بنیادی صفحہ / نظریہ و تجزیہ / ہندوستانی مسلمانوں کو تین طلاق پر سپریم کورٹ کا فیصلہ تسلیم کرنا چاہئے

ہندوستانی مسلمانوں کو تین طلاق پر سپریم کورٹ کا فیصلہ تسلیم کرنا چاہئے

فرینک ایف اسلام

فرینک ایف اسلام

فرینک ایف اسلام

گذشتہ 22 اگست کو سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا کہ تین طلاق، یعنی  جس کے ذریعہ شوہر  اپنی بیوی کو ایک ہی نشست میں تین بار طلاق کہہ کر چھوڑ سکتا ہے،  غیر قانونی ہے۔ جیسا کہ اندازہ تھا اس فیصلہ پرکئی مسلم لیڈران اور تنظیموں کی طرف سے تنقید کی گئی۔کچھ لوگوں نہ کہا کہ یہ ان کے مذہب اور طرز زندگی پر ایک حملہ ہے تو کچھ لوگوں کا ماننا تھا کہ اس طرح کے ایشوز کو  ایک سازش کے تحت اچھالا جا رہا ہے۔

حالاں کہ یہ سوچ مایوسی اور صحیح حقائق سے آگاہی نہ ہونے کی عکاس ہے۔ یہ فکر نہ صرف غلط ہے بلکہ یہ غلط سمت اور گمراہی کی طرف لے جاتی ہے۔

muslim-women

میں نے اس فیصلے کے بعد اطمئنان کا اظہار کیا کیوں کہ میرا یقین ہے کہ مسلمانوں میں تین طلاق کئی وجوہ سے غلط اور غیر قانونی ہے۔ایک نشست میں تین طلاق ایک افسوس ناک، شرمناک اور کسی کی عزت کو مجروح کرنے والا عمل ہے۔ مزید یہ کہ یہ عمل مسلم عورتوں کو نیچا دکھانے، ان کی غلط تصویر کشی کرنے ، ان کو بد دل اور پست حوصلہ کرنے والا ہے ۔ سب سے اہم بات یہ کہ، جیسا کہ ایک جج نے اشارہ کیا، تین طلاق قرآن کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ شاید اس کو دیکھتے ہوئے ہندوستان کے دو بڑے پڑوسی ممالک پاکستان اور بنگلہ دیش بھی اپنے یہاں اس عمل کو کالعدم قرار دے چکے ہیں۔

اس کے علاوہ ایسا سوچنا ہی بالکل غیر مناسب ہے کہ آدمی نے جس عورت کے ساتھ  شادی کی ہے ، وہ عورت جو اس کے بچوں کی ماں ہے  اس کو بلا وجہ  ایک لفظ کو تین بار ادا کرکے چھوڑدیا جائے اور اس کو گھر سے نکال باہر کردیا جائے۔تین طلاق میں  اس لحاظ سے بھی بھید بھاؤپایا جاتا ہے کہ اس کا اختیار صرف مرد کو ہےاور عورت کو اسی طرح سے شادی ختم کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

ادھر کچھ سالوں میں کچھ مسلم تنظیموں نے تین طلاق کے حق میں یہ دلیل دی کہ مسلمانوں میں دوسری قوموں کی بہ نسبت طلاق کی شرح نہایت ہی کم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے محض مسلم عورتوں کےایک فیصد کا تہائی حصہ متاثر ہے۔  یہ دلیل نہ تو اخلاقی لحاظ سے درست ہے نہ قانونی لحاظ سے۔یہاں تک کہ اگر کسی کا ماننا یہ ہے کہ تین طلاق سے انتہائی کم لوگ متاثر ہیں تو بھی کسی ناانصافی کو قانونی سند حاصل نہیں ہونی چاہئے چاہے متاثرین کی تعداد کچھ بھی ہو۔

تین طلاق پر یہ فیصلہ تاریخی نوعیت کا ہے جو کہ حقوق نسواں کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کی لمبی جدوجہد کا مرہون منت ہے۔قلم کےایک وار سے جج حضرات نے اس عمل کو یکلخت غیر قانونی قرار دے دیا جو کئی دہائیوں سے نہ جانے کتنی عورتوں کی زندگی تباہ کر رہا تھا۔

ہندوستانی مسلم عورتوں کے حوالے سے بہتر تحقیق کے فقدان کی وجہ سے یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اس طریقے سے کتنی عورتیں مطلقہ ہوئی ہیں۔ تاہم عورتوں کے حقوق کے

لئے کام کرنے والی تنظیم بھارتیہ مسلم مہیلااندولن کے سال  2013 کے   ایک سروے کے مطابق جن لوگوں کا سروے کیا گیا ان میں سب سے زیادہ طلاق ا نشست میں تین طلاق پر ہی ہوا ہے۔

کل 4710 عورتوں پر یہ سروے کیا گیا ۔ ان میں سے 525 کو طلاق ہوئی تھی جس میں سے 404 کو ایک نشست میں تین طلاق کے ذریعہ طلاق دی گئی تھی۔ 80فیصد سے زیادہ کو طلاق کے وقت کسی طرح معاوضہ نہیں دیا گیا تھا۔

دو ججوں نےاس عمل کی آئینی حیثیت پر اختلاف کیا ہے۔ تاہم سارے جج حضرات  جنہوں نے  تین طلاق پر فیصلہ دیا ہے ، نے حکومت سے 6مہینہ کے اندر مسلم شادی اور طلاق کے سلسلے میں قانون بنانے کے لئے کہا ہے۔

 واقعہ یہ ہے کہ ہندوستان کے نظام انصاف میں بہت ساری خامیاں ہیں لیکن اس معاملے میں سپریم کورٹ کے ایک بروقت اور صحیح فیصلہ کا خیر مقدم کیا جانا چاہیئے۔  اب اس کی تعمیل حکومت کو کرنا ہے۔ عوامی نمائندوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایسی پالیسیاں متعارف کرائیں جس سے مسلم عورتوں کی زندگی میں بہتری آئے۔

مسلم شادی اور طلاق کے لئے مساوات پر مبنی قانون اس جدوجہد کا نقطہ آغاز ہوگا۔ مرکزی اور ریاستی حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر ذات برادری اور مذہب کی عورتوں کو بااختیار بنانے کے لئے پالیسی بنائیں۔ ان پالیسیوں کے ذریعہ عورتوں کی تعلیم اور ان کے اندر پنہاں صلاحیتوں کو نکھارنے   اور انہیں موجودہ افرادی قوت کار کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔اس طرح سے ان کو بااختیار بنانے کی وجہ سے وہ خود اپنی قسمت سنوارنے کے لئے آگے بڑھیں گی اور اس سے معاشی  آزادی بھی آئے گی۔ اس کے علاوہ اس کے ذریعہ عورتوں کا تحفظ اوراستحکام بہترہو گا اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے اندر خود اعتمادی بھی پیدا ہوگی۔

ہندوستان کے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو تسلیم کریں۔ وہ متحد ہوکر کہیں کہ تین طلاق کو ختم کرو، تین طلاق کو ختم کرو، تین طلاق کو ختم کرو۔ان کو اس فیصلےکو عورتوں کے حقوق کے سلسلے میں انتہائی ضروری اصلاحات  متعارف کرانے کے لئے استعمال کرنا چاہئے۔

فرینک ایف اسلام امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں مقیم ایک کامیاب ہند نژاد تاجر، مخیر اور مصنف ہیں۔ ان سے ان کی ویب سائٹ کے ذریعہ رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

www.frankislam.com

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*