوک پینے کی وجہ سے سڑی ہے جبکہ اگلے ہی روز سے امیتابھ بچن نے اس کا اشتہار کرنا بند کر دیا تھا۔‘حالانکہ یہ تمام حقائق تحقیق طلب ہیں تاہم متعدد ویب سائٹ لنک شامل کرکے اسے قابل بھروسہ اور مدلل بنانے کی کوشش کی گئی ہے جس پر الگ سے روشنی ڈالنے کی ضرورت ہے۔فی الحال طبی پہلو کے علاوہ حلال اورحرام غور طلب ہے۔
خنزیر نما خوراک:
عراق پر امریکی حملے کے دوران بغداد کی ایک قدیم عمارت بمباری سے ملبے کا ڈھیر بن گئی۔ عراق پر امریکی قبضے کے بعد شہر کی صفائی شروع ہوئی تو اس عمارت کا ملبہ ہٹاتے ہوئے گہرائی سے ایک قدیم عمارت کے آثار دریافت ہوئے۔ یہ کسی درس گاہ کے آثار تھے۔ وہاں سے ایک قدیم قلمی نسخہ مکمل حالت میں دستیاب ہوا جس کا نام ‘تحفۃ الاغانی’ تھا۔ مصنف کا نام عبداللہ بن طاہر البغدادی رضوی تھا۔ کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف عالم دین اور صوفی تھے۔ یہ کتاب ان کے کشف پر مبنی پیشینگوئیوں پر مبنی ہے۔ اس میں ایک باب خاص طور پر ہند یعنی ہندوستان کے بارے میں ہے۔ اس میں حضرت لکھتے ہیں کہ ہند کے کچھ علاقوں پر مسلمانوں کی حکومت قائم ہوگی لیکن ایک طویل عرصہ تک یہ ملک افراتفری اور بے چینی کا شکار رہے گا۔ اس کی جو وجہ اس کتاب میں بیان کی گئی وہ بہت ہولناک ہے۔ حضرت لکھتے ہیں کہ اس علاقے کے مسلمان خنزیر نما خوراک کھانے کے عادی ہوں گے اور یہی سبب ہوگا کہ وہ بتدریج دین سے دور ہوتے جائیں گے۔ یہ بہت عجیب بات تھی کیونکہ پاکستان میں لوگ بظاہر ایسی کوئی چیز نہیں کھاتے۔ 2011 میں یونیورسٹی آف مشیگن کے پروفیسر سٹورٹ جونز جو ڈپارٹمنٹ آف بائیو ٹکنولوجی کےسربراہ ہیں، انہوں نے اپنی ریسرچ میں ثابت کیا کہ برائلر چکن اور خنزیر کے گوشت میں بنیادی طور پر کوئی فرق نہیں۔ برائلر جس ٹکنالوجی سے پیدا کیا گیا اس میں خنزیر کے ماڈل کو ہی فالو کیا گیا تھا۔ اس تحقیق کے سامنے آتے ہی اس پر پابندی لگا دی گئی اور ڈاکٹر جونز کو نفسیاتی مریض قرار دے کر ذہنی امراض کے اسپتال میں ڈال دیا گیا۔ نومبر 2015 میں ڈاکٹر سٹورٹ جونز کا اسی ہسپتال میں پراسرار حالات میں انتقال ہوگیا۔ اگر یہ تحقیق منظر عام پر آجاتی تو مغرب کی ملٹی بلین ڈالر برائلر چکن انڈسٹری تباہ ہوجاتی۔ اس انڈسٹری کے بَل پر انہوں نے مسلم ممالک میں اپنے ایجنٹس کو جیسے ارب پتی کیا، وہ سلسلہ بھی ختم ہوجاتا اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ مسلمان حرام گوشت کھا کے جن روحانی امراض کا شکار ہو رہے ہیں اس سے نجات مل جاتی۔
انہی دنوں تل ابیب یونیورسٹی میں کدّو کے خواص پر ایک ریسرچ پیش کی گئی۔ ڈاکٹر موشےڈیوڈ جو پولینڈ سے ہجرت کرکے اسرائیل میں آئے تھے، وہ پچھلے بائیس برس سے کدّو کے خواص پر تحقیق کررہے تھے۔ 2014 کے موسم گرما میں یہ تحقیق مکمل کرکے یونیورسٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی میٹنگ میں پیش کی گئی۔ اس ریسرچ پیپر میں یہ انکشاف کیا گیا کہ کدّو ایک ایسی مکمل غذا ہے جس کی مثال کسی اور غذا میں نہیں ملتی۔ اگر ایک انسان روزانہ دو وقت کدّو کھائے تو اس کی غذائی ضروریات بالکل پوری ہوجاتی ہیں۔ کدّو میں ایسے اجزاء شامل ہیں جو انسان کو ہر قسم کی بیماری سے بچا لیتے ہیں۔ کینسر اور ایڈز کے مریضوں کو تجرباتی طور پر ایک مہینہ کدّو کھلائے گئے تو وہ بالکل بھلے چنگے ہوگئے۔ کدّو کے جوہر سے ہر قسم کی بیماری کے علاج کی ویکسین تیار کرنے کا تجربہ بھی کیا گیا اور نتائج حیران کن تھے۔ کسی بھی بیماری کے آخری اسٹیج کے مریض کو بھی کدّو ویکسین لگائی گئی تو وہ ایک دن کے اندر پوری طرح صحت مند ہوگیا۔
حیران کن بات یہ ہے کہ ڈاکٹر موشے ڈیوڈ کو بھی اس کے بعد منظر عام سے غائب کردیا گیا۔ تل ابیب ٹائمز میں ڈاکٹر ڈیوڈ کی بیوی مارشا ڈیوڈ کا انٹرویو بھی چھپا جس میں انہوں نے اپنے خاوند کی پراسرار گمشدگی پر سوالات اٹھائے اور اس کا تعلق ان کی ریسرچ سے جوڑتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اصل حقائق کو سامنے لایا جائے۔ یہ معاملہ بھی بعد میں وقت کی گرد میں گم ہوگیا۔ اس ریسرچ کو اگر آفیشلی طور پر سامنے لایا جاتا تو اسلام کی حقّانیت کھل کر پوری دنیا کے سامنے واضح ہوجاتی اور یہود و ہنود کا کفر روزِ روشن کی طرح واضح ہوجاتا۔
درج بالا دو واقعات سے ہر مسلمان مرد و زن پر لازم ہے کہ وہ اس تحریر کو سبحان اللہ کہہ کے شئیر کرے اور اپنے مسلمان بھائی بہنوں کو حرام کھانے سے بچائے اور کدّو کے فوائد سے رو شناس کروائے۔
حلال کھانوں کا اولین میلہ:
برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں حلال کھانوںپرمشتمل اپنی نوعیت کااولین میلہ منعقد ہوا۔میلہ میں موجود شرکا کا واسطہ طرح طرح کے ذائقوں اور رنگوں کے پکوانوں سے پڑا جن سے اٹھنے والی مہک نے انہیں چکھنے پر مجبور کر دیا۔28ستمبر2013 کو موصولہ رپورٹ کے مطابق اس میلہ میں میٹھی چیزیں کھاتے ہوئے بچوں کی خوشی اور آئس کریم، اور لوگوں کی حلال خوراک کی انفرادیت سے واقف ہونے پر سبھی خوش نظرآئے۔لندن کے ایکسل سینٹر ExCeL Centre میں دو روز تک جاری رہنے والے دنیا کے سب سے بڑے حلال خوراک کے میلہ میں لوگوں کا جوش و خروش توقعات سے کہیںزیادہ محسوس کیا گیا جبکہ چاکلیٹ کی مدد سے تیار کردہ میٹھا’چوکلیٹیئر‘ بھی دستیاب تھیں ۔دراصل اس میلہ کا انعقاد لندن میں اس لئے کیا گیا کیونکہ برطانیہ میں مقیم مسلم آبادی کا ایک تہائی حصہ لندن میں رہائش پذیر ہے اور یہاں حلال خوراک کا کاروبار دو لاکھ پاو ¿نڈ تک ہے، جبکہ مجموعی طور پر برطانیہ میں سالانہ سات لاکھ پاو ¿نڈ مالیت کی حلال خوراک فروخت کی جاتی ہے۔منتظین کے مطابق ان کا اصل ہدف متوسط طبقے کے مسلمان ہیں جن کے برطانیہ بھر میں ریستورانوں میں جانے سے تبدیلی آ رہی ہے۔اس میلے میں امریکہ، یوروپ اور آسٹریلیا سمیت دنیا بھر سے لوگوں نے نہ صرف دلچسپی ظاہر کی بلکہ اسی طرح کا اگلا میلہ امریکی شہر نیویارک میں منعقد کرنے کی آہٹ بھی محسوس ہوئی۔
کیا رکھا ہے حلال کھانوں میں؟
طیب ‘ صحتمنداورحلال غذاوں کی جستجو اور اس کی اہمیت سے کیسے انکار کیا جاسکتا ہے ۔ اس میں کوئی دورائے نہیں ہیں کہ موجودہ دورمیں بے شمار فتنے ظاہر ہو رہے ہیں۔اہل علم کے نزدیک اصحاب کہف جس دور سے گذر رہے تھے وہ بھی ایک پرفتن دجالی دور تھا۔ انہو ںنے اپنے آپ کو اس فتنے سے کیسے بچایا اس کا تذکرہ سورة الکہف میں ملتا ہے۔ اللہ نے انہیں نیند سے اٹھایا تو حسب عادت انہوں نے سب سے پہلے حلال اور تازہ طیب کھانے کی جستجو کی۔ سیاق و سباق سے ایسا پتہ لگتا ہے کہ اصحاب کہف کے ابتدائی زمانے میں حرام اور غیر طیب کھانے بھی موجود تھے۔ اسی وجہ سے انہوں نے اپنے ساتھی کو احتیاط سے حلال اور طیب کھانا تلاش کرنے کی گزارش کی۔ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ آخر انھیں حلال اور طیب کھانے کی ضرورت کیا تھی؟دراصل حلال اور طیب کھانے سے انسان کا جسم اپنی بہترین حالت میں رہتا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق جس کے پیٹ میں حرام چیز جاتی ہے اس کی دعا بارگاہِ الٰہی میں قبول نہیں ہوتی ہے۔جس کا جسم گندہ ہے اور جس کی دعا قبول نہیں ہوگی تو اس کا کیا حشر ہوگا۔شیطان نے حرام غذا کھلانے کا حربہ سب سے پہلا حربہ ابوالبشر حضرت آد م علیہ السلام کیخلاف استعمال کیا اور انہیں جنت سے نکلوادیا۔ آج یہی کام دجال کے چیلے کررہے ہیں جبکہ طبی اعتبار سے بھی ان کھانوں کے استعمال کے سبب انسان صحت مند نہیں رہتا۔ جسم میں چستی باقی نہیں رہتی۔سستی کے سبب عبادت اور ریاضت میں نہیں لگتا۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سلامتی سے دور ہوجاتاہے اور شیطان کے چنگل میں آسانی سے پھنس جاتا ہے۔
فاسٹ فوڈ کی تباہ کاریاں:
فاسٹ فوڈ کی کمپنیوں میں جانوروں کا ذبح کرنے کا طریقہ بھی اسلام سے مختلف ہے۔ چنانچہ ہر زاوےے سے حرام کے آمیزش کا اندیشہ ہے۔ کاروبار کو آگے بڑھانے اور مسلمانوں کو اپناگاہک بنانے کی غرض سے وہ تھوڑی بہت کوشش کرتے بھی ہیں تواس کا کوئی اعتبار نہیں تاوقتیکہ پورا کنٹرول معتبر ہاتھوں میں نہ آجائے ۔ سودی معیشت میں حلال و حرام کی تمیز نہیں رہ جاتی ۔چین بہت سے ملکوں کو کھانے پینے کی اشیاءبھی ایکسپورٹ کرتا ہے۔ چین سے ایکسپورٹ کئے ہوئے گوشت کے ایک ڈبے پر لکھا ہوا تھا’ للحم الخنزیر‘ ذبحت علی طریقة الاسلام جس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ سور کا گوشت ہے اور اس جانور کو اسلامی طریقہ سے ذبح کیا گیا ہے۔ یہ ہے غیر مسلموں کے یہاں حلال و حرام کا تصور۔ یہ الگ بات ہے کہ 21 فروری 2013 کو موصولہ رپورٹ کے مطابقلندن کے اسکول میں مسلمان طالب علموں کو غیر حلال کھانا کھلا دیا گیابعد میںاسکول کے پرنسپل نے طالبعلموں کے گھروں پر ایک خط ارسال کیا جس میں انہوں نے اس واقعے کے حوالے سے معافی مانگی۔اسکول میں کھانا فراہم کرنے والے عملہ نے 12 دسمبر 2012 کو غلطی سے غیر حلال کھانا اسکول میں زیر تعلیم مسلم طالب علموں کو کھلا دیا تھا جبکہ یہ بات بعد میںمنظر عام پر آئی ۔
برائلر مرغی کھانا حلال ہے یا حرام ؟
برائلر مرغی کھانا کیسا ہے ؟ بعض لوگ اسے حرام قرار دیتے ہیں کیونکہ اس کی خوراک خون اور مردار جیسی اشیاسے تیار ہوتی ہے۔ لاکھوں لوگوں کیلئے یہ مسئلہ پریشانی کا سبب بنا ہوا ہے جبکہ اہل علم کے نزدیک حلت اور حرمت ایسی چیزیں نہیں ہیں کہ جن کا تعلق انسان کے ذوق اور مزاج کیساتھ ہو‘ جسے انسانی ذوق چاہے اس کو حلال اور جسے چاہے حرام سمجھ لے بلکہ یہ آسمانی شریعت ہے جس کا خالق کائنات نے اپنے بندوں کو مکلف بنایا ہے۔ اس لئے حلال وہی چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر حلال کر دیا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان یوں ہے کہ’اور اپنی زبانوں کے جھوٹ بنا لینے سے یہ مت کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے تا کہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھو یقینا وہ کامیاب نہیں ہوں گے جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔‘نیز حلال و حرام عقل کے تابع نہیں اور نہ ہی قیاسات اور مادی وسائل سے ان کا اثبات کیا جا سکتاہے اور جو لوگ اسے مادی وسائل اور عقل کے تابع بناتے ہیں وہ گمراہی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے کے گوشت کو حلال قرار دیا ہے۔ جیسا کہ بخاری شریف میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے اور خچر کو حرام قرار دیا ہے۔ یہ دونوں جانور شکل و صورت میں کھانے پینے اور پیدائش میں ایک دوسرے کی مشابہت رکھتے ہیں البتہ شکل میں تھوڑا فرق پایا جاتا ہے۔ اسی طرح گھریلو گدھا اور جنگلی گدھا دونوں کو شریعت میں حماریاگدھا کہا گیا ہے۔ دونوں ایک دوسرے سے مشابہت بھی رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود گھریلو گدھے کا گوشت حرام ہے اور جنگلی گدھے کا گوشت حلال ہے۔
کیا ہے خچر اور گھریلو گدھے میں فرق؟
اگر اہل علم اور ان اشیا کے ا سپیشلسٹ گھوڑے اور جنگلی گدھے کے حلال ہونے میں اور خچر اور گھریلو گدھے کے حرام ہونے میں فرق معلوم کرنے کی کوشش کریں تو ہر گز شرعی علت تک نہ پہنچ سکیں گے حالانکہ یہ اشیا مادی اور حسی وسائل کے لحاظ سے ایک ہی چیز شمار ہوتی ہیں۔ کون ہے جو مادی لحاظ سے ان کی حلت اور حرمت کی علت بیان کر سکے؟ یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ حلال اور حرام آسمانی شریعت ہے مادی ، حسی اور عقلی وسائل کے تابع نہیں۔ قرآن مجید اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جس سے برائلر مرغی کا حرام ہونا ثابت ہو سکے بلکہ حدیث سے مرغی کا حلال ہونا ثابت ہے۔صحیح بخاری مع فتح الباری کے مطابق ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ’میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مرغی کا گوشت کھاتے ہوئے دیکھا۔‘یہ حدیث صحیح مسلم ، دارمی، بیہقی اور مسند احمد میں بھی ہے۔ امام بخاری نے اس پر باب باندھا ہے باب لحم الدجاج اور امام ترمذی بھی فرماتے ہیں باب ما جاء فی اکل الدجاج۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو پاکیزہ کھانا ہی کھاتے تھے اور ایسے کھانے کے قریب تک نہیں جاتے تھے کہ جس میں کراہت ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مرغی کا گوشت کھانا اس کے حلال ہونے کی واضح دلیل ہے۔ اس کے بعد کسی کیلئے جائز نہیں کہ وہ مرغی کے گوشت کو حرام قرار دے۔ صرف اس شبہ سے کہ اس کی خوراک میں حرام چیزیں استعمال ہوتی ہیں کیونکہ حلت اور حرمت میںجانور کی غذا کا اعتبار نہیں بلکہ شریعت کا اعتبار ہے کیونکہ بعض جانور ایسے ہیں کہ جن کی خوراک پھل، سبزیاں اور حلال اشیا ہیں اس کے باوجود وہ حرام ہیں مثلاً گیدڑ، بندر وغیرہ ایسے جانوروں کو کھانا ہر گز حلال نہیں حالانکہ ان کی خوراک پاکیزہ ہوتی ہے لیکن شریعت نے انہیں حرام قرار دیاہے۔
حرام اور حلال ہونے کی علت کیا ہے؟
اگر حرام اور حلال ہونے کی علت جانور کے کھانے یعنی خوراک کو تسلیم کر لیں کہ جس کی خوراک پاک ہوگی اس کا گوشت حلال اور جس کی خوراک نجس اور حرام ہو گی اس کا گوشت حرام ہو گا تو فرض کریں کہ کوئی شخص خنزیر کے بچے کو پیدائش ہی سے گھر میں پالتا ہے اسے حلال اور پاک غذا مہیا کرتا ہے تو کیا وہ حلال ہو جائے گا؟ اگر اس بارے میں کوئی شخص اپنی عقل کو فیصل مانے گا تو اس کے مطابق تو حلال ہو گا کیونکہ اس نے کبھی حرام اور نجس چیز کھائی ہی نہیں اور اپنا فیصلہ اگر شریعت کی طرف لے جائے گا پھر یہ حرام ہو گا۔ان تمام دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ حلت اور حرمت میں جانور کی خوراک کا کوئی اعتبار نہیں بلکہ شریعت کا اعتبار ہو گا۔
کیسے ہوگاشبہ کا رد؟
جو لوگ برائلر مرغی کو حرام قرار دیتے ہیں وہ اسے جلالہ پر قیاس کرتے ہیں جسے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے جیسا کہ ابوداو ¿د‘ترمذی ‘ ابن ماجہ کے مطابق عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جلالہ کے کھانے سے اور ان کے دودھ سے منع کیا ہے۔اس حدیث سے جلالہ کی قطعی حرمت ثابت نہیں ہوتی بلکہ اس کے استعمال سے اس وقت تک روکا گیا ہے جب تک کہ اس گندی خوراک کی بدبو زائل نہ ہو جیسا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ‘رواہ ابنِ ابی شیبہ سے ثابت ہے کہ’ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جلالہ مرغی کو تین دن بند رکھتے تھے (پھر استعمال کر لیتے تھے)۔علامہ ناصرا لدین البانی نے ا س کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔یہ صرف اس لئے کرتے تھے تا کہ اس کا پیٹ صاف ہو جائے اور گندگی کی بو اس کے گوشت سے جاتی رہے۔اگر جلالہ کی حرمت گوشت کی نجاست کی وجہ سے ہوتی تو وہ گوشت جس نے حرام پر نشو ونما پائی ہے کسی بھی حال میں پاک نہ ہوتا۔ جیسا کہ ابنِ قدامہ نے کہا ہے کہ اگر جلالہ نجس ہوتی تو دو تین دن بند کرنے سے بھی پاک نہ ہوتی۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے اس صحیح اثر سے معلوم ہوتا ہے کہ جلالہ کی حرمت اس کے گوشت کا نجس اور پلید ہونا نہیں بلکہ علت اس کے گوشت سے گندگی کی بدبو وغیرہ کا آنا ہے۔ جیسا کہ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ’جلالہ کے کھانے کا لائق ہونے میں معتبر چیز نجاست وغیرہ کی بدبو کا زائل ہونا ہے۔ یعنی جب بدبو زائل ہو جائے تو اس کا کھانا درست ہے۔‘علامہ صنعانی بھی فرماتے ہیںکہ’ جلالہ کے حلال ہونے میں بدبو کے زائل ہونے کا اعتبار کیا جاتا ہے۔‘جلالہ کے بارے میں اہل لغت کے اقوال جان لینے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ اکثر اہل لغت نے لکھا ہے کہ’کہ جلالہ وہ گائے ہے جو نجاسات کو تلاش کرتی ہے۔‘ابنِ منظور الافریقی لکھتے ہیںکہ’ جلالہ وہ حیوان جو انسان کا پاخانہ وغیرہ کھاتے ہیں۔‘اس قول کے مطابق برائلر مرغی جس کو لوگ حرام قرار دیتے ہیں جلالہ بنتی ہی نہیں ہے کیونکہ وہ انسان کا پاخانہ نہیں کھاتی۔ لہٰذا اسے جلالہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کیونکہ اس میں جلالہ کی علت نہیں پائی جاتی اور جب علت نہ رہی تو جلالہ والا حکم بھی اس پر نہیں لگ سکتا۔ لہٰذا برائلر مرغی جس کی غذا حلال اور حرام چیزوں کے مرکبات سے تیار ہو تی وہ حلال ہے جس میںکوئی شبہ نہیں۔ اس کی غذا کا اعتبار نہیں بلکہ شریعت کا اعتبار ہے۔
بہتری کس میں ہے؟
آخر میں یہ بات بھی اچھی طرح یاد رہے کہ مرغی کی خوراک میں جو خون مردار اور دوسری حرام اشیا ڈالی جاتی ہیں اگرچہ یہ انسانوں کیلئے حرام ہیں جانوروں کیلئے حرام نہیں کیونکہ وہ تو مکلف ہی نہیں ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانوں کیلئے جن اشیاکا کھانا حرام قرار دیا ہے‘چند ایک جانور چھوڑ کر ان کی خریدو فروخت بھی حرام قرار دی ہے جیسا کہ صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ’اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات تین مرتبہ دہرائے پھر کہا اللہ تعالیٰ نے ان پر چربی کا کھانا حرام کر دیا تو انہوں نے اسے فروخت کر کے اس کی قیمت استعمال کرنی شروع کر دی اور یقینا اللہ تعالیٰ جس کسی قوم پر کسی چیز کا کھانا حرام کر دیتا ہے اس کی قیمت بھی ان پر حرام کر دیتا ہے۔‘اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ’بے شک اللہ نے شراب ، مردار، خنزیر کو حرام قرار دیا ہے اور ان کی قیمتیں بھی حرام کی ہیں۔‘رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان فرامین سے معلوم ہوتا ہے کہ جن چیزوں کا کھانا انسان کیلئے حرام ہے ا ±ن کی خریدوفروخت کرنا بھی حرام ہے‘سوائے چند جانوروں کے جیسے کہ گھریلو گدھا ہے۔ ایسا کرنے والا اللہ تعالیٰ کی نا فرمانی کا مرتکب ہے اور حرام کمائی کھانے اور جمع کرنے میں مصروف ہے۔بہتر یہ ہے کہ مرغی کی خوراک تیار کرنے میں حرام اشیاکی خریدو فروخت سے اجتناب برتا جائے۔ خوراک میں مردار اور خون ڈالنے کی بجائے مچھلی کا چور ا ڈالا جائے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب حلال چیز کی خریدو فروخت میں کفایہ ہے تو پھر حرام کی کیا ضرورت ہے؟
تین ای کوڈس کی وضاحت
سوال مجھے آپ سے کچھ ای کوڈز E471,E407,E412 کے بارے میں یہ معلومات چاہیے تھیں کہ آیا یہ ای کوڈز حلال ہیں یا پھر حرام؟ پلیز جتنا جلدی ممکن ہو سکے ان کے بارے میں جواب مرحمت فرمائیں۔ (جزاک اللہ) جوابہماری اب تک کی معلومات کے مطابق E-407 اور E-412 حلال ہیں جبکہ E-471 مشکوک ہے یعنی اس کا سورس (source) حلال بھی ہو سکتا ہے اور حرام بھی۔
دراصل اس کو تیار کرنے کے لیے فیٹی ایسڈ اور گلیسرین استعمال ہوتے ہیں۔ اور اُن کا سورس (source) حلال و حرام دونوں ہو سکتے ہیں، لہذا اگر یہ دونوں کسی حلال ذریعے، مثلاً: پودے یا حلال جانور سے لیے گئے ہوں تو E-471 بھی حلال ہے ورنہ نہیں۔ مشہور ای نمبرز کی شرعی حیثیت ہماری ویب سائٹ پر بھی اپ لوڈ کر دی گئی ہے۔
’قابل تحقیق‘ اجزائے ترکیبی کا مطلب
سوال
مفتی صاحب! آپ کے ای نمبر کے رسالے میں بعض ای نمبرز کے بارے میں، مشبوہ یا قابلِ تحقیق کا لفظ مذکور ہوتا ہے، براہِ کرم یہ واضح فرما دیں کہ قابلِ تحقیق ای نمبرز یا اجزائے ترکیبی سے کیا مراد ہے؟ نیز اگر کسی مصنوع میں ایسے اجزاء پائے جائیں تو عوام کے لیے اُن کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب
’’قابلِ تحقیق‘‘ اجزائے ترکیبی کا مطلب یہ ہے کہ یہ حلال ذرائع سے بھی ماخوذ ہو سکتے ہیں اور حرام ذرائع سے بھی۔ مثلاً E441 جیلیٹن کا نمبر ہے۔ جیلیٹن اگر ایسے حلال جانور کے ماخوذات سے بنا ہے جسے شرعی طور پر ذبح کیا گیا ہو تو وہ حلال ہے اور اگر اسے حرام جانور کے ماخوذات سے بنایا گیا ہے تو وہ حرام ہے اور جب تک اس کا حلال یا حرام ہونا یقینی نہ ہو تو اسے ’’قابلِ تحقیق‘‘ کہا جائے گا۔
رہا یہ کہ ایسی مصنوعات کے بارے میں عوام کو کیا کرنا چاہیے؟ تفصیل یہ ہے کہ صانعین Manufacturers کو تو اس وقت تک ایسے اجزائے ترکیبی کے استعمال سے بچنے کا حکم کیا جائے گا جب تک کہ وہ ان کے بارے میں یہ تحقیق نہ کر لیں کہ ان کا ماخذ حلال ذرائع ہیں یا حرام؟ کیونکہ وہ اگر اپنی مصنوعات میں ایسے مشکوک ذرائع والے اجزائے ترکیبی استعمال کریں گے تو وہ (صانعین) نہ صرف اس بے احتیاطی اور غفلت کی وجہ سے خود گناہ گار ہوں گے، بلکہ جو لوگ حرام اجزاء پر مشتمل مصنوع استعمال کریں گے، ان کا گناہ بھی ان کے سر ہو گا۔
باقی عام عوام یعنی صارفین کے حق میں حکم یہ ہے کہ اگر انہیں کسی مصنوع میں کسی ’’قابلِ تحقیق‘‘ جز ترکیبی کی آمیزش کا پتہ چل جائے تو ان کو اس کے بارے میں علما سے معلوم کرنا چاہیے، خود سے کوئی فیصلہ نہیں کرناچاہیے، کیونکہ عوام کا یہ منصب نہیں ہے کہ وہ اس طرح کی مصنوعات پر از خود حلال یا حرام کا حکم لگائیں۔ مفتیانِ کرام ہی ان مصنوعات کے بارے میں دلائل حرمت کے ساتھ ساتھ عدم الیقین بالحرام، قلبِ ماہیت، ’القلیل مغتفر‘، ضرورت اور عموم بلویٰ جیسے اصول�
[24/10 12:19 am] s a sagar: SaGar TiMes
Saturday, 10 October 2015
تین ای کوڈس کی وضاحت
سوال مجھے آپ سے کچھ ای کوڈز E471,E407,E412 کے بارے میں یہ معلومات چاہیے تھیں کہ آیا یہ ای کوڈز حلال ہیں یا پھر حرام؟ پلیز جتنا جلدی ممکن ہو سکے ان کے بارے میں جواب مرحمت فرمائیں۔ (جزاک اللہ) جوابہماری اب تک کی معلومات کے مطابق E-407 اور E-412 حلال ہیں جبکہ E-471 مشکوک ہے یعنی اس کا سورس (source) حلال بھی ہو سکتا ہے اور حرام بھی۔
دراصل اس کو تیار کرنے کے لیے فیٹی ایسڈ اور گلیسرین استعمال ہوتے ہیں۔ اور اُن کا سورس (source) حلال و حرام دونوں ہو سکتے ہیں، لہذا اگر یہ دونوں کسی حلال ذریعے، مثلاً: پودے یا حلال جانور سے لیے گئے ہوں تو E-471 بھی حلال ہے ورنہ نہیں۔ مشہور ای نمبرز کی شرعی حیثیت ہماری ویب سائٹ پر بھی اپ لوڈ کر دی گئی ہے۔
’قابل تحقیق‘ اجزائے ترکیبی کا مطلب
سوال
مفتی صاحب! آپ کے ای نمبر کے رسالے میں بعض ای نمبرز کے بارے میں، مشبوہ یا قابلِ تحقیق کا لفظ مذکور ہوتا ہے، براہِ کرم یہ واضح فرما دیں کہ قابلِ تحقیق ای نمبرز یا اجزائے ترکیبی سے کیا مراد ہے؟ نیز اگر کسی مصنوع میں ایسے اجزاء پائے جائیں تو عوام کے لیے اُن کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب
’’قابلِ تحقیق‘‘ اجزائے ترکیبی کا مطلب یہ ہے کہ یہ حلال ذرائع سے بھی ماخوذ ہو سکتے ہیں اور حرام ذرائع سے بھی۔ مثلاً E441 جیلیٹن کا نمبر ہے۔ جیلیٹن اگر ایسے حلال جانور کے ماخوذات سے بنا ہے جسے شرعی طور پر ذبح کیا گیا ہو تو وہ حلال ہے اور اگر اسے حرام جانور کے ماخوذات سے بنایا گیا ہے تو وہ حرام ہے اور جب تک اس کا حلال یا حرام ہونا یقینی نہ ہو تو اسے ’’قابلِ تحقیق‘‘ کہا جائے گا۔
رہا یہ کہ ایسی مصنوعات کے بارے میں عوام کو کیا کرنا چاہیے؟ تفصیل یہ ہے کہ صانعین Manufacturers کو تو اس وقت تک ایسے اجزائے ترکیبی کے استعمال سے بچنے کا حکم کیا جائے گا جب تک کہ وہ ان کے بارے میں یہ تحقیق نہ کر لیں کہ ان کا ماخذ حلال ذرائع ہیں یا حرام؟ کیونکہ وہ اگر اپنی مصنوعات میں ایسے مشکوک ذرائع والے اجزائے ترکیبی استعمال کریں گے تو وہ (صانعین) نہ صرف اس بے احتیاطی اور غفلت کی وجہ سے خود گناہ گار ہوں گے، بلکہ جو لوگ حرام اجزاء پر مشتمل مصنوع استعمال کریں گے، ان کا گناہ بھی ان کے سر ہو گا۔
باقی عام عوام یعنی صارفین کے حق میں حکم یہ ہے کہ اگر انہیں کسی مصنوع میں کسی ’’قابلِ تحقیق‘‘ جز ترکیبی کی آمیزش کا پتہ چل جائے تو ان کو اس کے بارے میں علما سے معلوم کرنا چاہیے، خود سے کوئی فیصلہ نہیں کرناچاہیے، کیونکہ عوام کا یہ منصب نہیں ہے کہ وہ اس طرح کی مصنوعات پر از خود حلال یا حرام کا حکم لگائیں۔ مفتیانِ کرام ہی ان مصنوعات کے بارے میں دلائل حرمت کے ساتھ ساتھ عدم الیقین بالحرام، قلبِ ماہیت، ’القلیل مغتفر‘، ضرورت اور عموم بلویٰ جیسے اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ فرمائیں گے۔
ای نمبرز کا مجموعی حکم
سوال
کیا یہ تصور صحیح ہے کہ ای نمبرز حرام ہی ہوتے ہیں؟
جواب
یہ تصور صحیح نہیں ہے کہ ای نمبرز پر مشتمل اجزائے ترکیبی سارے حرام ہوتے ہیں۔ چنانچہ بعض ای نمبرز پر مشتمل اجزائے ترکیبی صرف نباتات سے بنتے ہیں جو کہ حلال ہوتے ہیں، مثلاً: E100 ہلدی اور E140 کلوروفل (Chlorophyll) وغیرہ۔ اسی طرح ای نمبرز پر مشتمل بعض اجزائے ترکیبی معدنیات ہوتے ہیں۔ جیسے (i) E170 کیلشیم کاربونیٹ وغیرہ۔ نیز E-129 حلال ہے۔
خنزیر کا خوف!
دور حاضر میں خنزیر کے جسم کے مختلف حصوں بالخصوص چربی نے بازار پر زبردست گرفت قائم کی پے. ایسی اشیا کی فہرست دن بدن طویل ہوتی جارہی ہے جن کے نجس ہونے کی تصدیق اخبارات میں شائع ہوتی رہی ہیں. سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی مصنوعات کا کیا کریں جن میں سور کی چربی کی ہو آمیزش ؟
فتوى نمبر:( 3153 )
س: میں نے انڈونیشی زبان میں روزنامہ (فلیتا) مورخہ 21 فروری 1980 ء پڑھا؛ جو (عالم اسلامی) کا بہت بڑا اخبار شمار کیا جاتا ہے: مورخہ 12 جمادی الاولی 1399 ھ، مکہ سے شائع ہوا، مجھے اگہی ہوئی کہ صفائى كى بعض چیزوں میں خنزیر کی چربی ڈالی جاتی ہے، مثال کے طور پر کیمی صابن، پالمیو صابن، ٹوتھـ پیسٹ کالگیٹ، اور یہ مسئلہ انڈونیشیا کے شہروں اور دیہاتوں میں پھیلا ہوا ہے، اورمحفلوں میں اس پر بات چیت ہوتی رہتی ہے، لوگوں میں اس خبر کی سچائی کے بارے میں بہت زیادہ سوال اٹھـ رہے ہیں، اس مسئلہ کا حکم کیا ہے، اس موقع پر میں آپ سے یہ مسائل پوچھنا چاہتا ہوں:
1 – کیا یہ خبر مضبوط اصل سے منسوب کی جاتی ہے؟
2 – کیا ہم پر واجب ہے کہ صرف سننے کے بعد بغیر تحقیق کے ان چیزوں سے اجتناب کریں؟ اور اپنے برتن سات مرتبہ دھوئیں ایک مرتبہ پاک مٹی سے، جیساکہ شافعی کے نزدیک مغلظ ناپاکی کے ازالے کے بارے میں ہے، کیونکہ اہل انڈونیشیا کی اکثریت کا یہی مذہب ہے، ان چیزوں کو استعمال كرنے کے بعد کی تمام نمازوں کو دوباره لوٹانا ہے؟
( جلد کا نمبر 5، صفحہ 423)
ج: الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على رسوله وآله وصحبه ۔۔۔ وبعد:
اول: ہم کسی باوثوق طریقوں سے اطلاع نہیں پہنچتے ہيں کہ صفائى کیلئے بعض چیزوں میں سور کی چربی شامل ہوتی ہے، مثال طور پر کیمی صابن، پالمیو صابن، کولگیٹ ٹوتھـ پیسٹ، اور ہم سے یہى بات پہنجتے ہيں کہ یہ صرف پروپیگنڈا ہے۔
دوم: اصل ایسی چیزوں میں طہارت اور ان کا استعمال حلال ہےحتی کہ کسی باوثوق طریقوں سے یہ معلوم ہو جائے کہ ان میں سور کی چربی کی آمیزش یا نجاست ميں کوئی اور وجہ ہے اور ان سے فائدہ اٹھانا حرام ہے، تو پھر ایسی صورت میں ان کا استعمال حرام ہوگا۔ ورنہ خبر کی سوائے پروپیگنڈہ کے کوئی زیادہ حیثیت نہ ہوگی، اور یہ بات ابھی تک ثابت نہیں ہوئی اس لئے اس کے استعمال سے اجتناب كرنے كو واجب نہیں۔
سوم: اور جس کے پاس یہ بات ثابت ہے کہ صفائى کی چیزوں میں سور کی چربی کی آمیزش ہے تو اسے چاہئے کہ ان کے استعمال سے اجتناب کرے، اور ان سے جو چیز آلودہ ہوئی اس کو دھوئے، اور جہاں تک ان کے استعمال کے دنوں میں اس کی نمازوں کی ادائے گی کا تعلق ہے تو علما کے صحیح قول کے مطابق اس پر ان کا دوباره لوٹانا نہیں ہے۔
وباللہ التوفیق
وصلى الله على نبينا محمد، وآله وصحبه وسلم
علمی تحقیقات اور فتاوی جات کی دائمی کمیٹی
ممبرممبرنائب صدرصدر
عبد اللہ بن قعودعبد اللہ بن غدیانعبدالرزاق عفیفیعبدالعزیز بن عبداللہ بن باز
طہارت طعام:
پیر ذوالفقار احمد نقشبندی صاحب
ارشاد باری تعالٰی ہے
کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبَات، وَاعْمَلُوْا صَالِحًا (مومنون: ۵۱)
(پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک اعمال کرو)
اس آیت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جو انسان غیر پاکیزہ چیزیں کھائے گا وہ اعمال صالحہ کی توفیق سے محروم ہو جائے گا۔ غذا میں اول قدم پر اس بات کو پیش نظر رکھنا چاہئے کہ رزق حلال سے حاصل کی گئ ہو۔ دوسرے قدم پر وہ چیز شرعًا حلال ہو۔ مثلًا ایک آدمی حلال مال سے ایسی آئس کریم خریدتا ہے جس میں حرام چیزوں کی ملاوٹ ہے تو اسکے کھانے سے دل میں ظلمت پیدا ہو گی۔ تیسرے قدم پر اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ اس غذا کو بناتے وقت طہارت و پاکیزگی کا خیال رکھا گیا ہو۔ بعض جگہوں پر لوگ سموسے وغیرہ بناتے ہیں مگر ایک ہی پانی میں ساری پلیٹیں جمع کر دیتے ہیں۔ پھر ایک ہی کپڑے سے انہیں صاف کر کے رکھ دیتے ہیں۔ پلیٹ دیکھنے میں صاف تو ہو جاتی ہے مگر پاک نہیں ہوتی۔ اسی لئے ہمارےمشائخ بازار کی بنی ہوئی کھانے پینے کی چیزوں سے پرہیز کرتے ہیں۔
ایک مرتبہ حضرت مجدد الف ثانیؒ نماز ادا کرنے مسجد سے باہر نکلنے لگے تو آپ نے دیکھا کہ نمازیوں کے جوتے کچھ دائیں طرف پڑےہیں بقیہ بائیںطرف پڑے ہیں۔ جب آپ اسکی طرف متوجہ ہوئے تو آپ کو کشف ہوا کہ دائیںطرف والے اصحاب الیمین ہیں اور بائیں طرف والے اصحاب الشمال ہیں۔ آپ نے لوگوں سے پوچھا کہ جوتوں کو الگ الگ کس نے رکھا؟ بتایا گیا کہ آپ کے صاحبزادہ خواجہ محمد معصومؒ اور خواجہ محمد سعیدؒ کھیل رہے تھے۔ آپ نے حضرت خواجہ باقی باللہ کی خدمت میں خط لکھ کر اس واقعہ کی تفصیل بتائی۔ حضرت خواجہ باقی باللہؒ نے بچوں کو اپنے پاس دہلی بلوایا اور انہیں بازار سے منگوا کر کھانا کھلایا۔ اس کھانے کی ظلمت کی وجہ سے صاحبزادگان کا کشف ختم ہو گیا۔ سوچنا چاہئے کہ اگر آج سے پانچ سو سال پہلے کا بازار کا پکا کھانا اتنی کثافت رکھتا تھا تو آج کل کے کھانوں کا کیا حال ہو گا۔ لوگ چکن تکہ، چکن کباب تو مزے لے لے کر کھاتے ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ مرغ کو صحیح طریقہ سے حلال بھی کیا گیا تھا یا نہیں۔ دہی بھلے اور چاٹ کھانے کی عادت ہوتی ہے جس سے دل میں ظلمت آتی ہے۔ اگر بازار میں کسی ایسے آدمی کی دکان ہو یا ہوٹل ہو جو نمازی ہو ، طہارت اور حرام و حلال کا خیال رکھنے والا ہو تو ایسی جگہ کے پکے ہوئے کھانے کو کھا لینے میں کوئی مضائقہ نہیں مگر عام مشاہدہ یہی ہے کہ کام کرنے والے بے نمازی بھی ہوتے ہیں۔ طہارت کا بھی خیال نہیں رکھتے۔
حضرت خواجہ فضل علی قریشیؒ بے نمازی کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا نہیں کھایا کرتے تھے۔
ایک مرتبہ حضرت خواجہ عبدالمالک صدیقیؒ چکوال تشریف لائے۔ حضرت مرشد عالمؒ تبلیغی دورے پر گئے ہوئے تھے۔ حضرت قاسمیؒ نے انکی مہمان نوازی کی۔ جب حضرت صدیقیؒ کے سامنے دستر خوان پر کھانا رکھا گیا تو آپ نے کھانے سے انکار فرما دیا اور حضرت قاسمیؒ سے پوچھا کہ آپ کے گھر میں سؤر کہاں سے آیا؟ حضرت قاسمیؒ نے والدہ ماجدہ کو آ کر صورتحال سے آگاہ کیا تو وہ فرمانےلگیں، مجھ سے غلطی سرزد ہوئی۔ میری ہمسائی مدت سے اس بات کی تمنا رکھتی تھی کہ حضرت صدیقیؒ کا کھانا پکائے۔ میں نے اسکے اصرار کی وجہ سے اسے کھانا پکانے کی اجازت دے دی۔ یہ کھانا ہمارے گھر کا نہیں ہمسائے کے گھر سے آیا ہوا ہے۔ والدہ ماجدہ نے اپنے گھر کا کھانا پکا کر دیا تو حضرت صدیقیؒ نے تناول فرمایا۔
کئ لوگ اس بات پر حیران ہوتے تھے کہ حضرت صدیقیؒ مشتبہ مال والا کھانا ہر گز نہیں کھاتے تھے۔ انہوں نے دعوت کےدوران مشتبہ مال سے بہترین کھانے پکا کر سامنے رکھے جب کہ حلال مال سے خشک روٹی اور دال پکوائی۔ حضرت صدیقیؒ نے بغیر کسی کے بتائے دال روٹی کھائی، مرغے چرغے کی طرف دھیان ہی نہ دیا۔
حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ آم، سیب اور امرود وغیرہ کے پھل اسی لئے نہیں کھاتے تھے کہ پنجاب کے باغوں میں درختوں پر پھل آنے سے پہلے ان کا سودا کر لیا جاتا ہے۔ اس کو بیع باطل کہتے ہیں۔
حضرت مرزا مظہر جان جاناں کے پاس ایک شخص انگور لایا۔ آپ کھانے لگے تو فرمایا کہ ان انگوروں سے مردے کی بو آتی ہے۔ وہ شخص بڑا حیران ہوا۔ جب تحقیق کی تو پتہ چلا کہ باغ کے مال نے قبرستان کی زمین پر ناجائز قبضہ کر کے وہاں انگور کی بیلیں اگائی ہوئی تھیں۔
حضرت خواجہ عبداللہ دہلویؒ کو ایک شخص نے مشتبہ لقمہ کھلا دیا جس سے انکے لطائف بندہو گئے۔ انہوں نے حضرت مرزا مظہر جان جاناںؒ سے اپنے حالات کا تذکرہ کیا۔ حضرت مرزا صاحب نے انہیں مراقبہ میں روزانہ توجہات دینی شروع کیں تو چالیس دن کے بعد دل سےظلمت صاف ہوئی اور لطائف جاری ہوئے۔
آج کل کے بعض مالدار لوگوں نے کچن میں کام کرنے کیلئے غیر مسلم عورتوں کو رکھا ہوا ہوتا ہے۔ پھر شکوہ کرتے ہیں کہ بچے نافرمان بن گئے، گھر سے پریشانی ختم نہیں ہوتی۔ غیر مسلم کا پاکی اور ناپاکی سے کیا واسطہ۔
بعض لوگ اپنی ریٹائرمنٹ کے پیسے بینک میں سود پر جمع کروا دیتے ہیں پھر ہر مہینے سود کے پیسے لے کر گھر کے اخراجات چلاتےہیں۔ یہ سب شرعًا حرام ہے۔ ایسی غذا کھانے والا عبادات کی توفیق سے محروم ہو جاتا ہے۔
بیرون ملک کی بنی ہو ئی غذائی اشیاء خریدتے وقت اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ اس میں کسی حرام چیز مثلًا حرام جانور کی چربی (جیلئین) وغیرہ کا استعمال تو نہیں کیا گیا، ورنہ تو پیسے لگا کر گھر تباہ کرنے والا معاملہ ہوتا ہے۔
ہمارے ملک میں کے ایف سی ، میکڈونلڈ وغیرہ کے نام سے فاسٹ فوڈ کی کئ دکانیں کھل گئ ہیں۔ لوگ ان جگہوں پر جا کر کھانا اعلٰی معیار زندگی کی علامت سمجھنے لگ گئے ہیں۔ ہمارے بیرون ملک کے ایک مدرسے میں ایک لڑکا قرآن مجید ناظرہ پڑھنے کیلئے داخل ہوا۔ اسکے متعلق عام تاثر یہی تھا کہ وہ اپنے سکول میں اول انعام حاصل کرنے والا طالبعلم ہے۔ مدرسہ میں ایک سال پڑھنے کے بعد اس کا ایک پارہ بھی ختم نہ ہوا۔ نگران حضرات نے استاد کو سمجھایا کہ اس طالبعلم کی مقدار خواندگی بہت کم ہے۔ استاد نے کہا کہ میں نے محنت تو بہت کی ہے۔ خود بچے نے بھی خوب دل لگا کرپڑھا ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ یہ طالبعلم جب چند صفحے آگے پڑھ لیتا ہے تو پیچھے سے بھول جاتا ہے۔ ہم تو مغز کھپائی کر کے تنگ آ گئے ہیں۔ طالبعلم سے پوچھنے پر تصدیق ہوئی کہ استاد کے پڑھانے میں کوئی کمی نہیں تھی او رخود طالبعلم کی محنت میں بھی کوئی کمی نہیں تھی۔ جب طالبعلم سے پوچھا گیا کہ آپ کیا چیزیں کھانے کے عادی ہو تو اس نے پانچ سات غیر ملکی ریسٹورانٹ کے نام گنوا دیئے۔ جہاں وہ اپنے والدین کے ہمراہ جا کر شام کا کھانا کھایا کرتا تھا۔ نگران حضرات نے اسکے والدین کو بلا کر سمجھایا کہ آپ کو اللہ تعالٰی نے رزق حلال دیا ہے مگر آپ کفار کے ہاتھوں سے تیار شدہ حرام اور مشتبہ غذا بچے کو کھلاتےہیں جسکی وجہ سے بچہ قرآن مجید کی برکات سے محروم ہو گیا ہے۔ آپ وعدہ کریں کہ آئندہ بچے کو گھر کی بنی ہوئی غذا کھلائیں گے اور اگر ایسا نہیں ہو سکتا تو بچے کو اپنے ہمراہ واپس لے جائیں اور تعلیم کاکوئی اور بندوبست کر لیں والدین بات کی حقیقت سمجھ گئے۔ انہوں نے طالبعلم کوگھر کی بنی ہوئی حلال او ر پاکیزہ غذا کھلانے کا معمول بنا لیا۔ آنے والے ایک ہی سال میں بچےنے پورا قرآن مجید مکمل پڑھ لیا۔
اس مثال سے یہ بات با آسانی سمجھی جا سکتی ہے کہ طعام کی پاکیزگی کا عبادات میں دلجمعی اور خشوع و خضوع کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*