بنیادی صفحہ / کارپوریٹ / ہم این ڈی ٹی وی کو سلام کرتے ہیں!

ہم این ڈی ٹی وی کو سلام کرتے ہیں!

ممبئی پریس کلب کے باہر این ڈی ٹی وی کے حق میں صحافی و عمائدین شہر مظاہرہ کرتے ہوئے (فائل فوٹو معیشت)

ممبئی پریس کلب کے باہر این ڈی ٹی وی کے حق میں صحافی و عمائدین شہر مظاہرہ کرتے ہوئے (فائل فوٹو معیشت)

عالم نقوی
ہم این ڈی ٹی وی ،پرنےرائے اور رَویش کمارکی ٹیم کو سلام کرتے ہیں کہ وہ،جھوٹ اور فریب کے اس دجالی عہد میں ،ہر حال میں سچ بولنے اور سچ کا ساتھ دینے والے ’ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں‘ کا مصداق بنے ہوئے ’سیسہ پلائی ہوئی دیوار ‘کی طرح مظلومین و مقہورین کے ساتھ بغیر ڈرے ہوئے سر اٹھائے کھڑے ہیں!ہم این ڈی ٹی وی کے اِس مؤقف کی تائید کرتے ہیں کہ ان کے خلاف ہونے والی کارروائی جمہوریت کو نقصان پہنچانے اور اظہار رائے کی آزادی چھیننے کی مذموم کوشش ہے ۔ہمیں یقین ہے کہ وہ سچائی مخالف اور عوام دشمن طاقتوں کے خلاف اپنی لڑائی بغیر ڈرے ہوئےاسی پامردی اور دلیری کے ساتھ جاری رکھیں گے ۔اتوار ۵ جون کو خبر آئی کہ این ڈی ٹی وی کے پروموٹر ڈاکٹر پرنے رائے اور رادھیکا رائے کے گریٹر کیلاش دہلی میں واقع گھر پر سی بی آئی نے چھاپہ مارا اور تلاشی لی ہے ۔ الکٹرانک میڈیا جسے رویش جی بجا طور پر ’گودی میڈیا ‘ کہتے ہیں لےاڑا ۔کچھ ہی دیر میں این ڈی ٹی وی کا بیان بھی آگیا کہ یہ واقعہ بذات ِخود حیران کُن ہے کہ سی بی آئی نے کسی ابتدائی جانچ کے بغیرایک شخص کی نجی شکایت پر این ڈی ٹی وی کے دفتروں اور پروموٹرس کے گھروں کی تلاشی شروع کردی (جیسے وزیر اعلیٰ کجریوال کے دفتر کی تلاشی لی گئی تھی ) ظاہر ہے کہ یہ پریس کی آزادی پر کھلا ہوا سیاسی حملہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔جس کی شکایت پر یہ کارروائی ہوئی وہ گزشتہ تین برسوں سے مختلف عدالتوں سے این ڈی ٹی وی کے خلاف مقدمہ چلائے جانے کا حکم جاری کروانے کی ناکام کوشش کرتا رہا ہے ۔جس درخواست کو ان تین برسوں میں کسی عدالت نے قابل اعتنا نہ سمجھا اس پر سی بی آئی نے ’کاتا اور لے دوڑی‘ کی طرح کارروائی شروع کردی ۔ظاہر ہے کہ اس پردہ زنگاری کے پیچھے کوئی اور ہے جس کا نام لینے کی ضرورت نہیں ۔برسوں سے شاندار جھوٹ بولنے کے ریکارڈ قائم کرنے والے کا نام کون نہیں جانتا ۔
Bad Debt& Non performing Assettsوالےبنکاری نظام اور قارونی معیشت کے اس عہد نافرجام میں جب حکومتیں بھکمری اور بیروزگاری کے شکار عوام ،کسانوں اور غریبوں کا چند ہزار روپئوں کامعمولی قرض معاف کرنے کے بجائے وجے مالیاؤں جیسوں کو اربوں کا قرض دے کر واپس نہ لینے والے بینکوں کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے نام نہاد Bail Out Plan کے نام سے آئے دن اُن کی کثیر مالی ا مداد کرتی رہتی ہیں ،این ڈی ٹی وی پر ایک بینک کوصرف ۴۸ کروڑ روپئے کا نقصان پہنچانے کا الزام کسی تماشے کم نہیں ۔کون نہیں جانتا کہ ملک میں درجنوں کیا سیکڑوں ایسے قارون موجود ہیں جو بینکوں کے ہزاروں لاکھوں کروڑ روپئے ہضم کیے بیٹھے ہیں ان میں سے کسی کے خلاف آج تک کوئی مجرمانہ سازش وغیرہ کا مقدمہ کہیں درج نہیں ہوا نہ کسی کے خلاف کسی بھی طرح کی کارروائی کی کوئی خبر کبھی سنی ۔آئی سی آئی سی آئی بینک کے جس قرض کے بہانے یہ کرروائی ہوئی ہے وہ عرصہ ہوا چکایا جا چکا ہے ۔
رویش کمار کا گزشتہ (۵ جون کی )شب کا پروگرام ’’ڈَر کی راجدھانی دِلّی ‘‘غیر معمولی تھا ۔انہوں نے موجودہ صورت حال کی منظر کشی کرتے ہوئے صد فی صد درست کہا کہ ’’روزعام آدمی سے جڑے سوال قومی میڈیا سے باہر کر دیے جاتے ہیں کسی ایک ہی شخص پر گھنٹوں بے معنی بحث ہوتی ہے ،لیکن خود کشی کرنے والے لاکھوں کسانوں کے مسائل کے لیے ایک گھنٹہ بھی ان کے پاس نہیں ہوتا اس لیے آپ کو یہ جاننا ضروری ہے کہ میڈیا میں کیا چل رہا ہے ۔گھبرانے کی نہیں بس جاننے کی ضرورت ہے کہ علم بہر حال لا علمی سے بہتر ہے پھر آپ بہ خوبی سمجھ جائیں گے کہ مستقبل میں آپ کے ساتھ کیا ہونے والا ہے ! ڈرانے والے طاقتور لوگ ہیں یہ صحیح ہے لیکن اب اِس کو کیا کیجے کہ کچھ لوگ اَیسے بھی ہوتے ہیں جن کے پاس طاقت نہیں ہے لیکن وہ ڈرتے بھی نہیں۔۔اپ کو دلی میں دو طرح کے صحافی ملیں گے ایک جو ڈرے ہوئے ہیں اور دوسرے وہ جنہیں ڈرایا جا رہا ہے ۔جو ڈرے ہوئے ہیں ان میں بھی دو طرح کے ڈرپوک ملیں گے ایک وہ جنہیں ڈرتے رہنے کی کافی قیمت مل رہی ہے ! دوسرے وہ جنہیں ڈر کے بدلے صرف ڈر ہی مل رہا ہے ۔۔راج کمل جھا نے ابھی حال ہی میں ایک فنکشن میں کہا تھا کہ وہ تو پچاس سال کے ہو چکے ہیں لیکن صحافیوں کی نئی نسل ایک ایسے دور میں پروان چڑھ رہی ہے جو ٹویٹر اورفیس بک جیسے سوشل میڈیا کا زمانہ ہےاور وہ یہ بات نہیں جانتے کہ حکومت کی طرف سے کسی صحافی پر تنقید فی ا لواقع کسی تمغہ اعزاز سے کم نہیں !
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ پوری دنیا میں میڈیا صاحبان اقتدار کی گود میں کھیل رہا ہے آپ ایوان اقتدار سے اس Embedded میڈیا کو’’ گودی میڈیا ‘‘ یا گود لیا ہوا میڈیا بھی کہہ سکتے ہیں ۔آج ٹی وی کے ذریعے آپ کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو کنٹرول کیا جا رہا ہے سارے چینل سالوں سال صرف دو چار مسئلوں ہی پر چرچا کرتے رہتے ہیں ۔دنیا بھر کے ٹی وی کو اپنے قابو میں رکھنا ہی آج حکومت اور انتخابی سیاست کا لازمہ ہے ۔پہلے چینلوں کی دنیا میں ہوڑ ہوتی تھی نئی سے نئی خبریں دینے کی لیکن اچانک یہ ہوڑ بند ہوگئی ۔۔سارے چینل دھیرے دھیرے ایک جیسے ہوتے چلے گئے ہر ایک پر وہی باتیں جن کا زمینی حقائق اور عوام کے واقعی مسائل سے دور کا بھی واسطہ نہیں ۔پہلے چینلوں نے اپنے ناظرین کو فرضی مسئلوں کے کنؤیں میں قید کیا جس کی دیواریں روز بروز اونچی ہوتی چلی گئیں نتیجے میں وہ کنواں اب ایک اندھی سرنگ میں تبدیل ہو چکا ہےاور ٹی وی ناظرین کی سوچ اس ٹی وی اسکرین کی ’توسیع ِمحض ‘ہو کر رہ گئی ہے ۔ بات سخت ہے مگر سچائی یہی ہے کہ آج الکٹرانک میڈیا جمہوریت میں رائے عامہ کی موت کا کنواں بن کر رہ گیا ہے ۔۱۲ دسمبر ۱۹۸۱ کی آدھی رات کو پولینڈ میں مارشل لا نافذ ہوا تھا ۔یہ کمیونسٹو ں کی ایمرجنسی تھی ۔۱۹۸۲ میں پولینڈ کے ایک صحافی ہانیہ ایم فیدرو وِچ نےاپنے ایک تحقیقی مقالے :’انفارمیشن کی جنگ : مارشل لا کا عوامی رد عمل ‘‘میں یہ بتانے کی کوشش کی تھی کہ جب خبروں پر سرکار کا کنٹرول ہو جاتا ہے تو سماج میں اس کا رد عمل کیا ہوتا ہے کیا ایک ہی طرح کی بات سنتے سنتے اور دیکھتے دیکھتے قارئین و ناظرین کے دماغ پک نہیں جاتے ؟اور جب ایسا ہوتا ہے تو وہ اپنا رد عمل کس طرح ظاہر کرتے ہیں ؟ پولینڈ میں یہ ہوا کہ شام کے وقت لوگ اپنے ٹی وی سٹ کا منہ کھڑکی کی طرف کر کے باہر گھومنے نکل جاتے تھے ہزاروں لاکھوں لوگوں نے ایسا ہی کیا کہ گھر میں ٹی وی تو چل رہا ہوتا تھا مگر گھر والے اسے دیکھنے اور سننے کے بجائے باہر مٹر گشتی کر رہے ہوتے تھے ! احتجاج کے اس نادر طریقے کے ذریعے حکومت کو یہ بتانا مقصود تھا کہ تم بکتے رہو ۔کوئی نہ تمہاری بکواس سن رہا ہے نہ تمہاری خرافات دیکھ رہا ہے !لیکن حکومت تو حکومت ہی ہوتی ہے اس نے اس کا بدلا اس طرح لینا شروع کیا کہ اس نے شام کے وقت بجلی اور پانی کے کنکشن کاٹ دیے لیکن جب یہ حربہ بھی ناکام ہوگیا تو حکومت نے ایسے ضابطے نافذ کر دیے کہ شام کے وقت گلیوں اور سڑکوں اور پارکوں میں موجود عوام کی تعداد کیا ہوگی تاکہ کچھ نہ کچھ لوگ تو مجبوراً گھر میں بیٹھ کر سرکاری پروپیگنڈا دیکھیں ! لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگوں نے شام کو گھر میں رہنا ہی ترک کر دیا ،ایسا لگتا تھا کہ پورا پولینڈ شام کو گھروں کے باہر سڑکوں پر ہوتا ہے ! پولینڈ کے لوگوں نے اخبار خریدنا اور پڑھنا بھی بند کر دیے ۔ انہوں نے اس کے لیے باقاعدہ پورے ملک میں ایک تحریک چلائی جگہ جگہ سڑکوں پر یہ نعرے لکھے ہوئے نظر آنے لگے کہ ’’نیوز اسٹینڈ پر اخباروں کو بغیر بکے ہی پڑا رہنے دیجیے تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ ہم مارشل لا کے خلاف ہیں ‘‘! ۲۰۱۶ میں پولش حکومت نے ایک نیا ضابطہ بنایا کہ پارلیمنٹ کی کاروائی کو، سرکار کے منظور نظر صرف کچھ چنیدہ صحافی ہی رپورٹ کریں گے اپوزیشن نے اس پر سخت احتجاج کیا ۔ظاہر ہے کہ اس کا مطلب یہ تھا کہ عوام کو پتہ ہی نہ چلے کی پارلیمنٹ میں ہوتا کیا ہے ۔ ۱۳ دسمبر ۲۰۱۶ کو عوام نے پولش پارلیمنٹ کا زبر دست گھیراؤ کیا ۔پولینڈ میں ۵۶ سال پہلے اسی دن ایمرجنسی لگی تھی !
این ڈی ٹی وی نے بہر حال یہ اعلان کر دیا ہے کہ سیاسی لیڈر خواہ اُس پر کتنے ہی حملے کیوں نہ کریں وہ ملک میں میڈیا کی آزادی کی لڑائی لڑتے رہیں گے ۔ لیکن ہم کیا پولینڈ کے عوام سے بھی گئے گزرے ہیں ؟ کیا اس صریحی نا انصافی کے خلاف بولنا ہمارا بھی فرض نہیں ؟ این ڈی ٹی وی واحد چینل ہے جس نے ابھی تک ملک کے مظلوموں کو خواہ وہ مسلمان ہوں یا دلت ،مایوس نہیں کیا ہے ۔
وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور وزیر اعلی کجریوال نے بھی سی بی آئی کی اس کارروائی کو ڈرانے والی کارروائی قرار دیا ہے اور ارون دھتی رائے ،رام چندر گوہا ،یوگندر یادو ،سدھارت بھاٹیہ ،سدھارت ورد راجن ،ہر توش سنگھ بہل ۔راج دیپ سر دیسائی ،شعیب دانیال ،تیستا سیتل واڈ ، جیوتی پنوانی ہرش مندر وغیرہ سبھی اس مشکل گھڑی میں جمہوریت ،اظہار رائے کی آزادی اور ہر طرح کے ظلم کے خلاف انصاف کے قیام کی جد و جہد کے ساتھ ہیں ۔سوال یہ ہے کہ ہم کدھر ہیں ؟
کیا تم ان سے ڈرتے ہو ؟ اگر مؤمن ہو تو اللہ جل جلالہ اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اس سے ڈرو ! (سورہ توبہ آیت ۱۳)

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*