بنیادی صفحہ / تجارتی اجلاس / شادی سے قبل نوجوان لڑکے لڑکیوں کے لئے کونسیلنگ ،مطلقہ وبیوائوں کے لئےنکاح ثانی کااہتمام کیاجائے

شادی سے قبل نوجوان لڑکے لڑکیوں کے لئے کونسیلنگ ،مطلقہ وبیوائوں کے لئےنکاح ثانی کااہتمام کیاجائے

مولانا رہبر عالم ناظم جامعہ ابن عباس مائک پر اعلانات کرتے ہوئے جبکہ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی تنظیم والدین کے صدر اکرم خان کی خدمت میں میمنٹو پیش کرتے ہوئے

مولانا رہبر عالم ناظم جامعہ ابن عباس مائک پر اعلانات کرتے ہوئے جبکہ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی تنظیم والدین کے صدر اکرم خان کی خدمت میں میمنٹو پیش کرتے ہوئے

ممبرا میںمدرسہ جامعہ سیدنا ابن عباس میں منعقدہ تفہیم شریعت کانفرنس سے مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کا خطاب
ممبرا:ـ4/مارچ (نازش ہما قاسمی) ممبرا کے امرت نگر درگاہ گیٹ کے قریب دینی ادارہ جامعہ سیدنا ابن عباس میں مسلم پرسنل لا بورڈ کے زیر اہتمام جلسہ تفہیم شریعت منعقد کیا گیا جس میں ممبرا، تھانے، وسئی اور ممبئی کے علمائے کرام، ائمہ مساجد کثیر تعداد میں موجود تھے۔ اجلاس کی صدارت مولانا سلامت اللہ ندوی نے کی اور مہمان خصوصی مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان مشہور عالم دین فقیہ العصر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی تھے ـ ۔اس موقع پر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے تفہیم شریعت پروگرام کی اہمیت بتاتے ہوئے کہا کہ موجودہ وقت میں اس طرح کے پروگراموں کا انعقاد کیا جانا بہت ضروری ہے اس سے ہمیں عوام الناس تک شریعت کے مزاج کو پہنچانے میں آسانی ہوگی انہوں نے حکومت کے مجوزہ طلاق ثلاثہ بل کے مضرات اور اس سے پیش آنے والے خطرات اور مسلم خواتین کو ہونے والی پریشانیوں کا تذکرہ کیا اور صریح لفظوں میں کہا کہ حکومت کا یہ بل شریعت میں مداخلت ہے جسے مسلمان کبھی بھی قبول نہیں کرسکتا ـ انہوں نے اس بات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اب بھی ہوش کے ناخن لے لینا چاہیے کہ وہ مسلم سماج کے جس طبقے کیلئے قانون بنانے جارہی ہے وہی طبقہ یعنی مسلم خواتین حکومت کے اس بل کے خلاف سراپا احتجاج ہے اور جس دن سے حکومت نے لوک سبھا میں اس بل کو پاس کرایا ہے اسی دن سے پورے ملک سے مسلم خواتین سڑکوں پر اتر کر اس بل کے خلاف اپنا احتجاج درج کروارہی ہیں ـ اس موقع پر مولانا رحمانی نے ہندوستان میں دیگر مذاہب کے مقابلے میں مسلم سماج میں طلاق کے اعدادوشمار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ طلاق کی شرح سب سے کم مسلمانوں میں پائی جاتی ہے، انہوں نے کہا کہ ۲۰۱۱ تک کی ایک رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کے یہاں طلاق کی شرح ۴۱ فیصد تھی جبکہ ہندووں کے یہاں ۴۷ فیصد تھی اسی طرح سے مطلقہ عورتوں کا مذہبی تناسب اگر دیکھا جائے تو ہندو مذہب میں ۶۸ فیصد مسلمان ۲۳فیصد اور عیسائیوں میں ۶ فیصد طلاق کی شرح ہے اور ہندووں میں ایسی خواتین جنہیں شوہروں نے بنا طلاق دئیے ہوئے چھوڑ دیا ہے ان کی تعداد فی ہزار سات ہے یعنی ایک ہزار میں سات ہےـ اسی طرح مولانا نے کہا کہ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ سال میں کم از کم تین مرتبہ شادی کی عمر کو پہنچنے والے نوجوان لڑکے لڑکیوں کی کونسلنگ کرائی جائے جس میں انہیں شادی شدہ زندگی گزارنے کے رہنما اصول سے واقف کرایا جائے ساتھ ہی نکاح طلاق خلع وغیرہ جیسے اہم و پیچیدہ مسائل سے روشناس کرایا جائے بالخصوص شادی کے سیزن میں اس کا زیادہ اہتمام کیا جائےـ مولانا رحمانی نے ائمہ مساجد وخطیب کو خاص متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ کم از کم مہینے میں ایک جمعہ یا دو جمعہ مسلم پرسنل لا کے موضوع نکاح طلاق خلع میراث وغیرہ کے مسائل پر خطاب کریں اور اسے آسان اور عام فہم زبان میں ان تک پہنچائیں۔ ـ
اس نشست کا اختتام مولانا رحمانی کی ۔دعا پر ہوا جس میں شام پر وحشیانہ مظالم کے خاتمےکی دعا کی گئی ـ دریں اثناء بعد نماز مغرب مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے جامعہ سے فارغ ہونے والے طلبائے عزیز کو بخاری شریف کا آخری درس دیا ـ اس اجلاس میں ادارہ کے مہتتم مولانا رہبر ندوی، بصیرت آن لائن کے چیف ایڈیٹر مولانا غفران ساجد قاسمی، معیشت میڈیا گروپ کے چئیرمین دانش ریاض، مولانا سرورقاسمی،مولانا طہ قاسمی، قاری شہاب صدیقی، مولانا شمیم اختر ندوی، قاضی فیاض عالم قاسمی (قاضی مسلم پرسنل لا بورڈ ناگپاڑہ) اور دیگر علمائے کرام شریک تھےـ

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*