بنیادی صفحہ / حلال صنعت / حضرت سید الکاملین امام الاولیاء سیدنا حاجی حافظ سید وارث علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے حالات و وقعات

حضرت سید الکاملین امام الاولیاء سیدنا حاجی حافظ سید وارث علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے حالات و وقعات

دیوا شریف

دیوا شریف

مولوی فضل حسین صدیقی وارثی ؒ
حضرت سید الکاملین امام الاولیاء سیدنا ومولانا حاجی حافظ سید وارث علی شاہ طاب ثراہ آ پ بطن مادر سے سے ولی پیداہوئے تھے آپ کی کتاب عمرکا دیباچہ عشق الٰہی کے عنوان سے شروع ہواتھا اور خاتمہ کتاب پر فنا فی الذات کی مہر لگی ہوئی تھی ۔یہی وجہ ہے کہ قدرتاً آپ کا نام نامی بھی خداوند عالم کے اسی مقدس وبزرگ سے نام ممتاز ہوا جس میں آپ واصل ہونے والے تھے اکثر اولیائے کرام کے اسمائے گرامی میں یہ بات دیکھی گئی ہے کہ خدا ئے برتر کے جس مقدس نام میں واصل ہوئے ہیں وہی ان کانام مشہور ہوا ہے۔
جس طرح حضرت سلطان الاولیاء محبوب سبحانی قطب ربانی سید نامحی الدین شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ محی میں فناہوکر احیاءدین کا باعث ہوئے اسی لقب سے ملقب کئے گئے اسی طرح ’’الوارث‘‘ خدائے برتر کانام ہے اور اس کے معنی ہیں فنائے عالم کے بعد قائم رہنے والا انا یحی ویمیت ونحن الوارثون(یعنی اس میں شک نہیں کہ ہمیں زندہ رکھتے ہیں اور ہمیں مارتے ہیں اور ہمیں سب کے وارث ہیں ہماری بقا دائمی ہے) اکثر بزرگوں کا بیان ہے کہ مسئلہ فناءوبقا کے حل کرنے میں آپ کوخاص ملکہ تھا صرف لفظ وارث یا وارث پاک ہی سے حضور انور مشہور معروف ہوئے ۔جس سے ثابت ہے کہ حضرت رب العزت نے حضور کو اپنے صفات ذات میں سے ایک ممتاز صفت مرحمت فرمائی تھی یعنی اپنے اسم وارث کا حضور انورکو مظہراتم کیا تھا۔ اور اس صفت کا ظہور اسی عاشق صادق میں ہوتا ہے جو تمام عالم کو فانی اور تکلیف وراحت جو رواحسان ،رنج وشادی کی حادث سمجھے اور جوماسواریا جملہ موجودات سے دست بردار ہووہی وارث کہلائے جانے کا مستحق ہے اور اسی کو صاحب بقائے کامل کہتے ہیں۔بقول حضرت مولانا روم؎
جورواحسان رنج وشادی حارث ست حادثان میر ندحق شان وارث ست
قصائد غزلوں اور مثنویوں ہی میں نہیں بلکہ اکثر نثرکی عبارتوں میں بھی اسی لفظ پراکتفا کیا گیا ہے خط وکتابت میں بھی اکثر لفظ وارث کا رواج دیکھا گیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہی اسم حضور کی ذات محمود الصفات کے تناسب کے لحاظ سے مقبول عامہ خلائق ہوا۔ اس بزرگ نام ہی میں فناء وبقا کی تعلیم نہاں ہے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ ابتدا عمر ہی سے آپ نے موتو من قبل ان تموتوا کے مرحلہ کو طے فرمایا اور یہی تعلیم فرمائی۔
اس طرح بھیس میں عاشق کے چھپا ہے معشوق جس طرح آنکھ کی پتلی میں نظر ہوتی ہے
یہ اسم پاک بھی منجانب اللہ تھا کہ پیداہوتے ہی قدرتاًرکھا گیا اور اپنی جامعیت کے لحاظ سے سراسر موزوں ثابت ہوا ہے سچ ہے کہ الاسماء تتنزل من السماء ۔حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ اپنی مشہور تصنیف’’طب جسمانی وطب روحانی‘‘ میں اسم’’الوارث‘‘ کے متعلق فرماتے ہیں’’الوارث‘‘مخلوقات کے فنا کرنے کے بعد وارث ہے زمین وآسمان کا۔اورپھر آسمان اور زمین کو لپیٹ میں لینے کے بعد وارث ہے اپنے’’ تفرد ‘‘کا اس تشریخ کی توضیح میں کسی نے اس طرح پر حاشیہ نگاری کی ہے کہ’’یہ ایک متحقق امر ہے کہ سوائے وارث کے کچھ بھی موجود نہیں ہے ۔صرف وارث ہی قدیم سے ہے اور ابداًرہے گا۔اسم مقدس تمام اسماء ذاتیہ وصفاتیہ متعارفہ وغیر متعارفہ کا جامع ہے کیونکہ جو ہوبت محضہ ہے وہی وارث ہےتو وارث ہی ذات بحث ہے اور جملہ اسماء الٰہیہ کا وہی مسمےٰ ہے۔
تو غنیٰ ازعالم وعالم فقیر وارث ہر این وآن یک ہوئے تو
اسی طرح جملہ صفات کاموصوف بھی وہی وارث ہے ہر شان دہر اظہار کے ظہور کے وتغیر کے ساتھ اور ہر اعتبار کے پردہ میں حتّیٰ کہ انصرام فنا ئے تام کے بعد جو کچھ حقیقت باقیہ غیر فانیہ ہے وہی وارث اور وجہ اللہ ہے چنانچہ حق تعالیٰ فرماتا ہے کل من علیھا فان ویبقیٰ وجہ ربک ذوالجلال والاکرام اور پھر سورہ حدید میں فرماتا ہے۔ ھوالاول ولآخرُ والظاہر والباطن ،وھو بکل شی علیم اس لئے جو آخر ہے وہی اول ہے تو اول وارث ہے اور آخر بھی وارث ہے اور چونکہ وارث ہی جملہ صفات بھی ہیں اور صفت کا موصوف سے جدا ہونا محال ہے۔
حاجی حافظ سید وارث علی شاہ کاشرف خاندانی
آپ کی عظمت سیادت میں ایک خاص شان یہ بھی ہے کہ حضور انور کےاجدادکرم نے کبھی غیر کفو میں مناکحت نہیں فرمائی اور سیادت نیشاپوری کی شان وجلالت کوہمیشہ محفوظ رکھا۔آپ کے پرداداسید کرم اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے تین صاحبزادے تھے۔ سید بشارت علی صاحب ،سید سلامت علی صاحب اور سید بشیر علی صاحب رحمۃ اللہ علیہم اجمعین۔
سید سلامت علی صاحب کے صاحبزادے حضور انور کے پدر بزرگوار سید قربان علی شاہ صاحب تھے جن کا عقد اپنے حقیقی عم مکرم سید شیر علی صاحب کی صاحبزادی سے ہوا اس سلسلہ سے آپ سید سلامت علی صاحب کے پوتے اور سید شیر علی صاحب کے نواسے اور نجیب الطرفین حسینی ہونے کا خاص شرف رکھتے ہیں۔؎
نسل حضرت کی صاف ہے ایسی          سچے موتی کی آب ہوجیسی
شرفائے اودھ میں بہ اعتبار حسب ونسب دولت وثروت علم وفضل شجروتقدس آپ کا خاندان ہمیشہ نہایت وقیع ومقدر رہاہے صرف علوم ظاہریہ ہی کی بناپر نہیں بلکہ مراتب حقانیہ روحانیہ ومدارج روحانیہ میں بھی حضور کے آباواجداد وسرفراز وممتاز رہے ہیں اور علوم مبینہ وسفینہ پر برابر ان کا قبضہ تصرف رہا ہے۔ ان سے ہرزمانہ میں سرچشمہ فیض جاری ہوا ہے۔اسلامی تاریخ کے صفحات میں ان کے مبارک تذکرے سبق آموز رشدو وہدایت ہیں۔
آپ کے نانا سید شیر علی صاحب اپنے زمانہ میں یکتا ئے روزگار درویش گزرے ہیں ان کو موضع ہنڈواری کو سند معافی منجانب سلطنت اور مصارف خانقاہ کے لئے نظر کی گئی تھی جس کو مولف نے سید عظمت علی صاحب وارثی متوطن دیوہ شریف کے پاس دیکھا ہے۔اس خاندان کی دیگر اسناد بھی ان کے پاس محفوظ ہیں جن کے دیکھنے سےمعلوم ہوتا ہے کہ حضور کے آباواجداد صرف اپنےجوہر ذاتی یعنی شان سیادت ہی کی بناپر معتزز وممتاز نہیں رہے بلکہ وہ علمی وروحانی دنیا میں بھی خاص طورپر شرف اعزاز رکھتے تھے۔
حضرت مخدوم علاء الدین اعلیٰ بزرگ علیہ الرحمہ جن کو آپ کے خاندان کو مورث اعلیٰ کہنا چاہئے حضرت سلطان نصیر الدین چراغ دہلوی کے خلیفہ اعظم اور حضرت ابوالبرکات وشیخ یحییٰ کے علوم ظاہریہ میں شاگرد تھے جن کی نسبت قاضی بخشش علی صاحب نے اپنے رسالہ وسیلہ بخشش میں لکھا ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام نے آپ کے اسناد وں کو بشارت دی تھی کہ ان کو علم کیمیا ریمائو سیکھائو۔
حضرت مولاناشاہ سید ابو محمد علی حسن صاحب اشرفی الجیلانی مسند آرائے کچھوچھہ شریف مولف کتاب ہذا کو مطلع فرماتے ہیں کہ حضرت حاجی صاحب قبلہ قدس سرہ العزیز کے اجداد سے اور ہمارے بزرگوں سے خاص مراسم رہے ہیں۔آپ کے اجداد میں ایک بزرگ ہمارے حضرت اعلیٰ سلطان سید اشرف جہانگیر قدس سرہ کے خلفائے کبار میں گذرے ہیں ان کے حالات لطایف اشرفی میں ہیں جو آٹھویں صدی ہجری کی تالیف ہے۔
آپ کا خاندان عالی شان ہر زمانہ میں مرجع خلائق رہا ہے جن کے واقعات وحالات سے کتب تاریخ وسیر کی زینت ہے۔
بعض اولیاء اللہ کی پیشن گوئیاں:
حضور انور کے زمانہ قیام لکھنو میں ایک بزرگ وہاں مقیم تھے جن کانام نامی حضرت اکبر شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ تھا ان کی طرف خلق کی بہت رجوعات تھی اور اکثر بزرگ ان کو قطب الوقت خیال کرتے تھے ۔حضرت سیدنا حاجی خادم علی شاہ صاحب قبلہ بھی ان کو کاملین وقت سے سمجھتے تھے۔ایک روزکا واقعہ ہے کہ حضرت سید نا حاجی خادم علی شاہ صاحب اپنے ہمراہ حضور انور کو لے کر حضرت اکبر شاہ صاحب کی ملاقات کوتشریف لے گئے۔ حضور انور کو دیکھتے ہی شاہ صاحب ممدوح نے اپنی گود میں لے لیا۔ اور پیشن گوئی کے طریقہ پر فرمایا کہ یہ صاحبزادے اپنے وقت میں عدیم المثال ہونگے۔اس واقعہ کو مولودی خدا بخش صاحب شایق دریاآبادی نے کتاب تحفتۃ الاصفیاء میں بھی لکھا ہے جس کا خلاصہ ذیل ہے۔
’’روزسے حضر ت موصوف باجناب سید وارث علی شاہ صاحب بحضور مقتدائے زہادوپیشوائے عباد حقیقت آگاہ جناب اکبر شاہ کو ازدیار مغرب بہ شہر لکھنؤ تشریف آوردہ رونق بخش مسجد بساطیان واقع چوک گردیدہ شہر وصفات بزرگیش بہ اطراف رسیدہ بود واکثر ے ازراہ دور نزدش می آمدند ومشرف بہ زیارتش می شدند ،می گویند کہ آن ملک سیرت دران مدت قطب الوقت بودکہ روزہا بہ ریاضت وشب ہابعبادت بسرمی نمود پیوستند ان مقبول کونین از این فراں السعدین نہایت خورسند گردیدو آن مہر ماہ عظمت دجاہ راتنگ بہ آغوش کشی د الفرائض ان قطب زمان ہرگاہ از سورہ صورت جناب سید وارث علی شاہ صاحب معانی ولایت برخواند بے محابا انوار اسرار رابہ آستین نطق برافشاند یعنی از حاجی خادم علی شاہ صاحب بفرمودہ کہ مثل این طفل جواں بخت تاہزارہا سال دیگرے برین ملک نزول نخواہد نمود ایں کس ملائکیت بہ شکل انسان وسراپا نوریست بہ کالبد خاکی پنہاں۔بہ چاردانگ عالم مشتہر خواہد گردید و از کجا خواہد رسید وخلقے از جن وانس اطاعتش خواہد گزار؎
دلش بحر یست نے اسرار الٰہی ازدیک قطرہ از مہ تابہ ماہی
ہر قلندر توایند درتربنیش ہمت برگمارید حضرت خادم علی شاہ صاحب از علوی مرتبت تعالیٰ منزلت خوبی
آگاہی می داشتند جناب مجدوح راازجلہ روزگار می دانستند لابحب ارشاد آن کر لعنت بنیاد از یکے صدگونہ جہد می فرمودند ہر روز وتربتیش از بیش می نمودند۔(تحفۃ الاصفیاء ۲۱و ۳۲)
جناب رحیم شاہ صاحب خادم خاص بارگاہ وارثی مولف کتاب ہذا سے فرماتے تھے کہ مولانا شاہ عبدالرحمن صاحب موحد وصوفی لکھنوی علیہ الرحمۃ کے خاص حاضرین سے میں نے سنا ہے کہ آپ اکثر فرماتے تھے کہ اس وقت دیوہ میں ایک صاحبزادہ ہیں جن کی طرف تمام مخلوق رجوع ہوگی اور وہ اپنے وقت کے آفتاب ہونگے مشرق سے مغرب تک ان کے فیض وتصرف کا ڈنکا بجے گا۔
علیٰ ہٰذا حکیم سید عبدالاوشاہ صاحب بخیر وارثی جو بڑے پایہ کے بزرگ گذرے ہیں اور جن کا مزار الورشکوہ گنج میں زیارت گاہ خلق ہے عین الیقین میں حضرت سراج العارفین سید السادات مولانا شاہ عبدالرزاق صاحب بانسوی قدس سرہ ٗ العزیز کا یہ مشہور ارشاد لکھتے ہیں کہ ’میری پانچویں پشت میں ایک آفتاب ظاہر ہوگا جس کی روشنی میں اب دیکھتا ہوں۔چنانچہ وہی ہوا کہ پانچویں پشت میں ہمارے شہنشاہ کا ظہور جو درحقیقت آفتاب ہدایت اور اس پیشنگوئی کے مصداق حقیقی تھے۔
اسی طرح حضرت شیخ الشیوخ مولانا شاہ نجات اللہ صاحب علیہ الرحمۃ جو حضرت سیدنا حاجی خادم علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پیر تھے دیوہ شریف کی طرف سینہ کھول کر فرماتے تھے کہ اس آفتاب کی روشنی سے میں سینہ کو بھرتا ہوں جو اب برآمد ہوا چاہتا ہے۔الغرض اکثر مقدس اور ابرار بزرگوں نے حضور انور کے ظہور اجلال اور عظمت وکمال کے متعلق پیشن گوئیاں فرمائی ہیں جو اپنے وقت پر صادق ہوئیں کہ سرزمین دیوہ شریف سے وہ آفتاب ہدایت نمودار ہواجس کی روشنی سے ہربلند اور ہر مذہب وملت کے افراد نے فیض حاصل کیا ۔ او ر جس کے قدوم منمیت لزوم سے خاک دیوہ گوبہ شرف حاصل ہوا کہ اہل عشق ومحبت اس پر جبہ سائی کرتے ہیں۔؎
بزینے کہ نشان کف پائے توبود سالہا سجدہ صاحب نظر ان خواہد بود
تاریخ کی ورق گردانی سے معلوم ہوتا ہے کہ مرد ان خاص کی عظمت وعزت کا اظہار اسی طرح ہوتا آیا ہے کہ اہل بصیرت ان کی شان وجلالت کو ظاہر کرتے ہیں اور ابتدائے عمر سے ان کی بزرگی کا شہرہ ہوجاتا ہے چنانچہ حضور پرنور کی ابتدائی حالتیں ایسی تھیں جن کو دیکھ کر بزرگان عصر نے تسلیم کیا ہے کہ آپ ولی مادر زاد تھے اور ازل سے منزل عشق کی رہنمائی آپ کا ورثہ خاص تھا۔ جس کی ہر انداز سے خبر ملتی ہے اور آپ کی ہر ایک حالت زبان حال سے کہہ رہی ہے ؎
ہر نفس آواز عشق میرسد از چپ وراست مابہ فلک میرویم عزم تماشا کراست مابہ فلک بودہ ایم یارملک بودہ ایم
باز ہمان جارویم بازکہ آن شہر ماست باز فلک برتریم وزملک افزوں تریم زیں دو چرا انگزدیم منزل ماکبریاست
بیعت وخلافت:
حضور انور کے علوءمرتبت کے متعلق بزرگان دین کی پیش گوئیاں اور اقوال بالعموم مشہور ومعروف ہیں، جن کا ظہور روز پیدائش سے تھا اور یہی وجہ ہے کہ ابتدا سے حضرت زہدۃ العارفین قدوۃ السالکین سیدنا حاجی خادم علی شاہ صاحب قبلہ قدس سرہ آپ کی بیحد قدرومنزلت فرماتے تھے۔باوجودیکہ حضرت سید نا حاجی خادم علی شاہ صاحب قبلہ کے حضور پرنور چھوٹے نسبتی بھائی تھے مگر وہ آپ کی عظمت وبزرگی کرتے تھے اور ہمہ تن ایام خوردسالی میں آ پ کی تعلیم وتربیت میں مصروف رہتے تھے حتیٰ کہ جب عمر شریف گیارہ سال کی ہوئی تو حسب دستور بیعت فرماکر ظاہری طورپر خلعت خلافت سے بھی سرفراز فرمایا او ر افکار واشغال کی تعلیم فرمانے لگے۔اگر چہ اس عطائے خلافت پر اکثر مریدین ومعتقدین کوکسی قدر اختلاف تھاکہ اتنی کم عمر ی میں یہ خلافت مناسب نہیں ہے لیکن حضرت قبلہ عالم سیدنا حاجی خادم علی شاہ صاحب آپ کے مدارج ومراتب سے کماحقہ آگاہ تھے اور جانتے تھےکہ آپ مرید نہیں ہیں مراد ہیں۔ اس لئے انہوں نےکسی بات کی پرواہ نہیں کی اور وہی کیاجومشیت ایزدی تھا(زمین کے وارث ہوتے ہیں میرے نیک بندے)
اے کہ ہستی مظہر عین الیقیں ایکہ ہستی وارث صدق ویقیں
ایں شناسم از طفیل لطف تو ورنہ ہستم مشتی از خاک زمیں
آپ کی دستاربندی:
حضورپر نور کو حضرت سیدنا حاجی خادم علی شاہ صاحب قبلہ کی تعلیم وتربیت میں تھوڑا ہی زمانہ گزرا تھا کہ حضرت سیدناحاجی خادم علی شاہ صاحب قبلہ کا مزاج عالی ناساز ہوگیا اور پیرانہ سالی کے سبب سے علالت میں ترقی ہوتی گئی۔جو بڑھتے بڑھتے مرض الموت بن گئی۔آخر الامر ایک روز حضرت قبلہ عالم نے اپنے مریدین حاضرین اور خدام کو طلب فرمایا اور ہر ایک کی تسلی وتشفی فرمائی اس کے بعد کلمہ شہادت بہ آواز بلند پڑھا اور کلمہ پڑھتے پڑھتے آپ کی روح لطیف جسد عنصری سے پرواز کرگئی۔(قالو انا للہ وانا الیہ راجعون)۔
تاریخ وفات شریف میں اختلاف ہے بعض روایات کی بناپر ۱۳؍صفر المظفر اور بعض کی بناپر ۱۴؍ صفر المظفر ہے آپ کی تجہیز وتکفین نہایت تزک واحتشام سے ہوئی ۔علمائے کرام فرنگی محل اور تمام باشندگان شہر ہمراہ تھے۔گولہ گنج میں متصل مشن ہائی اسکول مزارپاک بنایا گیا جو اس وقت تک مرجع خلائق ہے۔
تیسرے دن رسم فاتحہ خوانی اداہوئی تمام شہر کے علماء فقراء عمائدین وروساءمریدین ومعتقدین کامجمع کثیرتھا ۔فاتحہ خوانی کے بعد جانشینی کا مسئلہ پیش ہوا۔ مولوی مناجان صاحب حضرت سیدنا حاجی خادم علی شاہ صاحب قبلہ کے مریدین خاص میں تھے۔اور حضرت کے لنگر خانہ کے مہتمم بھی تھے وہ اٹھے اور ایک خوبصورت کشتی میں ایک دستار رکھ کر حضار جلسہ کے روبروپیش کی اور کہاکہ جس کسی کو اہل سمجھاجائے اور اس کو اس خلعت سے سرفراز کیاجائے۔حاجی غلام حسین صاحب جو حضرت سیدنا حاجی خادم علی شاہ صاحب قبلہ کی بارگاہ عالی میں بدرجہ غایت ومقبولیت رکھتے تھے اور شہر میں بھی بہت قدرومنزلت کی نگاہوں سے دیکھے جاتے تھے وہ اپنے آپ کو اس خلعت کا مستحق سمجھتے تھے اور بعض اصحاب سے انہوں نے اپنا خیال بھی ظاہر کیا تھا۔ اسی سبب سے یہ بات معرض بحث میں تھی کہ کس کو جانشین کیاجائے۔دورا ن گفتگو میں سید سعادت علی صاحب ابن سید محمود محقق بن حضرت غوث گوالیاری اٹھے اور ہمارے شہنشاہ عالی جاہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا کہ میرے نزدیک ان سے بڑھ کر کوئی موزوں نہیں ہوسکتا۔
چھانٹا وہ دل کہ جس کی ازل میں نمود تھی
پسلی پھڑک اٹھی نگہ انتخاب کی
اس انتخاب کی حضرت عارف باللہ مولانا محمد اکبر شاہ صاحب اور مولانا امید علی صاحب نے یک زبان ہوکر تائید فرمائی اورسب حاضرین جلسہ نے تسلیم کیا اوروہ مقدس خلعت حضور انور کے زیب جسم کیا گیا ۔
تکیہ کیاخدا پہ جو ہر ایک کام کا
زینت بناہے مسند دارالسلام کا
طالبان حق کی بیعت:
حضور انور کی خلافت ودستار بندی زمانہ طفولیت میں ہوئی۔ جس کاسبب صاف ظاہر ہے کہ آپ کے علوءمرتبت سے زمانہ واقف تھا اس لئے تمام جلسہ میں انہیں حضرات کی رائے عظمت ورفعت کی نگاہوں سے دیکھی گئی جن کی نظر انتخاب حضور پر پڑی تھی اسی صغر سنی کے زمانہ میں آپ کے دست حق پرست پر بکثرت مخلوق الٰہی نے بیعت کی۔چنانچہ مولوی رونق علی صاحب وارثی الرزاتی پیتے پوری لکھتے ہیں کہ میرے خاندان میں بوجہ قرابت وتعلقات خاندانی خانقاہ رزاقیہ میں سب بیعت ہوتے تھے۔مگر حضرت سید السادات شاہ عبدالرزق صاحب بانسوی رضی اللہ عنہ کی اس پیشن گوئی کے بموجب جو حضور انور کی نسبت مشہور ہے کہ ’میری پانچویں پشت میں ایک آفتاب ظاہر ہوگا میرے جد بزرگوار مولودی وزیر علی صاحب مرحوم مغفور اسی سال حضور انور کی شرف بیعت سے مستفید ہوئے جس سال آپ کوخلافت ملی تھی۔جناب مرزا محمد ابراہیم بیگ صاحب شیداوارثی کے والد ماجد جناب مرزا محمد بیگ مرحوم لکھنوی جس وقت شرف بیعت سے مشرف ہوئے ہیں تو حضور انور کی عمر شریف چودہ سال کی تھی۔مولودی فرخند علی صاحب وارثی متوطن قصبہ چوراسی ضلع لکھنؤ کا بیان ہے کہ میرے دادا شیخ امید علی صاحب نے جب حضور کی عمر شریف چودہ سال تھی بیعت کی تھی۔اسی طرح چودہری خدابخش صاحب وارثی متوطن آگرہ مقیم اٹاوہ جو ایک معمر بزرگ ہیں فرماتے ہیں کہ میرے جد بزرگوار نے بھی جب بیعت کی ہے تو حضور کاسن مبارک چودہ سال سے متجاوز نہیںتھا۔چودھری خدابخش صاحب وارثی کو یہ فخرحاصل ہے کہ ان کی پانچ پشتیں حضور کی حلقہ بگوش ہیں۔ ان کے جدبزرگوار والد ماجد،وہ خود ان کے لڑکے اور پوتے سب حضور کی غلامی کا شرف رکھتے ہیں۔ممکن ہے کہ ایسا شرف ہندوستان میں اور بزرگوں کو بھی حاصل ہواہو۔
حافظ گلاب شا ہ صاحب وارثی اکبرآبادی رحمۃ اللہ علیہ جو ایک نہایت صاحب تاثیر اور ممتاز درویش گذرے ہیں جن کی بزرگی کا زمانہ قابل ہے۔ یہ بھی حضور انور کے لڑکپن کے مرید تھے حافظ گلاب شاہ صاحب کی بیعت کا واقعہ بھی ایک خاص اہمیت رکھتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ طفولیت ہی سے حضورانور کی روحانیت کس قدر تھی چنانچہ حافظ صاحب ؒ کے فرزند جانشین مولوی عبدالقادر شاہ صاحب وارثی اکبرآبادی تحریر فرماتے ہیں کہ میرے والد بزرگوار نے خود اپنی بیعت کا واقعہ بیان فرمایا تھا جو حسب ذیل ہے۔
’’میں مکتب میں پڑھتا تھا اور میرے ایک عزیز دوست بھی میرے ہمراہ تعلیم پائے تھے میرے دوست ایک بزرگ سے بیعت ہوگئے اور مجھ سے بھی مصر ہوئے کہ بیعت ہوجائو میں اپنے دل میں خیال کرتا تھا کہ مرید ہوناچاہئے یانہیں۔اسی شب کو میں نے ایک خواب دیکھا کہ ایک سفید ریش بزرگ فرماتے ہیں میاں صاحبزادے اگر تم بیعت ہونا چاہتے ہو تو پورب سے ایک بزرگ آتے ہیں ان سے ہوجانا۔یہ خواب دیکھتے ہی میری ایسی حالت ہوگئی کہ کچھ بیان نہیں ہوسکتا۔تین سال اسی بیقراری وانتظار میں گذرے جس دن زیادہ بیقراری ہوتی تھی اسی بزرگ صورت کو خواب میں دیکھتا تھا۔جس سے دل کو قرار آجاتا تھا۔تین سال کے بعد میں نے ایک خواب دیکھا کہ وہی بزرگ پھر تشریف لائے اور فرماتے ہیں کہ وہ بزرگ پورب سے تمہارے شہر میں آگئے ہیں ایک سرائے میں مقیم ہیں جاکر ڈھونڈلو یہ خوا ب دیکھتے ہی میری آنکھ کھل گئی میں نے وضو کیا اور مکان سے باہر نکلا تو معلوم ہواکہ رات کے دو بجے ہیں میں ایک طرف کو جدھر دل نے گواہی دی چل دیا۔پہرہ داروں نے روکنا چاہامگر اس وقت شوق اضطراب میں دل پہلو سے نکلاجاتا تھا۔میں نے کسی کی ایک نہ سنی اور اسی حالت میں چلاگیا آگرہ میں ایک محلہ ہینگ کی منڈی کے نام سے موسوم ہے ۔یہاں ایک سرائے ہے میں خود بخود دل کی رہبری سے اس سرائے کے دروازہ پر پہنچا اور اس کے دربان سے دریافت کیاکہ کیاکوئی بزرگ پورب سے یہاں آکر مقیم ہوئے ہیں۔اس نے نام پوچھا مجھے نام کیامعلوم تھا اس لئے خاموش ہوگیا۔ اس نے سرائے کا دروازہ کھول دیا میں اندر گیا اور اپنی بے تابانہ حالت سے کمروں کو جھانک جھانک کے دیکھنا شروع کیا۔ مگر وہاں بالکل اندھیرا تھا ایک کمرے کے اندر سے آواز آئی کہ حافظ گلاب تم آگئے میں اس آواز کو سنتے ہی اور بیقرار ہوگیا اور دوڑ کے قدموں پر گر پڑا اس وقت حضور متبسم تھے ۔میں نے اپنے مکان پر تشریف لے چلنے کے لئے عرض کیاحضور نے بہ خندہ پیشانی منظور فرمایا۔ اس وقت حضور انور کا سن شریف ۱۳؍سال اور چار ماہ کا تھا اور میری عمر ۱۹؍سال کی تھی ۔ یہ واقعہ حضور کی زیارت اور میری بیعت کا ہے۔
قبل اس واقعہ سے کہ پہلا خواب بشارت بیعت سے متعلق جب حافظ گلاب شاہ صاحب نے دیکھا ہے تو حضورانور کی عمر شریف دس سال چارماہ کی تھی اور بہ اسباب ظاہر آپ خلعت خلافت سے ممتاز نہیں ہوئے تھے کیونکہ ۱۱؍سال کی عمر میں آپ کی خلافت محقق ہے مگر اس واقعہ سے حضورانور کی مقدس روحانیت اور ازلی شرف واقتدار کی بین طورپر جھلک نظرآتی ہے کہ آپ ابتدا ہی میں کامل ہوگئے تھے اسی زمانہ میں طالبان حق کو منزل مقصود کا راستہ دکھایا اور بیشمار مخلوق آپ کی روحانیت وبیعت سے مستفید ہوئے۔حافظ گلاب شاہ صاحب ؒ بیان فرماتے ہیں کہ جس مقدس وبزرگ صورت کی میں نے خواب میں زیارت کی وہی شکل نورانی عالم ضعیفی میں میں نے حضور پرنور کی مشاہدہ کی ہے۔فتبارک اللہ احسن الخالقین حافظ گلاب شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ بیان فرماتے تھےکہ وہ زمانہ حضور انور کے لڑکپن کا تھا ۔میں نے دیکھا ہے کہ اس زمانہ میں آپ کو پتنگ اڑانے سے شوق تھا ۔آپ میرے مکان کے بالاخانے پر قیام فرماتے تھے۔
یہ نئی ترکیب تھی کہ رات کو پتنگ اڑایاکرتے تھے شب کے وقت حضورپرنور اکثر پتنگ اور ڈور طلب فرماتے جب خدمت عالی میں حاضر کی جاتی تو آ پ اندازاً نصف سیر ڈور کھولدیتے تھے پتنگ کی اڑان نہایت تیز ہوتی تھی۔آپ مجھ سے اور دیگر حاضرین سے ارشاد فرماتے کہ دیکھو وہ پتنگ اڑ رہی ہے ۔ہم لوگوں کو بالکل نظر نہیں آتی تھی اس لئے عرض کرتے تھے کہ حضور ہم کو تو دکھائی نہیں دیتی۔اکثر ڈور بھی ہم لوگوں نے ہاتھ میں لی ہے تو یہ دیکھ کر حیرت ہوگئی وہ اس قدر زور میں ہوتی تھی کہ بمشکل رکتی تھی ۔سنبھالنا ہوتاتھا بالآخر اینٹ یا پتھر سے اس ڈور کو دبادیتے تھے وہ آپ سے آپ اڑاکرتی تھی اور آپ اس کو دیکھتے رہتے تھے یہ تو حضور انور کا بہ تقاضائے سن ایک کھیل تھا۔ اس زمانہ میں بھی حضور سے جو صدہا تصرفات ظاہر ہوئے تھے ان سے دیکھنے والوں کو حیرت ہوتی تھی۔
منشی عبدالغنی خاں صاحب وارثی رئیس پور وہ عبدالغنی خاں صاحب سابق نائب ریاست مہونا ضلع سلطانپور تحریر فرماتے ہیں کہ میری عمر سولہ سال کی ہوگی جب میں تعلیم پاتاتھا اس وقت میں نے ایک شخص کی زبانی سنا کہ دیوہ شریف ضلع بارہ بنکی میں ایک صاحبزادہ ہیں جن کے والدین کی وفات ہوچکی ہے گھر میں خدا کا دیا ہوا مال دولت سب کچھ ہے مگر وہ فقیر ہوگئے ہیں اور شوق بیت اللہ ہے ۱۲۔۱۳ برس کی عمر ہے میں نے نام پوچھا توحضور انور کا اسم گرامی بتایا۔اسی وقت سے کچھ دل کی عجیب حالت ہوگئی جس طرح کسی صدمہ عظیم سے سکوت طاری ہوجاتا ہے۔ اکثر میری آنکھیں اشکبار ہوجاتی تھیں اور دل ہی دل میں حضور انور کا خیال کرتاتھا جس کااندازہ کچھ وہی قلوب کرسکتے ہیں جو درد محبت سے آشنا ہیں۔
حضرت کی نسبت علمائے معاصرین ومشائخین کی رائیں:
حضور انور کے زمانہ میں جوعلمائے کرام اور مشائخین عظام گذرے ہیں ان میں سے اکثر بزرگوں کی حضور انور سے ملاقات ہوئی ہے اور بعض بزرگوں سے ملاقات نہیں ہوئی اس لئے یہ نہیں کہاجاسکتا کہ اس باب میں حضور انور کے متعلق تمام بزرگوں کی رائیں درج ہوںگی کیونکہ بعض ایسے بزرگوں کے بھی خیالات دریافت نہ ہوسکے جن کو ملاقات کا اتفاق ہوا ہے۔بعض جلیل القدر بزرگوں کی بیان کردہ روایات دوسرے مواقع پر لکھی جاچکی ہیں۔بعض معاصرین سے ملاقات ہی کااتفاق نہیں ہوا بعض سے ملاقات بھی ہوئی تو ان ملاقاتوں کے صحیح حالات نہ مل سکے ۔بعض لوگوں نے اپنے پیر ومرشد کے کلمات طیبات توتحریر فرمائے کہ حضور کی نسبت ان کا کیا خیال تھا مگر بسلسلہ روایت اپنا نام ظاہرکرنے کی ممانعت فرمادی۔اس لئے راقم الحروف نے ان روایات کو بالکل درج کتاب نہیں کیا۔ بعض نے ایسے واقعات دینے میں بھی تکلیف فرمایا بعض نے کسی وجہ سے مجبوری ظاہر فرمائی جیسا کہ سلسلہ نقشبندیہ کے ایک مستند بزرگ نے اپنے والانامہ میں راقم کتاب ہٰذا کو تحریر فرمایا ہے جو حسب ذیل ہے۔
اس سراپا ناہنجار کو ضرور اس عالی جاہ سے نسبت روحی ہے انہیں کے صدقہ میں خداوند کریم مجھ کو صحیح النسب رکھے بخدائے لایزال چند باتیں ایسی ہیں جن میں علمائے دین وعوام کا توکیا ذکر بہت سے اہل نسبت درویش پر خاش پر آمادہ ہوجائیں گے ‘‘۔تاہم جو کچھ بھی راقم الحروف کو صحت کے ساتھ حالات دستیاب ہوئے ہیں وہ لکھے جاتے ہیں اور ان کے اسمائے گرامی خود اس بات کی بین شہادت ہیں کہ وہ ا س زمانہ میں کس پایہ کے گزرے ہیں۔ اور رایوں کی نقاہت بھی مسلمہ ہے ان واقعات وحالات سے علاوہ اس بات کے کہ حضور انور کے بارے میں اس زمانہ کے ارباب شریعت وطریقت کے کیا خیالات تھے حضور انور کے اخلاق وصفات کے تذکرہ سے بھی ناظرین استفادہ روحانی حاصل کریںگے کہ آپ سے علمائے کرام ومشائخ عظام سب ملتے تھے اور جہاں آپ تشریف لے جاتے وہاں کے بزرگان دین آتے اور ملتے تھے علاوہ ازیں اگر کوئی بزرگ معتکف ہوتے تو حضور انور خود ان سے ملنے جاتے تھے۔ جو آپ سے ملنے کے لئے آتے تھے آپ ان کی بیحد تعظیم وتکریم فرماتے اپنے بستر مبارک سے اٹھ کھڑے ہوتے اور چند قدم چل کر ان سے معانقہ فرماتے تھے اور وہ نہایت شادومسرور ہوکر حضور انور کی محفل سے جاتے تھے غرضیکہ اپنے معاصرین سے آپ کا خالص ارتباط تھا اس باب میں اگر چہ مختلف واقعات ہیں مگر وہ نہایت دلچسپ اور حقانیت وروحانیت کا پہلو رکھتے ہیںجوعلمائے فرنگی محل لکھنو کے خیالات حضور انور کی نسبت تھے وہ خاص سند المحدچین فخرالمتکلمین مسند آرائے شریعت وطریقت مولانا مولوی قیام الدین عبدالباری صاحب قبلہ فرنگی محلہ لکھنوی نے تحریر فرماکر ارسال فرمائے ہیں حضرت مولانائے ممدوح الشان کے دووالا ناموں کا اقتباس حسب ذیل ہے۔
علمائے کرام فرنگی محلی:
جناب حاجی سید شاہ وارث علی رحمۃ اللہ علیہ سلسلہ قادریہ رزاقیہ کثر ہم اللہ کے مشاہیر افراد سے تھے جن کے توسل سے بہت کثیر تعداد لوگوں کی مشرف بہ بیعت اسی سلسلہ عالیہ سے ہوئی علمائے فرنگی محل دامت فیوضہم کا بھی سلسلہ وہی ہے اس لئے قریب تر تعلق نسبتی تھا اوائل زمانہ میں جبکہ عذر بھی نہیں ہوا تھا حاجی صاحب فرنگی محل میں اکثر آتے تھے اور جناب مولانا مولوی ابوالحسن صاحب (پوتا)مولانا مولوی بحرالعلوم سے ان کی بہت دوستی تھی جہاں تک مجھے علم ہے علمائے فرنگی محل حضرت حاجی صاحب کا کاملین سے اعتقاد کرتے تھے اور بے قید ےشریعت سے ان کا معذور اور دوسروں کا ایسے امور میں جو شریعت کے بظاہر خلاف ہوں ان کا اتباع کرنا ناروا سمجھتے تھے۔میرے دادا صاحب مولانا محمد عبدالرزاق قدس سرہٗ ۱۳۰۶؁ھ میں آخر مرتبہ ملاقات کی غرض سے تشریف لائے تھے اسی سال میرے دادا صاحب کا انتقال ہوا میں ان کی عیادت کو حاضر ہواتھا وہ ان کا آخر وقت مجھے بہت زیادہ صحبت حاصل کرنے کی نوبت نہیں آئی۔میں نے ان کی تعریف کرتے اپنے والد مولانا عبدالوہاب قدس سرہٗ اور مولانا عبدالغفار صاحب حفید(پوتا)مولانا بحر العلوم قدس سرہٗ اور حضرت مخدوم زادہ والاتبار سجادہ نشیں حضرت بانسہ قدس سرہٗ اور دیگر اکابر کو دیکھا ہے۔جناب مولوی کرامت اللہ صاحب مغفور حفید(پوتا) مولانامحمد رضا شارح مسلم راز خلفائے حضرت شاہ عبدالرزاق بانسوی قدس سرہٗ العزیز ومولوی وحید اللہ صاحب فرنگی محلی کو بیعت ارادت حضرت حاجی صاحب سے تھی۔
شاہ احمد حسین صاحب بانسوی:
حضرت میاں احمد حسین صاحب بانسوی قدس سرہٗ نے ارشاد فرمایا کہ میں حاجی صاحب کو اپنے لڑکپن سے جانتا ہوں ابتدائے عمر میں بڑے نمازی اور پابند شریعت تھے جماعت کسی وقت کی ترک نہیں ہوتی تھی مدتوں سفرو سیاحت میں بسر کی ہے آخر میں بوجہ مشغول بعض اذکار کے ایسی حالت ہوگئی جو تم لوگ دیکھتے ہو۔مولانا عبدالباری صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت حاجی صاحب کو ایک معمولی فقیر سمجھتا تھا مگران واقعات کے باعث ونیز انتقال کے زمانہ میں ایک امر پیش آنے سے (یہ واقعہ حسن اخلاق)کےتذکرہ میں درج کیا گیا ہے)مجھے ان سے حسن عقیدت ہوگیا مخالفت شریعت کو تو اچھا نہیں سمجھتا ہوں مگر ان کو معذور اور اکابر وقت سے اعتقاد کرتاہوں۔
مولانا محمد نعیم صاحب فرنگی محلیؒ
مولوی محمد ناظم علی صاحب فضلی نائب مہتمم مدرسہ عالیہ فرقانیہ لکھنو تحریر فرماتے ہیں کہ جب حافظ سراج الیقین صاحب بنیرہ وصاحب سجادہ حضرت شاہ نجات اللہ صاحب صادق محب قادری قدس سرہٗ نے اپنے فرزند کی تقریب سجادہ نشینی کی تو اتفاقاً بوجہ عرس کے حضرت حاجی صاحب ونیز حضرت مولانا محمد نعیم صاحب فرنگی محلی قدس سرہما بھی شریک جلسہ تھے مولانا محمد نعیم صاحب شریعت وطریقت کے اعتبار سے نہایت بلند پایہ رکھتے تھے اور اکابر بروقت میں گذرے ہیں۔حاجی صاحب نہایت مذاق آمیز جملہ کو زبان مبارک سے ادافرماتے ہوئے اٹھ کر مولانا کی طرف معانقہ کے لئے چلے مولانا محمد نعیم صاحب بھی ویسے ہی مذاق آمیز لفظوں کے ساتھ حاجی صاحب کی طرف بڑھے اور باہم دونوں بزرگوں میں معانقہ ہوا اس وقت حاضرین جلسہ پر عجیب اثر تھا۔

نوٹ: مکمل مضمون مولوی فضل حسین صدیقی وارثی ؒ کی تالیف کردہ کتاب مشکوۃ حقانیہ سے ماخوذ ہے جو حضرت سید الکاملین امام الاولیاء سیدنا ومولانا حاجی حافظ سید وارث علی شاہ طاب ثراہ کے سوانح حیات پر مشتمل ہے۔اسے افادہ عام کے لئے شائع کیا جا رہا ہے۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*