بنیادی صفحہ / نظریہ و تجزیہ / خوف کی نفسیات سے باہر نکلئے

خوف کی نفسیات سے باہر نکلئے

ابو ذر کمال الدین

ابو ذر کمال الدین

ڈاکٹرسید ابوذر کمال الدین
( سابق وائس چیرمین، بہار انٹر میڈیٹ ایجو کیشن کونسل )

ہندوستانی مسلمان پچھلے ستر سالوں سے مستقل حالات خوف میں جی رہے ہیں۔یہ خوف ان کے رگ وپے میں اتنی گہرائی تک اتر گیا ہے کہ وہ کھل کر اس ملک میں اپنا رول و کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں نتیجہ ہے کہ ہر محاذ پر پچھڑتے چلے جارہے ہیں۔ انہیں جتنا ان کے دشمنوںنے نقصان نہیں پہنچایا ہے اس سے کہیں زیادہ ان کے دوستوں نے دھوکہ دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان حالات میں ہمیں کیا کرنا چاہئے۔
ہمیںاس وقت دو باتیں گرہ باندھ لینی چاہئے ۔ پہلی یہ کہ ہم اس وقت تاریخ کے جس دور میں ہیں یہ اس وقت ہمارا مقدر ہے ،یعنی جو صورتحال ہے اس کو ایک نئی عام حالت مان کر جس کو انگریزی میں New Normal کہا جاتا ہے اپنی زندگی کا آغاز کرنا چاہئے۔ ہم اس وقت اونچی چڑھائی چڑھ رہے ہیں اس لئے سانس پھولنا، پائو پھسلنا گرنا، چوٹ لگنا اور پھر سنبھل کر چلنا بلکہ کبھی کبھی کسی حادثہ کا شکار ہوجانا بالکل فطری ہے۔ اس سے گھبرانا نہیں ہے اور نہ قدم پیچھے ہٹانا ہے بلکہ پوری ہمت اور جرات کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ کوئی اس ملک میں ہمارے وجود کو مٹا نہیں سکتا ہے۔ ہندوستان میں مسلمان ہمالیہ پہاڑ کی طرح ایک عظیم ٹھوس سچائی ہے۔ جس طرح ہمالیہ پہاڑ کے وجود کو ختم نہیں کیا جاسکتا ہے اسی طرح مسلمانوں کے وجود کو مٹایا نہیں جاسکتا ہے۔ مسلمانوں میں خوف کی نفسیات پیدا کرکے دراصل لوگ ان کو پچھڑا اور کمزور رکھنا چاہتے ہیں۔ اس لئے کہ مثل مشہور ہے جو ڈر گیا وہ مرگیا۔ لہذا تمام اشتعال انگزیوں اور خوف ناک عزائم کی بازگشت کے درمیان اپنے حواس سالم رکھنے ہیں اور اپنی راہ کھوٹی کئے بغیر آگے بڑھنا ہے۔
ہمیں پوری دل جمعی کے ساتھ اپنا ایجنڈا طے کرکے آگے بڑھنا ہے۔ ہم نے پوری دوصدیاں حکومت کی مدد کے بغیر گذاری ہے۔ نامواقف حالات کے باوجود ہم زندہ ہیں اور ہمارے حوصلے بلند ہیں۔ لہذا جو حالات بھی آئیںگے ہم صبر وحکمت کے ساتھ اس کا مقابلہ کریں گے۔ بات بس اتنی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کو درست کرکے خدا اور خود پر اعتماد کرتے ہوئے آگے بڑھیں۔
ہماری سب سے پہلی ترجیح اپنی نئی نسل بچے اور بچیوں کو اچھی معیاری تعلیم سے آراستہ کرنا ہے۔ ہم کو چاہے جتنی محنت کرنی پڑ ے اور جتنی قربانی دینی پڑے خود آدھاپیٹ کھا ئیں لیکن اپنے بچوں ( لڑکے اور لڑکیوں) کو ضرور پڑھائیں۔ یہ کام غریبوں امیروں اور درمیانہ آمدنی والے شہری دیہاتی تمام مسلمانوں کو کرنا چاہئے۔ خوب جان لیجئے علم قوت ہے، اور جہالت کمزوری ہمارا مستقبل اچھی تعلیم پر منحصر ہے۔ یہ وہ دولت ہے جو کوئی ہم سے چھین نہیں سکتا ہے اور اس کے ذریعہ ہم ہندوستان میں ہی نہیں دنیا بھر میں ممتاز اور محترم ہوسکتے ہیں۔ لہذا اس وقت ساری توجہ حصول تعلیم پر دینے کی ضرورت ہے۔
دوسری چیز اپنے بچوں بالخصوص اپنی مائوں اور بیٹیوں کی صحت اور حفظان صحت پر توجہ ہے۔ ذہنی اور جسمانی طور پر کمزور قوم نہ تو بیماریوں سے محفوظ رہ سکتی ہے اور نہ باہری دشمنوں کا مقابلہ کرسکتی ہے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو صحت اور اخلاق بگاڑنے والی عادات سے بچانا ہے۔ سخت جسمانی محنت کا عادی بنانا ہے اور انہیں سالم اور سڈول بنانا ہے تاکہ ان کی شخصیت کا رعب قائم ہوجائے۔
تیسری چیز آپس میں بھائی چارہ، اتحاد برابری اور تعاون کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔ اسلام کی نظر میں سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں۔ برابر ہیں یکساں محبت اور احترام کے حق دار ہیں۔ اس وقت مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مسلمان مسلک، ذات ، برادری میں نہ صرف بٹے ہوئے ہیں بلکہ اس بنیاد پر آپس میں لڑ رہے ہیں اور ایک دوسرے کو کمزور کرنے نیچا دکھانے، ذلیل کرنے بلکہ دین اور ملت سے کاٹنے پر لگے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ سے ان کی ہوااکھڑ چکی ہے اور اس سے اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کا کام آسان ہوجاتا ہے۔ لہذا میری تمام مسلمانوں خاص طور سے نوجوانوں سے درخواست ہے کہ جتنا ممکن ہوسکے آپس میں مل جل کر رہیں اور جو لوگ دین ومسلک، ذات اور برادری کے نام پر مسلمانوں کو توڑنے اور باٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اولاً نہ تو ان کے ساتھ جائیں اور دوم جتنی طاقت اور سمجھ ہے ان کو ایسی حرکتوں سے روکیں۔ یہ ملی استحکام کے لئے سب سے ضروری قدم ہے۔
چوتھی چیز اپنے آس پاس جو بھی غیر مسلم برادری رہتی ہے، اس سے اچھے انسانی رشتے بناکر رکھیں، ان کی ضرورت کے وقت کام آئیں، ان کی مدد کریں۔ دو چار دس شرارتی لوگوں کی وجہ سے پورے سماج سے کٹ کر رہنابے وقوفی ہے۔ ہندوستان کا عام ہندو سماج پرامن ہے اور وہ نفرت، تعصب اور خون خرابہ سے دور رہنا چاہتا ہے۔ کچھ لوگ ہیں جو اپنے سیاسی اورفسطائی عزائم کی وجہ سے ماحول کو بگاڑکر رکھنا چاہتے ہیں۔ اس کا جواب ان سے کٹنا نہیں ان کے قریب جانا ہے اور اپنی خدمت اور محبت سے ان کا دل جیتنا ہے۔ مسلمانوں میں جو لوگ اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی بات کرتے ہیںوہ بے وقوف لوگ ہیں۔ ہمیں اینٹ کا جواب پھول سے ، گالیوں کا جواب دعائوں سے، بے رحمی کا جواب قربت سے اور دشمنی کا جواب محبت اور خدمت سے دینا ہے۔ اس سے ہمارے اندر خود اعتمادی اور حوصلہ پیدا ہوگا جو خوف کی نفسیات کو دور کرنے میںمدد کرے گا۔ ایک بار جب یہ گرہ کھل جائے گی پھر آپ کو آگے بڑھنے اور اپنا مقام پیدا کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا ہے۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*