بنیادی صفحہ / نظریہ و تجزیہ / میانمار کے دہشت گرد بدھوں کا 969 نمبر بمقابلہ 786

میانمار کے دہشت گرد بدھوں کا 969 نمبر بمقابلہ 786

budhist terror

اوریا مقبول جان
بدھ بھکشوؤں کی طرح‌سرکے بال منڈوائے، گیروے رنگ کے ان سلے کپڑے پہنے، 20 جون 2013 ء کوٹائم میگزین کوانٹرویودیتے ہوئے اس نے کہا “آپ میں محبت اورشفقت کوٹ کوٹ کربھری ہو پھربھی آپ ایک پاگل کتے کے ساتھ نہیں‌ سوسکتے. اگرہم کمزورہوگئے توہماری زمین تک مسلمان ہوجائے گی.‌ آشن وراتھ Ashin Wirathu یہ وہ شخص ہے جوبرما کی بدھ قومی تحریک 969 کا سربراہ ہے. اس تحریک کا مقصد برما میں‌ مسلمانوں کی آبادی کوبڑھنے سے روکنا ہے. اس تحریک کا نام مہاتما بدھ کے بتائے گئے اصولوں پررکھا ہے. 9 کا ہندسہ ان نوصفات کی جانب اشارہ کرتا ہےجوبدھ کے ساتھ منسوب ہیں، 6 کا ہندسہ بدھ دھرم کے چھ اصول ہیں اورپھر9 کا ہندسہ بدھا سنگھا یعنی بدھ بھکشوؤں کے اوصاف کی جانب اشارہ کرتا ہے. اس تحریک کے خدوخال 1990ء کے آس پاس لکھی جانے والی کتاب میں ملتے ہیں جس برما کی وزارتِ مذہبی امورکے آفیسر کاؤلیون Kywo Luin نے تحریر کیا. اس نے علم الاعداد کی بنیاد پراس تحریک کومسلمانوں کے مقابل تحریک قراردیا. اس نے لکھا کہ چونکہ مسلمان بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے اعداد 786 لکھتے ہیں اورپورے برِصغیر میں‌ وہ انہی اعداد کو اپنی تحریروں سے پہلے اورکاروباری اداروں کے باہرتحریر کرتے ہیں اس لیے ہمیں ان کے مقابلے میں‌ زیادہ طاقتوراعداد کا سہارا لینا چاہیے اوراعداد کی دنیا میں 9 سے طاقتورکوئی عدد نہیں بنتا اوراگر 9 اور6 کوملا کررکھا جائےتویہ ایک پورا دائرہ بن جاتا ہے (69) یعنی آپ کو ان اعداد کی موجودگی میں شکست نہیں ہوسکتی. 969 عالمی تکوینی نظام میں 786 کا مخالف ہے. (Cosmological opposite) آشن وراتھونے سب سے پہلے مسلمانوں کی دوکانوں اورکاروبار کے بائیکاٹ کی مہم چلائی جوکامیاب ہوگئی. یہ تحریک اس قدرزورشورسے مسلمانوں کے خلاف چلائی گئی کہ پورے برما میں ایک شدت پسند گروہ منظم ہوگیا. برما ابھی تک فوجی مارشل لاء کے زیرِ اثرتھا مغرب کی لاڈلی اورنوبل انعال یافتہ آنگ سانگ سوچی ضمیرکی قیدی تھی اوربرسرِ اقتدار نہیں آئی تھی لیکن جیسے ہی جمہوریت نے برما میں‌ قدم رکھا 16 مارچ 1997ء کودوپہر ساڑھے تین بجے 969 موومنٹ کے بدھ بھکشومسلمانوں‌ کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے ان کی آبادیوں میں‌ داخل ہوئے مسجدوں پرحملہ کیا. قرآن پاک نذرآتش کیے، گھروں‌ اوردوکانوں کولوٹا اورمسلمان اپنے قصبہ مندالہ سے دوسرے شہرہجرت کرگئے. چارسال بعد 2001ء میں ایسے ہی حملے تانگوشہرمیں ہوئےلیکن 2012ء کے قتل عام نے دنیا بھرمیں سنسنی کی لہردوڑا دی. تین جون کو 969 کے بدھ بھکشوؤں‌ نے گیارہ مسلمانوں کوبسوں سے اتارکرقتل کیا اورپھرپچاس دنوں تک ان کے خون کی ہولی کھیلی جاتی رہی. ٹیک ایک سال بعد جون 2013ء‌ میں ٹائم میگزین نے اپنے سرورق پرآرشن واتھو کی ایک تصویرچھاپی اورمضمون کا نام رکھا The face of Buddhist terror، بدھ ازم کا دہشت گرد چہرہ. مضمون کے چھپتے ہی اس پربرما میں پابندی لگا دی گئ اوربرما کی حکومت نے سرکاری سطح پرٹائم میگزین سے احتجاج کیا. آشن وارتھو نے ایک بڑے جلوس سے خطاب کیا اورکہا مسلمان شدت پسند اس مضمون کے پیچھے ہیں اوربرما میں جہاد کوپھیلانا چاہتے ہیں. لاکھوں لوگ سڑکوں پرنکلے ہوئے تھے اوران کے ہاتھوں میں پلے کارڈ تھے جن پرلکھا ہوا تھا وارتھونسل، زبان اور مذہب کا محافظ ہے. اس تحریک نے پوری دنیا کے بدھ مذہب سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں کواکھٹا کرنا شروع کیا ستمبر2014ء میں کولمبو سری لنکا میں بدھ بھکشوؤں کی عالمی کانفرنس ہوئی جسے سری لنکا کی شدت پسند تنظیم بود بالاسینا Bodu Bala Sena نے منظم کیا. یہ تنظیم 2012 میں‌ قائم ہوئی. اپنے قیام کے فوراً بعد فروری 2013ء‌ میں اس نے حلال ذبیحہ کے سرٹیفیکیٹ جاری کرنے کے خلاف تحریک شروع کی. سری لنکا کے مسلمانوں کے لیے حلال گوشت فراہم کرنے کے سرٹیفیکیٹ جاری کیے جاتے تھے جسے آل سیلون جمیعت العلماء جاری کرتی تھی. بودبالاسینا نے کہا حلال گوشت کے کاروبارکرنے والوں سے فیس لی جاتی ہے جسے اسلام کی اشاعت و تبلیغ پرخرچ کیا جاتا ہے. اس طرح مسلمان سری لنکا میں ایک مذہبی خوراک کے نظام کو ترویج دے رہے ہیں. بودبالاسینا نے تمام حلال گوشت کی دوکانوں کو 17 فروری 2013ء تک وقت دیا کہ یہ سرٹیفیکیٹ سسٹم بند کرو ورنہ ہم زبردستی یہ کاروباربند کردیں‌ گے. دنگے فساد شروع ہوئے. گیارہ مارچ 2013ء کو‌حکومت اورچیمبرآف کامرس کے افراد نے مسلمانوں کوراضی کیا کہ وہ حلال گوشت پرحلال کا سرٹیفیکیٹ چسپاں نہیں کریں گے. بود بالاسینا نے ان تمام لوگوں کو خوفزدہ کیا جواس معاہدے میں شامل تھے اورکہا کہ حلال گوشت کے سرٹیفیکیٹ چسپاں کرنے کی بات نہیں یہ سسٹم ہی ختم ہونا چاہیے اور 13 مارچ 2013ء‌ کو سری لنکا کی حکومت نے یہ کہ کرجمیعت العلماء سے یہ اختیار واپس لے لیا کہ اس پرنیا قانون بنایا جائے گا جو آج تک نہیں بن سکا. 12 جون 2014ء کو مسلمانوں کے خلاف قتل و غارت شروع ہوا “دھرگہ” کے قصبے میں‌ مسلمانوں کے گھروں اوردوکانوں کو لوٹا گیا، آگ لگائی گئی، پورے قصبے کے لوگوں نے مسجد میں پناہ لی. دس ہزاربے گھرہوگئے اوربے سروسامان بھی. آشن وارتھواس بودبالاسینا کی کانفرنس میں شریک ہوا اس نے تقریر کرتے ہوئے کہا “مسلمان بنیادی طورپربرے ہیں. ان کا مذہب انہیں‌ ہرمخلوق کوقتل کرنے کی اجازت دیتا ہے. اسلام ایک چوروں کا مذہب ہے اوران کی موجودگی میں زمین پرامن نہیں ہوسکتا” اس نے قانون کے وہ مسودے پیش کئے کہ کوئی بدھ عورت کسی غیربدھ مرد سے شادی نہیں کرسکتی اورکہا کہ یہ ہم اس لیے کررہے ہیں کہ تمام مذاہب میں امن قائم ہو. راتھو نے اپنی اس تحریک کودنیا بھرکے بدھوں میں پھیلایا جبکہ برما اس کے نظریات کا مکمل طورپراسیرہوگیا. برمی پولیس، فوج اوردیگرادارے 969 کے بھکشوؤں کے مسلمانوں کو لوٹنے آگ لگانے، قتل کرنے، خواتین سے جنسی زیادتی کرنے، بچیوں کوہلاک کرنے میں شروع دن سے مدد دیتے رہے ہیں.

کیا روہنگیا کا مسئلہ صرف اورصرف مسلمان اقلیت کا مسئلہ ہےجو وہاں‌ انادرتھ نامی بادشاہ کے زمانے 1055 عیسوی سے آباد ہے. یہ اچانک چند سالوں سے ان مسلمانوں کا خون کیوں ارزاں کردیا گیا ہے اورتمام عالمی ضمیرچپ ہے. یہاں تک کہ کوئی پڑوسی ملک بھی ان مظلوم لوگوں کو پناہ دینے کے لیے تیار نہیں‌ ہے. وہ زمین جس پرمسلمان آباد ہیں اپنی زراعت خصوصاً چاول اوراپنی معدنیات خصوصاً قیمتی پتھرJade کے لیے مشہورہے. یہ سرزمین جومسلمان روہنگیائی کی ملکیت ہے وہاں والمی استعماری کنسلٹنٹ پہنچ چکے ہیں یہ وہ Economic hitman یعنی معاشی غارت گرہیں‌ جو وہاں فیکٹریاں لگانا چاہتے ہیں اورقیمتی پتھروہاں‌ سے لے جانا چاہتے ہیں. یہ سبز دودھیاپتھرشنگہائی اورہانک کانگ کے سناروں کوارب پتی بنا سکتاہے. گلوبل وٹنس Global Witness نے برما میں اس پتھر کی کل مالیت 31 ارب ڈالر بتائی ہے. دنیا بھر کے تاجر جن میں خصوصاً چینی تاجرشامل ہیں برما میں موجود ہیں اوراس پتھرکی سمگلنگ کا کاروبارکرتے ہیں. مسلمان چونکہ چاول لگاتے تھے توپہلے چاول کی ایک ضلع سے دوسرے ضلع لے جانے پرپابندی لگائی گئی پھرمسلمانوں کے کاروبار کا بائیکاٹ کیا گیا اور‌آخر میں ان کا قتل عام. اب دہشت گردبدھ بھکشو ان خالی کئے گئے علاقوں سے سمگلنگ کا کاروبارکرتے ہیں. گزشتہ دنوں مئی میں جب ان مظلوم روہنگیا مسلمانوں نے ہتھیاراٹھانے کا فیصلہ کیا توپوری دنیا کو جہاد کا خطرہ پڑگیا. یکم مئی 2017ء کو چین نے برما اوربنگلہ دیش کو اس مسئلہ میں ثالثی کی پیشکش کی. چین بنگلہ دیش میں سڑکیں اوربجلی کے منصوبے بنانے اوراسلحہ سازی میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کرچکاہے اسی طرح اس نے برما میں بھی ایسے منصوبوں پرسرمایہ کاری کی ہے. برما کا اراکان، بنگلہ دیش کا کاکس بازار اورچین کایونان صوبہ وہ علاقہ ہے جومسلمانوں پرظلم وتشدد کے مزید دوردیکھنے والا ہے. امریکہ نے ڈیڑھ ارب ڈالر کے خرچے سے ارکان کے علاقے سے ایک پائپ لائن بچھائی ہے جو خلیج بنگال کے پانیوں سے ہوتی چین کے صوبے یونان تک جاتی ہے جہاں سے برما کے تیل کی سپلائی چین کومہیا ہوگی اورامریکہ اس میں منافع کمائے گا. ابھی تک اس کی سپلائی شروع نہیں ہوسکی کیونکہ وہاں مسلمان آبادی کا انخلاء مکمل نہیں ہوا. مسلمان نکلیں گے توامن ہوگا اورتجارت شروع ہوگی.
سرمایہ داری کے بدمست ہاتھی اپنے مفادات کے لیے روہنگیا مسلمانوں کا خون کروارہے ہیں. عالمی ضمیرکے یہ ٹھیکیدارلوٹ مارمیں متحد ہیں پوری دنیا میں رنگ ونسل، زبان بلکہ کسی اورمذہب کے نام پربھی آپ قتل عام کریں آپ دہشت گرد نہیں. لیکن امریکہ کا ڈونلڈ ٹرمپ بھی اورچین، روس سمیت برکس کے ممالک بھی مسلمانوں کو دہشت گرد کہں گے. کیا یہ امت خطرہ بھانپ رہی ہے؟

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*