بنیادی صفحہ / نظریہ و تجزیہ / 2019کے الیکشن کے اس پار

2019کے الیکشن کے اس پار

ابو ذر کمال الدین

ابو ذر کمال الدین

ڈاکٹر سید ابوذر کمال الدین
سابق وائس چیئرمین، بہار انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن کونسل
میں کوئی نجومی، جیوتشی یا چناؤ پنڈت نہیں ہوں کہ میں یہ پیش گوئی کروں کہ 2019کے انتخاب کے بعد مرکز میں کس کی سرکار بنے گی۔ نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی اور این ڈی اے کی یا کانگریس اور یوپی اے کی یا کسی تیسرے مورچے کی۔ بہرحال یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔
اس وقت جب کہ سب لوگوں کی نگاہیں چناؤ اور اس کے نتیجوں پر لگی ہیں، میں اس کے پرے آپ کو لے جانا چاہتا ہوں۔ مسلمان اس ملک کے برابر کے شہری ہیں اور انہیں اپنے حق رائے دہندگی کا استعمال پوری مستعدی اور سمجھ داری سے کرنا چاہیے۔ ہندوستان کا دستور بھارت کو ایک خود مختار، سوشلسٹ، سیکولر، جمہوریہ قرار دیتا ہے جس کی رو سے تمام شہریوں کو سماجی، معاشی اور سیاسی انصاف کی ضمانت دی گئی ہے ساتھ ہی خیال، بیان، عقیدہ اور عبادت کی آزادی مرحمت کی گئی ہے۔ ہرشہری کو حیثیت اور موقع کی برابری کا بھی وعدہ کیا گیا ہے اور تمام افراد کو بھائی بھائی تسلیم کرتے ہوئے باوقار زندگی کی ضمانت دی گئی ہے۔
اس وقت ملک میں کس پارٹی اور فرد کی حکومت ہوگی یہ مسئلہ زیادہ اہم نہیں ہے۔ اہم یہ ہے کہ دستور کے ابتدائیہ میں جو ہندوستانی جمہوریہ کے آئیڈیل بیان کیے گئے ہیں انھیں کیسے حاصل کیا جاسکتا ہے؟ بھارت کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے دستور تو بہت اچھا بنالیا ہے لیکن بہت کم سیاست داں، سیاسی پارٹیاں اور ارباب حل و عقد ہیں جو اس دستور کا پاس و لحاظ رکھتے ہیں اور اپنی سوچ، طرزِ عمل اور فیصلے کو اس کے مطابق ڈھالنے کو تیار ہیں۔ اس وجہ سے ملک کے کمزور طبقات بالخصوص یہاں کی جو اقلیتیں ہیں وہ دستور میں مندرج افادات و مراعات سے محروم ہیں۔ اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی محرومی اور بے بضاعتی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، جس نے ملک میں ایک دستوری بحران پیدا کردیا ہے۔ کیا یہ الیکشن اس بحران کو دور کرپائے گا یہ ملین ڈالر کا سوال ہے؟
آزادی کے ساتھ ملک کی تقسیم ایک سیاسی اور تاریخی المیہ ہے جس پر جتنا آنسو بہایا جائے وہ کم ہے۔ تقسیم کا ذمہ دار کون ہے اور وہ کون سے عوامل و محرکات تھے جو تقسیم کی وجہ بنے یہ تو مطالعہ اور تحقیق کا موضوع ہے۔ اس میں کسی ایک فرد یا جماعت کو موردِ الزام ٹھہرانا صرف غیر منطقی نہیں بلکہ ظلم ہے۔ مسلمان خواص کا ایک طبقہ ضرور بٹوارے کا مدعی تھا جبکہ مسلمان عوام بہت حد تک اس سے بے تعلق تھے۔ یہ بٹوارہ کسی ریفرنڈم کے ذریعہ تو ہوا نہیں تھا بلکہ اس وقت کے لیڈروں نے حکومتِ وقت کے ساتھ ٹیبل پر بیٹھ کر بٹوارے کا فیصلہ کرلیا تھا۔
جو لوگ دو قومی نظریہ کے حامی تھے وہ تو پاکستان چلے گئے، مگر جو لوگ مشترکہ قومیت میں یقین رکھتے تھے تمام خطرات اور نفسیاتی دباؤ کے باوجود یہاں سے نہیں گئے اور آج بھی ان کے لبوں پر سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا کا ترانہ جاری ہے۔ مگر طرفہ تماشا یہ ہے کہ جو لوگ تقسیم کے ذمہ دار تھے انھوںنے ہندوستانی مسلمانوں کو ان کے ناکردہ جرم کی سزا دینے کی ٹھانی اور انہیں ففتھ کولومنسٹ قرار دے کر ان کو حاشیہ پر دھکیلنے کی سازش رچی اور مسلمانوں کے سامنے تحفظ کا مسئلہ بنیادی مسئلہ بن کر کھڑا ہوگیا۔
آزادی کے بعد کرئہ ارض نے نہ معلوم سورج کے گرد کتنے ہزار چکر لگالیے ہیں مگر مسلمانوں پر محرومی، مایوسی، خوف اور ناطاقتی کی کالی سیاہ رات ہنوز صبح امید کی دیدار کے لیے ترس رہی ہے۔ کیا یہ الیکشن مسلمانوں کے لیے صبح امید لے کر آئے گی۔ اس کا امکان بہت کم ہے۔ کیوں؟ خارجی حالات یقینا حالات و معاملات پر اثر انداز ہوتے ہیں اوراس میں کوئی جوہری تبدیلی آئے گی اس کا امکان کم ہے۔ حکومت چاہے بی جے پی کی بنے یا کانگریس کی یا کسی اور محاذ کی ہماری قسمت میں ابھی دور کا جلوہ ہی لکھا ہے۔ لہٰذا نہ بہت خوش ہونے کی ضرورت ہے اور نہ مایوس ہونے کی۔ آزادی کے بعد ہماری ستر سالہ تاریخ اور نیل گوں آسمان پر بدلتے سیاسی شفق اس حقیقت کی غماز ہے۔ لہٰذا ہمیں خارجی سے زیادہ داخلی حالات اور معاملات پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔
قرآن پاک میں اللہ کا صاف صاف اعلان ہے اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک خود وہ اپنی حالت بدلنے کے لیے آمادہ اور سرگرم عمل نہ ہو۔ دوسری بات قرآن نے یہ کہی ہے کہ انسان کو وہی کچھ ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ پہلی چیز ارادہ ہے اور دوسری چیز کوشش۔ تو ہمیں اپنی منزل طے کرنے سے پہلے سمت سفر طے کرنا چاہیے اور اس سفر کی زاد راہ کا انتظام بھی کرنا چاہیے۔
1947میں جب بہت سارے مسلمان عالم مایوسی میں پاکستان بھاگے جارہے تھے، مولاناآزاد نے جامع مسجد دہلی کے منبر پر کھڑے ہوکر مسلمانوں کو اس ناعاقبت اندیشانہ اقدام کرنے سے روکا تھا اور انہیں صبر و حکمت کے ساتھ حالات کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کی نصیحت کی تھی۔ قرآن نے سورہ آل عمران کی آخری آیت میں جو مسلمانوں کو تلقین کی ہے کہ ’’اے ایمان والو! صبر سے کام لو، پامردی دکھاؤ اور باہم جڑ کر رہو۔‘‘ (۲۰۰:۳) اگر مسلمان اس کو گرہ باندھ لیں اور عامل ہوجائیں تو دنیا کی کوئی طاقت ان کو پامال نہیں کرسکتی ہے۔ قرآن نے یہ بھی انتباہ دیا ہے کہ اگر تم مل جل کر نہیں رہوگے تو بے وزن اور بے وقعت ہوجاؤ گے،تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور دشمن تمہیں آسانی سے اچک لے گا۔ دنیا کا کوئی لیڈر نہ اس سے اچھی نصیحت دے سکتا ہے اور نہ اس سے اچھی رہنمائی کرسکتا ہے۔
لہٰذا ہمیں الیکشن میں اپنا وزن سمجھ بوجھ کر اس پلڑے میں ڈالنا ہے جو ہمارے لیے کم مضر ہو۔ ہمیں انسان اور شیطان دونوں کے شر سے محفوظ رہنے کی دعا مانگتے ہوئے اپنا سمت و قبلہ درست کرکے نمازِ زندگی میں صف بستہ ہوکر کھڑے ہونے کا اہتمام کرنا ہے اور اپنی پہل پر تعلیم، صحت، روزگار، اتحاد باہمی، خدمت خلق اور وسیع تر ہندوستانی سماج سے تمام تر فتنہ سامانیوں کے باوجود جڑنا اور حق، عدل اور فراخ دلی کے جذبے سے اچھے اخلاق و کردار کے ساتھ ان کا دل جیتنے کی کوشش کرنا ہے۔ آپ برائی کو اچھائی سے بدلنے کا داعیہ پیدا کیجیے ان شاء اللہ آنے والے دنوں میں اللہ آپ کو ہر شر سے محفوظ رکھے گا۔ آمین!

تعارف: نمائندہ خصوصی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*