بنیادی صفحہ / خبریں / برکھا دت این ڈی ٹی وی سے مستعفی،شروع کر سکتی ہیں اپنا علحدہ چینل

برکھا دت این ڈی ٹی وی سے مستعفی،شروع کر سکتی ہیں اپنا علحدہ چینل

برکھا دت اپنی حالیہ ریلیز ہوئی کتاب کے ساتھ

برکھا دت اپنی حالیہ ریلیز ہوئی کتاب کے ساتھ

نئی دہلی:(معیشت نیوز)سینئر صحافی این ڈی ٹی وی کنسلٹنگ ایڈیٹر برکھا دت نے کمپنی سے استعفیٰ دے دیا ہے ،قیاس لگایا جا رہا ہے کہ وہ اپنا علحدہ نیوز چینل شروع کرسکتی ہیں۔کالج سے فراغت کے فوری بعد انہوںنے صحافتی میدان میں قدم رکھا اور مسلسل ۲۱ برس این ڈی ٹی وی سے وابستہ رہیں ۔اس دوران انہوںنے کئی ایسی اسٹوریز کیں جوکہ آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہیں۔
این ڈی ٹی وی نے آفیشیل پیغام میں کہا ہے کہ ’’موصوفہ جب تک ہمارے ساتھ رہیں انہوں نے کمپنی کو نئی بلندیوں پر پہنچایا ہے۔انعام یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ انہیں ملک و بیرون ملک قدر کی نگاہ سے دیکھا گیاہے ۔ہم تمام برکھا کے لیے نیک خواہشات رکھتے ہیںجبکہ ان کی سربلندی کے لیے دعا گو ہیں۔‘‘
واضح رہے کہ برکھا دت اپنی بےباکانہ صحافت کے لیے مشہور رہی ہیں۔۱۹۹۹؁ میں کارگل جنگ کے دوران انہوں نے کئی قومی و بین اقوامی ایوارڈ بھی حاصل کئےہیں۔ہندوستان نے انہیں پدم شری کے ایوارڈ سے بھی نوازہ ہے۔ایک ایسے دور میں جبکہ این ڈی ٹی وی مالی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے برکھا کا استعفیٰ بہت سارے سوالات بھی پیدا کرتا ہے۔
معیشت ڈاٹ ان کےذرائع کا کہنا ہے کہ بے باکانہ صحافت کی وجہ سے ایک طرف اگر حکومت ناراض ہوگئی ہے تو دوسری طرف وہ لوگ جن کو صاف وشفاف صحافت سے تکلیف پہنچ رہی تھی مالی معاملات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرر ہے ہیں۔لہذا اس وقت آفس کی حالت یہ ہے کہ سوائے ضروری اخراجات کے اور کسی بھی طرح کا خرچ نہیں کیا جا رہا ہے جبکہ ان صحافیوں پر لگام لگا دیا گیا ہے جو حکومت کے خلاف رپورٹنگ کیا کرتے تھے۔برکھا کا استعفیٰ تو آغاز ہے ابھی کن لوگوں کو استعفیٰ دینا یا کمپنی سے علحدہ ہونا پڑے گاکچھ کہا نہیں جا سکتا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ گذشتہ سال کے اخیر میں ٹائمس نائو کے منیجنگ ایڈیٹر اور غیر اعلانیہ بی جے پی کے ترجمان ارنب گوسوامی نے بھی ٹائمس نائو سے استعفیٰ دیا تھا اور اپنی علحدہ کمپنی شروع کرنے کی بات کہی تھی جسے حالیہ دنوں عملی جامہ پہنا دیا گیا ہے اور ارنب گوسوامی این ڈی اے کیرلہ کے نائب صدر راجیہ سبھا ممبر راجیو چندرشیکھرکی سرمایہ کاری سے ’’ریپبلک‘‘کا آغاز کر رہے ہیں۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*