بنیادی صفحہ / تجارتی اجلاس / جوتہذیب اپنی زبان اور بنیادوں کے ساتھ جڑی نہیں رہتی وہ ختم ہو جاتی ہے:قیصر خالد

جوتہذیب اپنی زبان اور بنیادوں کے ساتھ جڑی نہیں رہتی وہ ختم ہو جاتی ہے:قیصر خالد

کویتا سیٹھ اپنا کلام سناتے ہوئے (تصویر: معیشت)

کویتا سیٹھ اپنا کلام سناتے ہوئے (تصویر: معیشت)

ممبئی:(معیشت نیوز)کیا یہ المیہ نہیں کہ مغربی تہذیب نے ہماری میراث پر ایسے حملہ کیا ہے کہ ہم اپنی شناخت کے ساتھ جینے میں شرمندگی محسوس کرنے لگے ہیں؟ ہم کسی ہوٹل ،ریسٹورنٹ یا ایئر پورٹ پر جاتے ہیں توباوجودیکہ سب لوگ ایک زبان جانتے ہیں ہم انگریزی میں بات کرنا مناسب سمجھتے ہیں اور بسا اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم اس زبان سےمرعوب ہیں‘‘۔ان خیالات کا اظہار پاسبان ادب کے پلیٹ فارم پر ’’میراث‘‘پروگرام کے افتتاحی خطاب میں مشہور شاعر و ادیب آئی پی ایس آفیسر قیصر خالد نے کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’’ایک وقت تھا کہ ہم انگریزی زبان سیکھنے کے لیے ٹیوشن لیا کرتے تھے لیکن اب تو یہ وقت آگیا ہے کہ دو ڈھائی لاکھ کی فیس اردو یا ہندی زبان کے سیکھنے پر خرچ کی جا رہی ہے اور وہ گھرانے جو اپنے بچوں کو اپنی روایات سے جوڑے رکھنا چاہتے ہیں وہ ان زبانوں کے سکھانے پر پیسہ خرچ کر رہے ہیں۔نئی نسل سے اردو اور ہندی ایسے ختم ہوتی جارہی ہے جیسے یہ کوئی باہری زبان ہو‘‘۔انہوں نے کہا کہ ’’یاد رکھیں وہ قومیں اور نسلیں ختم ہوجاتی ہیں جو اپنی اصل سے جڑی نہیں رہتیں اور اپنی تہذیب و ثقافت کو بھلا دیتی ہیں۔مادری زبان سے وابستگی اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہی زندگی کی بنیاد ہے۔‘‘اپنی میراث سے جڑنے کے لیے جذباتی انداز میں اپنی زبان سے وابستگی کی اپیل کرتے ہوئےقیصر خالد نے کہا کہ ’’میں یہ نہیں کہتا کہ آپ شیکسپیئر اور ورڈس ورتھ کو مت پڑھئے آپ انہیں بھی پڑھیں لیکن اس زبان کو بھی جانیں جو آپ کے والدین بولتے رہے ہیں‘‘۔
واضح رہے کہ رویندر ناٹیہ مندر ،پربھا دیوی میں پاسبان ادب اسوسی ایشن کی جانب سے منعقدہ پروگرام ’’میراث‘‘میں جہاں کویتا سیٹھ نے صوفیانہ کلام کے ساتھ جون ایلیا،غلام محمد قیصر،فراق گورکھپوری،اسرارالحق مجاز،جوش ملیح آبادی وغیرہ کے کلام کے ذریعہ حاضرین کو محظوظ کیا دہلی سے تشریف لائے جناب شاہدی نے اپنی قصہ گوئی کا ایسا جادو چلایا کہ تمام لوگ بغیر اف کئے قصہ سنتے رہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اتوار کے روز منعقدہ پروگرام میں شہر کی معزز شخصیات نے شرکت کی جبکہ فلمی اداکار اور ممبر آف پارلیمنٹ شترودھن سنہا نے روایتی شمع روشن کرکے پروگرام کا آغاز کیا۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*