بنیادی صفحہ / خبریں / سرکار کا اسرائیل کے سامنے سرجھکانا ملک کے لیے شرمناک :پنتھرس پارٹی

سرکار کا اسرائیل کے سامنے سرجھکانا ملک کے لیے شرمناک :پنتھرس پارٹی

جموں16جنوری:ہندستان فلسطینی فرینڈ شپ سوسائٹی کے چیرمین اور فلسطنیی ہیرو یاسر عرفات کے قریبی دوست رہ چکے پروفیسر بھیم سنگھ نے، جو نیشنل پنتھرس پارٹی کے سربراہ بھی ہیں، اسرائیل کے وزیراعظم نتین یاہو کو ہیرو بناکر اسرائیل سے دہلی لانے پر وزیراعظم نریندر مودی کی تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ہندستان فلسطین کی دوستی کو کسی قیمت پر بھی قربان نہیں کرسکتا ۔ انہو ں نے اسرائیل کے وزیراعظم نتن یاہو کے بارے میں کہا کہ وہ شروع سے ہی صیہونیت کی تشہیر کرنے والوں میں سے رہے ہیں۔پروفیسر بھیم سنگھ نے نتن یاہو سے کئی بار پریس کا انٹرویو کیا ہے ۔ انہوں نے 1992میںیروشلم میں وائس آف ملینس ٹی وی نیٹ ورک پر دوردرشن کے لئے بھی انٹرویو کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نتن یاہو کو دہلی میں فرشتہ بناکر سرپر چڑھانا کوئی سمجھداری کی بات نہیں ۔ اس سے ہندستان کے 53اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔پنتھرس سربراہ نے اسرائیل پر ایک کتاب بھی تحریر کی ہے جس میں انہوں نے کہاہے کہ اقوام متحدہ کا اسرائیل کووجود میں لانا اور فلسطین کو تقسیم کرنا 1948میں اقوام متحدہ کی سب سے بڑی غلطی تھی جس کا خمیازہ پوری عرب دنیا بھگت رہی ہے۔انہوں نے اپنی کتا ب میں اسرائیل کو اقوام متحدہ کا ناجائز بچہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہندستان کی قیادت (وزیراعظم مودی سے پہلے)نہایت سمجھداری کے ساتھ اور بین الاقوامی امن کو پیش نظر رکھ کر چل رہی تھی لیکن مودی جی نے ہندستان اور مہاتماگاندھی کا 1935سے لیکر فلسطنیوں کے ساتھ جو عہد تھا اور امن اور بین الاقوامی تعلقات تھے انہیں قربان کردیا ہے۔پروفیسر بھیم سنگھ مسٹر نریندر مودی جی کی یاد دلایا کہ ہارٹی کلچر، ایگریکلچر، پانی جمع کرنے کی تکنیک تو وہ جموں وکشمیر سے بھی سیکھ سکتے ہیں۔ اسرائیل جانے کی ضرورت نہیں ۔ انہوں نے مودی سرکارکوآگاہ کیا کہ ہندستان کے دفاع کے تعلق سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات ہندستان کی حفاظت اور تحفظ کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔پنتھرس سپریمو نے مودی حکومت پر تنقید کی کہ حائیفہ شہر دوسری جنگ کے دوران فلسطین میں تھا اور جب فلسطین کی تقسیم کی گئی تب بھی فلسطین کے ساتھ رہا ۔ اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر ۔181کے مطابق پروفیسر بھیم سنگھ نے ، جو بین الاقوامی قوانین کے ماہر ہیں، کہاکہ حائیفہ دوسری جنگ میں فلسطین میں تھااسرائیل ابھی پیدا ہی نہیں ہوا تھا۔انہوں نے پارلیمنٹ ہند سے زور دار الفاظ میں اپیل کی کہ پوری اپوزیشن متحد ہوکرمودی حکومت پرکڑی لگام لگاکر رکھے۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*