بنیادی صفحہ / خبریں / کتب خانہ سعیدیہ ‘حیدرآباد ‘میں نادر مخطوطات

کتب خانہ سعیدیہ ‘حیدرآباد ‘میں نادر مخطوطات

مو لا نا ابو ا لکلام آزاد  حیدرآباد  میں

مو لا نا ابو ا لکلام آزاد حیدرآباد میں

حیدر آباد: کتب خانہ سعیدیہ کا مختصر سا تعارف :کتب خانہ سعیدیہ ‘ حیدرآباد‘ شیخ الاسلام مفتی محمد سعید خان صاحب مرحوم کی مقد س امانت ہے ۔
مولانا سید سلیمان ندوی صاحب مرحوم نے کتب خانہ سعیدیہ کے تفصیلی معائنہ کے بعد کتاب الرائے میں اپنی یہہ جچی تلحی رائے لکھی کہ ’’۔۔اس کتب خانہ میں تفسیر ‘ حدیث ‘فقہ واصول فقہ کی ناد ر قلمی کتابو ںکا اتنا ذخیرہ ہے جومیںنے مدینہ منورہ کے سوا اورکہیں نہیں دیکھا ‘‘
مفتی محمد سعید خان صاحب مرحوم کا ان کے اہل خاندان اورشہر حیدرآباد ہی نہیں بلکہ ساری علمی دنیا پر احسان ہے کہ انہوں نے کتب خانہ سعیدیہ میں بعض ایسی نا در قلمی کتابیں اپنی یادگا ر چھوڑی ہیں کہ تمام دنیا میں ان کی نظیر نہیں ہے ۔ مفتی صاحب نے نہ صرف آبائی اورخاندانی ذخیر ہ کتب کی حفاظت کی بلکہ بہت سی نایا ب ونادر کتابیں خرید خریدکر اپنے ذخیر ہ کتب میں اضافہ کیا ۔ پھر یہی نہیں بلکہ انہوں نے ذیلی براعظم ہندکے مختلف کتب خانو ںکے سوا مکہ مکرمہ ‘ مدینہ منورہ‘ بیت المقدس ‘ دمشق ‘ بیرو ت ‘ قاہرہ ‘ بغدا د‘ تہران اورشیراز کے علاوہ سمرقند وبخار ا یعنی روسی ترکستا ن کے علمی کتب خانو ںمیں جونادرقلمی مخطوطات تھے ان کی نقلیں آج سے سو ڈیڑھ سو سال پیشتر کروائیں ۔چنانچہ اس وقت کتب خانہ سعیدیہ میں کئی ہزا رنایاب عربی فارسی ‘ترکی ‘ اردو اورانگریزی مخطوطا ت ومطبوعات موجود ہیں ۔ستمبر ۱۹۳۴ء میں نواب سر نظا مت جنگ بہا در نے اس کتب خانہ کا اس کی موجودہ عمار ت واقع جام باغ روڈ حیدرآباد دکن میں افتتاح فرمایا اورکتب خانہ سعیدیہ ایک قومی اثاثہ بن کر تمام علمی دنیا کے استفادہ کے لئے عام ہوگیا ۔
کتب خانہ سعید یہ کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ایک طرف ہندوستانی علم و فنون ‘ ہندوستان کی تاریخ اورہندوستان کے تمدن اورخودہندوستان کے قدیم علماء جیسے علامہ صفانی ‘ شیخ علی متقی الہندی ‘ شیخ عبدا لحق محدث دہلوی ‘ شیخ احمد سرہندی ‘ حضرت مجدد الف ثانی ‘ شیخ علی المھائمی علامہ بہاری ‘ شہنشاہ عالمگیر کے استاد ملاجیون ‘ حضر ت شاہ ولی اللہ دہلوی ‘ اورمولانابحرالعلوم عبدا لعلی فرنگی محلی لکھنویٔ وغیر ہ کے نایاب غیر مطبوعہ اورکم یاب مطبوعہ کارنامے موجودہیں پھر اکثر وبیشتر کتابیں خودان مقدس ہستیوں کے مبارک ہاتھو ںکی لکھی ہوئی ہیں ۔دوسری طرف قدیم عرب مورخ ابن عساکرکی تاریخ دمشق ‘نامو ر مورخ ابن اثیر جزری (متوفی ۶۳۰ھ ) اسدالغابہ ‘ قدیم عصری مورخ ومحدث اورادیب شہاب الدین ابن حجرالعسقلانی (متوفی ۸۵۲ھ) ء ابناء الضمر فی ابناء المعرمحدث دیلمی کی سندالفردوس ‘ مشہور مصری محدث و مورخ علامہ سیوطی (متوفی ۹۱۱ھ ) اورنامو ر فارسی شاعر مولانا جامی ؔکے ہاتھوں کی لکھی ہوئی بے شمار کتابیں اس کتب خانہ کی زینت ہیں ۔گلستان سعدی کا ایک دیدہ زیب مصورقلمی نسخہ جودنیا کے بہترین نسخوں میں سے ایک ہے وہ بھی یہاں موجود ہے ۔ مصنفین ‘ یا ان کے شاگردو ںیا ہم عصروں کے ہاتھوں کی لکھی ہوئی بعض کتابیں خود ‘ بغدا‘ دمشق ‘ بیروت ‘ قاہرہ کابل ‘ ہرات ’ تہران اوراستنبول میں نہیں ہیں۔
جس طرح شمالی ہندمیں رامپور کا شاہی کتب خانہ رضا لائبریری اورمشرقی ہندمیں پٹنہ بہارمیں مولوی خدا بخش کا کتب خانہ اہمیت رکھتا ہے اسی طرح جنوبی ہند میں کتب خانہ سعیدیہ اہمیت رکھتاہے
بقول ڈاکٹر ذاکرحسین مرحوم صدرجمہوریہ ہند:’’میں سمجھتا ہوں کہ اسلامی علو م کی قلمی کتابوںکے اعتبار سے یہ کتب خانہ ہندوستان کے بہترین ذخیروںمیں شمار کیاجاسکتاہے جس خاندان نے اس کے ایک عالم کے لئے کارآمد بنانے کا ذمہ لے رکھاہے وہ قومی شکریہ کا مستحق ہے ‘‘۔کتب خانہ سعیدیہ میں تفسیر ‘ تجوید‘ حدیث ‘ سیرت ‘ فقہ ‘ کلام ہیئت ‘ طب ‘منطق ‘تاریخ اور تصوف وغیرہ مختلف علوم وفنون پر ہزاروں قلمی کتابیں موجودہیں ۔ ان کی بڑی تعداد آج بھی غیر مطبوعہ ہے صرف تصوف پر نہ صرف اردو میں بلکہ عربی فارسی اورترکی میں دوسو سے زیادہ مخطوطات اورکم یا ب مطبوعات موجودہیں ۔سلوک پر بھی متعددمخطوطات ونایاب مطبوعات موجودہیں جس طرح سند بادجہازی نے ہیرے جواہرات کی وادی سے چند چمکتے دمکتے جواہر چن لئے تھے اسی طرح کتب خانہ سعیدیہ جیسے قیمتی معدن کتب سے علم تصوف پر چند نادرمخطوطات چن کرآپ حضرات کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کرناچاہتاہوں ۔جس سے نہ صرف تصوف پرریسرچ کرنے والوں کوبلکہ علم تصو ف کی اردو‘عربی ‘ فارسی اورترکی زبانو ںکی نایاب مخطوطات کو ایڈٹ کرنے والوں کو فائدہ پہنچے گا ۔
کتب خانہ سعیدیہ میں علم تصوف پرعربی مخطوطات :
کتب خانہ سعیدیہ میں تصوف پر عربی میں بڑے اہم نایاب مخطوطات محفوظ ہیں ۔یہ مخطوطات زیادہ تر حضرت امام غزالی ‘ حضرت غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی ‘ حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی ‘ حضرت محی الدین ابن عربی ‘ عبدالکریم جیلی ‘ شیخ علی بہائمی السیوطی ‘ شیخ علی متقی الہندی ‘ ابو یحی ذکریا انصاری اورشیخ نورالدین ابراہیم الکروی کی ہیں ۔۱) اما م غزالی ؒ (متوفی ۵۰۵ھ) علمی حیثیت سے تصوف کو حضر ت امام غزالی سے وہی نسبت ہے جو منطق کو ار سطوسے ہے ۔
تصوف کی ابتدااگر چہ قرن اول میں ہوچکی تھی لیکن امام غزالی پہلے شخص ہیں جنہو ںنے علمی طور پر فن تصوف کو مرتب کیا ۔کتب خانہ سعیدیہ میں امام محمد بن محمدالغزالی کی حسب ذیل تصوف کی کتابیں مخطوطات کی شکل میں موجودہیں ۔
۱) رسالہ فی تولدہ الاالااللہ معنی نمن دخل معنی ابن بن غزالی کتابت قبل ۱۱۲۹ھ
۲) مشکلات الانوار نورصدقۃُ وذی البصراوالابصار
۲)حضرت شیخ عبدالقادرجیلانی (متوفی ۵۶۱ھ):
حضرت شیخ عبدالقادرکا شمار اولیاء کبار اورصوفیائے عظام میں ہوتا ہے آپ نے ایک ایسے دورمیں زندگی بسر کی جبکہ تصوف کاعروج تھا ۔منفردزمانہ اکابر اقطاب کو آ پ سے نسبت ر ہی ہے۔
کتب خانہ سعیدیہ میں حضرت غوث اعظم کی حسب ذیل مخطوطات تصوف پر موجودہیں ۔
۱) الجواہر المعنی للمساصرا لملتفط بن خلاصۃ المفاخرین کلام سیدنا عبدالقادریہ مخطوط محمد البخاری کے ہاتھ کالکھا ہواہے ۔۲) المحاکمۃ العادقۃ فی تحقیق قو ل الغوث الاعظم قدمی ھذہِ علی رقبۃٍکلِ ولیٍ۔
۳) حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی (متوفی ۶۳۲ھ)
بانی سلسلہ عالیہ سہروردیہ حضرت شیخ الشیوخ شہاب الدین سہروردی کاسلسلہ نسب بارہ واسطوں سے خلیفہ رسول اللہ حضرت سیدناصدیق اکبر پہنچتاہے حضور غوث پاک ؒ مثل اولاد کے عزیز رکھتے تھے حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی کی مشہور ومعروف کتاب ’’عوارف المعارف ‘‘ کے دومخطوطے کتب خانہ سعیدیہ میں موجو دہیں ایک مخطوطے کی کتابت ۹۸۶ھ میں ہوئی ہے اوردوسرے کی ۱۱۶۰ھ میں عوارف المعارف‘‘شائع ہو چکی ہے نیز اس کا ارد و ترجمہ بھی منظر عام پر آچکا ہے
۴) حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن العربی (متوفی ۶۳۸ھ )
حضرت شیخ ابوبکر محی الدین محمد ابن علی جوبالعموم ابن العربی (یا ابن عربی ) اورشیخ الاکبر کے نام سے مشہور ہیں حضرت شیخ عبدالقادرجیلانی ؒ کی تربیتی روحانی اولادمیں سے ہیں ۔ ’’وحدت الوجود کاعقیدہ انہیں سے منسوب ہے ۔ ابن عربی نے اپنی تصانیف کا جو عظیم ذخیرہ چھوڑاہے وہ ان کے زمانے کے تمام علوم اسلامی کا احاطہ کئے ہوئے ہے لیکن ان کا بیشتر تصانیف کا موضوع ’’تصوف ‘‘ہے ۔ابن عربی کے فلسفہ تصوف کی جڑیں اسلامی تصوف اورالہیات کی تاریخ میں گہری چلی گئی ہیں ۔حضرت ابن العربی کی سب سے مشہور ضخیم اہم اورآخری کتاب جس کی ۶۲۹ھ تالیف میں ختم ہوئی اورجو مکہ مکرمہ میں لکھی گئی ’’الفتوحات المکیہ فی معرفۃ الاسرار المالکیۃوالملکۃ‘‘ہے ۔اس کتا ب کی دونوں جلدیں کتب خانہ سعیدیہ میں موجودہیں ۔ یہ کتاب شائع بھی ہو چکی ہے اور اس کا اردو ترجمہ بھی ہواہے ۔ کتب خانہ سعیدیہ میں اس کی عربی شرح ’’شرح مشکلات المفتوحات المکیۃ وفتح الابواب المفلقات الدینہ ‘‘بھی موجودہے۔ اس کے شارح عبدالکریم جیلی بن ابراہیم بن الکریم الگیانی ہیں ۔
حضر ت ابن العربی کی دوسری اہم کتاب فصوص الحکم بھی ہے جو ۶۲۷ھ میں دمشق میں لکھی گئی ۔کتب خانہ سعیدیہ میں اس کتاب کا جو مخطوط ہے اس کی کتابت ۹۴۴ھ سے قبل ہوئی ہے ۔ ہندوستا ن کے محب اللہ بن عبدالشکور (علامہ بہاری ) نے فارسی میں اس کی شرح لکھی تھی ۔ کتب خانہ سعیدیہ میں ان کی شرح ’’فصوص الحکم‘‘بھی موجودہے ۔ اس کی کتابت ۱۲۳۴میں ہوئی ہے فصو ص الحکم شائع ہوچکی ہے اس کا اردو ترجمہ بھی ہواہے ۔
حضرت ابن العربی کی ’’الانوار فیماالفتح علی صاحب الخلوۃمن الاسرار‘‘ بھی کتب خانہ سعیدیہ میں موجودہے ۔یہ کتا ب مصر سے شائع ہوچکی ہے ۔ اس کے علاوہ ’’ردمعانی الآیات المتشابہات الی المعانی الآیات المحکمات ‘‘اور’’اصطلاحات الصوفیہ ‘‘بھی کتب خانہ سعیدیہ میں موجودہے ۔ یہ کتابیں بھی شائع ہوچکی ہیں ۔
اس طرح کتب خانہ سعیدیہ میں حضرت ابن العربی کی تصوف کی پانچ کتابیں موجودہیں ۔جو سب کی سب شائع ہوچکی ہیں۔
۵) عبدا لکریم بن ابراہیم الجیلی (متوفی ۸۲۰ھ )
حضر ت عبدالکریم بن ابراہیم ایک مشہور صوفی گذرے ہیں آپ کی وفات غالباً ۸۱۱ھ کے بعد اور۸۲۰ھ سے پہلے ہوئی ۔آپ بغدا دکے باشندے اورحضرت عوث اعظم ؒکی صاحبزادی کی اولادسے ہیں ۔اسی نسبت سے الجیلی کہلاتے ہیں ۔آپ کے خیالات شیخ اکبر محی الدین ابن العربی کی تعلیمات پر مبنی ہیں آپ کی کتاب ’’الانسا ن کامل ‘‘نے مراکش سے لے کر جاواانڈونیشیا تک علم تصوف پر گہرا اثرڈالاہے ۔آپ کی بہت ساری کتابیں معدو م ہوچکی ہیں ۔بیں ۲۰ کتابیں محفوظ ہیں ۔ حضرت عبدالکریم جیلی نے الفتوحات المکیۃ کی شرح لکھی ہے ۔جس کا تذکرہ اوپر ہوچکاہے ۔ کتب خانہ سعیدیہ میں اس شرح کے علاوہ آپ کی تصوف کی ایک اہم کتاب المناظر العلیہ ‘‘ بھی موجودہے ۔
ؐ۶) شیخ علی بہائمی (متوفی ۸۳۵ھ 🙂
فقیہ شیخ مخدوم علی بہائمی ‘ مولاناعبدالرحمن جامیؔ کے ہم عصرتھے دنونوںمیں خط وکتابت تھی ‘ شیخ مخدوم علی ‘ فقیہ مخدوم اسمعیل ومتوفی ۸۷۹ھ کے ہم عصر اوررشتہ دارتھے ۔ابن بطوطہ نے اپنے سفر نامہ میں ان دونوں مقدس ہستیوںکا تذکرہ کیاہے ۔
حضرت شیخ مخدو م علی بہائمی نے شیخ شہاب الدین سہروردی کی عوارف المعارف ‘‘کی شرح’’ زد ارف اللطایف شرح) عوارف المعارف کے نام سے لکھی تھی ۔ کتب خانہ سعیدیہ میں اس کا جونسخہ ہے ا س کی کتابت ۱۳۰۲ھ میں ہوئی ہے ۔
۷) السیوطی (متوفی ۹۱۱ھ 🙂
ابوالفضل عبدالرحمن بن ابی بکر کمال الدین مصر کے عہد مملوک کے بسیار نویس مصنف گذرے ہیں ۔ آپ ایرانی الاصل ہیں ۔ آپ کاخاندان پہلے بغداد میں مقیم رہاپھر مصرکے شہر السیوط میں آکر آبادہوئے اسی شہر کی نسبت سے السیوطی کہلائے ۔السیوطی بڑے جامع العلوم اوروسیع النظر عالم تھے ۔ آ پ کی چھوٹی بڑی تالیفات کی تعداد (۵۶۱) بتلائی گئی ہے ۔ انسائیکلوپیڈیا آف اسلام میں السیوطی کے کالم نگار نے آپ کی تفسیر حدیث ‘ فقہ ‘ نحو ’ تاریخ ’ سیر وتراجم کی کتابوں اورآپ کی شعرگوئی کاتذکرہ کیاہے لیکن تصوف کی کسی کتاب کا تذکرہ نہیں ہے ۔ کتب خانہ سعیدیہ میں السیوطی کے حسب ذیل عربی مخطوطات علم تصوف پرموجودہیں ۔
۱) القو ل الحلی فی تعدد صوررسول
۲) تائید الحقیقۃالعیلۃ وتشیدالطریقۃ الشاذلیہ
۳) نتیجہ الفکر فی الجھربالذکر
۸) شیخ علی متقی (الھندی ) متوفی ۹۷۵ھ:
شیخ علی متقی کی نعم المعیار والمقیاس لمفرقۃ مراتب الناس کامخطوطہ بھی کتب خانہ سعیدیہ میںمو جود ہے ۔
۹) ابویحی ذکریا انصاری الشافعی علم تصوف سے متعلق ابویحیی ذکریا انصاری کی دوکتابیں فتوحات الالٰہ فی نفع ارواح الذوات الانسانیہ اوراحکام الالالہ علی تحریر کتب خانہ سعیدیہ میں موجودہیں ۔ اول الذکر ناقص الآخر ہے ۔
۱۰) شیخ نورا لدین ابراھیم الکروی
شیخ نورالدین ابراہیم کی اتحاف الذکی شرح الخفۃ المرسلۃ الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم کامخطوطہ کتب خانہ سعیدیہ میں محفوظ ہے اس کی کتابت ۱۰۸۳ھ میں مصنف کے نسخہ سے ہوئی ہے ۔
تصوف کی حسب ذیل عربی کتابیں بھی کتب خانہ سعیدیہ میں موجودہیں ۔
۱) زبدۃ الرسائل الفاروقیہ وعمدتہ السایل الصوفیہ (یونس نقشبندی )۔ کتابت ۱۳۰۹ھ
۲) نتیجہ العلوم ونفیحہ علماء الرسوم (شیخ عبدلغنی النابلسی )کتابت ۱۳۰۹ھ ۔
۳) اصطلاحات الصوفیہ لطائف الاعلام باشارات اہل الایہام (عبدالرزاق قاشانی )
۴) التوجہ الاتم (صدرالدین القوبنوی )
۵) العقدہ المسمی بانورالزاہر ( ابوالعباس تاج الدین احمد بن محمد البکری )(عربی نظم )
۶) الطو ل فی تحقیق الاتحاد بالغو ر (ابراہیم بن الحسن الکروی ) ( تصنیف ۱۰۹۶ھ)
۷) رد التوفیق (محمد کریم الدین الحلونی )
ٌ۸) مقدمۃ السنہ فی الانتصار للفرقہ الینہ تقریب الشیخ ولی اللہ للرسالۃ الفارسیہ تالیف شیخ احمد سرہندی (شاہ ولی اللہ بن عبد الرحیم محدث )
۹) فلاح فی النصیحۃ والافتا ح (حجازی الخبیری الحمدی) (ناقص الآخر )
۱۰) رسالۃ فی لیس الخرقہ (محمد ابن عراق کتابت )۱۱۰۴ھ
۱۱) الفس التوحیدونزہتہ المرید (ابی مدین شعیب )
۱۲) مراۃ العارفین (مصنف نامعلوم )
کتب خانہ سعیدیہ میں تصوف پر فارسی مخطوطا ت :
کتب خانہ سعیدیہ میں تصوف پر فارسی میں میں نایاب مخطوطا ت محفوظ ہیں ۔ یہ مخطوطا ت زیادہ تر امام غزالی ‘ غوث اعظم ‘ جلال الدین رومی ‘ شیخ فریدالدین گنج شکر ‘ شرف الدین احمد یحی ہندی ‘سیدمحمد حسینی خواجہ بندہ نواز ‘ عبدالرحمن جامی ‘ حضرت مجددالف ثانی شیخ احمد سرہندی ‘ دارالشکوہ ‘ حضرت خواجہ محمد معصوم سرہندی ‘ سید علی محمدحسینی صبغتہ اللٰہی ‘ مرزا عبدالقادربیدل ‘ غلام یحی بہاری ‘ شاہ رئوف احمد نقشبندی وغیرہ کے زورقلم کانتیجہ ہیں ۔
۱) حضرت امام غزالی (متوفی ۵۰۵ھ 🙂
امام غزالی نے تصوف کو علمی حیثیت دی اورپہلی بار اسے ایک فن کی حیثیت سے مرتب کیا ۔ان کی عربی کتابوں کا تذکرہ اوپر ہوچکاہے ۔ کتب خانہ سعیدیہ میں ان کی تصوف کی ایک فارسی کتاب ’’الحرار حکمت‘‘ موجودہے ۔ امام غزالی کے بھائی احمد غزالی کی ’’ ایعینہ ‘‘ بھی کتب خانہ سعیدیہ میں موجودہے اس کی کتابت ۱۱۷۵ھ میں ہوئی ہے ۔
۲) حضرت غوث اعظم شیخ عبدالقادرجیلانی (متوفی ۵۶۱ھ:)
حضرت شیخ عبدالقادرجیلانی کے مکتوبات کے دومخطوطے کتب خانہ سعیدیہ میں موجودہیں جوفارسی میں ہیں ۔ ایک مخطوط مدراس کے مشہور شاعر غلام محی الدین معجز شاگرد باقرآگاہ کے ہاتھ کا ہے اوراس کی کتابت ۱۲۱۲ھ میں ہوئی ہے ۔
۳) مولانا جلال الدین رومی (متوفی ۶۷۲ھ:)
رومیؔ مولوی اورمولانا کے عرف سے بھی مشہورہیں ۔مولانا کے سلسلہ طریقت کو جلالیہ اورمولویہ کہاجاتا ہے اس سلسلہ کی خصوصیت سماع اوررقص کا ایک خاص انداز ہے ۔ مولانا کی تصانیف میں منظوم اخلاقی تصنیف ’’مثنوی معنوی ‘‘ کوغیر معمولی شہرت حاصل ہے ۔ بر صغیر ہندوپاک میں مثنوی مولانا روم کا شمارادبیات فارسی کی مقبول ترین کتابوںمیں ہوتاہے ۔ یہ چھ دفتروںمیں ہے ۔ اس کی لاتعدادشرحیں ترجمے اورفرہنگ لکھے گئے ہیں (اردو میں بھی مثنوی کے متعددمنثورومنظوم تراجم ہوچکے ہیں ۔ علامہ اقبال کی بدولت ایک دبستان رومی کی بنیادپڑی اورعلامہ اقبال کے نقطہ نظرسے افکاررومی ؔکاتجزیہ ہونے لگا ) کتب خانہ سعیدیہ میں ’’مثنوی معنوی‘‘ کے چھ دفتر موجودہیں ان کی کتابت ۱۰۹۸ھ میں ہوئی ہے ۔ مثنوی کی فارسی شرح بھی موجودہے جس کے مرتب عبداللطیف بن عبداللہ ہیں ۔ مثنوی کی اردو شرح ’’کشف العلوم ‘‘بھی موجودہے ۔ مولانارومی کے دوفرزند تھے علائو الدین محمد اورسلطان ولد ۔ کتب خانہ سعیدیہ میں احمد رومی کی ’’وقایق الحقایق ‘‘موجودہے ۔پتہ نہیں یہ احمدرومی کون تھے ۔
۴) بابا شیخ فریدالدین گنج شکر (متوفی ۶۸۰ھ 🙂
باباشیخ فریدالدین کے والد جمال الدین سلمان ‘ محمود غزنوی کے بھتیجے تھے ۔ شہاب الدین غوری کے عہد میں ملتان آئے اوریہیں بابافرید ۵۸۰ھ میں پیداہوئے ۔ آپ حضرت قطب الدین بختیارکاکی کے مرید اورخلیفہ تھے ۔ بابا فرید کے اکثر مقولے ’’ ملفوظات ‘‘ اور’’جواہر فریدی ‘‘میں محفوظ ہیں ۔
کتب خانہ سعید یہ میں حضرت بابا صاحب کے ملفوظات مخدوم بدرالدین اسحٰق کے جمع کردہ اورعبدالنبی کی تحریر میں موجود ہیں ۔
۵) شرف الدین احمد یحییٰ منیری (متوفی ۷۶۲ھ 🙂
شیخ شرف الدین احمد کا تعلق بہار کے مشہور صوفی خاندان سے تھا ۔ (آپ کے زہدواتقاء کا دوردورتک چرچاتھا ) فارسی میں آ پ کی دوکتابیں ارشادالسالکین اورشرح آداب المریدین بیا ن کی کی جاتی ہیں ۔ آپ کے مرید خاص زین بدر عربی نے ۷۴۹ھ میں ’’معدن المعانی ‘‘ کے نام سے آپ کے ملفوظا ت کامجموعہ تالیف کیاتھا ۔ کتب خانہ سعیدیہ میں شیخ شرف الدین احمد کے دوصدمکتوبات موجودہیں جو فارسی میں ہیں اس کی کتابت ۱۱۴۲ھ میں ہوئی ہے ۔
۶) حضرت سید محمد حسینی خواجہ بندہ نواز گیسودراز ( متوفی ۸۲۵ھ 🙂
حضرت شاہ راجو قتال سید یوسف کے فرزند سید محمد حسینی جن کانام محمد کنیت ابوالفتح اورلقب صدرالدین ہے عام طور پر حضرت خواجہ بندہ نواز گیسودراز کے لقب سے مشہورہیں ۔ آپ حضرت خواجہ نصیر الدین چراغ دہلوی کے مرید اورخلیفہ تھے۔ حضرت خواجہ بندہ نوازکے کمال وعظمت کے اکثر معاصرین اورمتاخرین معترف ہیں ۔ حضرت اشرف جہانگیر سمنانی ایک مدت تک گلبرگہ میں خواجہ صاحب کی خدمت میں رہ کر ان کے فیضان ظاہر ی وباطنی سے مستفید ہوئے تھے ۔ خواجہ صاحب کی تصانیف کی تعد اد کے بار ے میں اکثر علماء میں اختلاف ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ آپ تصانیف کثیر ہ کے مالک ہیں ۔ یو ںتو چشتیہ طریقہ کے بزرگوں میں خواجہ حسن بصری سے حضرت خواجہ نصیر الدین چراغ دہلوی تک اس سلسلے کے سارے بزرگ صاحب تصنیف وتالیف تھے لیکن تصانیف کی تعداد اوراہمیت ہر لحاظ سے حضرت خواجہ بندہ نواز کے پایہ کو ئی نہیں پہنچا۔ خواجہ صاحب کی تصانیف عربی فارسی اور اردو تینوں زبان میں ملتی ہیں ۔حضر ت خواجہ صاحب کی ’’معرا ج العاشقین ‘‘حالیہ تحقیق کی روسے ان کی تصنیف نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ خواجہ صاحب کی ایک فارسی کتاب ’’وجود العاشقین ‘‘ بھی بیان کی جاتی ہے ۔لیکن کتب خانہ سعیدیہ میں خواجہ صاحب کی ’’برہان العاشقین ‘‘موجودہے ۔ تصوف کی یہ کتا ب فارسی نثرمیں ہے ۔
۷)مولانا عبدالرحمن جامی (متوفی ۸۹۸ھ 🙂
مولانا جامیؔ جلیل القدر شاعر ‘ نامور عالم اوربرگزیدہ صوفی تھے ۔ ھرات اورسمرقندمیں علوم اسلامی اورتاریخ وادب کی تعلیم پاکر کمال حاصل کیاپھر تصوف اورعرفان کی طرف متوجہ ہوئے اورسعدالدین محمد الکا شفری کو اپنا رہنما اورروحانی مرشد بنایا آپ حضر ت بہاء الدین نقشبندی کے مرید اورخلیفہ بھی تھے ۔ جامی کے حالات ان کے گہرے دوست اورنامو ر عالم میر علی شیر نوائی نے قلمبندکئے ہیں ۔ مولانا جامی نے نظم ونثر میں متعدد کتابیں اوررسائل تصنیف کئے ہیں ۔ جن میں مناقب خواجہ عبداللہ انصاری ‘ شرح فصوص اعکم ‘سلسلہ الذہب ‘ دیوان ‘ مثنویاں یوسف وزلیخا ولیلی مجنوں وغیرہ مشہورہیں ’ کتب خانہ سعیدیہ میں جامی کی’’ سلسلہ الذہب ‘‘موجودہے ۔ اس کے علاوہ آپ کی ایک اورکتاب جو تصوف میں اورفارسی نثر میں ہے انیس الطالبین وعد ہ السالکین جو ۸۵۶ھ کی تصنیف ہے کتب خانہ سعیدیہ میں موجودہے ۔
انسائیکلو پیڈیاآف اسلام کے کالم نگار نے اس کتاب کا ذکر نہیں کیاہے ۔ (البتہ انسائیکلوپیڈیا آف اسلام میں نفحات الانس ( من حضرات القدس ) کلکتہ ۱۸۵۹ھ کا ذکر ہے جو صوفیہ کرام کے سوانح حیات پر مشتمل ہے او ر جس کے شروع میں تصوف پرایک جامع مقدمہ ہے (ملاحظہ ہو جلد ۷صفحہ ۶۱مطبوعہ ۱۹۷۱ء لاہور )
۸) حضرت مجددالف ثانی شیخ احمد سرہندی(متوفی ۲۸صفر ۱۰۳۴ھ) اورسلسلہ مجددیہ کے مخطوطات :
شیخ احمد نقشبندی سرہندی امام ربانی مجددالف ثانی جن کا سلسلہ نسب حضرت عمر فاروق سے ملتاہے حضرت خواجہ باقی باللہ نقشبندی (دہلوی ) کے مرید اورخلیفہ تھے ۔ حضرت خواجہ باقی اللہ کی ہدایت پر آپ سرہند میں سلسلہ ارشاد وہدایت کی ابتدا کی جو ارض پاک وہندمیں مسلمانوںکی حیا ت ملی کے لئے ایک بڑے فیصلہ کن اوردوررس انقلاب کا باعث ہو احضرت مجددالف ثانی کی شخصیت اسلامی ہندوستان کی تاریخ تصوف میںیگانہ ہے ۔ آپ نے ’’وحدۃالوجود‘‘کے برعکس ’’وحدۃ الشہود ‘‘کانظریہ پیش کیا ۔ حضرت مجددکی تعلیمات ایک نئے سلسلہ تصوف یعنی مجددیہ کی شکل میں ظاہر ہوئیں اورسلسلہ مجددیہ دوردورتک پھیل گیا ۔
حضرت مجددالف ثانی کی سب سے بڑی علمی خدمت آپ کے مکتوبا ت ہیں جو تین دفاتر ‘ مشتمل ہیں ۔ ان کی آپ کی زندگی میں ہی اتنی قدرومنزلت ہوئی کہ ان کی نقلیں ذیلی براعظم ہندسے باہر دوسرے ملکوں میںبھی پھیل گئیں ۔ غالباً یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ مثنوی مولانا روم کے بعد مکتوبات ہی حقائق معارف اوراسرارشریعت وطریقت کاوہ خزینہ ہے جن سے الحاد وزندقہ ‘ بدعت اورـضلالت کا خاتمہ ہوتا ہے ۔حضرت مجددکے مکتوبات جو تعداد میں تقریباً (۵۳۰) ہیں ہندوستا ن میں کئی بارشائع ہوچکے ہیں ۔ مکتوبات کا اردو ترجمہ بھی لاہورسے شائع ہوچکاہے ۔ کتب خانہ سعیدیہ میں مکتوبا ت امام ربانی کے تینوں دفترموجودہیں ان کے جمع کرنے والے یا رمحمد الحدید ارچشتی ہیں ۔ اس کے علاوہ کتب خانہ سعیدیہ میں آپ کے حسب ذیل تصانیف بھی موجودہیں ۔
۱) رسالہ المبداء والمعاد (فارسی نثر)
۲) مصارف الدینہ (فارسی نثر )
۳) رسالہ در اجمالی طریقت (فارسی نثر)
۴) ردبرزنجی مکتوبات مجددالف ثانی (فارسی نثر)
۵) ردیشہات بر مکتوبا ت اما م ربانی (فارسی نثر کتابت ۱۳۱۱ھ )
۶) الارشادالی بن اسناھباد بھی جوابات ردمکتوبات (فارسی کتابت ۱۳۱۲ھ)
۷) رسالہ سلوک اردو قلمی
رسالہ المبداء المعاد دہلی سے ۱۳۱۱ھ میں شائع ہوچکی ہے ۔ کتب خانہ سعیدیہ میں حضرت مجد دکے سلسلہ کے مشائخ شاہ عبد العزیز دہلوی (متوفی ۱۲۳۹ھ ) کا ایک فارسی رسالہ ’’در دفع اعتراض حضرت مجد د‘‘ (اورشاہ ولی اللہ بن عبد الرحیم محدث دہلوی (متوفی ۱۱۷۶ھ) کا رسالہ مقدمۃ السنۃ فی الافتعار للفرقہ السنہ تقریب الشیخ والی اللہ اللرسالہ الفارسیہ تالیف شیخ احمد سرہندی بھی موجود ہے )
حضرت مجددکے مشہورخلیفہ سیدآدم جن کی ذات سے عرب وعجم کوبڑا فیض پہنچا ان کا رسالہ ’’نکات الاسرار‘‘بھی موجودہے جس کی کتابت ۱۳۰۴ھ میں ہوئی ہے ۔
۹) خواجہ محمد معصوم سرہندی (متوفی ۱۰۷۹ء۱۶۶۸ھ 🙂
حضرت خواجہ محمد معصوم ‘ حضرت مجد دالف ثانی کے وارث وجانشین اورآ پ کے علوم ومعارف کے شار ح تھے اورآپ ان کے نقش قدم پر چل کرکرامت مسلمہ کے اندر اصلاحی جدوجہد میں تادم آخر مشغو ل رہے ۔ آ پ نے اپنے دوراصلاح وتربیت میں جو مکتوبات تحریر فرمائے وہ بھی حضرت مجدد الف ثانی کی طرح تین جلدوں میں ہیں ۔ ان میں بھی عقائد وکلام ‘ عبادات ومعاملات مقام احسان وتقوی ‘ تزکیہ نفس ‘ تہذیب اخلاق اوراصلاح اعمال سے متعلق ارشادات وتفصیلات ہیں ۔ ان مکتوبات کی تلخیص وترجمہ بھی شائع ہوچکی ہے ۔ شہنشاہ جہانگیر ‘ شاہ جہاں اورعالمگیر آپ کے مرید اورآپ سے ملنے سرہند آیا کرتے تھے ۔ کہاجاتاہے کہ آپ کے مرید ین کی تعداد نولاکھ اورخلفا سات ہزارتھے ۔ کتب خانہ سعیدیہ میں حضرت خواجہ محمد معصوم کا ایک تصوف کافارسی رسالہ ’’دراذکار ‘‘موجودہے ۔ جس کی کتابت ۱۳۱۱ھ میں ہوئی ہے ۔
سلسلہ مجددیہ کے ایک صوفی بزرگ شاہ روف احمد نقشبندی مجددی (متوفی ۱۲۵۳ھ ) کے ’’مکاتیب شاہ غلام علی ‘‘ کا ایک مخطوطہ بھی کتب خانہ سعیدیہ میں موجودہے جس کی کتابت ۱۲۹۲ھ میں ہوئی ہے ۔
۱۰) شہزادہ داراشکوہ(متوفی ۱۰۶۹ھ 🙂
شہزادہ داراشکوہ شاہ جہاں اور ممتا زمحل کا سب سے بڑا شہزادہ تھا ۔ سنسکرت علوم وفنون کا اس نے گہرا مطالعہ کیا تھا اورویدانت سے بڑا متاثر تھا ۔
ہندو یوگیوں اورسنیا سیوں سے اس کا بڑا میل جول تھا ( وہ اپنے عہد کی ممتاز شخصیتو ںمیں سے تھا ) وہ تصوف سے بھی خاص دلچسپی رکھتا تھا اس کے مسلمان صوفیہ کی سرپرستی اورامدادسے ہندئوں کی متعددمذہبی سنسکرت کتابوں کے ترجمے فارسی میں کئے گئے ہیں ۔ (دارشکوہ اس نتیجے پر پہنچا کہ ویدانت اورتصوف جن کے ذریعہ حق کا ادراک کرنا چاہئے و باہم مخالف نہیں فرق صرف لفظوں کا ہے ۔ اپنشدوں کے ترجمے میں جسے وہ ’’وحدت کاسر چشمہ ‘‘بیان کرتاتھا ۔ داراشکوہ نے اسلام اورہندومت کے پیر وئوں کے مشترکہ نظریات کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی نیز اس نے یہ چاہاکہ ہندئوں کے اعتقادات سے مسلمانوں کوشناسا کرائے ) شہزادہ دارا شکوہ متعدد کتابوں کا مصنف ہے اس کی متعدد کتابیں شائع ہوچکی ہیں بعض اردو تراجم بھی ہو چکے ہیں کتب خانہ سعید یہ میں داراشکوہ کی علم تصوف کی مشہور کتاب ’’حسنات العارفین ‘‘موجودہے ۔ یہ ۱۰۶۲ھ کی تصنیف ہے اس میں مختلف سلسلو ںکے اولیاء کے اقوال جمع کئے گئے ہیں ۔ یہ کتاب ۱۸۹۲ء میں دہلی سے شائع ہو چکی ہے ۔کتب خانہ سعید یہ میں حسنات العارفین کا جو مخطوطہ محفوظ ہے وہ غلام محی الدین معجز کے ہاتھ کالکھاہواہے اس کی کتابت ۱۲۰۱ھ میں ہوئی ہے ۔
۱۱) مرزا عبدالقادر بیدل (متوفی ۱۱۳۳ھ 🙂
مرزا عبدالقادربیدل لقب ابوالمعانی عہد عالمگیری کے مشہور فارسی گو شاعر ‘ عارف کامل اورعظیم مفکر گذرے ہیں ۔ آپ تو رانی الاصل اورقبیلہ چغنتائی سے تعلق رکھتے تھے ۔ بیدل کی تربیت میں سلسلہ قادریہ کے ایک بزرگ شیخ کمال کا بڑا حصہ ہے بیدل نے تصو ف اورشاعری میں کمال حاصل کیا تھا۔ بید ل کی تصنیفات نظم ونثر پرمشتمل ہیں ۔ ان کی نثر ی تصانیف میں ’’چہار عنصر ‘‘اوررقعات مشہورہیں ۔
کتب خانہ سعیدیہ میں بیدل کاتصوف کامشہور رسالہ ’’چہارعنصر ‘‘موجودہے ۔ ا س کی کتاب ۱۲۱۷ھ میں ہوئی ہے ۔ چہار عنصر ‘ رفقا ت اور غزلیات بیدل علحدہ علحدہ ہندوپاک اوروسط ایشیاء کے مختلف مطابع سے شائع ہوچکی ہیں ۔
بیدل تمام ائمہ تصوف سے متاثر ہوئے مگر ا ن کا علم تصوف زیادہ ترابن العربی کامرہون منت ہے ۔ ابن عربی کے فلسفے تنزلات کو وہ بڑی فکری گہرا ئی اورزوربیان اورپوری خوبی کے ساتھ پیش کرتے ہیں ( اورانسان کو ’’کھون جامع ‘‘کاخطا ب دیتے ہیں غالب اوراقبال کے اشعار میں بیدل کے بین اثرات ملتے ہیں ۔ اردو ادب کی تاسیس وتشکیل اورتزائین میں بیدل کابہت بڑا حصہ ہے ۔)
۱۲) سیدعلی محمد حسینی صبغۃ اللہی (متوفی ۱۱۳۷ھ )
سید علی محمد حسینی صبغۃ اللہی نواب سعادت اللہ خان ناظم (صوبہ دار ) ارکاٹ دور حکومت (۱۷۱۰ء تا ۱۷۳۴ء )میں بیجاپور سے ارکاٹ آئے تھے ارکاٹ کے مشائخوں میں آپ ممتا ز مرتبہ کے حامل تھے (اوراس وقت کے تمام مشائخوں کے مکانا ت میں خواجہ عبداللہ بن محمد انصاری خواجہ نظام الملک محوسی اورشیخ ابو سعید ابی الخیر کے ہم عصر تھے اوراپنے زمانے کے زبردست محدثوں اورعارفوں میں شمار ہوتے تھے ابوالحسن خرقانی سے ارادت رکھتے تھے اوران کے جانشین بنے ۔ ۴۸۱ھ میں بمقا م ہرات وفات پائی ۔ فارسی میں زادالعارفین اوراسرار جیسی کتابیں لکھیں ۔ ان کے اوررسارے یہ ہیں رسالہ دل وجان ‘ کنزالسالکین رسالہ واردات ’ قلندرنامہ ‘ ہفت حصار ‘ محبت نامہ ‘ رسالہ معقولات اورالٰہی نامہ ۔ شیخ عبداللہ انصاری کی سب سے مشہور تصنیف ان کی مناجات ہے ۔ شیخ قدیم ترین اوراولین عرفانی اورصوفیانہ رباعی گو شاعروں میں شمار ہوتے ہیں ۔ (صفحہ ۱۴۸و۱۴۷) تاریخ ادبیا ت ایران ‘ از ‘ ڈاکٹر رضا زادہ شفق مبا رزالدین رفعت )آپ کامکان ‘ ’’سرمکان ‘‘کہلاتا تھا ۔ چنانچہ اب تک تاج پورہ ارکا ٹ کامکان ‘‘سرمکان ‘‘کہلاتاہے ۔ ارکاٹ ‘ مدراس ‘رائی پیٹ اورویلور وغیرہ اطرا ف کے مشائخوں وغیر ہ میں اس مکان کی بہت بزرگی ہے ) کتب خانہ سعیدیہ میں حضرت سید علی محمد حسینی کی ایک فارسی تصنیف ’’تجلیات رحمانی ‘‘موجودہے جو تصوف سے متعلق ہے ۔ یہ کتاب ۱۱۳۷ھ میں لکھی گئی ہے اوراسی سال سید علی محمد حسینی کی وفات بھی ہوئی ہے ۔
۱۳) غلام یحییٰ بہاری (متوفی ۱۱۸۰ھ 🙂
غلام یحییٰ بہاری کی ’’کلمات الحق ‘‘ کا ایک مخطوطہ کتب خانہ سعیدیہ میں محفوظ ہے اس کی کتابت ۱۳۰۷ھ میں ہوئی ہے ۔ تصوف کا یہ رسالہ فارسی میں نثرہے ۔
کتب خانہ سعیدیہ میں مشہور صوفی بزرگ عبداللہ انصاری (متوفی ۴۸۱ھ کاایک فارسی رسالہ ’’رسالہ درتصوف ‘‘بھی موجودہے ۔
محمد نعیم مسکین شاہ صاحب کے ہاتھ کا لکھا ہواخود ان کا ایک فارسی رسالہ ’’رسالہ دررویت جمال محمدی رویت محبو ب حقیقی است ‘‘ بھی موجودہے ۔ اس کی کتابت ۱۳۹۹ھ میں مصنف کے ہاتھوں میں ہوئی ہے ۔ محمد بن فضل اللہ کاایک رسالہ تصوف ’’رسالہ فی تحقیق وحدۃ الوجود‘‘مسیح الاولیاء کے رسالے ملفوظ شیخ وجیہ الدین اوررسالہ دقیقہ ‘ سید عبداللہ کارسالہ کشف العوائم اورمحمدبن قوام بن رستم بن احمد بن محمود کارسالہ ’’شرح مخزن اسرارنظامی ‘‘وغیرہ بھی موجودہیں۔
کتب خانہ سعیدیہ میں تصوف پر ترکی مخطوطات
کتب خانہ سعیدیہ میں ترکی مخطوطات بھی محفوظ ہیں ۔ تصوف پر شیخ محمود آفندی القرامانی (متوفی ۸۳۸ھ ) کا رسالہ ’’ وصیت الشیخ کشف الاسرار‘‘موجودہے جو ۱۰۱۸ھ کا مکتوبہ ہے ۔ اس کے علاوہ شیخ محمود افندی کاایک ترکی قصیدہ بھی موجودہے اس کا موضوع بھی تصوف ہے ۔
آخر میں اس کا تذکرہ کرتے ہوئے خوشی ہوتی ہے کہ خدابخش اور رینٹل پبلک لائبریری اوراس کے ممتازڈائرکٹر محترم جناب ڈاکٹر عابد رضا صاحب بیدارکی بدولت اورخصوصی دلچسپی کی وجہ سے مختلف کتب خانوں کے نادرمخطوطات کاعلم علمی دنیا کی خدمت میں پیش ہورہاہے ۔ عصر جدیدمیں مختلف کتب خانوںکے تعلقات میں اضافہ کی شدیدضرورت ہے ۔ خدابخش لائبریری اپنا ایک مستقل برانچ شہر حیدرآبادمیں قائم کرسکتی ہے ۔ اسی طرح ہمدرد ریسرچ بھی اپناایک (sub-station) حیدرآباد میں قائم کرسکتاہے ۔ حیدرآباد میں بہت سے کتب خانے ہیں کتب خانہ سالار جنگ ریاستی اورمرکزی حکومت کی سرپرستی سے قائم ہے ۔کتب خانہ آصفیہ واسٹیٹ سنٹر ل لائبریری اوراورینٹل سنسکرپٹ لائبریری اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیو ٹ ریاستی حکومت کے زیر نگر انی ہیں ۔ عثمانیہ یونیورسٹی کاکتب خانہ ‘ یونیورسٹی کی تنظیم چلاتی ہے ۔ اس کے علاوہ اوربھی بہت سے امدادی خانگی اور غیر سرکاری کتب خانے بھی موجودہیں ۔ خودکتب خانہ سعیدیہ کے بانی مفتی محمد سعید خان صاحب مرحوم کے بھائیوں مولوی حسین عطا ء للہ صاحب مرحوم اورمولوی خلیل اللہ صاحب مرحوم کے خانگی کتب خانے بھی موجو دہیں ۔ مولوی خلیل اللہ صاحب کے کتب خانے کو ان کے چھوٹے صاحبزادے محترم ڈاکٹر محمد حمیداللہ صاحب (سابق پروفیسر قانوں پیرس یونیورسٹی ) نے بڑی ترقی دی ہے ڈاکٹر ‘ حمید اللہ صاحب نے چند سال پہلے منصوبہ بنایا تھاکہ ایک بڑی شاندار عمارت میں خاندان کے ان سب کتب خانوں کو اکٹھا کیا جائے لیکن مثل مشہور ہے ایک چنا بھا ڑنہیں جھونک سکتا ۔ مختلف کتب خانو ںکو قدم ملاکر اور ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر آگے بڑھنا ہے ۔!
مو لا نا ابو ا لکلام آزاد کی حیدرآباد میں آمد اور کتب خانہ سعیدیہ کا معائنہ
مو لا نا ابو ا لکلام آزاد وزیر تعلیم و سائنسی تحقیقات حکو مت ہند حیدرآباد میںپہلی بار ۲۴/ستمبر ۱۹۵۲؁ ء کو دن کے با رہ بجکر دس منٹ پر وزیر اعظم پنڈت نہرو کے ہمراہ ہندوستا نی ہوائیہ کے ایک خصو صی ڈکو ٹہ طیارہ کے ذریعہ تشریف لائے ہزار ہا لو گ پنڈت جی اور مو لا نا آزاد کو دیکھنے گھنٹوں پہلے ہی طیرا ن گاہ بیگم پیٹ میں جمع ہو گئے تھے ۔جیسے ہی وزیر اعظم اور وزیرتعلیم حکو مت ہند طیارے سے اترے ‘لو گوں کے جم غفیر نے بڑی مسرت ‘عقیدت اور تپاک سے ا نہیں خو ش آ مدید کہافضا ء زندہ باد اور جئے جئے کے نعروں سے گونجنے لگی ۔سواگت کر نے والوں میں راج پر مکھ‘ نواب میرعثمان علی خاں بہادر ‘پرنس آف برار نواب اعظم جاہ ‘ریاستی مشیر شری ویلوڈی ‘شریمتی ‘ویلوڈی ‘چیف منسٹر شری بی رام کشن رائو‘صدر پردیش کانگریس سوامی راما نند تیر تھ ‘چیف جسٹس اور عدالت العالیہ کے دیگر ارکان ‘وزراء ‘ار کا ن پارلیمنٹ ‘کو نسل آف اسٹیٹس اور مقننہ حیدرآباد نیز دیگر اعلیٰ عہدے دار ‘مس پدمجا نائیڈو اور نواب زین یار جنگ مو جو د تھے گلپوشی کے بعد وزیر اعظم گارڈ آف آنر کی سلامی لینے میدان کی طرف بڑھے اور حضور نظام ‘مو لا نا آزاد سے باتیں کر نے لگے ۔اس مو قع پر مر کزی وزیر تعلیم اپنے قدیم دوست ڈاکٹر مو لانا اشر ف سے بھی کچھ دیر با تو ںمیں مصروف رہے رسمی تقا ریب کے بعد پنڈت نہرو ‘مو لا نا آزاد کی معیت میں ایک کھلی کار میں لیک ویو گیسٹ ہائوز روانہ ہوئے جہا ں ان کے قیام کا انتظام کیا گیا تھا۔طیران گاہ سے گیسٹ ہاوز تک عوام بڑی تعداد میںگھنٹو ں پہلے سے سڑکو ں پر دورویہ در شن کے لیے بے قرار کھڑے تھے ۔وزیر اعظم اور وزیرتعلیم کے گیسٹ ہائوز پہنچنے کے بعد راج پر مکھ ‘نواب میر عثمان علی خاں بہادر نے ان سے ملا قا ت کی اور چند منٹ تک گفتگو کی ساڑھے تین بجے پنڈت نہرو اور مو لا ناآزاد راج بھون کنگ کو ٹھی گئے جہاں نواب میر عثمان علی خاں بہادر نے وزیر اعظم کے اعزاز میں عصرانہ تر تیب دیا تھا ۔شام میں مو لا ناآزاد ‘شری بی رام کشن رائو اور نواب زین یار جنگ کے ہمرا ہ عثما نیہ یو نیور سٹی گئے اور دائر ۃ المعارف کا تفصیلی معا ئنہ کیا اور بہت متاثر ہوئے ۲۵/ستمبر کو صبح میں جم خانہ گرائونڈ پر حیدرآبادو سکندر آباد کی مجالس بلدیہ کی طرف سے وزیر اعظم کی خد مت میں سپا سنا مہ پیش کیا گیا اس مو قع پر میر بلد کی در خواست پرمو لانا آزاد نے جلسہ کو مخاطب کیا اپنی مختصر لیکن پُر اثر تقریر میں ریاست حیدرآباد کے ان مسائل کا ذکر کیا جو پولیس کار وائی کے نتیجے میں پیدا ہوئے اور اس بات کی ضرورت بتلائی کہ مو جو دہ مشکلوں پر صرف اتحاد ‘محنت اور خود اعتمادی کے ذریعہ ہی قا بو پا یا جاسکتا ہے ۔۲۶/ستمبرمو لانا آزاد‘ پنڈت نہرو کے ساتھ صبح سات بجکر چالیس منٹ پر بذریعہ ہو ائی جہا ز بیدر روانہ ہوئے اور اسی دن نواب مہدی نواز جنگ کے ہمراہ دو پہر ۳ بجکر ۴۹ منٹ پرحیدرآباد واپس ہوئے جبکہ وزیر اعظم پنڈت نہرو بیدر سے عثمان آباد کے دو رے پر روانہ ہوگئے ۔بیدر میںمو لا نانے ایک پُر اثر تقریر کی ۔رات میں مو لا ناآزاد نواب مہدی نواز جنگ کی قیام گاہ پر ایک ادبی محفل میں شریک ہوئے جہاں عشائیہ بھی تر تیب دیا گیاتھا ۔۲۷/ستمبر کو مو لا نا آزاد نے کنگ کو ٹھی میں راج پرمکھ نواب میر عثمان علی خاں بہادر سے ملا قات کی بیس منٹ تک ان سے گفتگو کی اسی دن مو لانا آزاد حیدرآبا دکے قدیم تاریخی کتب خانہ سعید یہ گئے اوریہاں کے نادر مخطو طات کا تفصیلی معائنہ کیا اور مقرر ہ وقت سے زیادہ یہاںٹھیرے رہے ۔کتب خانہ سعید یہ سے مو لا نا آزاد حید رآبا د کے عجائب گھر گئے اور اس کا دلچسپی سے معائنہ کیا ۔شام میں انجمن تر قی اردو حید رآباد کے ایک وفد نے مو لا ناآزاد سے ملا قا ت کی اور حید رآبا دمیں اردو زبان کی حالت اور آیندہ حیثیت کے بارے میں گفتگو کی بد لے ہوئے حا لات میںاردو زبان کو جو مشکلا ت پیش آرہی ہیں ان سے وزیرتعلیم کو واقف کر وایا مو لا ناآزاد نے وفد کی گذارشات کو بڑی تو جہ اور ہمدر دی سے سنا اور جلد ایک نو ٹ پیش کر نے کی ہدا یت کی اس وفد میںنواب اکبر یار جنگ صدر انجمن ‘جناب حبیب الرحمن معتمد ‘پرو فیسر ہارو ن خاں شروانی ‘شری ایم نر سنگ رائو ‘جناب فضل الرحمن اور جناب سعید جنگ شامل تھے ۔۲۷/ستمبر کی شام ‘ فتح میدان پر مو لا نا آزاد اور پنڈت نہرو کی تقاریر ہوئیں جنہیں سُننے کے لئے انسانوں کاسیلاب اُ مڈ آیا ۔جہاں تک نظر جا تی انسان ہی انسا ن نظر آتے تھے ۔بچے ‘بو ڑھے ‘جوان ‘عورت اور مر د سب ہی مو جو د تھے ۔نو بت پہاڑ کی چو ٹی تک لو گ جا بیٹھے تھے ۔حاضرین کی تعداد چار پانچ لاکھ سے کم نہ تھی ۔پنڈت نہرو پُو رے ایک سو منٹ تک تقریر کر تے رہے ۔مو لانا آزاد نے جن کی تقریر سُننے کے لیے اہل حیدرآباد ایک عر صہ سے بیتاب تھے وقت کی قلّت کے باعث صر ف آٹھ منٹ تک تقریر کی ۔مو لا نا نے اپنی تقریر میں کہا پو لیس ایکشن کے بعد پہلا مو قع ہے کہ میں یہاں حاضر ہو ا ہو ں ۔میں یہاں نہیں آیا مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں یہاںکے حالات سے غافل رہا ایسا نہیںتھا ۔میں پُوری طرح سے حالات سے آگاہ رہا اور کو شش کر تا رہا کہ جو گھا ئو پڑے ہیں مندمل ہو جائیں ۔اب آزادی حاصل ہو چکی ہے اور آزادی کا مطلب ہے کہ وہ باگ ڈور جو اور وں کے ہاتھ میں تھی ‘ہمارے ہاتھ میں آئی ۔اور یہ باگ ہے قسمت تعمیر کر نے کی۔ہمیں آزادی تو مل گئی مگر قسمت کی تعمیر ابھی باقی ہے قسمت کی تعمیر کوئی چھو ٹا معاملہ نہیں یہ ایک دو انسانوں کا سوال نہیں بلکہ ۳۷کروڑ انسانوں کا مسئلہ ہے اور ظاہر ہے ہندو ستان کے لیے یہ بڑا سوال ہے اور ہمیں سو چنا ہے کہ ان کا دکھ کیسے دور ہو ‘غریبی کیسے دور ہو اور آگے چل کر مو لا نانے کہا جہاں تک حیدرآباد کا تعلق ہے یہاں پر خاص مسئلے چار برس ہوئے پیدا ہو نے شروع ہوئے جن کے اثرات باقی ہیں ۔اس وقت حالات ایسے ہو گئے تھے کہ تبدیلی ضروری ہو گئی ۔ہم نے بہت کو شش کی کہ امن کے ساتھ یہ ہند میںآجائے مگر ایسا نہ ہو سکا ۔مو لا نانے یہ بھی کہا کہ پو لیس ایکشن کے بعد فوج ٹو ٹی پو لیس میں نئی تنظیم ہو ئی ۔پرا نی جاگیریں ختم ہوئیں ۔وہ اس زمانہ میں قائم نہ رہ سکتی تھیں ۔اور ان کا اثر مسلمانو ں پر پڑا ۔اور یہ تمام حالات جمع ہو گئے۔اس مو قع پر میں جلسہ میں مو جو د مسلمان بھائیوں کے کانوں تک اگر ہو سکے تو دلو ں تک یہ آواز پہنچا نا چاہتا ہوں کہ وہ یہ نہ سمجھیںکہ حکومت ‘حالات سے غافل ہے۔حکو مت کو پو را احساس ہے اور جس طرح ممکن ہو یہ کو شش کر رہی ہے کہ پچھلے زخم بھر جائیں ‘اسطرح مندمل ہو جائیں کہ بعد معلوم نہ ہو سکے کہ زخم کہاں تھا مو لا نا نے کہا حالات سے ما یوس ہو نے سے مشکل حل نہیں ہو سکتی ۔ہمیں مشکلات کو مغلوب کر نا ہے ۔خود مغلوب نہیں ہوجا نا ہے ۔ہم چاہتے ہیں ‘یہ اثرا ت ختم ہوں ‘نئی ز ندگی پیدا ہو ۔مختلف طبقے ایک دوسرے پر بھرو سہ رکھیں شبہ سے نہ دیکھیں ۔ایک دوسرے کو دشمن نہ سمجھیں تر قی کی بنیادی شرط سچا امن ہے اور سچا امن وہ ہے جو حکو مت کے زور سے نہیں بلکہ دلوںکے اشتراک اور امن سے پیدا ہو ۔۲۸/ستمبر کو مو لا نا آزاد اچانک اپنے قدیم دوست اور حیدرآباد کے ڈاکٹر مو لا نا اشرف کی قیام گاہ پہو نچے ۔الاشرف لائبریری کے معائنہ کے علاوہ یہاں منعقد ہ تقریب میں شرکت کی ۔ مو لا نا نے تقریر سے پہلے بڑے دلکش مدنی لحن میں سو رہ رحمن کی تلاوت کی ۔خیر مقدمی تقریر میں ڈاکٹر مو لا نا اشرف نے اجتماع کو ’’محفل مو لانا آزاد ‘‘سے مو سو م کیا ۔یہاں سے مو لا نا آزاد جامعہ نظامیہ گئے ۔نواب مقصو د جنگ اور دیگر ارکان انتظامی نے مو لا نا کا شاندار استقبال کیا ۔مو لا نا نے دیڑ ھ گھنٹہ تک یہا ں کے کتب خانہ اور در س گاہ کا تفصیلی معا ئنہ کیا ۔۲۸/ستمبر ہی کو مو لا نا ‘سالار جنگ میوزیم گئے اور یہ رائے ظاہر کی کہ سالار جنگ میو زیم کے معائنہ سے خو شی حاصل ہو ئی کہ ایک شخص کے شخصی ذوق نے اتنا سامان بہم پہو نچا دیا ہے جو حکو متوں کی کو ششو ں سے بھی ہمیشہ فراہم نہیں ہو ا کر تا ۔ا س موقع پر ممتاز شاعر جناب سکندرعلی وجد نے اپنی مشہور نظم ایلورہ سُنائی جس سے مولانا بہت محظوظ ہوئے اور تعریف کی۔ ۲۸ ستمبر کی رات میں مولانا نے شہر حیدرآباد کے سربرآوردہ مُسلمانوں کے ایک اجتماع کو شاہ منزل میں تقریباً ایک گھنٹے تک مخاطب کیا اور تلقین کی کہ وہ نئے زمانہ کے تقاضوں کو محسوس کریں اور خود متبدلہ حالات سے ہم آہنگ بنانے کی کوشش کریں مولانا نے علحیدگی پسند اور مایوسی کے رحجان کو مضرت رساں بتلاتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مسلمان نے جوش او ولولہ کے ساتھ اپنی زندگی ازسر نو تعمیر کے کام میں لگ جائیں۔
مختصر یہ کہ یہ مو لا ناکی شخصیت تھی جس نے دو بارہ لو گو ں کو جگا یا اور ان میںصحیح اسپرٹ اور قوت عمل پیدا کی ۲۹/ستمبر کو اپنی روانگی سے پہلے مو لا نا آزاد نے صبح ۱۱بجے لیک ویو گیسٹ ہاوز میں صرف اُردو صحیفہ نگاروں کو مخاطب کیا اور ان سے اپیل کی کہ وہ ہندوستان کی غیر مذ ہبی مملکت کو غیرفرقہ واری بنیادوں پر جمہوری نظام حکو مت قائم کر نے میں مدد دیں ۔اور سمجھا یا کہ اخبارات اور اخبار نویسوں پر کیسی بھاری ذمہ داریاں عائدہو تی ہیں ۔انہوں نے تمام صحیفہ نگاروں کو مشورہ دیاکہ وہ تعمیری نقطہ نظر سے کام کریں مو لا نا نے یہ بھی کہا کہ ہند کے ایک شہری کی وفاداری پر دوسرے شہری کو شبہ کر نے کا کوئی حق نہیں اور نہ اخباروں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ نشاندہی کرے کہ فلاں وفادار ہے اور فلاں غیر وفادار ۔ مو لا نا نے مزید کہا کہ میںنے جوا ہر لال سے کہا ہے کہ وہ اس بات کی وضاحت کریں کہ ہند کے کسی شہری کو دوسرے شہری کے خلاف بد گمانی پھیلانے کا یا اس پرالزام لگا نے کا کوئی حق نہیں ہے کہ وہ پاکستان کی طرف دیکھتا ہے ۔
مو لا ناآزاد اور پنڈت نہرو کے بازو پر امام ضامن باندھا اور وہ مسکرا تے ہوئے کھڑے رہے لیکن مو لا نا آزاد نے امام ضامن کو باند ھنے نہیںدیا اور اسے ان سے لے لیا ۔اس مو قع پرمو لا نا آزاد کے در یافت کر نے پر ڈاکٹر اشرف نے امام ضامن کی وجہ تسمیہ بتائی اور کہا دلّی والوں نے یہ رسم ‘حیدرآباد پہونچا ئی ہے ۔ کتب خانہ سعیدیہ کے معائنہ کی تصویر منسلک ہے۔
کتب خانہ سعیدیہ کی حالت زار:
موجودہ حالات میں کتب خانہ سعیدیہ کی نگرانی ٹھیک ڈھنگ سے نہ ہو سکی اور کوئی بھی شخصیت اس کتب خانہ کی سرپرستی و دیکھ بھال کی ذمہ داری قبول کی جس کی وجہ سے نایاب کتابیں ضائع ہونے لگیں اور کئی کتابوں کو دیمک نے تباہ کر دیا۔ آہستہ آہستہ قیمتی کتابیں بھی غائب ہونے لگیں اس طرح شہرت یافتہ کتب خانہ سعیدیہ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے اور اب آغاپورہ ‘ حیدرآباد میں ایک چھوٹے کمرے میں محدود ہو کر رہ گیا ہے اسی طرح مدراس میں قائم کردہ کتب خانہ محمدیہ بھی تباہ و برباد ہو گیا ہے۔ اس تباہی کے ذمہ دار خود ڈاکٹر حمیداللہ کے رشتہ دار ہیں۔
کتب خانہ سعیدیہ کے معائنہ کے موقع پر لی گئی تصویر جس میں مولانا ابوالکلام آزاد کے ساتھ جناب محمدشرف الدین‘ مولو ی نصیرالدین ہاشمی اور ڈاکٹر محمد یوسف الدین اور دیگر افراد دیکھے جا سکتے ہیں۔
٭٭٭

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*