بنیادی صفحہ / انٹرویوز / ’’مسلمان تملق پسندانہ مزاج سے آزاد ہوں تبھی بہتری کے مواقع میسر آئیں گے‘‘

’’مسلمان تملق پسندانہ مزاج سے آزاد ہوں تبھی بہتری کے مواقع میسر آئیں گے‘‘

 محمداشرف خان وارثی اپنی بلڈنگ کے باہر انتہائی پرسکون دکھائی دے رہے ہیں:(تصویر معیشت)

محمداشرف خان وارثی اپنی بلڈنگ کے باہر انتہائی پرسکون دکھائی دے رہے ہیں:(تصویر معیشت)

وارثیہ سلسلہ کےمرید محمداشرف خان وارثی نے جہاں ممبرا کے مسلمانوں کو قریب سے دیکھا ہے وہیں دھاراوی کی تجارتی برادری کے ساتھ معاملات طے کئے ہیں۔مسلم اکثریتی علاقوں پر موصوف کی گہری نظر رہی ہے معیشت کے مدیر دانش ریاض کے ساتھ ہوئی گفتگو میں انہوں نے ان تمام پہلوئوں پر بات کی ہے جسے وہ ساٹھ برس کے عرصہ میں دیکھتے رہے ہیں ۔پیش ہے تفصیلی مضمون
کوسہ سے متصل کھڑدی گائوں ممبرا کا انتہائی قدیم علاقہ ہے جہاں نئی آبادی نے کاروبار زندگی کو نئے رخ پر لاکھڑا کیا ہے لیکن عائشہ ہائٹس میں رہائش پذیر محمد اشرف خان وارثی وارث پاک کے ان چہیتوں میں ہیں جنہوں نے صوفیانہ مزاج پر ہی اپنی زندگی کو سنوارنا مناسب سمجھا ہے۔۱۸جولائی ۱۹۵۸؁ کو عروس البلاد ممبئی کےعلاقہ دھاراوی میںآنکھیں کھولنے والے ایک متوسط خاندان کے وارث نے مین پاور کنسلٹنٹ کے طور پر زندگی کی ساٹھ بہاریں دیکھ لی ہیں لہذا چالیس برس کی ممبئی کے دھاراوی کی زندگی ہو یا ممبرا میں بیس سالہ قیام ،اپنے خواجہ خواجگان سے ان کا رشتہ آج بھی اتنا ہی اٹوٹ ہے جتنا کوئی سربراہ خاندان اپنے خاندان سے رکھتا ہے۔ محمد اشرف خان کے مطابق ’’ بچپن سے ہی مجھے تعلیم و تعلم سے شغف تھا لہذا میرے والدین نے میرا داخلہ دھاراوی میونسپل اسکول میں کرادیا جہاں سے میں نے درجہ چہارم تک کی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔اس کے بعد میں موری روڈ میونسپل اسکول چلا آیا جہاں درجہ ہفتم تک زیر تعلیم رہا اور پھر آر سی ماہم سے میں نے ایس ایس سی پاس کرکے باندرہ بکر قصاب ہائی اسکول میں داخل ہوگیا جہاں سے ایچ ایس سی کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد مہاراشٹر کالج ناگپاڑہ چلا گیا اوربیچلر آف آرٹس (بی اے) میں داخلہ لے لیا لیکن مالی پریشانیوں نے تعلیمی سلسلہ جاری نہیں رہنے دیا اور میں مکمل وقت روزگار کے حصول میں لگانے لگا‘‘۔
اشرف خان گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں ’’گوکہ مڈل کلاس فیملی ہونے کی وجہ سے تعلیم و تعلم کا سلسلہ جاری نہیں رکھ سکا اور درمیان میں ہی تعلیم ادھوری چھوڑ کر کسب معاش میں لگ گیا لیکن علم سے رشتہ استوار رکھا یہی وجہ ہے کہ درجہ ہفتم میں تعلیم کے دوران ہی میں ایڈوکیٹ مجید میمن کی آفس سنبھالنے لگا اور باقاعدگی کے ساتھ وہاں ملازمت اختیار کرلی ۔مسلسل دس برس تک ایڈوکیٹ مجید میمن کو اپنی خدمات پیش کرنے کے بعد ۱۹۷۷؁ میں میں ضمیر انٹر پرائیزیزمیں شامل ہوگیا اور ان کے اشتراک سے ٹورس اینڈ ٹریولس کا کاروبار شروع کردیا۔لہذا جب تک ان کی آفس پربھا دیوی میں رہی میں ان کے ساتھ کام کرتا رہا لیکن جب انہوں نے اپنی آفس باندرہ منتقل کرلی تو میں ان سے علحدہ ہوگیا اور پھر ۱۹۸۸؁ میں نیشنل مین پاور منیجمنٹ کے نام سے اپنا کام شروع کیا لیکن مارچ ۱۹۹۳؁ کے بعد اسے بھی بند کر دینا پڑا‘‘۔
مین پاور سپلائی کے عروج کے دور کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں’’ایک وقت تھا جب ایئر پورٹ پر بیرون ملک کام کرنے جانے والوں کی بڑی تعداد موجود رہتی تھی خود ہم لوگ روزانہ ۱۰۰سوافراد باہر بھیجتے تھے لیبر کی ڈیماند اس قدر تھی کہ لوگوں کو تلاش تلاش کر لایاجاتا تھا۔لیکن جب ایران عراق جنگ کا خاتمہ ہوا تو پورے خلیج پر اس کے گہرے اثرات پڑے۔دریں اثنا ۱۹۹۳؁ کےفسادات اور پھرممبئی بم دھماکوں نے لوگوں کے اندر خوف پیدا کردیااور لوگ باگ ممبئی آنے سے گھبرانے لگے لہذا ایک طرف جہاں خلیج کی معاشی حالت خراب ہوئی تو وہیں دوسری طرف دور دراز کے لوگ ممبئی آنےسے کترانے لگے لہذا بزنس اس قدر متاثر ہوا کہ مجھے اسے بند کرناپڑا اور پھر میں زمین جائداد کے کاروبار میں شامل ہوگیا‘‘
اس سوال کے جواب میں کہ موجودہ حکومت میں بھی مین پاور کاروبار انتہائی نامساعد حالات کا سامنا کر رہا ہے آپ کیا سوچتے ہیں؟ اشرف خان وارثی کہتے ہیں’’ دراصل مین پاور کا کاروبار دو طریقے کا ہے ایک طرف ہنر مند اور تجربہ کار افراد ہیں تو دوسری طرف غیر ہنر مند اور ناتجربہ کارافراد۔ لہذا خلیجی ممالک میں پہلے بھی ہنر مندلیبر اور غیر ہنر مندلیبر کے مسائل رہتے تھے اور اسی مناسبت سے ویژہ بھی ایشو ہوتا تھا اور یہی مسئلہ آج بھی موجود ہے۔المیہ یہ رہا ہے کہ ابتدا سے ہی مسلمانوں نے صرف خلیجی ممالک کی طرف دیکھا ہے اس کے برخلاف دوسرے لوگوں نے یوروپین ممالک کے ساتھ امریکہ ،کوریا،تھائی لینڈ،انگلینڈ،افغانستان وغیرہ پر توجہ دی ہے لہذا ان لوگوں نے جنہوں نے یورپ و امریکہ کو اپنا تختہ مشق بنایا آج بھی بہتر حالت میں ہیںبلکہ وہاں کے نظام ایمپلائمنٹ میں بھی کافی بہتری آئی ہےلیکن وہ لوگ جو خلیجی ممالک کے بھروسے رہے ہیں کسمپرسی کی زندگی گذار رہے ہیں۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ معاشی مندی کی وجہ سے جہاں تنخواہیں کم دی جارہی ہیں وہیں سری لنکا،نیپال،بنگلہ دیش کے لوگ زیادہ جانے لگے ہیں۔جبکہ پاکستان نے شروع سے ہی اپنی ایک علحدہ شناخت بنائی ہے لہذا وہ لوگ جو پاکستانیوں کو بہتر سمجھتے ہیں وہ کبھی کسی اور ملک کا رخ نہیں کرتے۔البتہ میں ایک بات ضرور شامل کرنا چاہوں گا کہ ہندوستانی مسلمانوں کے تعلق سے خلیجی ممالک کے لوگ ہمیشہ نرم گوشہ رکھتے رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ جب بھی ۱۰۰ویژہ ایشو ہوا ہے تو جہاں ۶۰ مسلمانوں کے لئے مختص رہا کرتا تھا وہیں ۴۰غیرمسلموں میں تقسیم کیاجاتا تھا۔ذاتی طور پر سیر و سیاحت کو پسند کرنے والے اشرف خان وارثی ٹورس اینڈ ٹریولس کے کاروبار کو بہتر کاروبار قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں’’مین پاور کے کاروبار میں میں نے ہمیشہ احترام کا فقدان پایا ہے،اس کاروبار میں عزت نفس کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔اس وقت چونکہ امیگریشن کی کافی پریشانی تھی لہذا ان تجربات سے مزید گذرنا پڑا ہے۔لائسنس کا سسٹم تو ۱۹۸۴؁ کے بعد آیا ہے لیکن اس کے باوجود آج بھی امیگریشن کی وجہ سے خادمائوں کو بھیجنے میں تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اسی لئے میں کہتا ہوں کہ ٹور اینڈ ٹریولس کا بزنس آج بہت ہی اچھا ہے، صاف وشفاف کاروبار ہے جبکہ کمپنیاں بھی زیادہ توجہ دیتی ہیں تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ سیر و سیاحت سے لطف اندوز ہوں۔چونکہ ہندوستان کے مزاج میں سیاحی ہے خواہ انٹر نیشنل ہو یا نیشنل،لوگ خاطر خواہ سیاحت پر توجہ دیتے ہیں‘‘۔

 محمداشرف خان وارثی

محمداشرف خان وارثی

اس سوال کے جواب میں کہ ’’زمین و ریئل اسٹیٹ کا کاروبار انتہائی نامساعد حالات سے گذر رہا ہےآخر ایسے دور میں موجودہ معاشی تگ و دو کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟‘‘ اشرف خان کہتے ہیں’’بزنس میں اتار چڑھائو تو معمول کی بات ہے لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ آئندہ حالات بہتر ہوں گے دراصل لوگ ۲۰۱۹؁ کے انتخابات کا انتظار کر رہے ہیں اور لوگوں کو امید ہے کہ حکومت تبدیل ہو جائے گی لہذا جب حکومت تبدیل ہوگی تو حالات میں بھی بہتری دیکھنے کو ملے گی لیکن اگر یہی حکومت دوبارہ منتخب ہوئی تو میں سمجھتا ہوں کہ حالات بد سے بدتر ہوجائیں گےکیونکہ لوگوں نے اسی حکومت سے بہتری کی امید کی تھی اور اچھے دن کا خواب دیکھا تھا ‘‘۔
اپنے بیس سالہ ممبرا کے قیام کی روشنی میں اشرف خان کہتے ہیں’’ممبرا مسلمانوں کی رہائش کے لئے اچھا علاقہ ہے لیکن لوگوں نے اس کے معیار کو بہت زیادہ خراب کردیا ہےوہ لوگ جو اچھے ہیں وہ اس کے معیار کی درستگی کے لئے کام تو کر رہے ہیں لیکن ان کی تعداد انتہائی کم ہے البتہ پہلے کے مقابلے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ عوام میں بیداری آئی ہے لیکن وہ صرف دس فیصد لوگ ہی ہیں جہاں بیداری دیکھی جا رہی ہے لیکن وہ لوگ بھی ایسے ہیں جو ذاتی مفادات کو اولیت دیتے ہیں۔ قومی و سماجی مفادات کی روشنی میں کوئی کام کرنے والا نہیں ہے ورنہ سڑکوں اور گٹر کی حالت وہ نہیں ہوتی جو دیکھنے کو مل رہی ہے۔ چاپلوسانہ مزاج بھی اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ جہاں کوئی سینئر انسپکٹر آیا لوگ باگ اس کے ساتھ فوٹو کھنچوانے میں فخر محسوس کرنے لگتے ہیں لہذا جو تعمیری کام ہونا چاہئے وہ نہیں ہواہے۔ تعلیم کے نام پر جو انفرااسٹرکچر کھڑا کیا جانا چاہئے تھا وہ بھی کھڑا نہیں کیا گیا ہے۔طبی سہولیات کے نام پر بھی یہاں کچھ نہیں ہے۔کالسیکر کالج،کالسیکر اسپتال یا عبد اللہ پٹیل اسکول اور میسکو وغیرہ کی وجہ سے جو یہاں لوگوں کو راحت ملی ہوئی ہے اس میں مقامی لوگوں کا کوئی تعاون نہیں ہے بلکہ ممبئی و مضافات کے صاحب خیر حضرات ہیں جو ان چیزوں کو چلا رہے ہیں۔مقامی طور پر جو لوگ دھننا سیٹھ کہلاتے ہیں ان کا مزاج لوٹ کھسوٹ کا ہی ہےلہذا میں نے ممبرا کو جو دیکھا ہے وہ اسی نظریے سے دیکھا ہےاسی طرح میں نے چالیس برس دھاراوی میں گذارے ہیں اس کی داستان یہاں سے ذرا مختلف یوں ہے کہ وہ کچے کاروبار کا مرکز تو ہے لیکن اپنی کوئی علحدہ شناخت نہیں رکھتا، ممبئی کے مرکز میں ہونے کی وجہ سے آئل،صابن، کپڑا،پلاسٹک،پرنٹنگ ،دانابناناوغیرہ وغیرہ کاکاروبار زور و شور سے ہو رہا ہے یہ لوگ دوسروں کے برانڈ کا کام کرتے ہیں لیکن ان کا خود کا کوئی برانڈ نہیں ہےدلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں بہاری مزدور زیادہ ہیں لہذا ان کی فکر بس اتنی ہوتی ہے کہ ان کے گھر کا کاروبار چل جائے اور وہ کچھ پیسے کما کر گھر بھیج دیں اپنا برانڈ بنانا اپنی ساکھ قائم کرنا اس سے ان کوکوئی سروکار نہیں ہوتا۔‘‘
وارثیہ سلسلہ میں شمولیت اور وارث پاک کی وراثت سنبھالنے کی داستان سناتے ہوئے اشرف خان کہتے ہیں’’چونکہ میں دھاراوی جامع مسجد کا ٹرسٹی تھا لہذا محرم کے پروگرام کو تشکیل دینے کی ذمہ داری بھی ہم پر عائد ہوتی تھی لہذایہ ۱۹۸۸-۸۹؁ کا زمانہ تھا جب ہم نے صوفی سید تجمل حسین وارثی عرف موٹے شاہ کے صاحبزادے سید تصدق حسین وارثی کو محرم الحرام کے وعظ کے لئے مدعو کیا تھا اس زمانے میں ان سے اتنی راہ و رسم بڑھی کہ میں ان کے والد کے رابطے میں آگیا کہ وہ اس وقت بھانڈوپ میں شہید سید حسن شاہ لشکری ،شہید سید غنی احمد شاہ جلالی،شہید سید منظور احمد شاہ منجوم کے مزارات کے خادم و سجادہ نشین تھے اور بالآخر ۱۹۹۱؁ میں میں بیعت ہوگیا۔خلعت بیعت سے سرفراز ہونے کے بعد میرا دیوا شریف جانا آنا شروع ہوااور اس طرح میں وارثی سلسلہ میں شامل ہوگیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ صوفی سید تجمل حسین وارثی عرف موٹے شاہ بے دم شاہ وارثی کے خلیفہ عمر شاہ وارثی سے بیعت تھے اور بے دم شاہ وارثی وارث پاک سے براہ راست مرید تھے لہذا میں اس سلسلے کی چوتھی کڑی ہوں جس پر مجھے فخر محسوس ہوتا ہے‘‘۔
اس سوال کے جواب میں کہ آخر آپ کو کس چیز نے سب سے زیادہ متاثر کیا کہ آپ وارثیہ سلسلہ میں شامل ہوگئے اشرف خان کہتے ہیں’’میں نے ابتدائی دو تین برس اپنے پیر صاحب صوفی سید تجمل حسین وارثی عرف موٹے شاہ کے ساتھ گذارےہیں اس دوران میں نے ان کے طرز زندگی کو انتہائی قریب سے دیکھا جس نے سب سے زیادہ مجھے متاثر کیا ہے۔انتہائی سادگی،متانت و سنجیدگی اور دنیا سے بے رغبتی ان کا شعار تھا۔ زمین پر سو جاتے سادہ کھانا کھاتےاور ذکر و فکر میں مشغول رہتے ۔کبھی کسی کے آگے دست سوال دراز نہیں کرتے بلکہ اپنے متعلقین کو بھی اس سے منع کرتے۔ایک بار جب دیوا شریف عرس میں شرکت کا اتفاق ہوا تو پیر صاحب کے ساتھ ہی سفر نصیب ہوا ہم لوگ دیوا شریف پہنچ گئے اور مجھے مزار شریف پر جانے کی جلدی ہونے لگی ۔پیر صاحب نے میری بےتابی کو دیکھتے ہوئے کہا کہ اشرف ابھی ہمیں وہاں حاضری کی اجازت نہیں ملی ہے لہذا کل بعد نماز مغرب ہم وہاں جائیں گے کہ یہی وقت ہمارے لئے متعین کیا گیا ہے ۔میں پیر صاحب کی بات سے مطمئن دوسرے روز مغرب کا انتظار کرنے لگااور پھر جب وہ وقت آیا تو ہم ساتھ ساتھ مزار شریف کے پاس پہنچ گئے مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اس وقت مزار کے پاس صرف و ہی لوگ موجود تھے جو ممبئی سے حضرت کے ساتھ گئے تھےلہذا جیسے ہی ہماری حاضری مکمل ہوئی لوگوں کا ازدہام ٹوٹ پڑا‘‘۔یہ ایک حقیقت ہے کہ ۲۰۰۲؁ تک جب تک وہ باحیات رہے مجھے کسب فیض کا موقع ملتا رہا،انتقال کے وقت انہوں نے بہت ساری نصیحتیں کیں اور ساتھ ہی کچھ ذمہ داریاں بھی تفویض کرگئے جس کو میں حتی الامکان پوری کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ہاں البتہ ایک خلش جو آج بھی دل میں ہے وہ یہ کہ میں ان کی مٹی میں شریک نہیں ہوسکا کیونکہ میں ان سے اجازت لے کر جیسے ہی اجمیر شریف پہنچا ان کے انتقال کی خبر موصول ہوئی لہذا آخری دیدار اور نماز جنازہ میں شرکت نہ کرنے کا غم آج بھی مجھے ستاتا رہتا ہے‘‘۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*