بنیادی صفحہ / خبریں / ہند۔چین رشتے اور جی ایس ٹی پر کانگریس کا مرکز سے سوال

ہند۔چین رشتے اور جی ایس ٹی پر کانگریس کا مرکز سے سوال

کپل سبل
نئی دہلی۔ کانگریس نے ہند۔ بھوٹان۔ چین کے جنکشن پر ہندستان اور چین کے درمیان جاری تعطل پر بے انتہا تشویش ظاہر کرتے ہوئے آج کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کو یہ وضاحت کرنی چاہئے کہ جنوبی ایشیا کی ہمسائے کے ساتھ ’’سابرمتی کے جھولے‘‘ سے تعلقات ایک دوسرے کو آنکھیں دکھانے تک کیسے پہنچ گئے۔ یہاں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اے آئی سی سی ترجمان کپِل سبل نے کہا ’’بی جے پی حکومت کویہ بتانا ہوگا وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ پہلے وہ سابرمتی میں ان کے ساتھ جھولا جھول رہے تھے اب یہ صورتحال ہے کہ فوج آمنے سامنے ہے دونوں منظر بالکل جدا ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ وزیراعظم وہ بیان دیں جو اب تک انہوں نے نہیں دیا کہ ایسا کیوں ہوا ہے اور ملک کو کیا کرنے کی ضرورت ہے۔ مسٹر سبل نے اس بات پر زور دیا کہ جب چین یا پاکستان کے ہمارے علاقے میں دراندازی کی بات آتی ہے تو ہم سب ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم یہ سوال کرنا چاہتے ہیں کہ 2014 کے بعد سے حالات اتنے کیوں بدل گئے ہیں۔ اس کے لئے کون ذمہ دار ہے‘‘۔
ہند ۔ چین سرحد پر تعطل کے دوران چینی فوجی حال ہی میں سکم میں داخل ہوگئی اور انہوں نے دو ہندستانی بنکر تباہ کردیئے ۔ چینی فوجیوں کی وہاں سرحد پر تعینات ہندستانی فوجیوں کے ساتھ جھڑپ بھی ہوئی۔
مودی کے جی ایس ٹی سے غیر یقینی صورت حال
کانگریس نے آج الزام لگایا کہ مودی حکومت کے گڈس اینڈ سروس ٹیکس (جی ایس ٹی) کے اصول و ضوابط واضح نہیں ہیں اور اس سے پورے ملک میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا
ہوگئی ہے۔ لہذا متحدہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) حکومت نے جی ایس ٹی کا جو خاکہ تیار کیا تھا اسے لاگو کیا جانا چاہئے۔ کانگریس کے سینئر ترجمان کپل سبل نے یہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ جو جی ایس ٹی لاگو کیا گیا ہے، اس میں عام لوگوں کا خیال ہی نہیں رکھا گیا ہے۔ اس کے نفاذ سے چہار جانب الجھن کی کیفیت ہے اور خاص طور پر چھوٹے کاروباری زیادہ پریشان ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی نافذ ہونے کے بعد سے ملک میں 50 فیصد کاروبار ٹھپ ہو گیا ہے اور لوگوں کو معلوم ہی نہیں ہے کہ کرنا کیا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے شعبے اور ٹیکسٹائل کی صنعت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور اب برآمد بھی اس کی زد میں آنے لگا ہے۔ الجھن کی وجہ سے کاروباری اپنے مال برآمد نہیں کر پا رہے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ جی ایس ٹی کی سب سے خراب مار غیر رجسٹرد چھوٹے تاجروں کو جھیلنی پڑ رہی ہے۔ ان کا کام مکمل طور سے چوپٹ ہو گیا ہے۔ ملک میں 80 فیصد چھوٹے کاروباری رجسٹرڈ نہیں ہیں تو جی ایس ٹی نافذ ہونے سے وہ سب سے زیادہ پریشان ہیں۔
مسٹر سبل نے کہا کہ جس جی ایس ٹی کو ‘ایک ملک ایک ٹیکس’ کے نعرے کے ساتھ نافذ کرنے کی بات تھی، وہ شہریوں کے لئے نوٹ بندی کے بعد دوسرا بڑا بحران بن گیا ہے۔ جی ایس ٹی میں ٹیکس نظام کو آسان بنانے کی سوچ تھی لیکن مودی حکومت نے جو جی ایس ٹی لاگو کیا ہے وہ انتہائی پیچیدہ بن گیا ہے اور لوگوں کو سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ انہیں کرنا کیا ہے۔ جی ایس ٹی میں ٹیکس کے اصول وضوابط کو غیر واضح بتاتے ہوئے اس کی مثال پیش کرتے ہوئے مسٹر سبل نے کہا کہ کہ وہاں 100 روپے سے کم کی فلموں کی ٹکٹ پر 18 فیصد اور سو روپے سے زیادہ کے ٹکٹ پر 28 فیصد جی ایس ٹی لگایا گیا ہے۔ ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ اسے بھی آمدنی چاہئے، تو وہ اس ٹکٹ پر 30 فیصد ٹیکس لگا رہی ہے۔ اس طرح 100 روپے کا ٹکٹ صارفین کو 158 روپے میں خریدنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسی طرح جی ایس ٹی نافذ ہونے کے بعد مہاراشٹر حکومت نے اپنی آمدنی میں اضافہ کرنے کے لئے نئی گاڑیوں کے لئے رجسٹری ٹیکس دو فیصد بڑھا دیا ہے۔ ریاستی حکومتیں جو بھی قدم اٹھا رہی ہیں، ان کا انہیں تو فائدہ ہوگا لیکن اس کا بوجھ عام آدمی کو برداشت کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر جی ایس ٹی یو پی اے حکومت کی طرز پرتیار کیا گیا ہوتا تو لوگوں کواس طرح سے پریشان نہیں ہونا پڑتا۔
کیا بی جے پی کے لوگ دودھ کے دھلے ہیں
وہیں، کانگریس نے مودی حکومت میں اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں کے خلاف سی بی آئی کا مسلسل استعمال کرنے پر سوال اٹھاتے ہوئے آج پوچھا کہ کیا بی جے پی کے لوگ ’دودھ کے دھلے‘ ہیں۔ کانگریس کے سینئر ترجمان کپِل سبل نے آر جے ڈی کے رہنما لالو پرساد یادو کی رہائش گاہوں پر جمعہ کو مارے گئے چھاپوں کے سلسلے میں نامہ نگاروں کے سوالوں کے جواب میں کہا کہ مودی حکومت صرف ان لوگوں کو نشانہ بنا رہی ہے جو اس کے خلاف بول رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کچھ عرصہ کے ریكارڈ پر نگاہ ڈالیں تو حکومت صرف غیر بی جے پی والی ریاستوں میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو پریشان کرنے کے لئے سی بی آئی کا استعمال کر رہی ہے۔ سی بی آئی کی کارروائی کے ذریعے حکومت یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ بی جے پی کے لوگ ’دودھ کے دھلے‘ ہیں اور اپوزیشن بدعنوان ہے۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*