بنیادی صفحہ / خبریں / دعوت و ارشاد کا مرکز ہیں ملیشیا کی مسجدیں

دعوت و ارشاد کا مرکز ہیں ملیشیا کی مسجدیں

مسجد سلات ملاک کا بیرونی منظر (تصویر: معیشت)

مسجد سلات ملاک کا بیرونی منظر (تصویر: معیشت)

دانش ریاض برائے معیشت ڈاٹ اِن
ملیشیا کے کوالالمپور میں منعقدہ حلال کانفرنس میں جیسے ہی ہماری خدمات کا اعتراف ہوا یعنی اعزازات سے نوازہ گیا۔ مقامی میزبان جناب ڈاکٹر عبد الرحمن سائلی کا فون آگیا کہ ہوٹل دی اورینٹل سے نکل کر میں فوری طور پر کوالالمپور سینٹرل پہنچ جائوں کہ ہمیں ’’ملاکا سٹی‘‘ کے لئے کوچ کرنا ہے۔ دراصل ملاکا سٹی ملیشیائی ریاست ملاکا کا دارالحکومت ہے جوملائی جزائر کے جنوبی علاقےمیں کوالالمپور سے 148کلومیٹر پرواقع ہے۔ جس کی مجموعی آبادی تقریباً پانچ لاکھ کے قریب ہے ۔ساحل سمندر پر واقع ہونے کی وجہ سے ملاکا سٹی جہاںتجارت کا عظیم مرکز ہے وہیں یونیسکو کےعالمی ثقافتی ورثہ میں بھی اس کا شمار ہوتا ہے۔

مسجد سلات میں بچوں کے کھیلنے کے لئے مختص کی گئی جگہ (تصویر: معیشت)

مسجد سلات میں بچوں کے کھیلنے کے لئے مختص کی گئی جگہ (تصویر: معیشت)

مذکورہ علاقے میں تفریح طبع کے لئے یوں تو سیکڑوں مقامات موجود ہیں لیکن جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ وہاں کی ’’مسجد سلت ملاک‘‘تھی ۔ ساحل سمندر پر واقع ’’مسجد سلت‘‘کی تعمیر ۲۰۰۶میں ہوئی ہے جبکہ ۲۴نومبر ۲۰۰۶ کو وہاں کے سپریم لیڈر تنکو سید سراج الدین سید پترا جمال اللیل کی موجودگی میں ایک شاندار پروگرام کے ذریعہ اس کا افتتاح ہوا ہے۔
’’مسجد سلات ملاک‘‘محض ایک مسجد ہی نہیں بلکہ اسلام میں مسجد کے تصور کی بھرپور عکاسی کرنے والی وہ جگہ بھی ہے جس کے ذریعہ آپ اسلام کے فلسفہ تبلیغ و ارشاد کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔سمندر کی لہروں سے ٹکراتی اپنی خوبصورتی و رعنائی بکھیرتی یہ مسجد زائرین کو اپنی طرف مائل کرنے میں مکمل طور پر کامیاب ہے۔آپ مسلمان ہوں یا غیر مسلم ،دنیا کے کسی بھی خطے سے تعلق رکھتے ہوں ۔مذکورہ مسجد کے دریچے تمام لوگوں کے لئے کھلے ہوئے ہیں۔

نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے روایتی لباس میں تشریف لائے مقامی باسشندہ(تصویر:معیشت)

نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے روایتی لباس میں تشریف لائے مقامی باسشندہ(تصویر:معیشت)

مسجد میں داخل ہونے سے قبل آپ جیسے ہی احاطہ مسجد میں داخل ہوں گے،دائیں جانب وضو خانہ اور طہارت خانہ ہے تو بائیں جانب شاندار کینٹین ، جہاں شکم کو راحت پہنچانے کے وہ سامان موجود ہیں جسے آپ فوری طور پر استعمال میں لا سکتے ہیں۔خوبصورت لان میں ہری بھری گھانسوں پر جہاںآپ چہل قدمی کرسکتے ہیں وہیںرنگ برنگے پھولوں کی خوشبو سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ساحل سمندر سے ٹکراتی لہروں کا نظارہ بھی کرسکتے ہیں۔جابجا بیٹھنے کے لئے چبوترے بنائے گئے ہیں کہ اگر کوئی صرفتفریح طبعکی غرض سے بھی آیا ہو تو اسے یہاں کی فضائیں گھنٹوں اپنی آغوش میں جکڑے رکھیں۔
صحن و لان عبور کرنے کے بعد جیسے ہی آپ چپل جوتوں سے نجات حاصل کرتے ہوئےمسجد میں داخل ہونے کے لئے بنائی گئی راہداری سے گذریں گے،سامنے ہی اسلامک لائبریری نظر آجائے گی۔جبکہ داخلی دروازے پر بنائے گئے اسٹینڈس پر اسلامی تعلیمات کو عام کرنے والی اور غیر مسلموں کے ذہن میں اٹھنے والے سوالات کی روشنی میں ترتیب کردہ وہ پمفلٹس نظر آجائیں گے جسے انگریزی اور چائنیز زبان میں تیار کیا گیا ہے۔بغل میں ہی ریفریجریٹر ہے جس میں دو رنگٹ سے لے کر بیس رنگٹ (ملیشیائی کرنسی) تک کی قیمت کے کھانے پینے کے پیکیج سامان کو رکھا گیا ہے ساتھ ہی پانی کی بوتلیں ہیں جو ایک روپئے میں حاصل کی جاسکتی ہیں۔جوخریدکر پانی نہ پینا چاہتے ہوں ان کے لئے فلٹر واٹر کا بھی انتظام ہے جسے مفت میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔بائیں جانب خواتین کے لئے وضو خانہ ہے تو وہیں سے بالائی منزل پرجانے کے لئے سیڑھیاں بنائی گئی ہیں۔وہیں تھوڑا ہٹ کر بچوں کے کھیلنے کے لئے جگہ مختص کی گئی ہے اور اس علاقے کو بچوں کی مناسبت سے پینٹ کیا گیا ہے جہاں انبیاء کرام کے نام ،کلمہ شہادت ،فرشتوں کے نام وغیرہ کی پینٹنگ نظر آجائے گی۔صحن میں ہی آپ کو مساج چیئرس مل جائیں گے کہ اگر کسی کے بدن ہاتھ میں درد ہو اور وہ فوری راحت چاہتا ہو تو محض دو رنگٹ ادا کرکے لطف اندوز ہو سکتا ہے۔
چونکہ ہم نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے مسجد سلات گئے تھے لہذا 12:30بجتے بجتے نمازیوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ایک بجے کے قریب جب امام مسجد نے خطبے کا آغاز کیا تو روایتی انداز میں ایمانیات اور اعمال صالحہ پر گفتگو کی لیکن دلچسپ بات یہ رہی کہ خطبہ میں انہوں نے اپنے سلطان کی سلامتی کے لئے بھی دعائیں کیں۔نمازیوں میں جہاں طلبہ دکھائی دئے وہیں تاجروں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی ،جبکہ غیر ملکیوں میں بنگلہ دیشی مسلمان بھی نظر آئے۔ مقامی لباس میں ملبوس وہاں کے مکین نماز کی ادائیگی کے لئے بڑے اہتمام سے آئے تھے۔وہاں یہ تاثر بھی ملا کہ یہ محض نماز کی ادائیگی کے لئے نہیں آئے تھے بلکہ اس ہفتہ واری اجتماع کے لئے بھی آئے تھے جس کا اہتمام اسلام نے جمعہ کی شکل میں کیا ہے۔آپسی ملاقات ،خیر و عافیت کے بعدتھوڑی دیر مسجد میں ہی بیٹھ کر مذاکرہ اس بات کو ظاہر کر رہا تھا کہ یہ جگہ میٹنگ پلیس بھی ہے۔
مسجد سلات دیکھنے کے بعد جب میں نے اس کا موازنہ ممبئی کے ’’حاجی علی ‘‘سے کیا تو محسوس ہو ا کہ’’ حاجی علی مسجد‘‘ اور’’حاجی علی درگاہ‘‘ کوبھی اگر اسی انداز میں تیار کیا جائےتو شاید زائرین کی تعداد میں بھی اضافہ ہو اور اسلام کا پیغام بھی عام ہوجائے۔

مسجد نگارا کولالمپور کا بیرونی منظر (تصیر : معیشت)

مسجد نگارا کولالمپور کا بیرونی منظر (تصیر : معیشت)

مسجد سلات دیکھنے کے بعد مجھے ملیشیا کی مزید مساجد کا جائزہ لینے کی خواہش دو چند ہوگئی۔لہذا جب میں کولالمپور واپس آیا تو مشہور جامع مسجد ’’مسجد نگارا‘‘چلا گیا ۔کولالمپور سینٹرل سے متصل’’ مسجد نگارا‘‘ بھی لوگوں کو دعوت نظارہ دیتی ہے۔تقریباً ۱۳ایکڑ پر مشتمل مسجد نگاراکولالمپور ریلوے اسٹیشن سے چند قدم دوری پر واقع ہے۔تعمیرات کے باب میں جن آرکٹکچرس نے اپنی خدمات پیش کی ہیں ان میں جہاں پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ کے اس وقت کے ذمہ دارداتو بہار الدین ابو قاسم اورہشام البکری کا نام شامل ہے وہیں برطانوی آرکٹیکٹ ہاورڈ ایشلے کی نگرانی بھی اسے حاصل رہی ہے۔دراصل سن ساٹھ کی دہائی میں جب ملیشیا میں نئی قیادت نے زمام کار سنبھالا تو عالمی طور پر ملک کی شناخت قائم کرنے کے لئےقومی مسجد کی تعمیر کا پروگرام ترتیب دیاگیالہذا ۱۹۶۰؁ میںسنگ بنیاد ڈالی گئی اور ۱۹۶۵؁ میں یہ عوام الناس کے لئے کھول دی گئی۔۱۹۹۰؁ میں دوبارہ توسیع کا کام ہوا جہاںفی الوقت ۱۵ہزار نمازی ایک ساتھ باجماعت نماز ادا کرسکتے ہیں۔ مذکورہ مسجد اپنے مینارہ کی وجہ سے بھی پوری دنیا میں مشہور ہے۔

مسجد نگارا کا اندرونی منظر جہاں والدین اپنی بچی کے ساتھ تلاوت قرآن پاک میں مشغول ہیں (تصویر:معیشت)

مسجد نگارا کا اندرونی منظر جہاں والدین اپنی بچی کے ساتھ تلاوت قرآن پاک میں مشغول ہیں (تصویر:معیشت)

مسجد کے داخلی دروازے پراگر جوتا چپل رکھنے کی جگہ ہے تو خواتین کے لئے نقاب بھی رکھا گیاہے ۔وہ غیر مسلم خواتین جو مسجد میں داخل ہونا چاہتی ہوں لیکن ساتر لباس زیب تن نہ کر رکھا ہو وہ لمبی چادر کائونٹر سے حاصل کریں اور مسجد میں داخل ہو جائیں۔’’مسجد سلات ‘‘کی طرح ’’مسجد نگارا‘‘ میں بھی خواتین کے لئے علحدہ وضوخانہ اور طہارت خانہ بنایا گیاہے۔بچوں کے لئے کھیلنے کی جگہ ہے جبکہ صحن میں بڑے بڑے حوض ہیں جو دعوت نظارہ دیتے ہیں۔گرائونڈ فلور پر ہی خوبصورت لائبریری،پروگرام ہال، ڈسکشن روم کے ساتھ دیگر انتظامی امور سے متعلق آفس ہے۔ایک کمرہ مالیات کے لئے بھی مختص ہے جہاں زکوۃ و صدقات وصول کئے جاتے ہیں۔ جبکہ سر سبز لان بھی ہے جہاں چہل قدمی قلب کو فرحت بخشتی ہے۔

مسجد نگارا میں تشریف لائے غیر مسلموں کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کراتا مقامی مبلغ (تصویر:معیشت)

مسجد نگارا میں تشریف لائے غیر مسلموں کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کراتا مقامی مبلغ (تصویر:معیشت)

بالائی منزلہ پر نماز پنج وقتہ کا اہتمام ہوتا ہے۔ترتیب یہ رکھی گئی ہے کہ ممبر و محراب سے متصل علاقہ مردوں کے لئے مختص ہے اس کے بعد بچوں کے لئے جگہ چھوڑی گئی ہےاور کئی صفوں کے بعد خواتین کی صف بندی کی گئی ہے۔چونکہ میں نماز مغرب کی ادائیگی کے لئے گیا تھا لہذا اذان کے بعد جیسے ہی امام صاحب اپنے حجرے سے آئے جماعت کھڑی ہوگئی ۔مردوں کی صف بندی کے بعد جو خالی علاقہ تھا وہاں بچوں کی صف بنی ہوئی تھی جن میں کچھ بچے کھیل بھی رہے تھے اس کے کئی فرلانگ بعد خواتین کی صف بنی ہوئی تھی ۔یقیناً اس نظارے نے تاریخ اسلام کے ابتدائی دنوں کی یاد دلا دی کہ ہم نے کبھی جسے سیرت النبیﷺ یا سیرت صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین میں پڑھا تھا یہاں اس کا عملی مظاہرہ دیکھ رہے تھے۔نماز کے بعد بچے جہاں مسجد میں کھیل رہے تھے وہیں والدین قرآن پاک کی تلاوت و تفہیم میں مشغول تھے۔چونکہ میں جس وقت وہاں گیا اس وقت تمام دفاتر بند ہو چکےتھےلہذاامام صاحب سےگفتگو کی تو وہ بہت خوش ہوئے سماجی امور پر گفتگو کے دوران ہی وہ اپنے حجرے میں گئے اور مسجد نگارا کی طرف سے مہمانوں کے لئے تیار کیا گیا تحفہ لے آئے ۔مجھے اس بات پر کافی حیرت ہوئی کہ آخر ایک مسجد کا امام کس قدر حساس ہے کہ وہ اسلام کےپیغام کو جا بجا پیش کرنا چاہتا ہے۔کاش ہندوستان کی مساجد کے ٹرسٹیان،ائمہ کرام بھی اس سے سبق لیتے۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*