بنیادی صفحہ / خبریں / سرکاری امام احمد بخاری کے بیان سے ہندوستانی مسلمان نالاں

سرکاری امام احمد بخاری کے بیان سے ہندوستانی مسلمان نالاں

سید احمد بخاری

قطرکوحرمین شریفین کیلئےخطرہ اورمکہ،مدینہ پر قابض ہونے کی امیر قطر کی سازش کے ساتھ اخوان اور داعش میں کوئی فرق نہ کرناسرکاری امام کی دوغلی ذہنیت کا شاخسانہ: فیس بک پر ناقدین کا اظہار خیال
نئی دہلی:سرکاری امام جنہیں عرف عام میں شاہی امام بھی کہا جاتا ہے اور جو مولاناسیداحمدبخاری سے موسوم ہیں کے قطر اور سعودی عرب کے مابین سفارتی معاملات پر دئے گئے بیان پر ہندوستانی مسلمان انتہائی برہم ہیں۔ فیس بک پوسٹ کے ذریعہ لوگوں نے اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے جہاں سید احمد بخاری کو سرکاری امام قرار دیا ہے وہیں لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ مفاد پرست آدمی ہیں اور ذاتی منفعت کے لئے اپنا دین و ایمان ہر الیکشن کے موقع پر فروخت کرتے رہتے ہیں۔لہذا ایسے میں جبکہ معاملہ دو ملکوں کے مابین کا ہے سرکاری امام نے اپنی دوغلی ذہنیت کا ثبوت پیش کیا ہے۔ واضح رہے کہ سید احمد بخاری نے گذشتہ روز کہا تھا کہ خلیجی تعاون کونسل کے چھ اسلامی ممالک نے قطر کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ قطر پر الزام ہے کہ وہ دہشت گردوں کی مدد کرتا ہے اور سعودی عرب کے معاملات میں مداخلت کی کوشش کرتا رہا ہے۔ ابھی حال ہی میں اس نے حرمین شریفین کا انتظام کسی عالمی ادارے کے ہاتھوں میں سونپنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کا مقصد اس معاملے پر عالم اسلام میں انتشار و اختلاف پیدا کرانا اور حج کے سیزن یا عمرہ کے سیزن میں بدانتظامی کا ماحول پیدا کرنا ہے۔ سعودی عرب نے قطر کے اس مطالبے کو اپنے خلاف اعلان جنگ قرار دیا ہے اور وقت آنے پر کارروائی کرنے کی بات کہی ہے۔
شاہی امام نے کہاکہ ماضی میں خادم الحرمین الشریفین ملک عبداللہ بن عبدالعزیز کی دعوت پرامیربحرین، امیرقطر، نائب صدرامارات،ولی عہد ابوظہبی خادم الحرمین الشریفین کے پاس جمع ہوئے اورسابقہ معاہدوںپرغورخوض کیاگیا ۔ اور ایک ضمنی معاہدہ بھی عمل میں آیا جس میں بہت ساری شقوں کے علاوہ ایک شق یہ بھی تھی کہ معاہدہ ریاض کی کسی ایک دفعہ یا اس کے نفاذ کے طریقہ¿ کار کی خلاف ورزی پورے معاہدے کی خلاف ورزی مانی جائے گی۔ اس کے بعد بھی مختلف معاہدے ہوئے، بات چیت ہوئی۔ مگرقطرنے کسی بھی معاہدے پر عمل نہیں کیا اورحکومت سعودی عربیہ کے خلاف اپنی سازشوں میں مصروف رہا۔
مولانابخاری نے کہاکہ قطر کی یہ خطرناک سازشیں نئی نہیں ہیں بلکہ تقریبا 20 برسوں سے یہ سلسلہ چل رہا تھا۔ حکومت سعودی عربیہ اور دیگر ممالک ایک عرصے سے صبرسے کام لے رہے تھے۔ قطر کی سازش کا خطرناک پہلو یہ ہے کہ وہ حرمین شریفین کیلئے خطرہ بن چکاہے اور وہ مکہ مکرمہ اورمدینہ منورہ پر قابض ہوناچاہتا ہے۔ دنیا کا کوئی بھی مسلمان قطعاً یہ نہیں برداشت کرے گاکہ اس پاک سرزمین کو دنیا کا کوئی ملک سیاسی اکھاڑہ بنائے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ حکومت سعودی عربیہ جس طرح حرمین شریفین، حجاج کرام اور معتمرین کی خدمات انجام دیتارہاہے اس کا اعتراف ہمیں ہی نہیں بلکہ دنیا کے مسلمانوںکو ہے۔ اوردنیا کاکوئی بھی ملک اس طرح خدمت انجام نہیں دے سکتا، جس طرح آج سعودی حکومت انجام دے رہی ہے۔
انہوںنے کہاکہ قطرپر جو الزامات ہیں وہ بے بنیاد نہیں ہیں۔ یہ وہی ملک ہے جو دنیا کے دہشت گردوںکی پشت پناہی کے ساتھ ساتھ ان کو ہر طرح کی مدد پہنچتارہاہے۔ ان دہشت گرد تنظیموں میں داعش اور اخوان المسلمین شامل ہیں۔انہوں نے کہا حیرت ہے کہ امیر قطرکا سیاسی مشیر عزمی بشارہ اسرائیلی شہری ہے اور وہاں کی پارلیمنٹ کا ممبربھی ہے۔اس سے ظاہرہوتاہے کہ قطر اسلام دشمن طاقتوںکے ساتھ ملاہواہے اور ان قوتوں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے کہ جو خلیج میں اورخاص کر سعودی عربیہ میں بدامنی کاماحول پیداکررہے ہیں۔
مولانابخاری نے کہاکہ سعودی عرب قطر کو معاہدہ کی مسلسل خلاف ورزیوں کی یاد دلاتارہا اور سازشوں کو ختم کرنے پر زوردیتا رہا۔قطرکو اس کیلئے خاصا وقت دیاگیا مگر وہ اپنی سازشوں سے باز نہیں آیا۔ بالآخر سعودی عرب سمیت دیگرممالک نے قطرسے سفارتی تعلقات ختم کرلئے اور سمندری اور ہوائی راستوں پر پابندی لگادی۔ چونکہ وہ اپنی سازشوں سے باز نہیں آرہا تھا اس لیے یہ فیصلہ بدرجہ¿ مجبوری کیا گیا۔ اگر قطر سعودی عرب کے اندورنی معاملات میں مداخلت اور داعش، اخوان المسلمین وغیرہ جیسی تنظیموں کی مدداور حمایت بند کردے تو مصالحت کے راستے نکل سکتے ہیں۔ لیکن افسوس ایسا لگتا ہے کہ قطر اب بھی مصالحت کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس نے پڑوسی ممالک اور امت مسلمہ کے ساتھ بہتر تعلقات کو ترجیح نہ دیکر اسلام دشمن طاقتوں سے تعلقات کو قائم رکھنے کو ترجیح دی۔ امیرقطر کو چاہئے کہ وہ ایک بارپھر اپنے رویہ پر غورکریں تاکہ خلیج میں امن وامان کی فضاءقائم ہو۔ اگر قطر چاہتا ہے کہ اس پر عاید پابندیاں ختم ہوں اور جو تعطل پیدا ہوا ہے وہ دور ہو تو اسے اپنے رویے پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور اسلام دشمن طاقتوں کے ہاتھوں میں کھیلنے کے بجائے امت مسلمہ کے ہاتھوں کو مضبوط کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
واضح رہے کہ امام بخاری کا یہ بیان کسی کے دباؤمیں لگ رہاہے ،معتبر ذرائع سے معلوم ہواہے کہ امیر قطر نے سعودی سفیر سے اپنے تعلقات کو مزید بڑھانے کیلئے یہ بیان دیاہے ۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*