بنیادی صفحہ / خبریں / طلاق ثلاثہ بل راجیہ سبھا میں منظور نہیں ہوسکا بجٹ سیشن تک معاملہ ٹلا

طلاق ثلاثہ بل راجیہ سبھا میں منظور نہیں ہوسکا بجٹ سیشن تک معاملہ ٹلا

ضد پر اڑی مودی حکومت آرڈیننس کے ذریعہ ٹرپل طلاق کو جرم قرار دے سکتی ہے
نئی دہلی ، ۵؍جنوری ۔ تین طلاق سے متعلق بل رواں سیشن میں پاس نہیں ہوسکا ہے اور راجیہ سبھا کے سرمائی اجلاس کی کارروائی غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی ہے۔ واقف کار ذرائع کے مطابق مودی حکومت پارلیمنٹ میں منھ کی کھانے کے بعد حکومت آرڈیننس لاکر طلاق ثلاثہ کو جائز قرار دے سکتی ہے ۔ سرمائی اجلاس کے آخری دن آج راجیہ سبھا کے چیئرمین وینکیا نائیڈو نے تین طلاق بل پر اتفاق رائے قائم کرنے کی آخری کوشش کی ، لیکن وہ بھی ناکام رہے ۔ جہاں اپوزیشن بل کو سلیکٹ کمیٹی میں بھیجنے پر بضد رہی وہیں حکومت اس کیلئے قطعی تیار نہیں تھی ۔تین طلاق سے متعلق بل گزشتہ ہفتہ لوک سبھا میں پاس ہونے کے بعد بدھ کو منظوری کیلئے راجیہ سبھا میں پیش کیا گیا تھا ۔ تاہم اپوزیشن کے سلیکٹ کمیٹی کو بھیجنے کے مطالبہ کی وجہ سے بدھ اور جمعرات کو ایوان بالا میں اس پر بحث نہیں ہوسکی اور دونوں دن کارروائی ملتوی کرنی پڑ گئی تھی ۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ بل کی رو سے اگر شوہر تین سال کیلئے جیل چلا جائے گا تو پھر بیوی اور بچوں کے اخراجات کون برداشت کرے گا۔ادھر اپوزیشن کے مطالبہ پر مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کا کہنا ہے کہ کانگریس کی وجہ سے تاخیر ہوسکتی ہے ، مگر اندھیر نہیں۔ بی جے پی کی ممبر پارلیمنٹ روپا گنگولی کا کہنا ہے کہ بل پر ایوان میں ہی بحث ہو یہی بہتر ہے ، سلیکٹ کمیٹی میں کچھ منتخب لوگ ہی بل پر بحث کر سکیں گے۔بتایا جاتا ہے کہ بل پر بحث کے پیش نظر کانگریس اور بی جے پی دونوں نے اپنے اراکین کو وہپ جاری کرکے ایوان میں موجود رہنے کیلئے کہا تھا ۔
حکومت نے پوری کوشش کی کہ یہ بل بغیر کسی ترمیم کے راجیہ سبھا میں بھی منظور کر لیا جائے لیکن حکومت کے پاس راجیہ سبھا میں نمبروں کی کمی تھی اس وجہ سے وہ اپنی مرضی نہیں چلا سکی۔ملک بھر میں زیر بحث طلاق ثلاثہ پر مبنی بل لوک سبھا سے تو منظور ہو گیا تھا لیکن راجیہ سبھا میں حکومت اس کو منظور کرانے میں پوری طرح ناکام رہی ۔اب جب کہ راجیہ سبھا کی کارروائی بجٹ اجلاس تک کے لئے ملتوی ہو گئی ہے تو اس بل کا مستقبل بھی اب بجٹ اجلاس میں ہی طے ہو پائے گا۔ حکومت نے پوری کوشش کی کہ یہ بل بغیر کسی ترمیم کے راجیہ سبھا میں بھی اسی طرح منظور کر لیا جائے جس طرح لوک سبھا میں ہوا، لیکن حکومت کے پاس راجیہ سبھا میں نمبروں کی کمی تھی اس وجہ سے وہ اپنی مرضی نہیں چلا سکی۔ حزب اختلاف کا مطالبہ تھا کہ بل میں یا تو ضروری ترمیم کر لی جائیں یا پھر اس کو سلیکٹ کمیٹی میں بھیج دیا جائے۔اس پورے معاملے میں کانگریس کا موقف شروع سے یہی تھا کہ بل میں ایک بڑی ترمیم کی ضرورت ہے اور وہ یہ ہے کہ جب ایک ساتھ تین طلاق دینے والا شوہر جیل چلا جائے تو اس کی عدم موجودگی میں اس کی بیوی اور بچوں کی کفالت کو یقینی بنایا جائے لیکن حکومت بضد رہی کہ جیسا انہوں نے بل تیار کر دیا بس اس کو ایسے ہی منظور کیا جائے ۔ اس ضد کے پیچھے حکومت کا مقصد یا تو یہ تھا کہ بل منظور نہ ہو اور یہ مدعاسیاست کرنے کے لئے زندہ رہے یا پھر وہ چاہتی تھی کہ حزب اختلاف مجبور ہو کر اس کی ہاں میں ہاں ملائے۔
اس سے قبل آج بی جے پی نے اپنے تمام اراکین کو ایوان میں موجود رہنے کا حکم جاری کر دیا تھا۔ لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما ملکا رجن کھڑگے کا کہنا ہے کہ ’’حکومت کو چاہیے کہ طلاق ثلاثہ بل میں جو کمیاں ہیں انہیں دور کرے۔ بی جے پی بحث میں یقین نہیں رکھتی ، وزیر اعظم کو خود اس مسئلہ کا حل نکالنا چاہئے۔‘‘مرکزی وزیر اننت کمار کا کہنا ہے کہ ’’ کانگریس مسلم خواتین کو انصاف نہیں دینا چاہتی اس لئے اس طرح کے ہتھکنڈے اپنا رہی ہے۔ لوک سبھا میں حمایت کی تو راجیہ سبھا میں مخالفت کیوں کی جا رہی ہے۔‘‘ یہ طے ہے کہ طلاق ثلاثہ پر سیاست ابھی باقی ہے اور یہ سیاست ایک بار پھر بجٹ اجلاس میں گرم ہوگی۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*