بنیادی صفحہ / خبریں / اسرائیلی وزیر اعظم کے ممکنہ دور ہ ہند پر رضا اکیڈمی کا احتجاج

اسرائیلی وزیر اعظم کے ممکنہ دور ہ ہند پر رضا اکیڈمی کا احتجاج

ہزاروں ننھے بچوں کے قاتل ،قبلہ اول کے سخت دشمن کو وزیراعظم نریندر مودی کی دعوت
ممبئی ۸؍ جنوری ۔(پریس ریلیز) لاکھوں فلسطینیوں کو بےگھر کرنےمیں کلیدی کردار ادا کرنے والے اسرائیلی وزیراعظم نتن بنجامن یاہو 14 یا 16 جنوری کو ہندوستان کادورہ کررہے ہیں۔جس کو لیکر ابھی سے سیکولر حلقوں میں بے چینی کی لہرہےاور امن پسند شہریوں میں اس ممکنہ دورہ پر تشویش پیداہوگئی ہے کہ یہ دورہ نہ جانےکیا گل کھلائے گا۔نتن یاہو کے حالیہ دورہ ہندپر مذہبی تنظیموں نے بھی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے امن کے علمبردار مہاتما گاندھی کے دیش میں سفاک قاتل یاہو کے سفر ہند کو رد کرنے کا مطالبہ مودی حکومت سے کیاہے۔اس سلسلے میں پیش قدمی کرتے ہوئے رضا اکیڈمی نے ممبئی میں مختلف جگہوں پرعلمائے کرام ودانشوران قوم سے تبادلہ خیال شروع کردیا ہے۔گوونڈی میں دارالعلوم اشرفیہ غریب نواز پلاٹ نمبر 27 شیواجی نگر میں علمائے کرام کی اس سلسلے میں میٹنگ ہوئی جس میں الحاج محمد سعید نوری جنرل سکریٹری رضا اکیڈمی نے کہاکہ حکومت ہند کو مسلمانوں کے جذبات کا خیال رکھنا چاہیےکیو نکہ نتن یاہو صرف ایک غاصب حکمراں ہی نہیں بلکہ سیکڑوں فلسطینی مسلمانوں کا قاتل ہے۔ خاص کر اس کے دور حکمرانی میں جتنے چھوٹے بچوں کا قتل عام ہوا کسی اور اسرائیلی پرائم منسٹر کے دور میں نہیںہوا۔ ہمارا یہ ملک سیکولر اورامن پسند ملک رہا ہے لہذا عالمی قوانین کی کھلے عام دھجیاں بکھیر نے والے امن کے دشمن نتن یاہو کادورہ رد کرنا چاہیے۔انہوں نے علمائے کرام کو آگاہ کیا کہ آپ قوم کی سچی قیادت کرتے ہوئےئے بیت المقدس کے تعلق سے بیدار رکھیں کیونکہ یہ ایک دن کامسئلہ نہیں 67 سالوں کے مسائلہیں جو مظلوم فلسطینی جھیل رھے ہیں۔لھذا بیت المقدس سے ہمارا تعلق ایمانی ھےنتن یاہو کے ممکنہ دورہ پر آپ نے کہا کہ وہ چلڈرن قاتل جہاں جہاں جائیگا ہم اس کا وہاں وہاں پیچھا کریں اور اس کو بھارت سے جلدی بھگانے کا کام کریں گے۔حضرت مولانا مظہر رضا حشمتی نے بھی خیالات کا اظہار کرتے ھوئے کہا کہ بیت المقدس کل بھی ہمارے لیے مقدس و محترم تھا آج بھی ھے اور ان شاءاللہ صبحِ قیامت تک رھے گا وہ صرف فلسطینی مسلمانوں کی لئےہی اہم نہیں بلکہ عالم اسلام کے لئے بھی اہمیت کا حامل ھے ہم اس سے کبھی بھی دستبردار نہیں ہوسکتے ۔ قاری عبدالرحمان قادری ضیائی نے بھی قائدملت کے پیغام کی تائید کرتے ھوئے کہاکہ نتن یاہو کا یہاں آنا ہمیں کسی حال میں منظور نہیں ۔کیوں حکومت ہند نہیں سمجھتی کی نتن یاہو ایک عالمی مجرم ھےوہ ایک مشاق قاتل ہے اسے تو عالمی عدالت میں پھانسی کی سزاھونی چاہیے مگر افسوس کہ ہمارے پردھان منتری نریندر مودی اسے ہندوستان کا مہمان بنارہے ہیں۔لہذاہم حکومت ہند سے مطالبہ کرتےہیں کہ ایسے سخت گیر عالمی مجرم کے دورہ کو فورا رد کریں ۔ورنہ نتن یاہو جہاں جہاں جائیگا،۔ہم اس کا وہاں رہنا دشوار کردیں گے۔رضا اکیڈمی کے ورکر اپنے اپنے انداز میں اس کے دورہ پر احتجاج کریں گے کالے جھنڈے لہرا کر بچوں کے قاتل کا سواگت کریں گے۔آخر میں علامہ محمود عالم رشیدی خطیب وامام ہری مسجد گوونڈی نے قوم کو پیغام دیتے ھوئے کہاکہ نتن یاھو کے دورے کوہم ناکام بنائیںکالے جھنڈے دکھائیں جہاں جہاں یاھو جائے مردہ باد کے نعرے لگائیںاور اپنے اپنے گھروں پر بھی مسلمان کالے جھنڈے لگاکر بیت المقدس کے دشمن کو شرمسار کریں۔جھنڈے نہ ہوںتو ہماری ماں بہنیں کھڑکیوں پر کالے برقعے پھیلا ئیںاورنتن کے دورے کو ناکام بنائیں۔دریں اثناء رضااکیڈمی کے دفتر میں ایک اہم میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مسلمان اپنے گھروں میں فلسطینیوں کی حمایت میں کالا جھنڈا اور فلسطین کا جھنڈا بلند کریں تاکہ حکومت کو یہ احساس ہو کہ مسلمان نتن یاہو کی آمد سے کس قدر ناراض اور مضطرب ہیں ۔ نتن یاہو کے خلاف رضا اکیڈمی نے جگہ جگہ احتجاجی مظاہرےکا بھی فیصلہ کیا ہے جمعہ کو حرمت فلسطین و مسجد اقصی منانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے ۔ تمام مساجدمیں قبلہ اول کی حرمت پر بھی خصوصی خطبہ بھی دیا جائیگا ۔ رضا اکیڈمی کے سر براہ الحاج سعید نوری نے بتایا کہ فلسطینی بچوںکے قاتل نتن یاہو کی ہند آمد ہندوستانی مسلمانوں کی ناراضگی کا باعث ہے اور یہ اضطراب نتن یاہو کی آمد پر پھوٹ پڑنے کا خدشہ بھی ہے ایسے میں رضا اکیڈمی نے مسلمانوں اور انصاف پسندوں سے اپیل کی ہے کہ وہ نتن یاہو کی مخالفت میں کالا جھنڈا لگائیں فلسطینیوں اور فلسطین سے ہمدردی کیلئے مسلمان اپنے گھروں محلوں اور دکانوں پر فلسطین کا جھنڈا لگائیں گے کیونکہ ہندوستان ہمیشہ سے ہی فلسطین نواز رہا ہے اس سلسلے میں رضا اکیڈمی تمام محلوں میں نکڑ میٹنگ بھی کریگی تاکہ فلسطین کے تعلق سے لوگوں بالخصوص مسلمانوں کوبیدار کیا جاسکے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ فلسطینی بچوں کے قاتل کی ہند آمد تمام انصاف پسندوں کی ناراضگی کا باعث ہے لیکن اس کے باوجود ہند نے اس کی میزبانی قبول کی ہے اور اسے اپنا مہمان بنایا ہے۔ ہم مطالبہ کر تے ہیں کہ حکومت نتن یاہو کی آمد کوہی موخر کر دے اس سلسلے میں رضا اکیڈمی ایک تحریک چلائے گی اور صدر جمہوریہ ہند کو مکتوب ارسال کیا جائیگا اتنا ہی نہیں مسلمانوں سے یہ اپیل بھی کی گئی ہے کہ وہ صدر جمہوریہ کو فلسطینیوں کی حمایت میں پوسٹ کارڈ ارسال کریں ۔ساتھ ہی رضا اکیڈمی اس روز اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کے ساتھ اسرائیلی مصنوعات بھی سڑکوں پر برباد کرے گی ۔اس اہم میٹنگ میں علماء کرام دانشوران و اہم و سرکردہ شخصیات بھی موجود تھیں ۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*