بنیادی صفحہ / اجناس / کموڈیٹی ٹریڈنگ اور فاریکس ٹریڈنگ ناجائز ؛جمعیۃ علماء ہند کےفقہی اجلاس کا فیصلہ

کموڈیٹی ٹریڈنگ اور فاریکس ٹریڈنگ ناجائز ؛جمعیۃ علماء ہند کےفقہی اجلاس کا فیصلہ

مولانا محمود اسعد مدنی ،مولانا سلمان منصور پوری کے ساتھ(فائل فوٹو)

مولانا محمود اسعد مدنی ،مولانا سلمان منصور پوری کے ساتھ(فائل فوٹو)

چنئی(پریس ریلیز)ادارہ مباحث فقہیہ جمعیۃ علما ء ہند نے کموڈیٹی ٹریڈنگ اور مروجہ فاریکس ٹریڈنگ کو ناجائز قراردیا ہے ۔اس سے متعلق ملک بھر کے مفتیان کرام اورعلماء وماہرین حدیث و فقہ نے ایک متفقہ تجویز منظور کی ہے ، جس میں واضح طور سے کموڈیٹی ٹریڈنگ( سونا ، چاندی اور دیگر اشیاء و اجناس کی آن لائن تجارت) کو مختلف وجوہات مثلا بیع قبل القبضsale before possession)) اور بعض صورتوں میں مبیع معدوم ہونے کی بنیاد پر ناجائز کہا گیا ہے۔تاہم تجویز میں ای کامرس ویب سائٹس سے آرڈر دے کر آن لائن اشیاء کی خریداری کو جائز ٹھہرایا گیا ہے ، اس صورت میں مبیع (فروخت شدہ ) چیز کی وصولیابی پر مشتری کو خیار رویت(دیکھنے کے بعد واپس کرنے کا حق) حاصل ہو گا ۔
جمعیۃ علماء ہند کے ادارہ مباحث الفقہیہ کاتیرہواں فقہی اجتماع جو گزشتہ ہفتہ ۸ تا ۱۰ فروری کو ہندوستان کے قدیم تاریخی شہر چنئی( مدراس) کے حج ہاؤس میں منعقد ہوا، اس میں دو موضوعات زیر بحث تھے،(۱) قبضہ کی حقیقت اور انٹرنیٹ کے ذریعہ عقود کی بعض مروجہ صورتیں (۲) زکوہ میں ضم اموال کا حکم۔ مذکورہ باتیں پہلے عنوان کے تحت منظو رشدہ تجویز میں کہی گئیں ہیں ۔اس سیمینارمیں دارالعلوم ویوبند،جامعہ قاسمیہ شاہی مرادآباد، دارالعلوم ندوۃ العلماء ، امارت شرعیہ بہار و جھارکھنڈ سمیت ہندستان کے کئی معروف دینی اداروں سے وابستہ مفتیان وعلماء کرام نے شرکت کی اور مناقشے میں حصہ لیا۔
یہ فقہی اجتماع کل پانچ نشستوں پر مشتمل تھا ، پہلی نشست کی صدارت حضرت مولانا قاری سید عثمان صاحب منصور پوری صدر جمعیۃ علماء ہند واستاذ حدیث دارالعلوم دیوبند نے فرمائی ، انھوں نے اپنے افتتاحی خطاب میں اجتماعی غور وفکر کی ضرورت واہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ادارہ المباحث الفقہیہ جمعیۃ علماء ہند کے تاریخی پس منظر کو بھی بیان کیا ،انھوں نے کہا کہ اکابر جمعیۃعلماء ہند نے مسلمانوں کی شرعی قیادت اور معاشرتی اصلاح کے لیے شریعت کے اصول وضوابط کے مطابق جدید پیش آمدہ مسائل کی تنقیح وتحقیق اور اجتماعی غور وفکر کے لیے 1970 میں ادارہ المباحث الفقہیہ قائم کیا تھا جس کے زیر انتظام اب تک بارہ فقہی اجتماعات ملک کے مختلف خطوں میں منعقد ہو چکے ہیں جن میں امت مسلمہ کو پیش آمدہ بہت سے اہم اور پیچیدہ مسائل کا شرعی حل تلاش کرکے ان کی مذہبی ضرورت کو پورا کرنے کا فریضہ انجام دیا گیا ہے، یہ تیرہوا ں فقہی اجتماع جو اب مدراس میں منعقد ہو رہا ہے ، وہ اسی سلسلے کی کڑی ہے ۔اس موقع پر جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے مفتیان کرام کا استقبال کیا اور کہا کہ حالات حاضرہ پر بحث کرکے امت کی درست رہنمائی قوموں کی زندگی کی علامت ہے ۔
اجتماع کی دوسری نشست میں مفتیانِ کرام کے ارسال کردہ مقالات کی تلخیص پیش کی گئی. مقالات کی تلخیص مولانا عبد اللہ صاحب معروفی استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند نے پیش کی جب کہ اس دوسری نشست کی صدارت حضرت مفتی سعید صاحب پالن پوری شیخ الحدیث وصدر المدرسین دارالعلوم دیوبند نے فرمائی ،تیسری نشست میں بھی دوسرے سوال (قبضہ کی حقیقت اور انٹرنیٹ کے ذریعہ عقود کی بعض مروجہ صورتیں) سے متعلق مقالات کی تلخیص پیش ہوئی،اس نشست کی صدارت حضرت مولانا نعمت اللہ صاحب اعظمی نےفرمائی ،چوتھی نشست میں ملک بھر سے تشریف لائے علماء کرام ومفتیان عظام نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔مقالات کی تلخیص اور مناقشہ کے بعد ہر موضوع پر تجاویز تیار کرنے کے لیے گیارہ گیارہ افراد پر مشتمل الگ الگ کمیٹی تشکیل دی گئی ،ان کمیٹیوں نے تجاویز کا مسودہ تیار کرکے اکابر علماء و مفتیان کرام کے سامنے پیش کیا اور اس پر مفصل بحث وتمحیص کے بعد مندوبین کی چوتھی عمومی مجلس میں ان تجاویز کو پیش کیا گیا اور اس مرحلہ میں بھی کچھ جزوی ترمیمات ہوئیں، اس چوتھی نشست کی صدارت دار العلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مفتی ابو القاسم صاحب نعمانی دامت برکاتہم نے فرمائی۔اس تفصیلی مرحلے سے گزرنے کے بعد یہ دو تجاویز بالآخر منظور ہوگئیں ۔
ایک اہم تجویز :زکوۃ میں ضم اموال کا حکم سے متعلق تجویز میں سونا اور چاندی کو اصل معیار نصاب تسلیم کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سونے اور چاندی کا نصاب منصوص ہے اس میں کسی طرح کی تبدیلی کی گنجائش نہیں ہے لہذا منفرد ہونے کی صورت میں دونوں میں سے جس کا بھی نصاب مکمل ہو گا اس کی زکوۃ فرض ہوگی خواہ قیمت کم ہو یا زیادہ۔اگر سونے اور چاندی کا نصاب مکمل نہ ہوبلکہ کچھ سونا ہو اور کچھ چاندی یا اس کے ساتھ دیگر قابل زکوۃ اموال (کرنسی اور مال تجارت) ہوں تو احناف کے مفتی بہ قول کے مطابق سب کو قیمتاً ضم کیا جائیگا ۔موجودہ کرنسی اور مال تجارت میں نصابِ زکوہ کا حساب لگاتے وقت نقدین میں سے اس نقد کے ذریعہ قیمت لگائی جائے جس سے زکوۃ کا نصاب مکمل ہو جاتا ہو. الف: غیر تام نصاب کی شکل میں مختلف قسم کے اموال جمع ہونے کی صورت میں حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے مفتی بہ قول کے مطابق انفع للفقراء کی بنیاد پر موجودہ دور میں چاندی ہی کو معیار نصاب رکھا جاے(.ب) البتہ مبتلی بہ کے خصوصی حالات وضروریات کو دیکھ کر اگر کوئی قابل اعتماد مفتی مناسب سمجھے تو صاحبین کے قول ضم بالاجزاء پر فتوی دے سکتا ہے تاہم بلا ضرورت شدیدہ مفتی بہ قول سے عدول نہ کیا جا ئے اور اس صورت حال کا عمومی فتوی نہ دیا جائے ۔ حالاں کہ اس شق (ب) سے پانچ موقر علماء کرام نے عدم اتفاق کا اظہار کیا ، جب کہ اکثریت نے اس کی تائید کی ۔
اس اجتماع کے اہم موضوع قبضہ کی حقیقت اور انٹر نیٹ کے ذریعہ عقود کی بعض مروجہ صورتیں سے متعلق تجویز میں مذکورہ باتوں کے علاوہ یہ باتیں بھی کافی اہم ہیں کہ شریعت میں قبضہ کی حقیقت:تمکین تخلیہ اور رفعِ موانع ہے البتہ اس کے لیے کوئی خاص صورت مقرر نہیں جس صورت میں بھی یہ امور متحقق ہو جائیں گے شرعا قبضہ ہو جائے گا۔ مروجہ تجارتی شکلوں میں بھی قبضہ کا مفہوم یہی ہے کہ مشتری کو مبیع میں ہر قسم کے تصرف پر قدرت حاصل ہو جاے مبیع حق غیر کے ساتھ مشغول نہ ہو اور وہ غیر مبیع سے علیحدہ اور ممتاز ہو اور ہر قسم کے موانع ختم ہو جائیں۔. اشیاء غیر منقولہ:زمین وجائداد وغیرہ میں قبضہ کی حقیقت یہ ہے کہ بائع مبیع کو اپنے سامان سے خالی کردے مبیع حق غیر سے فارغ ہو اور مشتری بلا رکاوٹ تصرف کرسکتا ہو۔محض رجسٹری قبضہ شرعی نہیں ہے لیکن چوں کہ اشیائے غیر منقولہ میں تصرف کے لیے قبضہ کی شرط نہیں ہے اس لیے قبضہ سے پہلے بھی زمین جائداد کو فروخت کیا جاسکتا ہے ۔اشیائے منقولہ میں بیع قبل القبض بیع فاسد ہے ۔ہبہ اور بیع میں قبضہ کی حقیقت ونوعیت کے تعلق سے کوء فرق نہیں ہے البتہ جائداد کی بیع مین قبضہ سے پہلے تصرف درست ہے مگر ہبہ میں قبضہ سے پہلے کوئی تصرف درست نہیں ہے۔
اس اجتماع میں ڈھائی سو سے ز ائد علماء اور مفتیان کرام نے شرکت کی ، جن میں درج ذیل شخصیات کے نام قابل ذکر ہیں : حضرت امیر الہندمولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری صدر جمعیۃ علماء ہند، حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالن پوری دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا محمود مدنی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ہند ، حضرت مولانا ابوالقاسم نعمانی مہتمم دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا نعمت اللہ اعظمی دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا ریاست علی بجنوری دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا برہان الدین سنبھلی ندوۃ العلماء لکھنو، حضر ت مولانا عتیق الرحمن بستوی ندوۃ العلماء لکھنو، حضرتمولانا حبیب الرحمن اعظمی دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا مفتی سلمان منصورپوری جامعہ قاسمیہ شاہی مرادآباد، حضرت مولانا رحمت اللہ کشمیری باندی پورہ ، حضرت مفتی عزیزالرحمن فتحپوری ، حضرت مولانا مفتی شعیب اللہ مفتاحی، حضرت مولانا ثناء الہدی نائب ناظم امارت شرعیہ ہند، حضرت مولانا متین الحق اسامہ کانپور، حضرت مولانا محمد افتخا کرناٹک، حضرت مولانا مفتی نذیر احمد کشمیروغیرہم

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*