بنیادی صفحہ / تجارتی اجلاس / اقلیتی معاشی اجلاس / مائونٹ جودی کی جانب سے بنگلور میں تجارتی اجلاس کا انعقاد

مائونٹ جودی کی جانب سے بنگلور میں تجارتی اجلاس کا انعقاد

مائونٹ جودی وینچرس کے پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے سی ایچ عبد الرحیم جبکہ مدثر علی بیگ اور پی سی مصطفیٰ کو بھی دیکھا جا سکتا ہے(تصویر:معیشت)

مائونٹ جودی وینچرس کے پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے سی ایچ عبد الرحیم جبکہ مدثر علی بیگ اور پی سی مصطفیٰ کو بھی دیکھا جا سکتا ہے(تصویر:معیشت)

پچاس سے زائد کمپنیوں کے سربراہان کی شرکت،تجارت کے فروغ میں پیش آمدہ مسائل کے حل پر گفتگو
نمائندہ خصوصی معیشت ڈاٹ اِن
بنگلور(معیشت نیوز) مائونٹ جودی وینچرس کی جانب سے بنگلورکے ہوٹل آئریز میںدو روزہ تجارتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں مہاراشٹر،تمل ناڈو،تلنگانہ ،کیرلہ سمیت کرناٹک کے پچاس سے زائد تجارتی گھرانوں کے سربراہان نے شرکت کی۔تجارت کے فروغ میں پیش آمدہ مسائل کے حل پر گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے مائونٹ جودی وینچرس کے ڈائریکٹر شریف کوٹا پورتھ نے کہا کہ ’’اپنی تجارت کو فروغ دیتے وقت ہر شخص زیادہ سے زیادہ منافع کمانے جبکہ تجارت کو وسعت دینے کی خواہش لیے اپنا سفر جاری رکھتا ہے لیکن اپنی صلاحیتوں کا کیسے استعمال کرے اکثر لوگوں کو اس کا بہتر اندازہ نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ جن لوگوں کو اس کا اندازہ ہوتا ہے وہ تو آگے بڑھ جاتے ہیں جبکہ دوسرے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ان لوگوں کی خدمات حاصل کی جائیں جو اس ضمن میں مہارت رکھتے ہوں‘‘۔سوالات و جوابات پر مشتمل مذکورہ سیشن میں جب ایک کمپنی کے سربراہ نے پوچھا کہ آخر کم جوکھم اٹھا کر بہتر قیمت کیسے حاصل کر سکتے ہیں ؟ توحاضرین میں شامل لوگوں نے ان کے بزنس ماڈیول کو دیکھتے ہوئے کہا کہ ’’آپ جتنی محنت کر رہے ہیں اس کا اندازہ نہیں لگا رہے ہیں نہ ہی اپنے اوقات کی قیمت کو مذکورہ پروڈکٹ میں شامل کر رہے ہیں ،اگر ان چیزوں کو شامل کریں تو آپ کو مذکورہ قیمت معلوم ہو سکے گی۔‘‘جبکہ پی سی مصطفیٰ نے تجارت میں شفافیت کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم جو کچھ کماتے ہیں اس کا بہتر طور پر ڈکلیریشن ضروری ہے اگر آپ نقد کاروبار کر رہے ہیں تو بھی ضروری ہے کہ آپ ٹیکس ادا کریں‘‘۔ سی ایچ عبد الرحیم نے پرائیویٹ ایکویٹی تجربات و مشاہدات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرا ذاتی تجربہ ہے کہ جب آپ معیاری کام کریں گے تو سرمایہ کاروں کی کمی کا رونا رونا نہیں پڑے گا۔بہتر کام کی جہاں قدر کی جاتی ہے وہیں بہتر ین لوگوں کے ساتھ لوگ معاملات بھی کرنا پسند کرتے ہیں‘‘انہوں نے اپنی مثال بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’آج سے چالیس برس قبل کیرلہ میں ہم صرف پانچ چارٹرڈ اکائونٹینٹ تھے جس میں زیادہ تر برھمن تھے۔میں نے تقریباً پینتیس سال کا عرصہ خلیجی ممالک میں گذارا ہے اسی دوران میں نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر کیرلہ میںچار ایکڑ زمین پر ۲۰۰بستر والا اسپتال شروع کیا جو ایشیا کا پہلا پیپر لِس(کاغذ کے بغیر)ہاسپیٹل ہے۔ ‘‘انہوںنے تجارتی اصول بتاتے ہوئے کہا کہ ’’ہمیں سب سے پہلے ابتدائی بزنس پلان بنانا چاہئے اس کے بعد سرمایے کا جائزہ لینا چاہئےجس کے بعد مدت کا تعیین کرنا چاہئے اور ایسی ایجنسیز کا سہارا لینا چاہئے جو آپ کو متعینہ مدت میں مطلوبہ ہدف تک پہنچا دیں۔اگر ان چیزوں کا خیال رکھیں تو پھر بعد کے ہدف کے لیے راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔‘‘
آئی ڈی فوڈ کے مالک پی سی مصطفیٰ نےاپنی داستان بیان کرتے ہوئے تجارتی تجربے میں کہاکہ ’’میرے والد قلی تھے۔وہ لوگوں کا سامان اٹھاتے تھے ۔میرے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ میں اچھے اسکول میں تعلیم حاصل کرلوں ۔دسویں تک میں نے کسی طرح تعلیم تو حاصل کر لی لیکن غربت نے ساتھ نہیں چھوڑا میں ہاسٹل میں رہنے لگا جہاں ررہائش تو مفت تھی لیکن کھانے کا پیسہ لگتا تھا اس وقت مجھے بھوک کا احساس بےچین کئے رکھتا تھا ۔لہذا بچپن سے ہی مجھے کھانے کی اہمیت کا اندازہ ہے۔‘‘پی سی نے کہا کہ ’’ایسا نہیں ہے کہ آپ جو کام کر رہے ہوں اس میں کامیاب ہی ہو جائیں یہی وجہ ہے کہ میں نے کئی کام کئے جس میں ناکام رہا مثلاً سب سے پہلے میں نے کیرانہ اسٹور شروع کیا ،اس کے بعد مہارتھ ڈاٹ کام کی بنیاد ڈالی اور بالآخر دس پیکیٹ سے آئی ڈی فوڈ کا کاروبار شروع کیا جو الحمد للہ ساٹھ ہزار پیکیٹ تک پہنچ چکا ہے۔‘‘تجارت کے فروغ میں ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہمیں اپنے پروڈکٹ کو بہتر ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنا چاہئے۔جبکہ سرمایہ کے لیے ایکویٹی کا راستہ اختیار کرنا سود مند طریقہ ہے۔‘‘مائونٹ جودی وینچرس کے سی ای او مدثر علی بیگ نے ادارے کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ ’’مائونٹ جودی وینچرس سیبی کے تحت سرمایہ کاری کا ادارہ ہے جہاں تین سال سے پانچ سال تک کی سرمایہ کاری کی جاسکتی ہے۔‘‘انہوں نے سالانہ ۱۸فیصد منافع کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم اس سلسلے میں دس سے پندرہ کمپنیوں کو ٹارگیٹ کر رہے ہیں‘‘۔
آکٹاویئر کے بانی سی ای اواسلم خان نے اپنے سفر کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’۲۰۱۱؁ سے اب تک میں نے ۱۱آرگنائزیشن کو قائم کیا ہےجس میں تین میںناکام رہا جبکہ آٹھ میں کامیابی ملی ،لہذا کبھی بھی ناکامی سے گھبرانا نہیں چاہئے بلکہ ناکامیابی کے وجوہات کو تلاش کرنا چاہئے۔‘‘

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*