بنیادی صفحہ / خبریں / حاجی سعودی عرب کے قوانین کا احترام کریں ورنہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

حاجی سعودی عرب کے قوانین کا احترام کریں ورنہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

حجاج کرام میدان عرفات میں جمع ہیں

غیر رجسٹرڈ حج و عمرہ ٹور آپریٹرس مالکان سے بھی ہوشیار رہیں،غیر محسوس انداز میں آپ کو پھنسایا جا سکتا ہے
ممبئی: (معیشت نیوز)فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے سفر حج پرجارہے گودھرا کے ایک شخص کو کثیر مقدار میں لے جارہے تمباکو اور گٹکے کے ساتھ پکڑا گیا لیکن قوم کی بدنامی نہ ہو اس لئے بغیر کسی قانونی کارروائی کے سامان ضبط کرنے کے بعد چھوڑدیا گیا اور حج کے سفر پر روانہ کردیا گیا۔واضح رہے کہ سعودی عرب میں گٹکا اور تمباکو کا استعمال قانوناً جرم ہے جبکہ حج کمیٹی آف انڈیا نے بھی اپنی گائڈ لائن میں واضح طور پر ہدایات جاری کی ہیں کہ ’’حاجی گٹکا،تمباکو،ویاگرا،Liquorوغیرہ نہ لے جائیں جو کہ سعودی عرب میں ممنوع ہے،اگر کوئی پکڑا گیا تو اس کی سزا جیل یا پھر بیرنگ واپسی ہے‘‘۔ فیڈریشن حج پی ٹی اوز آف انڈیا کے صدر ظفر جمال کے مطابق’’گجرات کے گودھرا پنچ محل سے تعلق رکھنے والاشخص گذشتہ شام کی فلائٹ سے سفر حج پر روانہ ہو رہا تھا لیکن جب اس کے سامان کی چیکنگ ہوئی تو کثیر مقدار میں گٹا اور تمباکو پایا گیا جسے فوری طور پر ضبط کر لیاگیاہے‘‘۔یہ وہاں کا مقامی ٹور آپریٹر ہے جو کسی کے ساتھ حج کمیٹی آف انڈیا کی معیت میں حج پر جا رہا تھا لیکن ایئر پورٹ پر ہی پکڑا گیا۔ــ‘‘اس ضمن میں جب گجرات حج کمیٹی کے سیکشن آفیسر مبین صدیقی سے گفتگو کی گئی تو انہوں نے واقعہ کی تصدیق تو کی لیکن یہ کہتے ہوئے کہ ’’چونکہ اس سے قوم کی بدنامی ہوتی اور لوگوں میں اچھا تاثر نہیں جاتا اسلئے اس کے سامان کوضبط کرکے یوں ہی چھوڑ دیا گیا اور سفر حج پر روانہ کردیا گیا‘‘۔
واضح رہے کہگجرات میں گٹکا اور تمباکو پر کوئی پابندی نہیں ہے جبکہ دوسری ریاستوں بشمول آسام،بہار،مہاراشٹر ،کیرلہ،ہماچل پردیش،جموں کشمیر،تلنگانہ،آندھرا پردیش وغیرہ میں اس پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ جو ممنوعہ اشیاء لے کر سفر کرنا چاہتے ہیں وہ گجرات سے سفر کرنا مناسب سمجھتے ہیں۔

فیڈریشن حج پی ٹی اوز آف انڈیا کے صدر ظفر جمال

فیڈریشن حج پی ٹی اوز آف انڈیا کے صدر ظفر جمال

۲۰۰۵سے ۲۰۱۱تک حج کمیٹی گجرات میں اپنی خدمات بہم پہنچا چکے صادق منصور کہتے ہیں’’امسال دو واقعہ میری علم میں ہے ۔جبکہ یہ ایک بہت بڑا جال ہے جسے منظم انداز سے ترتیب دیا گیا ہے۔میں جب خدمات انجام دے رہا تھا تو اس طرح کے بیشتر واقعات میری نظروں سے گذرے ہیں۔چونکہ گجرات میں ان چیزوں پر پابندی نہیں ہے لہذا لوگ بے خوف ہوکر اپنے سامان میں ممنوع اشیاء لے آتے ہیں جب وہ یہاں سے نکل جاتے ہیں تو انہیں بڑی خوشی ہوتی ہےحالانکہ خدانخواستہ اگر سعودی عرب میں پکڑے گئے تو نہ صرف جیل کی سزا ہو سکتی ہے بلکہ الٹے پائوں ملک سے نکالا بھی جاسکتا ہے جس سے ہر جگہ بدنامی ہوسکتی ہے‘‘۔
فیڈریشن حج پی ٹی اوز آف انڈیا کے صدر ظفر جمال کا کہنا ہے کہ ’’یہی وہ لوگ ہیں جو تیس اور پینتیس ہزار میں حج یا عمرہ کرانے کا جھانسہ دیتے ہیں اور حجاج کرام کے سامان میں ایسی چیزیں ڈال دیتے ہیںجو سعودی عربیہ میں ممنوع ہے اور بھاری قیمتوں میں جسے اسمگل کیا جاتا ہے لہذا اس طرح کے ٹور آپریٹرز اسمگلنگ کے بدلے حج یا عمرہ کراتے ہیں‘‘۔
ظفر جمال کا کہنا ہے کہ ’’گجرات میں اس طرح کا جال پھیلا ہوا ہے کہ وہ حاجیوں کے سامان میں ڈرگس،تمباکو،ممنوع اشیاء ڈال دیتے ہیں اور انہیں سستے میں حج پر لے جاتے ہیں اگرحاجی ایئر پورٹ سے نکل گیا تو ٹور آپریٹرس کا فائدہ اور اگر پکڑاگیا تو حاجی پکڑا جاتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فراڈ کو روکنے کے لئے حکومت کوئی قدم نہیں اٹھار ہی ہے۔ہندوستان میں ساڑھے چھ سو لوگ حج عمرہ کے لئے رجسٹرڈ ہیں جنہیں لائسنس ملا ہوا ہے۔لیکن المیہ یہ ہے کہ اب دس ہزار سے زائد غیر رجسٹرڈ ادارے قائم ہیں جس میں ہر برس اضافہ ہی ہورہا ہے۔حالانکہ اصولاً یہ لوگ نہ تو آفس کھول سکتے ہیں اور نہ ہی کسی کا پاسپورٹ لے سکتے ہیں۔ہر سال ایسے لوگ عوام کا کروڑوں روپیہ لے کر بھاگ جاتے ہیں۔ڈیڑھ ماہ قبل ناسک کے جہان ٹور والے نے فراڈ کیا اور سیکڑوں کڑوڑ روپیہ لے کر بھاگ گیا ہے۔ یہ لوگ بھی پینتیس ہزار روپیہ میں عمرہ کروا رہے تھے۔ایسے ہی میرا روڈ سے لوگ بھاگ گئےہیں بلکہ اس سال تو دسیوں معاملات سامنے آئے ہیں‘‘۔
واضح رہے کہ حج عمرہ ایک مقدس فریضہ ہے جس کی ادائیگی کے لئے لوگ یا تو حج کمیٹی آف انڈیا کے توسط سے سفر کرتے ہیں یا پھر پرائیویٹ ٹورس آپریٹر کا سہارا لیتے ہیں لیکن عموماً سستے کی آڑ میں اکثر لوگ پھنس جاتے ہیں اور انہیں عین سفر کے وقت حقیقت حال سے آگہی ہوتی ہے۔
جبکہ ایک دوسری اطلاع کے مطابق بنگلور کے تلک نگر(جیانگر) سے تعلق رکھنے والے حریم ٹورس نے حج پر جانے والےتقریباً ایک سو پانچ لوگوں کا پاسپورٹ اور پیسہ لے کر راہ فرار اختیار کر لیا ہے۔بنگلور سے رشید عبدالحفیظ کے مطابق ’’۳۱ جولائی سے ہی حریم ٹورس کے مالک صبغۃ اللہ شریف کا موبائل فون بند آرہا ہے جبکہ ان کی آفس پر بھی تالا لگا ہوا ہے۔حجاج کرام جنہوں نے سفر حج پر جانے کے لئے انہیں پیسہ اور پاسپورٹ دیا ہے اس صورتحال سے انتہائی پریشان ہیں وہ انتظامیہ سے گہار لگا رہے ہیں کہ وہ اس معاملے میں دخل اندازی کرے تاکہ وہ لوگ اس برس حج ادا کرسکیں‘‘۔
دریں اثناء حیدر آباد پولس نے سید الساجدین(علیہ السلام) عمرہ و زیارت ٹورس اینڈ ٹریولس پرائیویٹ لمیٹڈ سے وابستہ مرزا اسد اللہ بیگ کو پانچ کروڑ روپیہ کی دھوکہ دہی کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ڈپٹی کمشنر اویناش موہنتی کے مطابق ’’ٹریول ایجنسی الطاف حسین چلا رہے تھے جنہوں نے مرزا اسد اللہ بیگ کو برانچ منیجر کے بطور رکھ رکھا تھا ۔یہ لوگ عمرہ و زیارت کے لئے ایران ،عراق کے راستے سعودی عرب اور پھر وطن واپسی کا کرایہ ۲۵ہزار سے تیس ہزار لیتے تھے کسی سے زیارت کا ۳۶ہزار بھی چارج کرتے تھے اور ایسے تقریباً ۱۵۰۰سو لوگوں کو انہوں نے دھوکہ دیا ہے جس کے ذریعہ تقریباً ۵کروڑ روپئے کی دھاندھلی کی ہے۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*