بنیادی صفحہ / انٹرویوز / مودی جی مسئلہ کشمیرحل کرکےامن کا نوبل انعام حاصل کرلیں:محبوبہ مفتی

مودی جی مسئلہ کشمیرحل کرکےامن کا نوبل انعام حاصل کرلیں:محبوبہ مفتی

جموں کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی (تصویر :معیشت)

جموں کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی (تصویر :معیشت)

دانش ریاض برائے معیشت ڈاٹ اِن
رمضان المبارک میں جب پورا کشمیر ذکر و عبادت میں مشغول تھا پی ڈی پی کی سربراہ اور ریاست کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی گھاٹی میں سیاحوں کی آمد کے لئے دعا گو تھیں۔انہیں یہ فکرستائے جا رہی تھی کہ اگر سیر و سیاحت کا موسم گذرگیاتو پھر گھاٹی کی معیشت دگرگوں ہوجائے گی کیونکہ سیلانیوں کی ویسی آمد دکھائی نہیں دے رہی تھی جو کہ اس ریاست کا خاصہ ہواکرتاہے۔ہوٹلیں خالی پڑی تھیں،ڈل جھیل اپنی تمامتر رعنائیوں کے باوجود اداسی بکھیر رہی تھی،ڈل جھیل پر موجود ’’شکارا‘‘ لوگوں کی آمد کا منتظر تھا لیکن سیلانی اس کا لطف لینے ابھی تک نہیں پہنچے تھے۔بازاریں سنسان پڑی تھیں جہاں خریدار ندارد تھے۔سون مرگ کی پہاڑیوں پر گھوڑسوار زین سنبھالے کسی کے منتظر تھے لیکن کوئی پابہ رکاب ہونے کو تیار نہیں تھا کہ سر سبز و شاداب وادی کسی انجانے خوف کا شکار ہوگئی تھی۔
شایدیہی وہ کرب تھا کہ انہوں نےوزارت سیاحت کے اشتراک سے FAMٹور کے انعقاد کا فیصلہ کیا اور ممبئی و مہاراشٹر سمیت پورے ملک سے صحافیوں، مصنفوں اور ٹریولرس کو مدعو کیا۔
سرینگر میں اپنی رہائش گاہ پر ملاقات کے دوران وہ کہتی ہیں’’کشمیر امن و عافیت کی جگہ ہے۔یہاں تو لوگوں کو امن کی نشانی کے طور پر بھی آنا چاہئے۔یقیناً حالات کشیدہ ہیں۔خوف وہراس کا ماحول ہے لیکن یہ تمام چیزیں صرف سرحد پر ہیں۔کیونکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان واقعات میں کبھی سیلانیوں کو کوئی تکلیف نہیں پہنچی ہے۔سیاحوں کا احترام ہر جگہ ہے۔جو لڑائی ہے وہ ہندوستانی حکومت اور یہاں کی عوام کے مابین ہےایسے میں بہتری تو یہی ہے کہ ملک کے گوشہ گوشہ سے لوگ آئیں اور اس وادی کی خوبصورتی کا نظارہ کریں۔یہاں کی عوام کو گلے سے لگائیں اور ان کی ضیافت کا لطف اٹھائیں۔‘‘
صوفیوں،سنتوں اور بودھ بھکشوئوں کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے محبوبہ نے اس کرب کا بھی اظہار کیا کہ’’ہمارے یہاں امرناتھ یاترا،کھیر بھوانی مندر،ماتا ویشنو دیوی مندر،شیو کھوری،شنکراچاریہ مندر،مارٹنسن مندروغیرہ ہیں جس کی زیارت کے وقت مکمل انتظام مسلمان کرتے ہیں اور ہر طرح کی سہولت بہم پہنچاتے ہیں لیکن ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے کہ اب لوگ یہاں آنے میں بھی خوف محسوس کرنے لگے ہیں اسی طرح کوئی کشمیری ایسانہیں پائیں گے جو نظام الدین اولیاؒ کے مزار پر نہ گیا ہو یا خواجہ اجمیری ؒ کی زیارت نہ کی ہو۔بڑی تعداد میں لوگ اجمیر شریف جاتے ہیں اور زیارت کرکے آتے ہیں لیکن یہاں آباد صوفیوں کی زیارت کرنے کوئی نہیں آتا۔حالانکہ یہاں خانقاہ مولیٰ،حضرت بل مسجد ،چرارشریف وغیرہ موجود ہیں لیکن خال خال ہی لوگ زیارت کے لئے آتے ہیں‘‘۔

سماجی تنظیم سرحد کے ذمہ دار سنجے ناہر صحافیوں کا تعارف کراتے ہوئے جبکہ محبوبہ مفتی کے ساتھ ٹورزم کے ڈائریکٹر محمود احمد کو بھی دیکھا جاسکتا ہے(تصویر:معیشت)

سماجی تنظیم سرحد کے ذمہ دار سنجے ناہر صحافیوں کا تعارف کراتے ہوئے جبکہ محبوبہ مفتی کے ساتھ ٹورزم کے ڈائریکٹر محمود احمد کو بھی دیکھا جاسکتا ہے(تصویر:معیشت)

محبوبہ ہندوستان و کشمیر کے رشتے کو مضبوط کرنے میں سیاحت کی اہمیت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتی ہیں’’جب لوگوں کا یہاں آنا جانا بڑھے گا تو آپسی رشتے میں بھی مضبوطی آئے گی۔ایک دوسرے سے تانا بانا جڑے گا تو آپسی اعتماد بڑھے گا اور جو دیوار کھڑی ہوگئی ہے وہ مسمار ہوگی لیکن اس کے لئے ہندوستانیوں کی آمد شرط ہے‘‘۔ کشمیر کو خواتین کے لئے انتہائی محفوظ علاقہ قرار دیتے ہوئے محبوبہ کہتی ہیں ’’ہندوستان کے مختلف شہروں میں خواتین کو رات گئے نکلنے میں خطرہ محسوس ہوتا ہے لیکن کشمیر وہ واحد جگہ ہے جہاں خواتین سب سے زیادہ محفوظ ہیں۔یہاں لڑکیاں رات کو بلا خوف و خطر گھوم سکتی ہیں۔ جب سیاح یہاں آتے ہیں اور دن بھر گھومنے کے بعد رات کو ٹیلی ویژن دیکھتے ہیں تووہ شک میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ آیا میڈیا میں بتائی جانے والی باتیں درست بھی ہیں یا نہیں؟کیونکہ انہیں محسوس ہی نہیں ہوتا کہ جن جگہوں کا انہوں نے بذات خود مشاہدہ کیا ہے اسے جس انداز میں میڈیا میں پیش کیا جا رہا ہے کیا واقعی اتنی خراب صورتحال ہے؟‘‘
الیکٹرانک میڈیا سے ناراض محبوبہ یہ کہنا نہیں بھولتیں کہ ’’میڈیا مسلسل ہماری شبیہ خراب کر رہا ہے کسی ایک چھوٹے سے واقعہ کو جس طرح پورے پورے دن چلایا جاتا ہے تو لوگوں کو محسوس ہوتا ہے کہ شاید یہی کچھ کشمیر میں ہو رہا ہے۔کبھی کسی نوجوان نے پتھر بازی کردی تو کسی بھی چھوٹے موٹے واقعہ کے بعد بھی اس پرانی ویڈیو کو ہی دکھایا جاتا ہے۔حالانکہ جو لوگ پتھر بازی کر رہے ہیں ان کی تعداد بہت ہی کم ہے لیکن اس کے باوجود ایک خوف کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے،جب کہ اسی کے ساتھ دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ جو لوگ پتھر بازی کر رہے ہوتے ہیں اور انہیں مسلسل میڈیا کی زینت بنایا جاتا ہے تو پھر وہ اپنے آپ کو ہیرو کی طرح پیش کرتے ہیں،لہذا وہ بچے جو ان کا ساتھ نہیں دے رہے ہوتے ہیں جب اپنے ہمجولیوں کی تصویریں ٹیلی ویژن پر دیکھتے ہیں تو پھر وہ بھی اس کام کو کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں، لہذا میں یہ سمجھتی ہوں کہ الیکٹرانک میڈیا ہمیں دو طرفہ نقصان پہنچا رہا ہے ایک طرف تو وہ ہمارے بچوں کو غلط راستے پر ڈال رہا ہے جبکہ دوسری طرف ان بچوں کی آڑ میں پوری ریاست کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ بدنامی کی وجہ سے صرف کشمیر کو نقصان نہیں پہنچ رہا بلکہ جموں بھی ان اثرات کو جھیل رہا ہے لہذا کشمیری پنڈت بھی بدنام ہو رہے ہیں اور انہیں بھی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہےلہذا بالفاظ دیگر میں یہ کہوں کہ آپ ملک کی عوام کے دلوں میں نفرت پیدا کر رہے ہیں تو بے جا نہ ہوگا جبکہ اگر صبر کا باندھ ٹوٹ گیا تو پھر مسائل خراب سے خراب تر ہو جائیں گے ‘‘۔
ایک گھنٹے پر مشتمل اپنی طویل ملاقات میں محبوبہ نے کشمیر کی حصولیابیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’تنائو کے ماحول میں ہمارے بچے سول سروسیز کے امتحانات میں کامیاب ہو رہے ہیں۔اسکاٹ لینڈمیں منعقدہ کامن ویلتھ یوتھ گیم میں فٹبال میچ کھیلنے کے لئے ملک کی نمائندگی کشمیری بچہ کر رہا ہے۔ ہم نے عورتوں کے لئے بس سروس کا آغاز کیا ہے،لاڈلی اسکیم شروع کی ہے،وومن پولس اسٹیشن قائم کیا ہے ،اسکوٹی برائے گرلس جیسی اسکیم شروع کی ہے غرض کہ ریاست میں لاکھوں بچے زیور تعلیم سے آراستہ ہو رہے ہیں لیکن ان مثبت چیزوں کی کوئی تشہیر نہیں کرتاہے۔ہاں لوگوں کو ہمارے منفی خبروں کی بڑی للک رہتی ہے جسے وہ راتوں دن چلاتے نہیں تھکتے۔‘‘
مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل پر گفتگو کرتے ہوئے محبوبہ کہتی ہیں’’جب تک institutionalisedگفتگو نہیں ہوتی اس وقت تک سود مند نتائج نہیں نکلیں گے۔ہم ڈائیلاگ کے ذریعہ ہی حالات کی بہتری چاہتے ہیں۔مفتی محمد سعید اور اٹل بہاری واجپئی کے مابین بہترین تانا بانا تھا کیونکہ دونوں ایک دوسرے کی بات سنتے تھے۔ میں یہ سمجھتی ہوں کہ اس وقت وزیر اعظم نریندر مودی ہی کچھ بہتر کر سکتے ہیں کیونکہ ان کے پاس ہمت و حوصلہ ہے اگروہ کچھ نہیں کرپاتے ہیں تو پھر کوئی بھی کچھ نہیں کر سکتا۔اور میں یہ سمجھتی ہوں کہ اگر انہوں نے یہ مسئلہ حل کردیا تو امن کا نوبل انعام انہیں ہی ملےگا۔ ان کا حالیہ دورہ بڑا ہی کامیاب رہا ہے،بس اگر وہ جموں سیالکوٹ راستے کو کھول دیں اور آرمی کی زمین جسے آرمی استعمال نہیں کر رہی ہے، ہمیں دے دیں تو میں اسے مثبت قدم کے طور پر سمجھوں گی۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*