بنیادی صفحہ / خبریں / کاروباری معاملات میں ہندو مسلم کی تفریق نامناسب ہے

کاروباری معاملات میں ہندو مسلم کی تفریق نامناسب ہے

رنگ

تاجر برادری کا کہنا ہے کہ جہاں مل جل کر کاروبار ہو رہا ہے وہاں لوگ زیادہ منافع کما رہے ہیں
ممبئی: ملک میں عدم رواداری کے بڑھتے واقعات نے اب معیشت و تجارت پر بھی اپنااثر ڈالنا شروع کردیا ہے۔گجرات ،راجستھان اور اتر پردیش میں مختلف گروپس کی طرف سے یہ اعلان کہ لوگ مسلمانوں کے ساتھ تجارت نہ کریں ملک میں ہیجانی کیفیت پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ جب کہ تاجروں کی بڑی تعداد ان واقعات کو محض وقتی قرار دیتی ہے اور اسے سیاسی پروپگنڈہ کے طور پر دیکھتی ہے۔

ٹرانس ایشین چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کےکنوینر اور سکریٹری سنجے بھڑے

ٹرانس ایشین چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کےکنوینر اور سکریٹری سنجے بھڑے

ٹرانس ایشین چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کےکنوینر اور سکریٹری سنجے بھڑے معیشت سے گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’ہندوستان میں کاروباری معاملات میں کسی بھی طرح کی تفریق انتہائی غلط ہے ۔دراصل مذہب کو اپنے گھروں کی چہار دیواری کے اندر رکھنا چاہئے میں اسی کا قائل ہوں ۔البتہ یہ ضرور ہے کہ معاشرے میں مساویانہ کردار کو فروغ دینا چاہئے‘‘۔سنجے کا کہنا ہے کہ ’’مسلم تاجر آخر صرف مسلم اسٹاف ہی کیوں رکھتے ہیں جبکہ ان کے زیادہ تر تجارتی معاہدات بھی مسلمانوں کے مابین ہوتے ہیں‘‘ صرف ایکسل کے اشتہار پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’آخر مسلم لڑکا اور ہندو لڑکی کو ہی کیوں فلمایا جاتا ہے اس کے برخلاف مسلم لڑکی اور ہندو لڑکے پرکیوں نہیں کوئی چیزبنائی جاتی؟دراصل جس طرح مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں اسی طرح اس طرح کے اشتہارات سے ہندوئوں کے جذبات بھی مجروح ہوتے ہوں گے‘‘۔ مشہور تاجرممبئی و مہاراشٹر سماجوادی پارٹی کے صدر ابو عاصم اعظمی کہتے ہیں’’تجارت میں کسی بھی طرح کی تفریق انتہائی غلط ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ جن کاروبار میں مسلمان آگے تھے اسے ٹھپ کردیاگیا ہے بھیونڈی میں مسلم تاجروں کی حالت انتہائی خراب ہے جبکہ بیف کے کاروبار پر پابندی اس لئے عائد کی گئی کہ اس میں مسلمان موجود تھے۔مسلم اکثریتی علاقوں میں بینک قرضہ نہیں دیتی جس کی وجہ سے مسلم تاجر کاروبار کو فروغ نہیں دے پاتے۔دراصل حکومت کی پالیسی نے مسلمانوں کی کمر توڑ دی ہے

ابوعاصم اعظمی

ابوعاصم اعظمی

‘‘۔ابو عاصم اعظمی کہتے ہیں ’’آر ایس ایس کے دو لاکھ اسکول میں پڑھنے والے طلبہ مسلمانوں کے خلاف ذہن لے کر باہر نکل رہے ہیں جبکہ ہندو مہا سبھا کے لوگ ۲۱۰۰مسلم لڑکیوں کو بہو بنانے کی مہم چلا رہے ہیں ،جب پوری پلاننگ کے ساتھ کوئی کام ہو رہا ہو اور حکومت اس پر خاموش رہے تو یہی سمجھا جاسکتا ہے کہ یہ تمام کام حکومتی اشاروں پر ہورہے ہیں‘‘۔ابو عاصم اعظمی خلیجی ممالک میں نوکری کو نعمت قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ’’حالات یہ ہیں کہ یہاں مسلم بچوں کو ملازمت نہیں دی جاتی وہ تو خلیجی ممالک کا دروازہ کھلا ہے کہ جہاں جاکر لوگ گذر اوقات کے لئے پیسہ کما لے رہے ہیں‘‘۔

اشرف محمدی

اشرف محمدی

اضافہ انویسٹمنٹس ((Idafa Investmentsکے منیجنگ ڈائرکٹر اشرف محمدی کہتے ہیں کہ ’’تجارت میں مذہبی تقسیم سے تمام لوگوں کو نقصان پہنچتا ہے ہندوستان کی ۹۵فیصد آبادی اس طرح کی تقسیم کے خلاف ہے کیونکہ جب مل جل کر کاروبار ہوتا ہے تو اس میں ترقی دیکھنے کو ملتی ہے ‘‘۔گجرات فسادات کے بعد کا حوالہ دیتے ہوئے اشرف کہتے ہیں ’’گجرات میں فسادات کے بعد لوگوں نے یہ کہا کہ وہ مسلمانوں سے تجارت نہیں کریں گے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی تجارت میں گراوٹ آنا شروع ہوگیا جب اس صورتحال کا سامنا ہوا تو انہوں نے دوبارہ مسلمانوں سے تجارت کا آغاز کردیا‘‘۔اشرف محمدی تمام طرح کے بائیکاٹ کو غلط قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں ’’میں بائیکاٹ کی مہم کے ہی خلاف ہوں اس سے صرف بائیکاٹ کئے جانے والوں کا نہیں بلکہ بائیکاٹ کرنے والوں کا بھی نقصان ہوتا ہے۔

غلام پیش امام دوسرے کل ہند تجارتی اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے

غلام پیش امام

الصامت انٹر نیشنل کے مالک غلام پیش امام کا کہنا ہے کہ ’’ملک میں پولرائزیشن جس قدر بڑھے گا یہ وطن کے لئے اسی قدر نقصان دہ ہے۔جو لوگ پولرائزیشن بڑھا رہے ہیں دراصل ملک کے دشمن یہی لوگ ہیں۔تجارت کو بھی اگر پولرائز کردیاجائے گا تو پھر کچھ نہیں بچے گا‘‘۔انہوں نے کہا کہ ’’ملک میں بھائی چارہ ہی ملک کی ترقی کا ضامن ہے لیکن یہ جیسے جیسے پارہ پوگا ملک خسارے میں چلا جائے گا‘‘۔

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*