بنیادی صفحہ / تجارتی اجلاس / معیشت میڈیا کا کل ہند معاشی اجلاس تجارتی برادری کے لئے مفید ثابت ہوا

معیشت میڈیا کا کل ہند معاشی اجلاس تجارتی برادری کے لئے مفید ثابت ہوا

دانش ریاض مشہور تاجر و سرمایہ کار فرینک اسلام کو میمنٹو پیش کرتے ہوئے

دانش ریاض مشہور تاجر و سرمایہ کار فرینک اسلام کو میمنٹو پیش کرتے ہوئے

ملک بھر سے آئے دو سو سے زائد افراد نے جہاں نیٹ ورکنگ کے ذریعہ مستقبل کے لئے لائحہ عمل طے کیا وہیں نوجوانوں کی بڑی تعداد نئے آئیڈیاز سے مستفید ہوئی۔
ممبئی: گذشتہ دس برسوں سے اقلیتوں کے مابین معاشی بیداری پیدا کرنے کے لئے معروف میڈیا کمپنی معیشت میڈیا پرائیویٹ لمیٹڈنے اپنا کل ہند آٹھواں تجارتی و معاشی اجلاس عروس البلادممبئی میں منعقد کیا جس میںملک کی راجدھانی دہلی سمیت بنگلور،چنئی،پٹنہ،لکھنو کے ساتھ دیگر اہم شہروں سے تقریباً دو سو سے زائد تاجروں نے شرکت کی۔مہمان خصوصی کے طور پر جہاں امریکہ میں مقیم ہند نژادمشہور تاجر فرینک اسلام شریک ہوئے وہیں افغانستان کے قونصل جنرل کے ساتھ ممبئی کی اہم شخصیات موجود رہیں۔

تقویٰ جویلرس کے مالک اسرار سید فرینک اسلام سے پہلا انعام حاصل کرتے ہوئے(تصویر: معیشت)

تقویٰ جویلرس کے مالک اسرار سید فرینک اسلام سے پہلا انعام حاصل کرتے ہوئے(تصویر: معیشت)

ہند نژاد امریکی تاجر فرینک اسلام نے معیشت میڈیا کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے پروگرام میں شرکت کی تین بنیادی وجوہات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’1.معیشت میڈیانے جس چیز پر فوکس کیا ہے یعنی اقلیتوں اور دیگر پسماندہ طبقات کی ضروریات وہ انتہائی اہم ہیں۔اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے تاجر ہندوستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ ملک کے مستقبل کی تعمیر میں مرکزی کردار ادا کررہےہیں۔ ان میں ملک اور دنیا کا نقشہ بدل دینے کی صلاحیت اور طاقت دونوں ہے۔ 2.جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اس اجلاس میں صرف اقلیتوں کے بزنس پر بات ہوگی کا مطلب یہ ہے کہ میں بھی انہیں لوگوں میں سے ہوں جو ہر طرح کےتعصب اور دشمنی کا شکار ہوا لیکن یہ تمام چیزیں ایک کامیاب تاجرکے سفر کو کھوٹا نہیں کرسکیں۔3.یہ ایوارڈ پروگرام ان لوگوں کے لیے ہے جونمایاں کام کرتے ہیں لیکن ان کی قابل ذکر پذیرائی نہیں ہوتی اور وہ غیر مرئی رہتے ہیں۔یہ کچھ بنیادی وجوہات تھیں جو میرے یہاں آنے کا سبب بنیں‘‘۔
انہوں نے کہا کہ ’’ Entrepreneur وہ ہوتا ہے جو بغیر کوئی لمحہ ضائع کیے، خطرات کا اندازہ لگاتے ہوئے کوئی کاروبار شروع کرتا ہے اور مستقبل کے لیے ملازمت کےمواقع پیدا کرتا ہے۔اور آپ سب نے یہ منازل طے کی ہیں اس لیے یہاں آج موجود ہیں۔ آپ تمام بے خوف تاجر ہیں۔ ایک تاجر کے طور پر آپ یہ بات سمجھ سکتے ہیں کہ تاجر بننا اپنے آپ میں ایک سفر ہے۔ آپ نے سفر شروع کیا جو ابھی تک جارہی ہے‘‘۔انہوں نے اپنے تجارتی سفر کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’میری اہلیہ ڈیبی اور میرا ماننا ہے کہ تاجرانہ قیادت ہندوستان کے مستقبل کے لیے مرکزی اہمیت رکھتی ہے ۔ اسی لیے ہم نےعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں فرینک اینڈ ڈیبی اسلام مینجمنٹ کمپلکس کو فنڈ کرنے کافیصلہ کیا۔ اس موقع سے میں نے کہا تھاکہ:’’ہماری اس مینجمنٹ کمپلکس کو بنانے میں بہت زیاد ہ دلچسپی اس لیے ہے کیوں کہ اے ایم ایو کے اندر یہ ایک جگہ ہوگی جہاں تجارتی لیڈر تیار کیے جائیں گے۔ جن کی نت نئی سرگرمیوں سے ہندوستان اور دنیا بھر میں ہزاروں لوگوں کے لیے ملازمت اور نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ میں جب اس کمرے میں آپ تمام سامعین کی طرف دیکھتا ہوں ، گرچہ اس میں سے اکثر کی تعلیم اے ایم یومیں نہیں ہوئی ہے ،لیکن مجھے پتہ ہے کہ میں بہت سارے تجارتی قائدین سے گفتگو کررہا ہوں۔ میں یہ بات اس لیے کہہ رہا ہوں کہ کیوں کہ اجلاس میں تاجروں کو ایوارڈ حاصل کرنےکے لیے جن خصوصیات کا ہونا ضروری تھا ان میں: ملازمت کے مواقع پیدا کرتے ہوں، ملک و ملت کی فلاح وبہبو دکے لیے سرگرم رہتے ہوں، حکومت ہند کی طرف سے طے کیےگئے اصول وضوابط پر عامل ہوں، معاشی اور سماجی مساوات، رواداری، انصاف اور حقوق انسانی،یہ خصوصیات یقیناصحیح اور اچھا کام کرنے سے متعلق ہیں۔ یہ ایک ایسے تجارتی لیڈر سے تعلق رکھتی ہیں جو سماجی مسائل میں بھی دلچسپی رکھتا ہو‘‘۔
معیشت کے ڈائرکٹر سید زاہد احمد نے پروگرام کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ’’معیشت میڈیاہندوستان میں ایک ایسا سسٹم ڈیولپ کرنا چاہتی ہے جہاں بقائے باہمی کے اصول پر تجارت ہو۔تبلیغ اسلام کے لئے سب سے بہتر ذریعہ تجارت ہی ہے جہاں آپ کے لین دین کا معاملہ طے پاتا ہے۔ایک غیر مسلم اس وقت بہت زیادہ متاثر ہوتا ہے جب وہ لین دین میں آپ کو کھرا پاتا ہے‘‘۔
معیشت میڈیا کے منیجنگ ڈائرکٹر دانش ریاض نے ایوارڈ کی محفل کو خطاب کرتے ہوئےکہا کہ ’’ہندوستان میں ایوارڈ خریدنے کا مزاج بڑھتا جا رہا ہے اور خریداروں میںمسلمانوں کی بڑی تعداد ہے۔ایسے میں معیشت ایک ایسا ماحول بنا رہی ہے جہاں لوگوں کی لیاقت و قابلیت،دوسروں سے وہ کیسے مختلف ہیں اس کی استعداد کے ساتھ وہ زمانے میں کیسے دوسروں کو متاثر کر رہے ہیں اس کا بھی جائزہ ہو اور معیشت انہیں جائزوں کے بعد لوگوں کو منتخب کر رہی ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ ’’ٹورس میچول فنڈ کے سی ای او سید وقار عباس نقوی اور امامیہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے بانی ڈائرکٹر سید محمد قائم نے بڑی عرق ریزی،انٹرویو اور کمپنی کے کوائف جاننے کے بعد ایوارڈ یافتگان کا انتخاب کیا ہے‘‘۔
واضح رہے کہ معاشی اجلاس میں جہاں مہاراشٹر کی مقبول عام تقویٰ جویلرس کو پہلا انعام دیا گیا وہیں جیکٹ بنانے والی بنگلور کی کمپنی ایمارٹ فیشنس کو دوسرا جبکہتقوی ایڈوائزری اینڈ شریعہ انویسٹمینٹ سالو شنس پرائیویٹ لمیٹیڈ(تاسیس) کو تیسرے انعام سے نوازہ گیا۔جبکہ تشجیعی انعامات کے طور پر کیلیبر ڈیزائن،اقراٗ اسکول بنگلوروغیرہ کا انتخاب کیا گیا۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*